Skip to content
مودی سرکار نے گودی میڈیا کی ناک کٹوادی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
پہلگام حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی دوڑے دوڑے سعودی عرب سے واپس آئے تو لوگوں نے سوچا کہ اب یہ شیر سیدھےکشمیر پہنچ جائے گا لیکن وہ تو بکری بن کر چارہ کھانے بہار پہنچ گئے۔ اس کے بعد لوگوں کو یاد آیا کہ جو وزیر اعظم پچھلے پچیس ماہ سے منی پور نہیں گیا وہ بھلا کشمیر کی وادی میں کیسے جاسکتا ہے؟آپریشن سیندور کے بعدجب اعلان ہوا کہ وزیر اعظم جموں کشمیر جارہے ہیں تو لوگوں نے سوچا کہ وہ پہلگام جاکر سید عادل شاہ کے گھر ضرور جائیں گے مگر وہ جموں سے آگے نہیں گئے ۔ بس وہیں سے ریل گاڑی کو ہری جھنڈی دکھا کر لوٹ آئے۔ مودی کے اس دورے پر حزب اختلاف سوال کیا کہ چھپنّ انچ والے وزیر اعظم نے کشمیر کی وادی میں قدم رکھنے کی جرأت کیوں نہیں کی ؟ آزاد میڈیا سوال کررہا تھا کہ وزیر اعظم پہلگام نہ سہی تو کم ازکم جموں کے پونچھ میں ہی چلے جاتے جہاں پاکستانی گولا باری سے کئی لوگ ہلاک و زخمی ہوئے۔آپریشن سیندور کے بعد اپنے اولین قومی خطاب میں تو وہ جن پونچھ کے مہلوکین کوپوری طرح بھول گئے تھے ان سے مل آ تے توکم ازکم کفارہ ادا ہوجاتا ۔ جموں کشمیر کےایل جی منوج سنہا کو یہ غلط فہمی گولا باری میں صرف سڑک ٹہلنے والے لوگ ہلاک ہوےحالانکہ وہنگ ، زویا اور زین اپنے والدین کے ساتھ جان بچا کر بھاگتے ہوئے لقمۂ اجل بنے۔ ایک سردار جی تو گھر میں گولا باری کا نشانہ بن کر چل بسے۔انہیں حقیقتِ حال کا علم ہوجاتا۔
میر واعظ عمر فاروق نے وزیر اعظم کا نئی ریل کے شروع کرنے پر شکریہ ادا کیا مگر ساتھ بارہ ہزار سے زیادہ بے قصورکشمیریوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔ کشمیر میں دفع 370ختم ہونے کے بعد حالات کے خوشگوار ہوجانے کے دعویٰ کی قلعی کھول دینے کے لیے یہ تعداد ہی کافی ہے۔ جموں کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کا دعویٰ کرنے والی مرکزی حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئےحریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ فاروق نے ایکس پر اپنے پیغام نے لکھا کہ ” دنیا بھر میں منائے جانے والے ان کے سب سے اہم مذہبی موقع پر بھی ایک مسلم اکثریتی خطے میں، مسلمانوں کو نماز پڑھنے کے بنیادی حق سے محروم رکھا جاتا ہے ‘‘۔ میرواعظ نے لکھا کہ 2019 سے جامع مسجد مسلسل عید کی نماز کے لیے بند رہی ہے۔ جمعہ کے روز، انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے اعلان کیا کہ عید الاضحٰی کا اجتماع تاریخی جامع مسجد میں ہوگا، جبکہ دوسری طرف حکام نے ایک بار پھر عید گاہ سری نگر میں نماز عید کے انعقاد کی اجازت نہ دینے کی تصدیق کردی اور ہفتہ کی صبح تاریخی مسجدپر تالہ پڑا پایا گیا۔
