Skip to content
امریکہ،13؍جون (العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز مشرق وسطیٰ میں ’بڑے تنازعے‘ کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر حملہ نہ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن اور تہران جوہری معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ ٹرمپ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے چھٹے دور سے کچھ دن قبل صحافیوں کو بتایا کہ ہم ایک بہت اچھے معاہدے کے کافی قریب ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ اس دوران اسرائیل ایران پر حملہ کرے، مجھے لگتا ہے ایسا حملہ پوری چیز کو اڑا دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو زیادہ سنجیدگی سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ انہیں ہمیں وہ کچھ پیش کرنا پڑے گا جو وہ ہمیں اس وقت پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ میں ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہوں اور ہم اس کے قریب ہیں۔ میں دوستانہ راستے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس سوال کے جواب میں کہ آیا اسرائیل حملہ کرے گا انہوں نے وضاحت کی کہ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ یہ قریب ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ممکن ہے۔
امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ میں "بڑے پیمانے پر تنازع” کے امکان سے خبردار کیا اور اس کے بعد امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن علاقائی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر عراق میں اپنے مشن کو کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹرمپ، جو پہلے بھی مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں، نے جوہری مسئلے کے سفارتی حل کے لیے اپنی ترجیحات کا اعادہ کیا۔
ایران نے جمعرات کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی مذمت کے جواب میں ایک نئی تنصیب کی تعمیر اور افزودہ یورینیم کی پیداوار بڑھانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے ایک نئے دور سے پہلے اور ایک ممکنہ اسرائیلی حملے کی اطلاعات کے درمیان ہوئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے عوامی سطح پر اختلاف کا مشاہدہ کیا گیا ہے ۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ تہران اس میدان میں اپنی سرگرمیاں روک دے اور تہران یورینیم کی افزدوگی کو ایسا حق سمجھتا ہے جس پر کوئی بات چیت نہیں کی جا سکتی۔
اس سے قبل امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ ایران کے حوالے سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جاری کردہ ایک نئی رپورٹ پریشان کن ہے اور امریکہ اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Like this:
Like Loading...