ایران،25جون(ایجنسیز) روسی صدر ولادیمیر پوتین نے پیر کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات میں ایران پر امریکی حملوں کو "غیر قانونی اور بلاجواز” قرار دیا، تاہم انہوں نے اپنی گفتگو میں عسکری مدد کا کوئی ذکر نہیں کیا، نہ ہی
پوتین نے اس کے بجائے ایک ممکنہ "حل یا راستے” پر غور کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھاکہ "یہ موقع ہمیں اس پر سوچنے کی اجازت دیتا ہے کہ اس بحران سے کیسے نکلا جا سکتا ہے”۔
مگر اس سب کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی صبح اچانک جنگ بندی کا اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیا، جبکہ اس پورے عمل میں روس کا کوئی فعال کردار نظر نہیں آیا۔
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران کی سرزمین مسلسل اسرائیلی بمباری کی زد میں رہی ہے۔ ایرانی عسکری کمانڈر اور جوہری سائنس دان نشانہ بنتے رہے، لیکن روس جس نے رواں برس کے آغاز میں تہران سے اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ کیا تھا، تماشائی بنا رہا۔
ایران کو اپنے قریبی اتحادیوں خاص طور پر روس اور چین سے صرف زبانی ہمدردی ملی، جبکہ ایران گذشتہ برسوں میں یوکرین جنگ میں روس کی پس پردہ مدد کرتا رہا ہے ۔ ایران کی جانب سے ماسکو کو مبینہ طورپر گولہ بارود، توپوں کے گولے اور ہزاروں ڈرون فراہم کیے گئے۔
اسی بنا پر بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران روس سے سخت ناراض ہے، جو محض زبانی دعوے کرتا رہا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق تہران روسی ردعمل سے مطمئن نہیں۔
اسی تناظر میں کریملن نے منگل کے روز ان الزامات کو مسترد کیا کہ روس نے ایران کی خاطر کچھ خاص نہیں کیا۔ ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ان کی حکومت نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کر کے "واضح مؤقف” اپنایا ہے۔ ان کے بقول بعض عناصر روس ایران شراکت کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی مؤقف کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قدر کی نگاہ سے دیکھا، جس کا اظہار انہوں نے پوتن سے ملاقات کے دوران کیا۔
پیسکوف کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہاکہ "ابھی ابتدائی مرحلہ ہے۔ معلومات آ رہی ہیں مگر کوئی مکمل تصویر نہیں”۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا عراقچی نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا کوئی پیغام یا خط صدر پوتین کو دیا ہے تو انہوں نے کسی بھی تحریری پیغام کی موجودگی کی تردید کی۔
پوتین نے ایک بار پھر امریکی حملوں کو "غیر قانونی ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایرانی عوام کی مدد کے لیے پرعزم ہے، مگر اس مدد کی نوعیت واضح نہیں کی۔