پہلگام سانحہ سے قبل 31 مارچ کو ہی حکام نے عید الفطر کے موقع پر مسجد کو تالہ لگا کر میر واعظ کو گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔ حکام نے جمعہ، شب قدر اور جمعتہ الوداع سمیت اہم ایام پر مسجد کو بھی بند کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے لاکھوں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حکام مسلمانوں کے اجتماع سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں ؟ ایسا تو اسرائیل میں بھی نہیں ہوتا۔ مسجد اقصیٰ میں ان مواقع پر لاکھوں فرزندانِ توحید عبادت کرتے ہیں ۔کشمیر کے حوالے یہ حقائق میڈیا میں نہیں دکھائے جاتے اور جو دکھایا جاتا ہے اس کی ایک مثال جموں کے پونچھ میں واقع مدرسہ ضیاء العلوم درس و تدیس کی ذمہ داری ادا کرنے والے اقبال احمد کی خبر ہے۔ ۷؍ مئی کو ہونے والی پاکستانی گولہ باری میں وہ شہید ہوگئے۔موصوف گذشتہ دو دہائیوں سے وہاں مدرس تھے۔ان کے موت کی خبر کوبیشتر میڈیا چینلز نے ایک ’دہشت گرد‘ کی موت قرار دے دیا ۔ اس طرح گویا حافظ اقبال احمدپر دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگا دیا گیا۔
مرحوم کے بھائی فاروق احمدنے اس بابت بتایا کہ ’میرا بھائی ایک معلم تھا، لیکن ان کی داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر میڈیا والوں نے انہیں دہشت گرد قرار دے دیا۔فاروق کے مطابق میڈیا کی یہ حرکت ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے والی تھی ۔ان کو افسوس ہے کہ وہ میڈیا میں اپنے بھائی اقبال کو کی بدنامی کے خلاف دفاع تک نہیں کر سکے۔ یہ معاملہ جب آگے بڑھا کہ پولیس کو ایک بیان جاری کرکے ان دعوؤں کی ترید کرنی پڑی مگر جن لوگوں نے یہ گھناونی حرکت کی تھی ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی اس لیے مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوہرائے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔حکومت اس طرح کا جھوٹ پھیلانے والوں کی سرزنش تو نہیں کرتی مگر میڈیا کی قلعی کھولنے والے صحافیوں کو خوب ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ سوشیل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول ۴؍ پی ایم کی نشریات پر پابندی لگائی جاتی ہے کیونکہ وہ سرکار سےسوال پوچھتے ہیں ۔ اس دوران کئی چینلس کو عارضی طور پر بند کرکے ان پر مقدمات درج کیے گئے۔ مودی سرکار نے جھوٹ پھیلانے والوں کی پشت پناہی کے لیے بی بی سی اور ٹی آر ٹی سمیت متعدد عالمی ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد کردیں۔
آپریشن سیندور کے بعد حواس باختہ میڈیا کی کئی مثالیں واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں درج کی ہیں۔ اس جنونِ بے خودی کے دوران وقوع پذیر ہونے والے مضحکہ خیز واقعات کو دیکھ کر رونا بھی آتا ہے اور ہنسی بھی آتی ہے۔ این ڈی ٹی وی کا ایک صحافی میدان سے کنٹرول روم کو یہ کہتے ہوئے پکڑا گیا کہ”پہلے آپ کہتے ہیں اپڈیٹ دو، اپڈیٹ دو، پھر کہتے ہو جھوٹی خبر کیوں دی؟” اب وہ بیچارہ کرے تو کیا کرے ؟ اسی طرح آج تک کے شو میں موجود ایک نوجوان نے جب سوال کیا کہ ” جب ہمارے چینلز بغیر تصدیق کے خبریں چلا رہے تھےتو بین الاقوامی سطح پر ہمیں جو شرمندگی اٹھانی پڑی ؟” تو اس کا جواب دینے کے بجائے رپورٹر نے اس کی جانب سے مائیک کو فوراً ہٹا لیا گیا۔ پہلگام سانحہ کے بعد تو ایک رپورٹر نے وہاں موجود سیاحوں کو جھوٹ بولنے کے لیے رشوت کی پیشکش بھی کی اور وہ واقعہ بھی کیمرے کی آنکھ نے قید کرلیا ۔ صحافتی دیانتداری کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے جب واشنگٹن پوسٹ نے ان واقعات کو اپنی رپورٹ میں شامل کرنے سے قبل آج تک اور انڈیا ٹوڈے کے پی آر ہیڈ سے رابطہ کرکے اسے وضاحت کرنے کا موقع دیا تو وہ درخواستیں صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔
