Skip to content
ظریفانہ: مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن نے کلن سے پوچھا بھیا تم نے رات میں جوجی ۷ کی تصویر بھیجی تھی اس میں کچھ گڑ بڑ ہے۔
گڑ بڑ ! کیسی گڑبڑ ۔ وہ تو مجھے اپنے آئی ٹی سیل سے ملی تھی اور میں نے بغیر دیکھے اسے پھیلا دیا۔ اس میں گڑ بڑ کیسے ہوسکتی ہے؟
اس میں بہت بڑی گڑ بڑ بھیا اسے کنفرم کرنے کے لیے میں نے اے این آئی کا ٹویٹ بھی ڈھونڈا مگر وہ وہاں سے بھی ہٹا ئی جاچکی تھی ۔
اچھا ! لیکن اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ۔ ہمارا آئی ٹی سیل اسی کام کے لیے بنایا گیا ہے ۔
للن نے سوال کیا میں یہ تو نہیں جانتا کہ آئی ٹی سیل کس لیے بنایا گیا ہے؟ مگر مجھے لگتا ہے پردھان جی بہت جلد اسے بند کروا دیں گے ۔
کیا بکتے ہو پردھان جی نے ہی تو اسے تصویر اور آواز بدلنے نیز ویڈیو میں چھیڑ چھاڑ کرنے کے لیے بنوایا ہے ۔ وہ بھلا اس کو کیوں بند کریں گے ؟
کیا بولتے ہو کلن ؟ لوگ تو کہتے ہیں تصویر جھوٹ نہیں بولتی اور تم اسی میں ردو بدل کی بات کررہے ہو؟
کلن بولا بھائی یہ پرانے زمانے کی بات ہے ۔ مودی یُگ میں سچ بولنا منع ہے۔جب وہ خود نہیں بولتے تو تصویر کی کیا مجال کہ وہ سچ بولے ۔
یار تصویر کوئی انسان تھوڑی نا ہے جوپلٹ جائے۔ وہ تو کیمرے کی مدد سے عالم وجود میں آنے والی ایک بے جان شئے ہے جو خود کو نہیں بدل سکتی ۔
کلن نے تائید کی اور بولا تم نے صحیح کہا ۔ وہ ازخود تبدیل نہیں ہوتی ۔ ہمارا آئی ٹی سیل مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے کایا پلٹ دیتا ہے۔
یا ر یہ مصنوعی ذہانت کیا بلا ہے ؟ میں نے تو آج پہلی بار اس کا نام سنا ہے؟؟
تم پرانے زمانے کے آدمی ہو ۔ مصنوعی ذہانت یعنی اصلی نہیں بلکہ ہم جیسے جعلی دیش بھگتوں کی طرح نقلی عقلمندی ۔
اچھا تو تم جعلی دیش بھگت ہو؟ بھگوا پہن کر دیش بھگتی کا ڈھونگ رچاتے ہو؟ بھیا میں تو سچا قوم پرست ہوں ۔
للن نے سوال کیا اچھا! یہ بتاو کہ جب آئی ٹی سیل سے ادائیگی نہیں ہوتی تو تم اس کی خبریں پھیلانا کیوں بند کردیتے ہو؟
بھائی وہ تو انہیں خبردار کرنے کے لیے کرنا پڑتا ہے تاکہ جلدی سے رقم آجائے ورنہ یقین جانو میں ملک کے لیے جان دے سکتا ہوں ۔
اچھا تو ادھر کیا کررہے ہو؟ جاو چین سے لڑو اس نے ارونا چل پردیش میں ہماری زمینوں پر قبضہ کرکےکئی علاقوں کا نام تک بدل دیا ہے۔
اس نے نام بدل دیا ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ تو اپنے یوگی جی کی خصوصیت ہے ۔ وہ بیچارے کام نہیں کرسکتے تو نام ہی بدل دیتے ہیں ۔
لیکن چین تواپنی فوج کے ذریعہ ہمارے سرحدی علاقوں کو اپنے قبضے میں لے کرپہلے وہاں نئی بستی بساتا ہے پھر اس کو نیا نام دیتا ہے۔
یار بیوقوف ہے چین ۔ اتنا جھنجھٹ کرنے کی کیا ضرورت؟ یوگی جی کی طرح بس نام بدل دو یہی ہم ہندوستانیوں کو خوش کرنے کے لیے کافی ہے۔
للن نے کہا میں تم سے جی ۷ کی تصویر کے بارے میں پوچھ رہا تھا تم بات گھما دی ۔ یہ بتاو کہ تم نے اس تصویر کو دیکھا کیوں نہیں ؟
