Skip to content
امریکہ،22جون(ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر انتہائی کامیاب فضائی حملے کا اعلان سامنے آنے کے بعد اس کارروائی کی تفصیلات بھی منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔
امریکی خبررساں ادارے "فاکس نیوز” کے مطابق ایران کے سخت ترین محفوظ مقام فردو پر حملے کے لیے امریکہ نے چھ بنکر بسٹربم استعمال کیے۔ ان کے ساتھ ساتھ 30 ٹوماہاک کروز میزائل بھی دیگر جوہری مراکز پر داغے گئے۔
دوسری جانب "سی بی ایس نیوز” نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے حملے سے ایک روز قبل ہفتے کے روز ایران سے سفارتی رابطہ کر کے واضح کیا تھا کہ یہ حملے صرف جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد تہران میں حکومت کی تبدیلی نہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے "رائٹرز” کو بتایا کہ اس کارروائی میں امریکہ نے B-52 بمبار طیارے بھی استعمال کیے۔ جبکہ ایک امریکی دفاعی اہلکار نے "العربیہ انگلش” کو بتایا کہ امریکہ کی بی-2 "اسٹیلتھ بمبارز” یعنی "شبح بمبار” طیارے بھی اس مشن میں شامل تھے، جو بحرالکاہل کے اوپر پرواز کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔
فضائی نگرانی کے ریکارڈ اور صوتی مواصلاتی اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ چھ B-2 طیارے ریاست مزوری میں واقع وائٹمین ایئربیس سے پرواز کر کے بحرالکاہل میں امریکہ کی گوام ایئربیس کی طرف روانہ ہوئے۔
”گھوسٹ “ بمبارز اور ’بموں کی ماں‘
یہ بی-2 طیارے نہ صرف دشمن کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ یہ دنیا کے واحد طیارے ہیں جو GBU-57 E/B بم جسے "بموں کی ماں” کہا جاتا ہے کو لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بم انتہائی مضبوط زیرزمین پناہ گاہوں کو بھی تباہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے، جیسا کہ ایران کی فردو تنصیب پر حملےمیں کیا گیا۔
GBU-57 E/B بم، جس کا وزن تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ (13,607 کلوگرام) ہے، دنیا کا سب سے طاقتور غیر جوہری بم تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بم انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف پر گرتا ہے اور GBU-43 بم کی جدید شکل ہے، جسے بعض اوقات "Massive Ordnance Air Blast” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ بم 200 فٹ (تقریباً 61 میٹر) زیر زمین تک داخل ہو کر دھماکہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ عام بموں اور میزائلوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہے، کیونکہ وہ عام طور پر سطح یا ٹکراؤ کے مقام پر پھٹتے ہیں۔
یہ جدید اور تباہ کن اسلحہ ایران کی ان جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا جو زمین کے اندر گہرائی میں قائم کی گئی تھیں۔
Like this:
Like Loading...