Skip to content
اسرائیل ک، 22 جون(العربیہ/ایجنسیز)ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں نے تہران کے جوہری پروگرام کو "بہت پیچھے” دھکیل دیا لیکن اس سے ہونے والے نقصان کی مکمل حد کا تعین کرنے کے لیے ایک جائزے کی ضرورت ہے، اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع بینی گینٹز نے منگل کو العربیہ کو ایک انٹرویو میں بتایا۔
انہوں نے کہا، "یقیناً، ایران میں جو کچھ کیا، ہمیں اس کے مخصوص آپریشنل نتائج کا اندازہ لگانا ہو گا۔ میرے خیال میں ہم نے اسے بہت زیادہ اور تشویش ناک حد تک برسوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی حملوں کو ایک "شاندار فوجی کامیابی” قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے جوہری تنصیبات کو "مٹا دیا” جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا، واشنگٹن کی افواج نے "ایرانی جوہری پروگرام تباہ کر دیا ہے۔”
گینٹز نے العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حملوں کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیتیں ختم کرنا اور اسے یورینیم کی افزودگی کی حد سے تجاوز کرنے سے روکنا تھا۔
انہوں نے کہا، "ایران بہت قریب پہنچ گیا تھا اور اس نے افزودگی اور جوہری صلاحیت کے درمیان حد عبور کرنے کی کوشش کی۔”
انٹرویو کے چند گھنٹے بعد ایک خفیہ ابتدائی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ جو منگل کو بعد میں منظر عام پر لائی گئی، اس میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایران پر امریکی حملوں نے تہران کے جوہری پروگرام کو صرف چند مہینوں پیچھے ہی دھکیلا، نہ کہ اسے تباہ کیا جیسا کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا۔
ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے نتائج سے واقف لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی میڈیا نے منگل کو کہا کہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملوں نے ایران کے سینٹری فیوجز یا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق فضائی بمباری اور میزائل حملوں سے زیرِ زمین عمارات کو تباہ کیے بغیر بعض تنصیبات کے داخلی راستے بند ہو گئے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے ڈی آئی اے کے جائزے کی صداقت کی تصدیق کی لیکن کہا کہ ٹرمپ کو کمزور کرنے اور فوجی آپریشن کو بدنام کرنے کی کوشش میں "یہ بات بالکل غلط تھی اور اسے ‘خفیہ ترین’ کا درجہ دیا گیا تھا لیکن پھر بھی اسے لیک کر دیا گیا”۔
دی ہیگ سے ایک نیوز کانفرنس میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ان حملوں کے اثرات کے حوالے سے انٹیلی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے اسرائیل-ایران جنگ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد کی انٹیلی جنس معلومات غیر حتمی تھیں لیکن یہ بھی کہا کہ نقصان شدید ہو سکتا تھا۔
ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا، "انٹیلی جنس بہت غیر نتیجہ خیز تھی۔ انٹیلی جنس کہتی ہے کہ ہم نہیں جانتے۔ یہ بہت شدید ہو سکتا تھا۔ انٹیلی جنس سے یہی پتہ چلتا ہے۔”
ایران کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے تسلسل کو یقینی بنائے گی اور اس نے اس کے لیے "ضروری اقدامات” کیے ہیں۔
گینٹز نے خبردار کیا کہ اگرچہ اسرائیل کا "ایران سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے” لیکن اگر تہران افزودگی کی حد سے تجاوز کر جائے تو "[اسرائیل] کو دوبارہ عمل کرنا ہو گا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کیسے کرنا ہے۔”
Like this:
Like Loading...