Skip to content
یوٹیوبر،تھو ان پر
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔
کرناٹک۔شیموگہ۔
9986437327
کچھ عرصے پہلے تک ملک میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیالوگوں کی بات حکومت تک پہنچانےاورعوامی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار اداکرتاتھا،لوگ میڈیاکو خاص مقام دیاکرتے تھے،جو کام حکومتیں اور انتظامیہ نہیں کرتی تھی،اُس کام کو میڈیاانجام دیاکرتاتھا۔اخبارات اورٹی وی چینلس لوگوں کیلئے ایک اُمیدتھے،جمہوری نظام میں میڈیا چوتھا ستون ماناجاتاہے اور اسے اپوزیشن کا درجہ حاصل ہے۔لیکن وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اپنی حیثیت کو کمزورکرنے لگے۔کچھ نظریات کی مارکیٹنگ کچھ سیاسی پارٹیوں کی ترجمانی اورکچھ لوگوں کی چاپلوسی ان کاشیوہ بننے لگا۔
جب یہ حرکتیں حد سے زیادہ ہونے لگی تو عام لوگوں نے الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکا متبادل تلاش کرنے لگے۔جیسے ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی ترقی کرنے لگی تو لوگوں کے سامنے ڈیجیٹل میڈیانے ایک نیاانقلاب برپاکیا،جو الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا نہیں کررہاتھا،اُس کام کو ڈیجیٹل میڈیانے کرنا شروع کیا اورکم وقت میں ڈیجیٹل میڈیا تمام طبقات میں مقبول ہونے لگا۔کسی کے بھی دبائومیں نہ آتے ہوئے پوری آزادی کے ساتھ ڈیجیٹل میڈیا کام کرتے ہوئے صحافت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کا کام کیا،لیکن یہاں بھی جتنا خیرہے اور اُتناہی شرہے۔
جلدہی ڈیجیٹل میڈیامیں ایسے لوگوں کی آمدہوئی ،جنہیں صحافت کے ص سے بھی کوئی لینا دینانہیں ہے،نہ اُنہیں خبروں کا اندازہ ہے،نہ تبصرہ کرنے کی صلاحیت ہے،نہ سوال پوچھنے کا ڈھنگ ہے،نہ جواب پر سوال اٹھانے کی صلاحیت ہے،بس ایک اچھے کیمرے والاموبائل اٹھاکر اپنے آپ کویوٹیوبریاصحافی کہلانے لگے،پانچ سو دئیے تو اِدھر،ہزار دئیے تو اُدھرکی صحافت کرنے لگے۔اب حالات اس قدر بدترہوچکے ہیں کہ ہر کوئی اپنے آپ کو میڈیاسے جڑاہوافرد ثابت کرنے کی کوشش میں لگاہواہے،صحافت کی جو لاج بچی ہوئی تھی وہ بھی خطرے میں ہے۔
ایک صحافی کی ذمہ داری صرف کسی کی واہ واہی کرنانہیں ہے بلکہ حقائق کو پیش کرناہے،بھلے ہی وہ کسی بڑے شخص کے خلاف ہی کیوں نہ ہو،حکومت کے خلاف بھی کیوں نہ ہو،حق کو حق دکھانے کی جرت ہونی چاہیے۔اگرکسی کے غلط کام سے سماج کا بُراہورہاہے تواُس کی خبردینا اورتنقیدکرنا ہی صحافت ہے،لیکن ڈیجیٹل میڈیامیں یہ نظریہ ختم ہوتے جارہاہے،جو جمہوریت چوتھے ستون کو بہت بڑانقصان ہے۔
Like this:
Like Loading...