قطب نامہ:
ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد قطب الدین صاحب ابو شچاع امریکہ
از :مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
ڈائیریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف عربک حیدرآ باد انڈیا
www.LEARNARABIC.in
91-9849611686
دل دردمند ، فکر ارجمند کے حامل، مشرق ومغرب کے آفاق کے دیدہ ور، امریکیوں کے نفسیات کے ماہر ،اردوذریعہ تعلیم سے ڈاکٹریٹ تک کا کامیاب سفر کرنے والے، ایک دور افتادہ چھوٹے سے گائوں نارائن پیٹ کے قابل وفاضل سپوت محترم جناب ڈاکٹر محمد قطب الدین صاحب امریکہ سے ملاقات ہوئی، ملاقات کیا ہوئی کہ ایک دیرینہ آرزو کی تکمیل ہوئی،بچپن سے ان کا نام سنا ہواتھا،ان کی علم پروری وانسانیت دوستی کے چرچے کانوں میں پڑے تھے،میرے آبائی گائوں انپور میں جہاں میرے مرحوم دادا جان عبد الستار صاحب مدفون ہیں ،ایک مسجد بھی ہے جس کو ڈاکٹر صاحب نے تعمیر کروایا ہے،اور پچھلے کچھ برسوں سے ڈاکٹر صاحب کے افکار وخیالات سے بھی واقفیت ہوتی رہی اور شوق ملاقات دوآتشہ ہوتا رہا،میرے رفیق مکرم جناب احمد ابوسعید صاحب ہی نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ ڈاکٹر صاحب محترم حیدرآباد کے سفر پر ہیں اورخودبھی ملاقات کے متمنی ہیں پھر کیا تھا، رابطہ ہوااور پھر مختصر سے دورے میں انہوں نے وقت نکال ہی لیا۔انتظار کی گھڑیاں ۳ ، نومبر ۲۰۲۱ چہارشنبہ کو ختم ہوئیں اور صبح کی اولین ساعتوں میں ایک یادگار ملاقات رہی۔
Here To Join Us On WhatsApp
فکری ہم آہنگی اور خیالی ہم رنگی ہوتو وقت کا پتہ چلنا مشکل ہوتا ہے،اور ایسا ہی کچھ اس یاگار ملاقات میں ہوا کہ پورے تین گھنٹے ایسے گذرے جیسے منٹوں اور سکنڈوں کی بات ہو، اور اس ملاقات کی ایک خوبی یہ بھی رہی کہ اس میں آپ کے ساتھ سفر کرنے کا موقعہ ملا اور سفر ہی وہ کسوٹی ہے کہ آدمی کے عادات واطوار ، طور طریق کا پتہ چلتاہے، پہلے پہل تو انہوں نے معافی چاہی کہ آپ کو ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑااور تاخیر بھی بے سبب نہیں تھی بلکہ وطن عزیز سے کچھ لوگ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے آگئے اور انہیں نمٹاکر آیا ہوں، وہیں پورے اہتمام سے اپنے وطنی تعلق اور اس سے وابستہ یادوں کو چھیڑکر ایک خوشگوار ماحول پیدا کردیا ۔اوروہیں یہ بھی بتلایا کہ یہ سفر والدہ محترمہ کے انتقال کی وجہ سے ہوا ہے، اللہ تعالی مرحومہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ آمین –
اس پہلی یادگار ملاقات میں ِشخصی تعارف کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب کو اور ان کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا جو موقعہ ملا ، ا س کے کچھ نقوش اس طر ح ہیں۔
Here To Join Us On WhatsApp
