Skip to content
اسرائیل،16جون(ایجنسیز)اسرائیلی خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کمانڈ سسٹم کو بھی درہم برہم کر دیا ہے۔اسرائیلی خفیہ اداروں کے اندازوں کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے سینکڑوں بیلسٹک میزائل اور کئی لانچنگ پلیٹ فارم تباہ ہو چکے ہیں، جس سے ایران کے میزائلوں کی تعداد کم ہو کر تقریباً 3000 سے 2000 کے قریب رہ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باعث ایران کی وہ صلاحیت بہت کمزور ہو گئی ہے، جس کے تحت وہ بڑی تعداد میں اور طویل فاصلے تک میزائل داغ سکتا تھا۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ ایرانی اعلیٰ فوجی قیادت کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے میدانِ جنگ کی قیادت میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔
اسرائیل نے پاسدارانِ انقلاب کے فضائیہ کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ کو قتل کر دیا، جو ایران کی میزائل کارروائیوں کے انچارج تھے۔ اس کے علاوہ ڈرون یونٹس، فضائی دفاعی نظام اور دیگر اہم شعبوں کے کئی سینئر افسران بھی مارے گئے۔
مزید برآں، اسرائیلی کارروائیوں میں ایرانی فوج کے سربراہ محمد باقری، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی، آپریشنز کے سربراہ رستم علی رشید، سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی اور معروف جوہری سائنس دان فریدون عباسی اور مهدی طهرانجی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” نے کچھ عرصہ پہلے ہی ایران میں میزائلوں کے گوداموں کی نشاندہی کر لی تھی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے تجارتی نیٹ ورکس اور بیچ میں موجود لاعلم کاروباری افراد کا سہارا لیتے ہوئے چار پروں والے ڈرونز ایران میں منتقل کیے۔ حالیہ دنوں میں موساد کے ایجنٹس نے ایران کے اندر کارروائیاں کیں اور میزائل لانچ سے پہلے ہی اہداف کو تباہ کر دیا۔
اگر اسرائیلی خفیہ اداروں کے اندازے درست ہوں کہ ایران کے پاس اب تقریباً 2000 میزائل باقی ہیں، اور وہ روزانہ 100 میزائل فائر کرتا ہے، تو یہ مہم تقریباً 20 دن تک جاری رہ سکتی ہے بشرطیکہ کوئی بین الاقوامی مداخلت اس جنگ کو رکوانے میں کامیاب نہ ہو۔
Post Views: 20
Like this:
Like Loading...