Skip to content
ثاقب بھائی :رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ثاقب بھائی پچھلے تین دنوں سے علیل تھے ان کے رحلت کی غیر مصدقہ خبر بھی آگئی مگر دل نہیں مانا آج تصدیق ہوگئی تو قلم سکتہ میں ہے۔ویسے تو ہر کسی کی موت کا ملال ہوتا ہے مگر جب کوئی اپنے سے کم عمررفیق خاص داغِ مفارقت دے جائے تو غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ ثاقب بھائی کےانتقالِ پر ملال پر فیض احمد فیض کی اس نظم کا ہر شعر صادق آتا ہے؎
نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا
کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا
ادھر ایک حرف کہ کشتنی یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو سن کے اڑا دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
ثاقب بھائی اپنے بانکپن سے راہِ عشق کو روشن کرگئے۔ان سے وابستہ یادوں کا ایک طویل سلسلہ ہے مگرغمگین دل ان کو ضبطِ تحریر لانے کی فی الحال اجازت نہیں دیتا ۔ ثاقب بھائی ہمیشہ ایک دلنواز مسکراہٹ کے ساتھ ملتے ۔تمام تر آزمائشوں کے باوجود ان کی زبان پر نہ کوئی رنج و ملا ل ہوتا اورنہ کسی سے کوئی گلہ شکوہ ہوتا تھا ۔ عمر قلیل میں ان پر بے شمار الزامات لگتے رہے لیکن وہ ایک پر عزم زندگی گزارنے کے بعد انہوں داعیٔ اجل کو لبیک کہا تو مبادہ فیض ہی کا یہ اشعار یاد آگئے؎
نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیں
ترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سر بزم یار چلے گئے
آہنی قلب و ذہن کے مالک ثاقب بھائی کی زندگی قرآن مجیدکے اس آیت کی مصداق تھی کہ :’’ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں تم جب دیکھو گے اُنہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں یہ ہے ان کی صفت توراۃ میں اور انجیل میں اُن کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں اِس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے‘‘۔ علامہ اقبال نے بھی دنیا اور جنت میں بندۂ مومن کی صفات بتاتے اس آیت کا حوالہ دے کر کہاتھا؎
ہو حلقہ ياراں تو بريشم کي طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
افلاک سے ہے اس کي حريفانہ کشاکش
خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن
جچتے نہيں کنجشک و حمام اس کي نظر ميں
جبريل و سرافيل کا صياد ہے مومن
کہتے ہيں فرشتے کہ دل آويز ہے مومن
حوروں کو شکايت ہے کم آميز ہے مومن
آخر میں اپنےیارِ غار کے لیے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کی دعا کےساتھ رب کائنات سے یہ استدعا بھی ہے کہ ؎
آسماں ان کی لحَد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...
اللہ غفور الرحیم
ثاقب بھائی کی تمام گناہوں کو معاف کر ،انہیں تیری راہ میں آنے والی ھر تکلیف کا بہترین اجر عطاء کر، جنت الفردوس کے بہترین حصوں میں انہیں سکونت نصیب فرماء
آمین یا رب العالمین ۔
میں مرزا معاویہ بیگ ندوی !!
آپ کا مضمون پڑھا، ما شاء اللہ بڑی خوشی ہوئی۔
میں نے بھی موصوف کے وصال کے موقع سے کچھ قلمبند کیا ہے۔ ہمارا ذہن بن رہا ہے کہ اس موقع پر ایک رسالہ -جو کئی ایک مضامین پر مشتمل ہو- شائع کیا جائے ، آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
میں مرزا معاویہ بیگ ندوی !!
آپ کا مضمون پڑھا، ما شاء اللہ بڑی خوشی ہوئی۔
میں نے بھی موصوف کے وصال کے موقع سے کچھ قلمبند کیا ہے۔ ہمارا ذہن بن رہا ہے کہ اس موقع پر ایک رسالہ -جو کئی ایک مضامین پر مشتمل ہو- شائع کیا جائے ، آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
Saqib Nachan sb ki azmat ka andazais baat se lagaya ja sakta hay ke jab bhi un ka naam aata tha battle ke khaimo me khalbal Mach jati thi.Allah Ta’alamarhoom ki magfirat kare aun unhe jannatul Firdaud me jaga ata farmaye.
میں ذاتی طور سے ثاقب بھائی سے کبھی نہیں ملا،لیکن ان کے نام سے واقف ہوں ۔جب بھی ان کا نام آتاتو زہن میں ایک آہنی عزم شخصیت کا خاکہ جو آخدی وقت تک باطل طاغوتی طاقتوں سے کبھی نہیں ڈرے۔اس کا پامردی سے مقابلہ کیا ۔اور آخر میں اللہ رب العزت سے کیا ہوا وعدہ پورا کردیا ۔اور اپنی جان اس کی راہ میں پیش کردی۔اللہ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