سب سے پہلی اور متاثر کن چیز جس نے دل موہ لیا اور ڈاکٹر صاحب کےانسانیت کے ماہر نفسیات ہونے پر مہر ثبت کردی اور دنیا شناس ہونے کی دلیل تھی کہ وہ بالکل سادہ مزاج ہیں، بالکل عام انداززندگی ہے، ایک امریکی ڈاکٹر اور وہ بھی برسوں سے وہاں مقیم ہے ،لیکن جیسے مغرب ان کو چھو کر نہیں گذراہے، علم ودولت کا کوئی غرہ ا ن کو نہیں ہے ،امریکیت ومغربیت کی کوئی اکڑ فوں ان میں نہیں ہے،ایک عام ہندوستانی بلکہ ایک سادہ سا عام مسلمان ،سادہ انسان سے سب قریب ہوتے ہیں ،رکھ رکھائو سے لوگ مرعوب تو ہوتے ہیں لیکن قریب نہیں ہوتے ،اور لوگ قریب ہوتے ہیں تو اپنا پیام آسانی سے پہچایا جاسکتا ہے۔ آج سوشیل میڈیا ہی کا دور نہیں ہے بلکہ ٹیپ ٹاپ اور بن ٹھن بلکہ ریاکاری اور شعبدہ بازی کا دور ہے کہ جتنے ہیں اس سے زیادہ اسمارٹ دکھائی دیں، جو ہیں وہ توہیں لیکن اس سے بھی زیادہ بن سنور کر رہیں،اچھا رہنا ، اچھا پہننا معیوب نہیں ہے ، لیکن دکھاوے کی زندگی ، بناوٹی زیب وزینت، نمائشی اداکاری آج کا سکہ رائج الوقت ہے ،اس بات کا احساس ڈاکٹر صاحب کو بہت اچھے سے ہے ،اور انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا کہ وہ سادگی پسند ہیں بلکہ ان کا ماننا ہے کہ آج کے ہمارے مسائل کا حل بھی سادگی ہی میں مضمر ہے ، آج ہم نے سادگی چھوڑی تو مسائل ومشکلات کا شکار ہیں ،ہماری اس حالت کے لئے ہم خود ذمہ دار ہیں،کہنے لگے کہ لوگ مجھ سے ملتے ہیں اور اپنے بلند محلات کا مشاہدہ کرواتے ہیں تو میں صرف ok کہتا ہوں، اورجب میں ان سے ان کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں پوچھتا ہوں تو جواب نہیں ہوتا،آج ہم اپنی دولت کا مصرف شان وشوکت کی نمائش کوسمجھتے ہیں جب کہ ہمیں اس دولت سے علمی وتعلیمی اور رفاہی وفلاحی کام کرنے تھے وہ ہم نہیں کررہے ہیں۔
دوسری چیز جو آپ کی پہچان ہے وہ اردو زبان سے مادرانہ تعلق ہے ،مسلمان اردو کو اپنی مادری زبان کہتے ہیں لیکن اس سے ویسا برتائو نہیں کرتے جس کی وہ حق دار ہے۔زبان سے ہمارا رشتہ صبح وشام کا ہے،اسی سے ہم تہذیب وثقافت سیکھتے ہیں،اس سے افکار وخیالات منتقل کرتے ہیں،وہ ہماری تاریخ ہے ،لیکن مسلمانوں نے اس کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا ہوا ہے،اردو سیکھنے اور سکھانے کی کوشش نہیں ہوتی ،جہاں اردو کی ضرورت ہے وہاںکوئی کام کرنے والا نہیں ہے،اردو کا بورڈ آویزاں کرنے سے اردو کی خدمت نہیں ہوگی بلکہ اس کے لئے عملی میدان میں کام کرنا ہوگا ، اپنی نسلوں کو اردو سے واقف کرانا ہوگا، انہیں اردو پڑھنا سکھانا ہوگا،اور جو اردو کی روٹی کھا رہے ہیں وہ اپنے کام میں مخلص نہیں ہیں ،وہ اردو کے تئیں محبانہ ذوق کے بجائے ملازمانہ ذہنیت کے حامل ہیں۔