Skip to content
رئیل اسٹیٹ ایجنسی: ایک معاشی اور سماجی بحران :
ازقلم: پروفیسر عرفان شاھد
تعارف
اسلام ایک مکمل اور الہامی نظامِ حیات ہے جو عدل، عقل اور رحم پر مبنی ہے۔ یہ صرف نماز، روزہ اور مخصوص رسومات تک محدود نہیں بلکہ فرد اور معاشرے کی ہر جہت کو محیط ہے۔ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک زکوٰۃ ہے، جو دولت کی منصفانہ تقسیم اور مستحقین کی بہبود کو یقینی بناتی ہے۔ زکوٰۃ تجارتی مال اور فاضل دولت پر فرض ہے، مگر رہائشی مکان کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس چھوٹ کا مقصد بنیادی انسانی حق — یعنی رہائش — کو محفوظ بنانا ہے۔
اس اسلامی اصول کے برخلاف، جدید رئیل اسٹیٹ انڈسٹری، خصوصاً بھارت جیسے ممالک میں، استحصال، ذخیرہ اندوزی، اور بے قاعدہ دلالی کا شکار ہے۔ یہ مضمون موجودہ رئیل اسٹیٹ ایجنسی کے نظام کا اسلامی اخلاقیات، سماجی و معاشی اثرات، اور بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں تنقیدی جائزہ لیتا ہے، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ صورت میں رئیل اسٹیٹ ایجنسی کا پیشہ، جیسا کہ اکثر غیر تربیت یافتہ افراد صرف ناجائز منافع کے لیے انجام دیتے ہیں، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور حرام کے زمرے میں آتا ہے۔
اسلام میں رہائش کی اہمیت
اسلام میں گھر کو انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت سمجھا گیا ہے۔ قرآن اور احادیث میں رہائش کی اہمیت بار بار بیان ہوئی ہے:
"اور ہم نے تمہارے گھروں کو تمہارے لیے سکون کی جگہ بنایا۔”
(سورۃ النحل، 16:80)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔”
(صحیح مسلم)
ان تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام معاشرے کے ہر فرد کے لیے باعزت رہائش کو یقینی بنانے کی اخلاقی و اجتماعی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذاتی رہائش پر زکوٰۃ عائد نہیں کی گئی — یہ زندگی گزارنے کا ذریعہ ہے، نفع کا ذریعہ نہیں۔
رہائش پر زکوٰۃ کی چھوٹ کیوں؟
اسلامی معیشت میں زکوٰۃ صرف ان اثاثوں پر فرض ہے جو تجارتی یا منافع بخش ہوں (اصطلاح میں: النامی مال)۔ چونکہ ذاتی رہائش کوئی پیداواری اثاثہ نہیں ہے، اس لیے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
مزید برآں، گھر انسان کی عزتِ نفس، خاندانی نظام، اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر اس پر زکوٰۃ عائد کر دی جائے تو عام انسانوں پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑے گا، جو اسلامی اصولِ سہولت کے خلاف ہے۔
یہی اصول کئی جدید قوانین میں بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً برطانیہ میں پہلا گھر خریدنے والوں کو کچھ ٹیکسز اور فیسوں سے استثنا حاصل ہے تاکہ رہائش کو سہل بنایا جا سکے۔
بھارت میں رئیل اسٹیٹ ایجنسی کا غیر منصفانہ نظام
بھارت میں رئیل اسٹیٹ ایجنسی ایک غیر منظم اور غیر تربیت یافتہ پیشہ ہے۔ کوئی بھی شخص بغیر تعلیم یا اخلاقی تربیت کے ایجنٹ بن سکتا ہے، جس کے کئی سنگین اثرات سامنے آئے ہیں:
کرایہ کی مصنوعی مہنگائی: ایجنٹس عمداً مالکان کو پرانے کرایہ دار نکالنے پر اکساتے ہیں تاکہ نئے کرایہ دار سے کمیشن وصول کریں۔
دونوں طرف سے کمیشن: کرایہ دار سے بھی فیس لی جاتی ہے حالانکہ وہ اصل سروس لینے والا نہیں ہوتا۔
ذمہ داری سے فرار: کسی بھی تنازع میں ایجنٹ غائب ہو جاتے ہیں اور کوئی تعاون نہیں کرتے۔
جرائم پیشہ عناصر کی شمولیت: بے قاعدگی کے باعث یہ پیشہ مافیا اور جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔
برعکس اس کے، میڈیکل، وکالت، یا مالیاتی خدمات جیسے پیشوں میں باقاعدہ تعلیم، امتحان، اور نگرانی کے نظام موجود ہیں۔
اسلامی احکام اور استحصال کا ردّ
اسلام میں ناجائز منافع، دھوکہ دہی، اور خدمت کے بغیر پیسے لینے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
"اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اسے حاکموں کے پاس لے جاؤ تاکہ لوگوں کے مال میں سے کچھ ناجائز طور پر کھا سکو حالانکہ تم جانتے ہو (کہ یہ حرام ہے)۔”
(سورۃ البقرہ، 2:188)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس نے ہم سے دھوکہ کیا، وہ ہم میں سے نہیں۔”
(صحیح مسلم)
مسکن تلاش کرنے میں مدد کو صدقہ کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اسے منافع کا ذریعہ بنانا، خاص طور پر مستحقین کے لیے، اسلامی جذبۂ ایثار اور تعاون کی نفی کرتا ہے۔
پیشہ ورانہ خدمات سے تقابل
ایجنٹ اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر، وکیل، یا مالی مشیر کی طرح ہیں، مگر یہ تقابل غلط ہے:
تعلیم و تربیت: ڈاکٹرز و وکلا برسوں کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، لائسنس لیتے ہیں۔
نگرانی کا نظام: ان پر ضابطے لاگو ہوتے ہیں اور بدعنوانی پر سزا دی جاتی ہے۔
معاشرتی خدمات: یہ خدمات بنیادی اور عوامی اہمیت کی حامل ہیں۔
اس کے برعکس، بیشتر رئیل اسٹیٹ ایجنٹ بغیر کسی تربیت، ذمہ داری یا ضابطے کے صرف فون کال یا مکان دکھانے پر فیس لیتے ہیں۔
رئیل اسٹیٹ میں ذخیرہ اندوزی اور معیشت پر اثر
رئیل اسٹیٹ کی ذخیرہ اندوزی معیشت پر منفی اثر ڈالتی ہے، مہنگائی، شہری بدحالی، اور مکانات کی کمی کو جنم دیتی ہے۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ایسی سرمایہ کاری معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق رئیل اسٹیٹ کی مہنگائی سب سے زیادہ ان افراد کو متاثر کرتی ہے جن کی آمدنی 50,000 روپے سے کم ہے، اور وہ کچی بستیوں یا مہنگے کرائے میں پھنس جاتے ہیں۔
قرآن کہتا ہے:
"اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔”
(سورۃ التوبہ، 9:34)
اسلامی حکومت اور رہائشی انصاف
اسلامی نظامِ حکومت کا ایک بنیادی فریضہ ہے کہ وہ شہریوں کو رہائش فراہم کرے۔ حضرت عمر بن الخطابؓ نے بے گھروں کے لیے رہائش گاہیں قائم کیں اور ہر شہری کی ضروریات کا خیال رکھا۔
آج اسلامی اداروں اور حکومتوں کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
زکوٰۃ کی رقم سے عوامی رہائش گاہوں کا قیام۔
کرایہ داری کے ضوابط کا نفاذ تاکہ استحصال نہ ہو۔
رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے لیے لائسنسنگ کا نظام متعارف کروانا (جیسے برطانیہ کا CeMAP نظام)۔
مسلمانوں اور اسلامی اداروں کے لیے سفارشات
مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر اداروں کو موجودہ استحصالی دلالی نظام کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔
متبادل نظام جیسے اسلامی کوآپریٹو سوسائٹیز، وقف پر مبنی ہاؤسنگ ماڈلز کو فروغ دینا چاہیے۔
قانون سازی کے لیے مہم چلائی جائے تاکہ رئیل اسٹیٹ کو ضابطے میں لایا جا سکے۔
عوام کو تعلیم دی جائے کہ رہائش میں مدد کرنا صدقہ اور ثواب کا باعث ہے۔
موجودہ صورت میں رئیل اسٹیٹ ایجنسی کا نظام، خصوصاً بھارت جیسے ممالک میں، اسلامی اصولوں سے متصادم ہے۔ اسلام کسی بھی انسانی بنیادی ضرورت — خاص طور پر رہائش — کو ناجائز منافع کا ذریعہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔
رہائش پر زکوٰۃ کی چھوٹ، اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اسلام انسان کو بامعنی زندگی دینے کا خواہاں ہے۔ اس چھوٹ کا فائدہ اٹھا کر استحصال کرنا ایک صریح اخلاقی گناہ ہے۔
مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے کہ رہائشی بحران محض معاشی نہیں بلکہ اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ اس کا حل صرف اقتصادی پالیسی سے نہیں بلکہ اسلامی اقدار — عدل، رحم، اور اجتماعی بھلائی — کو اپنانے سے ہی ممکن ہے۔
یہ صرف ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک انسانی ذمہ داری بھی ہے۔
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...