Skip to content
اسرائیل ایران جنگ اور ذرائع ابلاغ
ازقلم:اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی
ذرائع ابلاغ کے بغیر موجودہ دور کا تصور ہی محال ہے۔ یہ ذرائع ابلاغ ہی ہے جو موجودہ جمہوری دور میں طاقتوروں کو ذمہ دار ٹہرا کر جوابدہی کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔ عوام کو سچائیوں سے آگاہ کرنے سے لےکر انہیں تعلیم دینے اور تفریح فراہم کرنے میں بھی اس کا کوئی متبادل نہیں۔ لیکن جب سے برقی مواصلاتی آلات اور مصنوعی ذہانت کا ذرائع ابلاغ کے میدان میں داخلہ ہوا ہے اس کے رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے ہیں۔ اُس کے اندر ترقی کی رفتار اتنی تیز ہوگئی ہے کہ وہ تمام اصول و ضوابط جو اس کی پہچان سمجھے جاتے ہیں دھرے کے دھرے رہ جارہے ہیں اور برقی و مصنوعی ذہانت کا یہ انقلاب اُسے اس تیزی سے اپنےساتھ بہا لےجارہا ہے کہ اس کی بنیادی شکل ہی یعنی سچائی کو آشکار کرنے کی اور صحیح اطلاعات عوام تک پہنچانے کی بری طرح مسخ ہونے لگی ہے۔
دنیا آج ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے۔ فرد کی پہنچ ذرائع ابلاغ کی وساطت سے اتنی وسیع ہوچکی ہے کہ کچھ سالوں پہلے اس کا تصور بھی محال تھا۔ ترقی کی اس تیز رفتاری سے جہاں دنیا میں روابط اور ایک دوسرے سے قریب ہونے میں آسانیاں پیدا ہوئیں وہیں زمینی وسائل پر قبضے کو لے کر آپسی عناد میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور اس بغض و عناد کے نتیجے میں آپسی جنگوں کا ایک ایسا دور شروع ہوچکا ہے جس کا کوئی اختتام ہی نظر نہیں آرہا ۔ جیسا کہ ازل سے معمول رہا ہے "حالت جنگ میں سب جائز ہے” ، موجودہ نام نہاد ترقی یافتہ دور بھی اس سے مستثنی نہیں ہے۔ موجودہ دور میں حالت جنگ میں داخل ہونے والے ممالک سب سے زیادہ استحصال ذرائع بلاغ کا ہی کرتے ہیں۔
موجودہ دور دنیا کے اکثر ممالک کے لئے حالت جنگ کا ہی دور ہے اور یہ جنگ اصولوں پر نہیں محض زمینی وسائل پر قبضہ اور اپنی چودراھٹ قائم کرنے کے لئے لڑی جارہی ہے۔ اس حوالے سا آج کا میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ حق اور صداقت کا علمبردار نہیں بلکہ حاملان اقتدار کا پروپگنڈا مشنری بن گیا ہے۔ حالیہ دوتین سالوں میں جو جنگیں شروع ہوئی ہیں ان کو لے کر میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے اگر اس پر ہی ایک نظر ڈورا لیں تو صاف نظر آجائے گا کہ موجودہ دور میں میڈیا ایک آلہء جنگ بن چکا ہے جس کا مقصد اپنے نقطہء نظر سے حالات اور صداقت کا استحصال، اپنے مفاد کی خاطر جھوٹ کو سچ، سچ کو جھوٹ اور ظلم و بربریت کو خوشنما الفاظ اور استعاروں میں چھپا کرپیش کرنا رہ گیا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑ کر اختتام کو بھی پہنچ چکی ہے۔ اس بات سے انکار کئے بغیر کہ ایران اور اسرائیل کی دشمنی جگ ظاہر ہے لیکن اس اچانک جنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں اس کا کوئی واضح جواب ذرائع ابلاغ ابھی تک دینے میں ناکام ہی نظر آرہاہے۔ ویسے ہر کوئی اپنی راگ ضرور الاپ رہا ہے جیسے اسرائیل کے تئیں نرم رویہ رکھنے والا میڈیا جو اکثریت میں ہے یعنی وطن عزیز کا گودی میڈیا، یورپی میڈیا، امریکی میڈیا وغیرہ جہاں اس جنگ کو اسرائیل کی بقا کے لئے ناگزیر اور ضروری قرار دے رہا ہے وہیں ایران کو اس کے جوہری تنصیبات کے حوالے سےانسانیت اور دنیا کے لئے خطرہ بتانے میں بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہاہے۔ میڈیا کی ایک قلیل تعداد جس کا جھکاؤ سیاست میں بائیں بازو کی طرف ہے اور کچھ وہ جو اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں ایران کے تئیں ہمدردی جتا رہے ہیں اور اسرائیل کو غاضب بتا رہے ہیں۔ وطن عزیز میں جنوب کی طرف نظر دوڑائیں تو جنوبی ریاستوں اور تمل ناڈو کا ڈراوڑ میڈیا اسرائیلی پروپگنڈے کا شکار ہوئے بغیر حق و صداقت تک پہنچنے کی کوشش کرتا نظر آرہا ہے مگر قومی میڈیا جو اپنی اقتدار پرستانہ سوچ کی وجہ سے گودی میڈیا کہلانے لگا ہے یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ ایران کے ساتھ ملک کے روبط کتنے دوستانہ ہیں اور اس جنگ سے براہ راست وطن عزیز کوکتنا معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے اور پہنچ رہا ہے اسرائیل کی طرفداری کرتے نظر آرہا ہے۔
