Skip to content
گریٹر اسرائیل والے بنکروں میں
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
16 جون 2025
آج سے دس سال پہلے کوئی اسرائیل کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ نہیں سکتا تھا حملہ کرنا میزائل مارنا تو دور کی بات ہے مگر افغانستان اور عراق میں امریکی شکست اور شام میں اسد حکومت کے خاتمے سے اور روس یوکرین جنگ سے روس کے کمزور ہونے اور یوروپ میں الجھ کر رہ جانے سے حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ جب اسرائیل دو سال میں حماس کو شکست نہیں دے سکا حماس کوئی ریاست نہیں ہے نان اسٹیٹ ایکٹر ہے جس کے پاس باضابطہ ریاست نہیں ہے تو یہ ثابت ہو گیا کہ اب مشرق وسطیٰ میں کوئی ایک سپر پاور نہیں ہوگا اب دنیا یونی پولر کے بجائے تری قطبی ہوگی جس میں روس اور اس سے بڑھ کر چین اپنی اقتصادی اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر آئندہ کا سپر پاور ہوگا۔
جب حماس کو شکست دینے میں اسرائیل کامیاب نہیں ہو سکا تو اب اسرائیل کا وہ دبدبہ برقرار نہیں رہ سکتا جو پہلے تھا سفارتی تنہائی اور معیشت کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی ہے۔ پتہ نہیں اسرائیل کے گریٹر اسرائیل کے خواب کا کیا ہوگا۔ اکتوبر میں جب ایران نے بڑے پیمانے پر اسرائیل پر میزائل داغے تھے تو اسرائیل کے دفاعی نظام کی کمزوریاں سب کو پتہ چل گئی تھی یہ ڈیفنس سسٹم بڑے پیمانے پر ہونے والے حملے اور ہائپر سونک میزائل کو روکنے میں ناکام ثابت ہوا۔
13 جون کو اسرائیل نے بڑے پیمانے پر ایران پر حملہ کیا اور اس کی فوجی قیادت کے بڑے بڑے لوگوں کو قتل کر دیا فوجی تنصیبات پر حملے بھی بڑے تھے۔ اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جن میں نطنز کی زیر زمین جوہری سہولت بھی شامل تھی۔ IRGC کے انٹیلیجنس چیف اور دو اعلیٰ جنرل ہلاک ہوئے۔ ایسا لگ رہا تھا فوجی قیادت کے شہید ہونے کے بعد ایران دہل گیا ہے اور ایک لمبے عرصے تک جوابی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
مگر 14 جون کی شام کو ایران نے سینکڑوں بیلسٹک میزائل اسرائیل پر داغے اور جو ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھے جا سکتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کافی نقصان ہوا ہے۔ تل ابیب، یروشلم اور حیفا پر درجنوں میزائل گرے اور بہت بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، آگ لگ گئی اور جانی نقصان کی اطلاعات آئیں۔ مغربی دنیا اور اسرائیل دونوں ایک طرح کے صدمے میں ہیں۔
امریکی موقف کے بارے میں وضاحت ضروری ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی ہے اور امریکہ ایران کے خلاف حملوں میں ملوث نہیں ہے۔ تاہم امریکہ مکمل طور پر غیر جانبدار بھی نہیں ہے کیونکہ امریکی فوج نے اسرائیل کی جانب آنے والے ایرانی میزائلوں کو تباہ کرنے میں مدد کی۔ یہ محدود دفاعی مدد ہے مگر مکمل غیر جانبداری نہیں۔
15 جون کو عمان میں ہونے والے چھٹے دور کے جوہری مذاکرات معطل ہو گئے کیونکہ ایران نے شرکت سے انکار کر دیا۔ الجزیرہ کی خبروں کے مطابق ٹرمپ نے صدر پیوٹن سے جنگ بندی کی بات کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں ٹرمپ کی بنیادی حمایت میں تقسیم پیدا ہوئی ہے اور کچھ دایں بازو کے رہنماؤں نے اسرائیلی حملوں پر سوال اٹھائے ہیں اور امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں ملوث ہونے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