ایک دور تھا کہ غیر مسلم بھی اردو پڑھتے پڑھاتے تھے بلکہ انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ حیدرآباد میں ایک غیر مسلم شاعر اور مصنف تھے سکسینہ ان کا نام تھا ان کی کہانیاں اور شاعری آج تک مجھے یاد ہے،اب مسلما ن خود اردو سے دور ہوتے جارہے ہیں تو کون غیر مسلم ہوگا جو اردو کو سیکھے گا،بلکہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ کسی غیر مسلم گھر میں اردو اخبار آنے کا مطلب ہندودشمنی کے مترادف ہوگیا ہے۔ اس کے لئے ہمیں فکرمند ہونے اور لائحہ عمل تیارکرکے کام کرنےکی ضرورت
تیسری خوبی جس کا اظہار آپ کے گفتگو سے سامنے آیا وہ ہے اسلامی حمیت یعنی اسلامی اخوت اور دینی محبت ، ہمارا آپسی تعلق خود اس کی دلیل ہے کہ دینی وفکری بنیادوں پر یکجائی دوستی قائم ہوئی، اس سلسلہ میں انہوں نے بتلایا کہ آج ملت کا شیرازہ جس طرح منتشر کردیا گیا ہے وہ نا صرف قابل افسوس ہے بلکہ ہم اس تقسیم در تقسیم کے عادی اور غلام ہوچکے ہیں، اتحاد کے لئے بنیادیں تلاش کی جاتی ہیں جب کہ اختلاف کے لئے تو بات کا بتنگڑ کا فی ہے، معمولی معمولی باتیں آج امت کو بانٹ دیتی ہیں، اور بڑے بڑے مسائل میں بھی ہمیں اسلامی تعلق یاد نہیں آتا ،اور یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ موجودہ دور کے اسلامی حمیت کی شان، دینی محبت کی پہچان،ایمانی نسبت کی آن بان مراد صدر ترکی جناب طیب اردگان سے ڈاکٹر صاحب کے قریبی بلکہ گھریلو تعلقات ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے گھر رہنے کے انھیں مواقع نصیب ہوئے وہیں طیب اردگان کی صاحب زادی ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کی کلاس میٹ ہیں تو گھریلو تعلقات ہیں،وہیں ڈاکٹر صاحب نے بتلایا کہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ تعالی امریکہ آئےتو مولانا محترم کے ساتھ رہنے کا موقعہ ملا ،اور ان دو شخصیات میں اسلامی حمیت کی چنگاری تھی، وہ ملت کےلئے تڑپنے والے، اور امت کے درد میں کڑھنے والے تھے۔
چوتھی چیز جس نے بہت متاثر کیا وہ اپنے بڑوں کے قدردانی ہے،محترم نے اپنے ماں باپ کی نصیحتوں کو گرہ میں باندھ لیا ہے ،اولاد وہی ہے جو اپنے والدین کے کردار وعمل کو اپنی زندگی میں اپنالے،انہوں نے بتلایا کہ ان کی والدہ محترمہ کا معمول تھا کہ گھر آئے مہمان کو کھانا کھلائےبغیر جانے نہیں دیتی تھیں، رات کے کسی بھی حصے میں کوئی بھی رشتہ دار دستک دے دے تو کھانا کھلانا اپنا فرض جانتی تھیں اور پھر اس مقصد سے کھانے کی ایک وافر مقدار گھر میں ہر وقت تیار رکھتی تھیں اور اس کو محفوظ رکھنے کا اہتمام بھی کرتی تھیں،وہ کہتی تھیں کہ دور سے آئے ہو ، سفر سے آئے ہو معلوم نہیں کیسے آئے پہلے کھانا کھالو پھر بات کریں گے۔اور ساتھ میں ایک خاص بات یہ کہ کھانا ہمیشہ زمین پر بیٹھ کر کھاتی تھیں اور یہی معمول آج تک میں نے بھی گھر پر جاری رکھا ہے۔اس میں سادگی ہے ، اس میں اپنائیت ہے ،دوسری خوب بات اپنے بڑوں کی یہ بتلائی کہ ان کی نانی جان کہا کرتیں کہ قطب جو بھی کھائے اس کا مزہ حلق تک رہتا اس کے بعد کچھ نہیں اس لئے لذیذ غذائوں کا عادی نہیں ہوا۔