عالمی معیار میں ید طولی رکھنےوالے میڈیا ہاؤس جو اپنے آپ کو حق و صداقت کا علمبردار باور کراتے نہیں تھکتے ان کا رجحان بھی غیر محسوس طریقے سے اسرائیل کی جانب ہی ہے۔ ان کے اخبارات، ان کے ٹی وی اور انٹرنیٹ کے مواد کھلے طور پر مخصوص نظرئے اور سیاسی صف بندی کی حمایت کرتے نظر آرہے ہیں۔ بی بی سی اور الجزیرہ پر بہت سارے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ یہ بڑی حد تک سچائی پیش کرنے کی کوشش میں کامیاب ہیں۔الجزیرہ جنگ کی شروعات سے ہی ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں اوراسرائیل پر ایرانی میزائیل حملوں کی وجہ سے وہاں ہونے والی تباہیوں کی کامیاب رپورٹنگ پیش کرتا آرہا ہے، اس کے باوجود کہ اسرائیل میں اس پر پابندی ہے، مگر اس کی رپورٹنگ کو مغربی ذرائع ابلاغ اتنا قابل اعتماد نہیں سمجھتا۔ بی بی سی کی رپورٹنگ کو اکثر غیر متنازعہ سمجھا جاتا ہے لیکن ابھی حالیہ اسرائیل غزہ تنازعے میں بی بی سی کی رپورٹنگ پر سنٹر فار میڈیا مانیٹرنگ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس کا مکمل جھکاؤ غیر محسوس طریقے سے اسرائیل کی جانب صاف نظر آرہا ہے۔ اس نتیجہ تک پہنچنے کے لئےسنٹر فار میڈیا مانیٹرنگ نے بی بی سی کی 3873 تحاریر اور 32092 ٹی وی اور ریڈیو پروگرامس کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ جب اتنے قدیم اور معتبر میڈیا ہاؤس کا یہ حال ہے توبرساتی ککر متے کی طرح اُگے موجودہ دور کے میڈیا ہاوزس کا کیا حال ہوگا ہر کوئی بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ ویسے بھی اسرائیل اور ایران دونوں ملکوں میں میڈٰیا کی آزادی پر عرصے سے سوال اٹھتے رہے ہیں۔ جہاں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق، اسرائیل اس وقت آزادیء صحافت کے حوالے سے 180 ممالک میں 112 ویں نمبر پر ہے وہیں ایران 176 ویں نمبر پر ہے۔ اس پس منظر میں دونوں ملکوں سے حاصل ہونے والی اطلاعات اور وہاں کے ذرائع ابلاغ پر مکمل یقین کرنا بے وقوفی ہوگی۔
ان سب کے علاوہ سوشیل میڈیا پر مصنوعی ذہانت(اے آئی) کا سہارا لے کے دونوں بازؤں کے میڈیا ہاؤس یا ان سے جڑے ان کے نظریات سے متاثر اور بھگت افراد اپنے مد مقابل کو نیچا دکھانے کے لئے جھوٹ کو اس خوبصورتی سے تصاویر اور ویڈیوز کے سہارے مصنوعی ذہانت کی مدد سے بناکرپیش کررہے ہیں کہ سچ ان کے درمیان کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے۔ حقیقت میں کیا ہورہا ہے، کس کو کتنا نقصان اٹھانا پڑ رہاہے، کتنے لوگ مارے جارہے ہیں اس کی صحیح تصویر کہیں سے نہیں مل رہی ہے۔
ایکس ،ٹک ٹاک اور انسٹا گرام پر کئی ایسے ویڈیوز گردش میں ہیں جن کو دیکھنے کی تعداد کئی ملین تک پہنچ چکی ہے مگر وہ سب مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے ویڈیوز ہیں جس میں مد مقابل کو کہیں بھاری نقصان اٹھاتا دکھایا گیا ہے یا حریف کے ذریعے کسی بڑے ہدف کو تہس نہس ہوتے دکھایاگیا ہے۔ ایسا نہیں کہ بعد میں ان پر تحقیق کر کے فیکٹ چیکر ان کی حقیقت سامنے لانے کی کوشش نہیں کرتے، مگر تب تک یہ جنگل کی آگ کی طرح عوام کے درمیان پھیل چکے ہوتے ہیں۔
ہمارے درمیان میڈیا وہی پیش کر رہا ہے جو وہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ اسے اس سے مطلب نہیں کہ اس میں سچائی کتنی ہے، کیا اس کا پیش کردہ مواد صداقت پر مبنی ہے۔ اس پس منظرمیں یہ بات مکمل آشکار ہوچکی ہے کہ تمام تر ترقی کے باوجود موجودہ ذرائع ابلاغ عوام کے آگے سچ کو پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی یہ ناکامی در حقیقیت انسانیت کی ناکامی ہے۔ پتہ نہیں انسانوں کو کب اس کا احساس ہوگاَ؟ ہوگا بھی کہ نہیں؟ کیا وہ مستقبل قریب میں اس ناکامی پر قابو پالیں گے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات کا موجودہ حالات میں ملنا ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...