اسرائیل میں خوف و دہشت کا ماحول ہے ساری قوم کو دن رات زیر زمین بنکروں میں رہنا پڑتا ہے اس کے باوجود وہاں سے ہلاکتوں کی اطلاعات آئی ہیں۔ یقینی طور پر اسرائیل ان میزائل حملوں کا جواب دے گا مگر اب مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔
چین بھی کوشش کرے گا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشرق وسطیٰ میں کمزور کیا جائے اور طاقت کا ایک نیا ایشیائی مرکز بنایا جائے جس کا مرکز چین ہوگا کیونکہ چین علاقے میں اپنی اقتصادی اور فوجی طاقت بڑھانے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ پہلے مشرق وسطیٰ میں ہر چیز امریکہ کی مدد سے ہوتی تھی اب ویسی صورت حال نہیں ہوگی اب یوروپین اقوام اور نیٹو وہ کردار ادا نہیں کر سکیں گے جو وہ پہلے کرتے تھے۔
جنگ لمبی چل سکتی ہے ایران کوئی حماس نہیں جو نہتے ہیں جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ایران ایک فوجی طاقت ہے سبھی ہتھیار خود بناتا ہے میزائل اور ڈرون طیارے تیار کرتا ہے برآمد بھی کرتا ہے وہ ایک لمبی جنگ لڑ سکتا ہے۔ ایرانی ایک لڑاکو قوم ہے پہلے بھی عراق کے ساتھ آٹھ سال جنگ لڑ چکے ہیں اس کے مقابلے میں اسرائیل لمبی جنگ نہیں لڑ سکتا ہے۔ امریکا زیادہ دنوں تک مدد نہیں کرے گا اور ہاتھ کھینچ لے گا کیونکہ اب امریکی عوام میں بھی مداخلت کے خلاف رائے بڑھ رہی ہے۔
ایران کو پس پردہ چین اور پاکستان کی مدد حاصل رہے گی۔ اگر آئندہ دو چار دن میں اسرائیل کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے تو امریکہ جنگ بندی کی کوششیں کرے گا۔ جنگ سے امریکی تیل کی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا امریکی ہتھیار بنانے والوں کو فائدہ ہوگا جب تک جنگ جاری رہے گی نیتن یاہو اقتدار میں رہے گا ورنہ جیل جانا ہوگا۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے زیادہ نقصان اور تباہی کے بعد کہیں اسرائیل نیوکلیئر بم یا ایٹم بم بھی استعمال کر سکتا ہے اس صورت میں جنگ کیسی ہوگی روس چین پاکستان کیا کریں گے اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ ایسی صورت میں علاقائی جنگ عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے اور عالمی طاقت کے توازن میں مکمل تبدیلی آ سکتی ہے۔
فی الوقت جنگ بندی کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے ایران جنگ بندی کے لئے تیار نہیں ہے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے یہ صاف ہو گیا ہے۔ ایران جیسے ملک اب براہ راست اسرائیل کو چیلنج کرنے کی جرأت کر رہے ہیں اور اسرائیل کا وہ دبدبہ اب باقی نہیں رہا جو کبھی تھا۔ اسرائیلی دفاعی نظام کی کمزوریاں واضح ہو چکی ہیں اور بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کو روکنے میں ناکامی ثابت ہوئی ہے۔
صورت حال آئندہ ایک ہفتے میں واضح ہوگی۔ روس یوکرین جنگ سے ثابت ہوا جنگ میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا شروع کرنا آسان ہے مگر آگے کیا ہوگا کوئی نہیں بتا سکتا۔ آئندہ ہفتے کے دوران صورتحال مزید واضح ہوگی لیکن یہ بات طے ہے کہ خطہ ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں کوئی ایک طاقت کا غلبہ نہیں بلکہ متعدد طاقتوں کا کھیل ہوگا۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...