Skip to content
عید الاضحیٰ: روحانی اہمیت، معاشی اثرات اور غلط فہمیوں کا ازالہ۔
ازقلم:پروفیسر عرفان شاھد
عید الاضحیٰ کی اہمیتعید الاضحیٰ، جسے "قربانی کی عید” بھی کہا جاتا ہے، مسلمانوں کا دوسرا بڑا مذہبی تہوار ہے جو ہر سال دنیا بھر میں نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کی تیاری کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی اطاعت کو قبول کرتے ہوئے ایک مینڈھا بھیجا تاکہ وہ قربانی کے طور پر پیش کیا جائے۔
عید الاضحیٰ ہر سال ذی الحجہ کی 10 تاریخ کو منائی جاتی ہے اور اسی دن حج کا رکن اعظم بھی ادا کیا جاتا ہے۔ اس دن مسلمان نماز عید ادا کرتے ہیں، قربانی کرتے ہیں، غریبوں کو گوشت بانٹتے ہیں اور خاندان و عزیزوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ قربانی کے جانوروں میں بکرا، دنبہ، اونٹ اور بھینس شامل ہیں۔ گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا عزیز و اقارب کے لیے اور تیسرا حصہ غریب و نادار لوگوں کے لیے۔
۲۔ روحانی اور تاریخی بنیاد
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی کی داستان اطاعت، توکل اور اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی بہترین مثال ہے۔ اس قربانی کی روایت کو نبی کریم ﷺ نے بھی جاری رکھا اور امت کو اس پر عمل کرنے کی تاکید کی۔> نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “یوم النحر (عید الاضحی کے دن) اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل جانور کا خون بہانا ہے، وہ خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں قبول کر لیا جاتا ہے، اس لیے خوش دلی سے قربانی کرو۔” (ترمذی: 1493)یہ حدیث قربانی کے روحانی انعامات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
۳۔ معاشی اہمیت اور عالمی اثرات
عید الاضحیٰ نہ صرف روحانی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی بے حد اہم ہے۔ دنیا بھر میں اس موقع پر اربوں ڈالرز کی اقتصادی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے مطابق ہر سال 100 ملین سے زائد جانور قربان کیے جاتے ہیں، جو عالمی معیشت میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔چند اہم معاشی شعبے:- مویشی فروشی: کسان اور تاجر سال بھر کی آمدنی کا بڑا حصہ اسی موقع پر کماتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نائجیریا جیسے ممالک میں لاکھوں جانور فروخت ہوتے ہیں۔- روزگار: قصاب، گاڑی چلانے والے، جانور سنبھالنے والے، عارضی مزدور، سب کو روزگار ملتا ہے۔ اندازہ ہے کہ صرف پاکستان میں 12 لاکھ سے زائد افراد کو موسمی روزگار ملتا ہے۔- ٹرانسپورٹ: جانوروں کی ترسیل کے لیے گاڑیوں کا کرایہ بڑھ جاتا ہے، پیٹرول اور دیگر اشیاء کی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے۔
خوراک کی صنعت:
ہوٹل اور گوشت پروسیسنگ یونٹس کی طلب بڑھتی ہے، جس سے معیشت کو فروغ ملتا ہے
عید الاضحیٰ کے دوران قربان کیے گئے جانوروں کی تخمینی تعداد (لاکھوں میں):-
پاکستان: 80 لاکھ-
بھارت: 100 لاکھ-
بنگلہ دیش: 75 لاکھ-
انڈونیشیا: 50 لاکھ-
نائجیریا: 40 لاکھ
عید الاضحیٰ کے دوران پیدا ہونے والی موسمی ملازمتیں:-
پاکستان: 12 لاکھ-
بھارت: 15 لاکھ-
بنگلہ دیش: 10 لاکھ-
نائجیریا: 8 لاکھ-
انڈونیشیا: 7 لاکھ
۴۔ تنقید اور دوہرا معیار
عید الاضحیٰ پر قربانی کے عمل کو بعض حلقے خصوصاً بھارت میں ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔ خود کو جانوروں کے حقوق کا محافظ کہنے والے بعض ہندو گروہ مسلمانوں کی گاڑیاں روک کر ڈرائیوروں کو زد و کوب کرتے ہیں، حالانکہ یہی گروہ ہندو مندروں میں دیوی دیوتاؤں کے نام پر بکرے، مرغے اور دیگر جانور ذبح کرتے ہیں۔مزید برآں، بھارت دنیا کے بڑے گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور ان کمپنیوں کی ملکیت زیادہ تر غیر مسلموں کے پاس ہے۔ ان کے تجارتی ذبح پر کوئی تنقید نہیں ہوتی، جبکہ مسلمان سال میں صرف ایک بار قربانی کرتے ہیں، جسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
۵۔ سماجی فوائد: بھوک کا خاتمہ اور صدقہ
عید الاضحیٰ کا سب سے بڑا سماجی فائدہ یہ ہے کہ غریب اور نادار افراد گوشت جیسی قیمتی غذا کھا سکتے ہیں، جو عام دنوں میں ان کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔ اسلامی ریلیف، ہیومن اپیل اور دیگر ادارے دنیا بھر کے پسماندہ علاقوں میں لاکھوں افراد تک قربانی کا گوشت پہنچاتے ہیں۔اسلامی ترقیاتی بینک کے مطابق 2020 میں قربانی کے عالمی پروگرام کے ذریعے 30 ملین سے زائد افراد کو فائدہ پہنچا۔ یہ گوشت غذائیت میں اضافہ اور صحت بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
۶۔ بھارت میں غلط فہمیاں، سیاست اور تعصب
بھارت میں عید الاضحیٰ کو اکثر فرقہ وارانہ نفرت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی شدت پسند تنظیمیں مسلمانوں کی قربانی کو غیر انسانی اور متنازع قرار دیتی ہیں۔ گائے کے ذبح پر پابندی کو مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔کئی نام نہاد جانوروں کے تحفظ کے ادارے عید پر سرگرم ہو جاتے ہیں، لیکن باقی دنوں میں لاکھوں جانوروں کے ذبح پر خاموش رہتے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق کئی بار مسلمان تاجروں پر حملہ کرنے والے افراد کا جانوروں سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ خود مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔
۷۔ مغربی رویہ اور گوشت کی صنعت میں منافقت
یورپ اور امریکہ جیسے مغربی ممالک میں بھی اسلامی ذبح پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، حالانکہ ان کے اپنے ملکوں میں KFC، McDonald’s اور دیگر کمپنیاں روزانہ لاکھوں مرغیاں اور جانور ذبح کرتی ہیں۔2022 میں USDA کے مطابق صرف امریکہ میں ہر ہفتے 170 ملین مرغیاں ذبح کی جاتی ہیں۔ ان کا طریقہ کار اکثر غیر انسانی ہوتا ہے، جب کہ اسلامی شریعت میں جانور کو اذیت دیے بغیر، صحت مند اور دعا کے ساتھ ذبح کرنے کی سخت تاکید ہے۔
۸۔ عقیدے کا دفاع دلیل اور ڈیٹا کے ساتھ
عید الاضحیٰ محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایک روحانی، معاشرتی اور معاشی عمل ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خیر کا ذریعہ ہے۔ اس پر ہونے والی تنقید، چاہے وہ بھارت سے ہو یا مغرب سے، اکثر لاعلمی، تعصب یا دوہرے معیار پر مبنی ہوتی ہے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مذہبی شعائر پر فخر کریں، دلیل و برہان کے ساتھ عوامی مکالمے میں شامل ہوں اور قربانی کی روحانی و انسانی قدر کو اجاگر کریں۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...