دیکھو بھیا ہمیں اس کی نشرواشاعت کے پیسے ملتے ہیں دیکھنے کے نہیں کیا سمجھے ؟ اب اخبار بانٹنے والا ان سب کو پڑھنے لگے تو پاگل ہوجائے ۔
اچھا تو یہ بات ہے؟ لیکن اس تصویر میں پردھان جی نہیں ہیں ۔ ان کو کسی نے غائب کردیا ؟
کلن بولا اس میں کون سی بڑی بات ہے ؟ میں نے کہا نا کہ یہ ہمارے آئی ٹی سیل کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
جی ہاں وہی تو میں پوچھ رہا ہوں کہ آخر پردھان جی کو غائب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟ان کے بغیر تصویر ادھوری بلکہ بلکہ سونی سونی لگتی ہے؟
للن نے اب چونک کر پوچھا کیا بکتے ہو پردھان جی غائب ؟ یہ نہیں ہوسکتا اور ارے بھیا اپنا آئی ٹی سیل بائیں ہاتھ سے انہیں شامل بھی تو کرسکتا تھا ؟
یار لگتا ہے اب اپنا آئی ٹی سیل زبیر احمد کے آلٹ نیوز چیک سے ڈر گیا کیونکہ آئے دن وہ ہمارے جھوٹ کو بے نقاب کرتا رہتا ہے۔
جی نہیں ہندو راشٹر میں ہم کسی سے نہیں ڈرتے ایک کنارے کھڑے پردھان جی کی تصویر کٹ گئی ہوگی یا فریم سے باہر ہوگئے ہوں گے۔
یار یہ نہیں ہوسکتا۔ پچھلے گیارہ سال میں تو ایسا کبھی نہیں ہوا۔ مودی جی درمیان میں آکرسب سے اچھی تصویر کھنچوانے میں مہارت رکھتے ہیں ۔
دماغ پر زور دے کر کلن دور کی کوڑی لایا۔ وہ بولا بھائی ہندوستان جی ۷کا رکن تو ہے نہیں ۔ اب ارکان کی تصویر میں وہ کیسے ہو سکتے ہیں؟
مجھے پتہ ہے اس لیے میں نے وہاں موجود افراد کو گنا تو وہ ۹؍ تھے۔ اب یہ بتاو کہ ۷ سے ۹ کیسے ہوگئے ؟ اور ہوگئے تو دس کیوں نہیں؟
کلن نے پاس اس منطق کا کوئی توڑ نہیں تھا ۔ وہ بولا اچھا یہ بتاو کہ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے یا نہیں ؟
بالکل تھے۔ ان کے بغیر تصویر بنے گی تو وہ ساتوں سے ٹیرف جنگ چھیڑ دیں گے۔
کلن بولاہاں تو اب میں سمجھا کہ پردھان جی تصویر کھنچوانے کیوں نہیں گئے ؟
اچھا! اگر تم سمجھ گئے تو مجھے بھی سمجھا دو کہ ہمارے مہا مانو نے کیوں دوری اختیار کی ؟
بھیا دیکھو ٹرمپ اگر پردھان جی کے کندھے پر ہاتھ رکھ پوچھتے کہ بتاو میں نے جنگ بندی کروائی کہ نہیں تو ایک بڑ دھرم سنکٹ پیدا ہوجاتا۔
جی ہاں اب سمجھا کہ پھر ’کہا بھی نہ جائے اور رہا بھی نہ جائے‘ والی حالت ہوجاتی ۔ اس سے بچنے کے لیےپردھان جی غائب ہوگئے ہوں گے ۔
کلن بولا ارے یہ دیکھو جی ۷ کی نئی تصویر آئی ہے ۔ اس میں تو پردھان جی دکھائی دے رہے ہیں ۔
للن نے کہا ہاں یہ زیادہ لوگوں کی ہے مگر ہمارے پردھان جی کوایک کنارے پر پیچھے دوسری صف میں بھیج کر انہوں اچھا نہیں کیا؟
یار تم بہت ناشکرے انسان ہو ۔ اب آگئے یہی بہت ہے ۔ آگے پیچھے سے کیا فرق پڑتا ہے اور یہ نہیں بھولو کے پیچھے والے ہی اونچے ہوتے ہیں ۔
للن نے سوال کیا اچھا تو پہلے پردھان جی اونچے نہیں تھےکیاکہ جو آگے ہوتے تھے ؟
کلن بولا اب یہ دیکھو کہ ٹرمپ کہاں ہے؟ وہ ضرور پردھان جی کے بغل میں کھڑےہوں گے ؟
ارے وہ تو غائب ہے ۔ اس نے تو پردھان جی کے ساتھ تصویر کھنچوانا بھی گوارہ نہیں کیا ۔