گودی میڈیا کے نقار خانے میں ایک ایسا اینکر بھی واشنگٹن پوسٹ کو مل جس نے ایمانداری اعتراف کیاکہ "میں اس صورتحال پر افسردہ ہوں۔ اب خود احتسابی کا وقت آگیاہے ۔” ایک سابق نیول ایڈمرل نے بھی کہا کہ "ہم اطلاعاتی جنگ ان کرداروں(جوکروں) کے ہاتھوں ہار گئے ہیں۔”نیوز لانڈری نامی پورٹل کی نروپما راؤ نے تو صاف کہاکہ "ٹی وی چینلز میگا فون چلا رہے تھےجبکہ ہمیں ایسے مائیکروفون کی ضرورت ہے جس کی آواز معتبر سمجھی جائے۔”ذرائع ابلاغ کی سب سے قیمتی اثاث ان کی اعتباریت ہوتی ہے کیونکہ قارئین یا ناظرین بغیر دیکھے ان باتوں پر یقین کرلیتے ہیں جو انہیں پڑھائی یا دکھائی جاتی ہیں لیکن اگر انہیں پتہ چلے کہ ’خواب تھا جو کچھ تھا دیکھا جو سنا افسانہ تھا‘ تو وہ اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کرتے ہیں ۔ گودی میڈیا کی ہنگامہ آرائی کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ عوام کی اندر غیر معمولی توقعات پیدا ہوگئیں مگر جب وہ افسانوی خواب پورے نہیں ہوئےتو جنگ بندی کے بعد لوگوں کے اندر مایوسی پسرگئی۔ وہ آپے سے باہر ہوکر شدید غم غصے کا اظہار کرنے لگے ۔
عوام الناس کو جب یہ یقین دلا دیا گیا تھا کہ پاکستان کے تمام اہم شہروں پر قبضہ ہوچکا ہے اور دنیا کے نقشے سے اس کا نام نشان مٹنے ہی والا ہے۔ وہاں کے وزیر اعظم زیر زمین بنکر میں روپوش ہیں اور کمانڈر ان چیف کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا ہے تو وہ خوشی سے جھوم اٹھے ۔ اس کے بعد جب سرکاری ترجمان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو لوگ بھڑک گئے ۔ وہ بھول گئے کہ سرکاری ترجمان وکرم مصری یہ اعلان اپنی جانب سے نہیں کررہے ہیں بلکہ مودی حکومت کا موقف پیش کیا جارہا ہے۔ انتہا پسند مودی بھگتوں کا عتاب وکرم مصری پر اس قدر پھوٹا کہ انہیں اپنا اکاونٹ عارضی طور پر پرائیویٹ کرنا پڑا۔ اس پر بھی یہ غنڈے نہیں مانے اور ان کی اہلیہ و بیٹی کی کردار کشی کرنے لگے۔ اس پاگل پن کی بنیادی ذمہ داری میڈیاکے اندر بیٹھے لوگوں کےان کے آقاوں پر بھی ہے جن کی گودی میں وہ پھدک پھدک کر جھوٹ پھیلاتا ہے ۔ اس طرح ایک شریر بچے نے اپنے سرپرست (سرکار) سمیت پورے خاندان( ملک) کی ناک کٹا دی۔ سچ تو یہ حکومت ہند نے اپنے اقتدار کی خاطر قومی ذرائع ابلاغ کی اعتباریت اور وقار کو بلی چڑھا دیا ہے ۔ عالمی سطح پر آئے دن ہندوستانی میڈیا کا ’چیر ہرن‘ (مہابھارت میں دروپدی کو برہنہ کرنے کی کوشش) کیا جاتا ہے ۔ ایسے میں سرکار سے ہندوستانی میڈیا دروپدی کی طرح ہندی زبان کا یہ شعر سنا کر فریاد کناں ہے ؎
مان تمہارا ہی کیا جگ میں ، کیا میرا سمانّ نہیں؟
داوں لگا بیٹھے کیوں پانڈو، کیا مجھ میں ابھیمان نہیں ؟
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...