Skip to content
امریکا یوروپ اور اسرائیل کے پچھلے تیس سالوں میں مسلم ممالک پر حملے
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
پچھلے تیس سالوں (1995–2025) میں امریکا، یورپی ممالک (دور جدید کے صلیبی لشکر)، اور صیہونی اسرائیل نے کئی مسلم اکثریتی ممالک، جیسے افغانستان، عراق، شام، یمن، سوڈان اور لبنان پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے، جن سے شدید جانی و مالی نقصانات ہوئے۔ ذیل میں ان ممالک پر حملوں کی تفصیلات، شہید مسلمانوں کی تخمینی تعداد، اور نقصانات کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار مختلف ذرائع سے لیے گئے ہیں اور کچھ کم زیادہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر حالیہ واقعات کے لیے درست معلومات محدود ہیں۔
عراق (2003–2011، داعش کے خلاف 2014–2017)
وقت اور تاریخ: 2003 میں امریکا اور برطانیہ (صلیبی طاقتوں) کی قیادت میں اتحادی افواج نے صدام حسین کے خلاف آپریشن عراقی آزادی شروع کیا۔ الزام لگایا گیا کہ عراق کے پاس بڑی تعداد میں تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ مغربی میڈیا نے جھوٹ پر جھوٹ پھیلایا اور دنیا بھر کے نام نہاد مسلم ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر عراق پر زبردست حملہ کیا۔ اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ عراقی اس وحشیانہ حملے میں شہید ہوئے۔ پورا عراق تباہ و برباد کر دیا گیا۔ پھر 2014–2017 میں داعش کے خلاف فضائی حملے ہوئے۔ پوری دنیا کو داعش سے ڈرایا گیا اور اسی بہانے لاکھوں ٹن بم مسلمانوں پر برسائے گئے۔
شہید مسلمان: تخمیناً 1 لاکھ سے 10 لاکھ عراقی شہری اور فوجی شہید ہوئے۔ لینسیٹ اسٹڈی (2006) نے 6 لاکھ 54 ہزار اموات رپورٹ کیں، جبکہ عراق باڈی کاؤنٹ نے 1 لاکھ 85 ہزار بتائیں۔
نقصانات کا اندازہ: بنیادی ڈھانچے کی تباہی، 40 لاکھ سے زائد بے گھر، معیشت تباہ، فرقہ وارانہ تشدد اور انتہا پسندی، فرقہ وارانہ تشدد کا عروج۔
حوالہ: اقوام متحدہ، لینسیٹ اسٹڈی۔
افغانستان (2001–2021)
وقت اور تاریخ: ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کی تلاش میں اکتوبر 2001 میں امریکا اور نیٹو نے طالبان کے خلاف آپریشن اینڈیورنگ فریڈم شروع کیا۔ قریب بیس سال افغانستان پر امریکا نے لاکھوں ٹن بارود برسایا۔
شہید مسلمان: براؤن یونیورسٹی کے مطابق، 1 لاکھ 76 ہزار سے زائد اموات، جن میں 46 ہزار شہری شامل ہیں۔ غیر سرکاری تخمینے 2 لاکھ سے بیس لاکھ کے درمیان بتاتے ہیں۔
نقصانات: شہری ڈھانچے کی تباہی، 50 لاکھ سے زائد بے گھر، منشیات کی تجارت میں اضافہ، 2021 میں طالبان کی واپسی ہوئی۔ امریکا راتوں رات افغانستان چھوڑ کر بھاگ گیا۔
حوالہ: براؤن یونیورسٹی، اقوام متحدہ۔
لیبیا (2011)
وقت اور تاریخ: 2011 میں نیٹو (امریکا، برطانیہ، فرانس) نے قذافی حکومت کے خلاف بلا کسی وجہ کے آپریشن اوڈیسی ڈان شروع کیا۔ یورپی ممالک اور امریکا عالم اسلام میں اپنی مرضی کے حکمران رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اسرائیل کے وجود کی ضمانت ہو اور مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ کیا جا سکے۔
شہید مسلمان: تخمیناً 20 ہزار سے 50 ہزار اموات، جن میں شہری اور جنگجو شامل ہیں۔
نقصانات: خانہ جنگی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، تیل کی پیداوار میں کمی، داعش کا عروج، لاکھوں بے گھر۔ آج تک لیبیا میں خانہ جنگی جاری ہے۔
حوالہ: اقوام متحدہ، انسانی حقوق تنظیمات۔
شام (2014–جاری)
وقت اور تاریخ: 2014 میں داعش کے خلاف آپریشن انہیرنٹ ریزولیو شروع ہوا۔ مغربی ممالک نے شامی خانہ جنگی میں باغی گروہوں کی حمایت بھی کی۔
شہید مسلمان: شامی رصدگاہ کے مطابق، 5 لاکھ سے 12 لاکھ تک اموات، جن میں اکثریت شہریوں کی ہے۔
نقصانات: شہروں کی تباہی، 60 لاکھ اندرونی طور پر بے گھر، 50 لاکھ مہاجرین، معیشت تباہ، تاریخی ورثہ ختم۔
حوالہ: اقوام متحدہ، شامی رصدگاہ۔
یمن (2015–جاری)
وقت اور تاریخ: 2015 سے سعودی اتحاد (امریکا، برطانیہ کی لاجسٹک حمایت کے ساتھ) نے حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن ڈیسائسو اسٹارم شروع کیا۔
شہید مسلمان: 2023 تک 3 لاکھ 77 ہزار اموات، جن میں 1 لاکھ 50 ہزار شہری شامل ہیں۔