پانچویں چیز دعوت دین ہے، آج ہندوستانی مسلمانوں کے لئے جہاں چیالنجیز ہیں وہیں اسی میں مواقع بھی ہیں،انہوں نے تازہ سفر کا اپناذاتی تجربہ سنایا کہ اپنے وطن نارائن پیٹ میں ایک غیر مسلم پڑوس سے ملاقات کے لئے گئے تو غیر مسلم پڑوسن نے اپنے شوہر کی موت کی اطلاع ایسے دی جیسے میں اس کا سگی بھائی ہوں ، دھاڑیں مار مارکر رورو رہی تھی اور اپنا دکھ اور درد ایسے سنا رہی تھے جیسے میں اس کا اپنا رشتہ دار ہوں ،اور اس دورے کے موقعہ پر کیا مسلمان کیا غیر مسلم ۵۰۰ کے قریب لوگوں نے شال پوشی کی اور اپنائیت کا ثبوت دیا ،یہ کیوں ہوا ، ایسا انہوں نے کیوں کیا،اس لئے کیا کہ ہم نے ان سے اپنا وطنی تعلق باقی رکھا ہے ، انہیں ہم عزیز رکھتے ہیں ،ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں،یہاں کی غیر مسلم آبادی آج اسلام سے اس لئے دور ہے کہ مسلمانوں نے ان سے اپنے تعلقات ختم کرلئے ہیں،حد تو یہ ہے کہ شہر میں رہنے والے مسلمان کو تلگو نہیں آتی جب کہ شہر کا ایک غیر مسلم اردو میں بات چیت کرتا ہے ۔
آخری نکتہ بڑا ہی اہم اور مسلم معاشرہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف ہے کہ اسراف وفضول خرچی شاہ خرچی کا منھ چڑارہی ہے ، آج ہماری تقاریب شاہانہ انداز، بادشاہانہ ناز پر ہورہی ہیں، دعوتوں میں فضول خرچی آگے ہی بڑھتی جارہی ہے،کیا گائوں دیہات ، کیا شہر ہر جگہ اسراف ہی اسراف ہے، ہماری دولت مندی کو دیکھنا ہوتو ہماری شادی بیاہ کو دیکھ لیجئے،اور ہماری غربت وناداری معلوم کرنا ہوتو اسکولس وکالجس کو دیکھ لیجئے تو صاف سمجھ میں آجائے گا کہ مسلم قوم خود اپنے ہاتھوں اپنے مستقبل کے نشان مٹانے پر تلی ہوئی ہے، خود اپنے کو ذلت وضلالت کی گہری کھائی میں ڈھکیل رہی ہے اور اس قعر مذلت سےکوئی اس کو بچانے والا نہیں ہے ، اسے خود پلٹنا ہوگا، اسے خود بدلنا ہوگا،ایک دوست اپنے بیٹے کی شادی کا دعوت نامہ لے کربڑے طمطراق سے آئے کہ ۱۰۰۰ روپئے کا تو صرف دعوت نامہ ہے، الامان الحفیظ۔ یہ سب المیہ ہے ۔
Here To Join Us On WhatsApp
مختصریہ کہ قطب نامہ ایک فکر زندہ سے عبارت ہے، سادگی کے پیکر میں اردو کا متوالا ہے،عصرحاضر میں اتحاد ملت کا نقیب، اسلاف کی روایات کا پاسدار،دعوت دین کا علم بردار ، ملت کی ترقی ونشاۃ ثانیہ کا دل درد مند ہے، اور واقعہ یہی ہے کہ فکر کی بیج ہی سے عمل کا درخت پنپتا ہے اور مشرق ومغرب میں اس کے اثرات وثمرات ظاہر ہوتے ہیں۔…
———جاری ہے———-
( نوٹ : کتاب ‘حیات انقلاب’ کا ایک ورق تابندہ )
Here To Join Us On WhatsApp
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...