Skip to content
امریکہ اور اسرائیل جنگی مجرم: جوہری تنصیبات پر حملہ کرنا جوہری حملے کے مترادف ہے
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون، انسانی ضمیر اور عالمی امن کے اصولوں کے سنگین چیلنج بن کر ابھرے ہیں۔ ان حملوں نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ بین الاقوامی برادری کے سامنے یہ بنیادی سوال بھی رکھ دیا کہ کیا جوہری تنصیبات پر حملہ روایتی جنگی کارروائی کے زمرے میں آتا ہے یا اسے جوہری حملے کے مترادف قرار دیا جانا چاہیے؟
ایران کے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری مراکز پر امریکہ کے جدید بمبار طیاروں کے ذریعے حملہ، اسرائیل کی جانب سے شروع ہونے والی جارحیت کا تسلسل تھا، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائی کی۔ اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے ان حملوں کو نہ صرف اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا بلکہ اسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی کہا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے مستقل رکن ہونے کے باوجود، نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر بلکہ نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (NPT) کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی اسرائیل کے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور جارحیت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، جوہری تنصیبات پر حملہ نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کے اس بنیادی اصول کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت کسی بھی ریاست کو دوسرے ملک کے بنیادی ڈھانچے، بالخصوص پرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جوہری تنصیبات پر حملہ ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف روایتی جنگ کے اصولوں سے متصادم ہے بلکہ اس میں جوہری حملے جیسے تباہ کن نتائج کا بھی خدشہ موجود رہتا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے قوانین کے مطابق، کسی بھی شہری آبادی یا غیر فوجی اہداف پر حملہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اگرچہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو براہ راست جنگی جرم قرار نہیں دیا گیا، تاہم جوہری تنصیبات پر حملہ، بالواسطہ طور پر، ایسے ہی تباہ کن اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف وسیع پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے بلکہ ماحول اور آئندہ نسلوں پر بھی اس کے دیرپا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے اصول Jus ad Bellum کے مطابق، کسی بھی ریاست کو صرف اسی صورت میں طاقت کا استعمال کرنے کی اجازت ہے جب وہ اپنی دفاع میں ہو یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہو۔ حتیٰ کہ دفاع کے نام پر بھی طاقت کا استعمال صرف اس وقت جائز ہے جب وہ ناگزیر اور متناسب ہو۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے اس اصول کی بھی خلاف ورزی ہیں، کیونکہ یہ حملے نہ تو فوری دفاعی ضرورت کے تحت کیے گئے اور نہ ہی ان میں تناسب کا خیال رکھا گیا۔
ان حملوں کے اخلاقی اور انسانی پہلو بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے قانونی پہلو۔ جوہری تنصیبات پر حملہ، چاہے وہ پرامن مقاصد کے لیے ہی کیوں نہ ہوں، درحقیقت ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف فوری جانی و مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ تابکاری اثرات کی وجہ سے ماحول، زراعت، پانی اور صحت پر بھی طویل المدتی تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے جوہری تنصیبات پر حملہ، عملی طور پر، جوہری ہتھیار کے استعمال کے مترادف ہے، کیونکہ اس کے نتائج بھی اتنے ہی ہولناک اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے اس اقدام کو دفاع کے نام پر جائز قرار دینے کی کوششیں بین الاقوامی برادری میں قبولیت حاصل نہیں کر سکیں۔ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود، اگر بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے نام پر بین الاقوامی قوانین کو پامال کریں گی تو نہ صرف عالمی نظام کمزور ہو گا بلکہ دنیا ایک نئے ایٹمی تصادم کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔
اس پس منظر میں عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرے جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ جوہری تنصیبات پر حملہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف ایک ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ پوری انسانیت کے مستقبل کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کو محض روایتی جنگی کارروائی قرار دینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے نتائج جوہری حملے سے کم نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس عمل کو جنگی جرم کے طور پر تسلیم کرے اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے موثر اقدامات کرے، تاکہ آئندہ کسی بھی ریاست کو عالمی امن اور انسانیت کے مستقبل سے کھیلنے کی جرات نہ ہو۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...