نقصانات: انسانی بحران، 2 کروڑ سے زائد کو خوراک کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، معیشت تباہ۔
حوالہ: اقوام متحدہ، یمنی رپورٹس۔
پاکستان (2004–2018)
وقت اور تاریخ: 2004–2018 تک امریکا نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کیے۔
شہید مسلمان: 8 ہزار سے 12 ہزار اموات، جن میں 700–1200 شہری شامل ہیں۔
نقصانات: مقامی غم و غصہ، عدم استحکام، پاک-امریکا تعلقات میں تناؤ۔
حوالہ: بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم۔
صومالیہ (2007–جاری)
وقت اور تاریخ: 2007 سے امریکا نے الشباب کے خلاف ڈرون حملے شروع کیے۔
شہید: 3 ہزار سے 5 ہزار اموات، جن میں 300–700 شہری شامل ہیں۔
نقصانات: شہری ڈھانچے کو نقصان، لاکھوں بے گھر، انسانی بحران۔
حوالہ: ایئر وارز۔
سوڈان (1998)
وقت اور تاریخ: 1998 میں امریکا نے خرطوم کی الشفاء فیکٹری پر میزائل حملہ کیا۔
شہید: چند افراد، درست تعداد غیر واضح۔
نقصانات: ادویات کی کمی سے ہزاروں متاثر، سوڈان-امریکا تعلقات خراب۔
حوالہ: امریکی میڈیا۔
ایران (2025)
وقت اور تاریخ: 2025 میں پہلے اسرائیل پھر امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران جوہری بم بنا رہا ہے جب کہ عالمی ادارے کے مطابق ایران جوہری بم نہیں بنا رہا، مگر کوئی سننے تیار نہیں۔
شہید: درجنوں فوجی اور شہری شہید، درست تعداد غیر واضح۔
نقصانات: جوہری تنصیبات کو نقصان، خطے میں کشیدگی، عالمی مذمت۔
حوالہ: حالیہ رپورٹس، اقوام متحدہ۔
لبنان (2006، 2024–2025)
وقت اور تاریخ:
2006: جولائی–اگست 2006 میں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف جنگ شروع کی، جس میں امریکا نے ہتھیار اور سفارتی حمایت فراہم کی۔
2024–2025: ستمبر 2024 سے مئی 2025 تک اسرائیل نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی اور ڈرون حملے کیے۔ امریکا نے ہتھیار اور خفیہ معلومات فراہم کیں۔
شہید مسلمان:
2006: تقریباً 1200 لبنانی شہری اور 250–500 حزب اللہ جنگجو شہید۔
2024–2025: کم از کم 2000 شہید، جن میں سیکڑوں شہری شامل ہیں۔ ستمبر 2024 میں ایک دن میں 500 سے زائد شہید ہوئے۔
نقصانات:
2006: جنوبی لبنان اور بیروت میں تباہی، 10 لاکھ بے گھر، 2.5–3.6 ارب ڈالر کا معاشی نقصان۔
2024–2025: 12 لاکھ بے گھر، ہسپتالوں اور اسکولوں کو نقصان، معاشی بحران بدتر، جنوبی لبنان میں امدادی ضرورت۔
حوالہ: لبنانی وزارت صحت، اقوام متحدہ۔
شہید مسلمان: تخمیناً 10 لاکھ سے 20 لاکھ مسلمان شہری، فوجی، اور جنگجو شہید ہوئے۔ لبنان میں 2006 اور 2024–2025 کے حملوں سے 3200–5000 اموات شامل ہیں۔
نقصانات:بنیادی ڈھانچے کی تباہی، شہروں کا زوال، کروڑوں بے گھر یا مہاجر۔معاشی بحران، فرقہ وارانہ تشدد، اور دہشت گردی میں اضافہ۔مسلم ممالک میں مغربی ممالک اور اسرائیل کے خلاف غم و غصہ۔
عالمی ردعمل: اقوام متحدہ، عرب، اور دیگر ممالک نے مذمت کی، لیکن موثر روک تھام نہیں ہو سکی۔
اعداد و شمار اقوام متحدہ، انسانی حقوق تنظیمات، اور میڈیا سے لیے گئے ہیں، لیکن تنازعات کے دوران درست رپورٹنگ مشکل ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسے حملے کیوں کیے جاتے ہیں؟ عالم اسلام پر ہونے والے ان حملوں کا کیا مقصد ہے؟ ایک کے بعد ایک مسلم ملک پر حملہ کیوں کیا جاتا ہے؟ امریکا، یورپ اور اسرائیل مل کر یہ حملے کرتے ہیں اور بدقسمتی سے کچھ مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ نظر آتے ہیں یا خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ غزہ پٹی پر اور مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں پر اسرائیل روز روز ظلم کرتا ہے مگر مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جو طاقتیں اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہیں جیسے لیبیا یا حزب اللہ، صدام حسین، یمن کے حوثی باغی اور اب ایران، سب کے سب کو اسرائیل اور امریکا ختم کر دینا چاہتے ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اکیلا پولیس مین بنا رہے۔ امریکی اور یورپی طاقتیں خلیج کے ممالک کا استحصال کرتے رہیں۔
شیخ سلیم
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...