کلن سینہ پھلا کربولا اب بولو میرا اندازہ صحیح تھا کہ نہیں ۔ پردھان جی جان بوجھ کر پہلی تصویر میں نہیں آئے اور ٹرمپ کے نکل جانے پر آگئے۔
یار یہ کہہ کر تو تم ہمارے پردھان کی توہین کررہے ہو ۔ کیا کسی وشو گرو کو اس طرح راہِ فرار کرنا زیب دیتا ہے؟
کلن بولا تم ٹرمپ کو نہیں جانتے ۔ وہ بڑا سرپھرا آدمی ہے۔ تم بھول گئے اس نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کی کیسی توہین کی تھی ؟
زیلنسکی نے بھی تو منہ توڑ جواب دیا تھا ۔ ہمارے پردھان جی کی طرح نہیں کہ ’چٹ دہنی مار دہلے ہینچ کے طمانچہ ،ہی ہی ہنس دہلے رنکوا کے پاپا‘۔
ہاں یار للن شاید اسی لیے ولادیمیر زیلنسکی کو اس تصویر کے درمیان میں پہلی صف کے اندر جگہ ملی ۔ یہ انگریز بہت تفریق و امتیاز کرتے ہیں ۔
میں تم سے اتفاق کرتا ہوں ایسا نہ ہوتا تو جی ۷کےممالک ایران کو علاقائی عدم استحکام اور دہشت گردی کا اصل ذریعہ قرار نہیں دیتے۔
کلن نے حیرت سے کہا اچھا ان احمقوں نے تو حملہ آور اسرائیل کی مذمت کرنے کے بجائے الٹا ایران کو ہی موردِ الزام ٹھہرا دیا ۔
للن نے کہا جی ہاں ان کا کہنا ہے کہ ‘اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے’جبکہ حملہ تو ایران پر ہوا ہے۔ دفاع کا اصلی حقدار تو وہ ہے ۔
بھیا جی ۷ کےبیان میں کہا گیا ہےکہ "ہم اسرائیل کی سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں‘‘۔ یعنی پہلے سے جاری حمایت کی توثیق کی گئی۔
یار اب سمجھ میں آیا کہ کس کے بل بوتے پر اسرائیل اتنا اچھلتا ہے؟ یہ لوگ نہ صرف ظلم کرتے رہے ہیں بلکہ اس کی بھرپور تائید بھی کرتے ہیں۔
اور نہیں تو کیا؟ یہ تو کہتےہیں کہ ’ ایران علاقائی عدم استحکام اور دہشت گردی کا بڑا ذریعہ ہے‘
یار غزہ کے اندرتو اسرائیلی دہشت گردی پوری طرح بے نقاب ہوچکی ہے پھر بھی یہ ایسا کہنے والےکیا عالمی عدالت کو بھی نہیں مانتے؟
بھائی ان کی کہنا ہے کہ ’’ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔” جبکہ اسرائیل کے تقریباً سو ایٹم بم انہیں نظر نہیں آتے ۔
یار ان منافقوں کے مقابلے پاکستان سمیت 21 مسلم ممالک کے وزرائےخارجہ کو دیکھو جنھوں کھل کر ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔
ارے بھیا تم نہیں جانتے وہاں بھی بہت جھگڑے ہیں ۔ان ممالک میں یقیناً اسرائیل کے دوست ترکی، متحدہ عرب امارات اور مصر نہیں ہوں گے۔
جی نہیں ان تینوں کے ساتھ بحرین، سعودی عرب اور قطر بھی پیش پیش ہیں ۔ ویسے ان کو چین کی حمایت بھی حاصل ہے ۔
یار تب توایران کو ان جی۷ کے پاکھنڈیوں کی کیا ضرورت؟ پچھلے تین سال سے یوکرین اگران کی مدد سے کامیاب نہیں ہوسکا تو اسرائیل کیا ہوگا؟
تب تو حساب برابر ہوگیا ۔ جی۷ میں امریکہ ہے تو مسلم ممالک کے ساتھ چین ہے۔
لیکن ایک فرق ہے دوست ۔یوروپ کا سورج ڈوب رہا ہے اور ایشیا کا طلوع ہورہا ہے۔
یار یہی بات تو اقبال نے کہی تھی:
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
Like this:
Like Loading...