Skip to content
غزہ میں انسانیت کراہ رہی ہے.
دنیا امریکہ اور اسرائیل کی ظالمانہ حرکتوں پر خاموش ہے
ازقلم:عبدالعزیز
غزہ میں انسانوں کی نسل کشی اور قتل عام کا علم ساری دنیا کو اچھی طرح کسی نہ کسی ذریعے سے باور کرایا جارہا ہے۔ قتل کے اعداد و شمار کے بارے میں اطلاعات مختلف ہیں۔ عام طور پر میڈیا کے ذریعے 60سے 65ہزار بچے، بوڑھے، عورتیں اور مرد بے دردی سے اسرائیلی فوجوں کے ذریعے ظالم امریکہ کے اشارے پر شہید ہوچکے ہیں۔ دوسری اطلاع کے مطابق لگ بھگ ایک لاکھ لوگوں کی جانیں تلف ہوئی ہیں۔ حماس کے ذرائع سے جو خبریں چھن چھن کر آرہی ہیں اس کے مطابق تین لاکھ افراد جان بحق ہوئے ہیں۔ ساٹھ ستر فیصد آبادی اپنے گھر بار کو چھوڑ کر دیگر مقامات پر پناہ گزیں ہیں۔ جہاں کیمپوں میں مظلوم فلسطینی پناہ گزیں ہیں وہاں بھی اسرائیل کے فوجی بم برساتے رہتے ہیں۔ لاکھوں افراد زخمی ہیں۔ غزہ پٹی میں سارے اسپتال تباہ و برباد کر دیئے گئے ہیں۔ جو ڈاکٹر یا معالج کیمپوں میں مریضوں اور زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں ان کی جان کا خطرہ ہے اور بہت سے ڈاکٹروں کو اسرائیلی فوجیوں نے شہید بھی کیا ہے۔ یہاں تک کہ جو لوگ راشن پانی لے کر غزہ پٹی کے پناہ گزینوں یا بچے کھچے لوگوں تک پہنچنا چاہتے ہیں ان کو بھی اسرائیلی فوج منزل مقصود تک پہنچنے نہیں دیتی، ان پر بھی بم برساتی ہے۔ غزہ پٹی میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں سب کی تباہ کردی گئی ہیں۔ پڑھنے پڑھانے کے لئے کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ کیمپوں میں جہاں طالب علموں کو پڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے وہاں بھی ظالموں کی طرف سے بم برسائے جارہے ہیں۔ یہ اتنے بڑے ظالم ہیں کہ ان کے ظلم کی داستان لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ لائبریریوں میں جو کتابیں جلنے سے بچ گئی ہیں ظالم اسرائیلی فوجی ان کتابوں کو بھی نذرِ آتش کر رہے ہیں۔ یہ عقل کے دشمن علم و دانش کے بھی قاتل ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کی بربریت کی مثال تاریخ کے صفحات میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ کے کونسل میں امریکہ جنگ رکوانے کے سلسلے میں بیسیوں بار ویٹو کرچکا ہے۔
دنیا میں دو قسم کے لوگ بستے ہیں۔ ایک قسم کے تو وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اپنا تعلق اسلام سے جوڑتے ہیں۔ اسلام یعنی حق سے جوڑتے ہیں۔ اہل اسلام یا مسلمان کی جو ڈیوٹی دی گئی ہے وہ سب سے بڑی ڈیوٹی ہے دنیا سے جبر و ظلم کو مٹانا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو لوگ ظالم کے ساتھ ظالم کے ظلم کو جانتے ہوئے دو چار قدم بھی چلتے ہیں وہ اپنے آپ کو اسلام سے خارج کرلیتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو مسلم حکمرانوں کی جو ٹولی ہے ان میں سے دو تین حکمرانوں یا ممالک کے ماسوا سب کے سب امریکہ بہادر کے غلام ہیں اور امریکہ سے اس طرح خوف زدہ ہیں کہ دماغ سے فلسطین سے کہیں زیادہ مسلم حکمرانوں کی یہ جماعت اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کھڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے دوران چند مسلم ملکوں کو چھوڑ کر سارے ممالک خاموش رہے۔ سب سے زیادہ دوغلی پالیسی پاکستانی حکمرانوں کی جنگ کے دوران تھی۔ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر جو اپنے نام کے ساتھ حافظ بھی لکھتے ہیں جب ایرانیوں پر اسرائیل اور امریکہ حملہ آور تھے تو حافظ صاحب ڈونالڈ ٹرمپ جیسے ظالم کے ساتھ وہائٹ ہاؤس میں آرام کے ساتھ مزے لے لے کر لنچ اور ڈینر کھا رہے تھے۔ پاکستان کا یہ حافظ قرآن دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ڈونالڈ ٹرمپ کو نوبل پیس (امن کا انعام) دینے کی سفارش کر رہا تھا۔ پاکستانی فوجی سربراہ کے پاکستان آنے پر پاکستانی حکومت نے بھی اپنے فوجی حکمراں کی سفارش پر مہر لگا دی۔ مذکورہ حدیث رسولؐ کے مطابق پاکستانی حکمراں آخر کس زمرے میں شمار کئے جانے کے لائق ہیں؟
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کرائی گئی کہ حد سے گزر جاتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے برے افعال سے نہ روکتے تھے‘‘۔ (المائدہ: 78-79)
اس آیت کی تفسیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث منقول ہیں وہ قرآن کریم کے مقصد کو اور زیادہ واضح کردیتی ہیں۔ سب روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ’’بنی اسرائیل میں جب بدکاری پھیلنی شروع ہوئی تو حال یہ تھا کہ ایک شخص اپنے بھائی یا دوست یا ہمسایہ کو برا کام کرتے دیکھتا تو اس کو منع کرتا کہ اے شخص! خدا کا خوف کر، مگر اس کے بعد اسی شخص کے ساتھ گھل مل کر بیٹھتا اور یہ بدی کا مشاہدہ اس کو اس بدکار شخص کے ساتھ میل جول اور کھانے پینے میں شرکت کرنے سے نہ روکتا۔ جب ان کا یہ حال ہوگیا تو ان کے دلوں پر ایک دوسرے کا اثر پڑ گیا اور اللہ نے سب کو ایک رنگ میں رنگ دیا اور ان کے نبی داؤدؑ عیسیٰ بن مریم کی زبان سے ان پر لعنت کی‘‘۔ راوی کہتا ہے کہ جب حضورؐ سلسلۂ تقریر میں اس مقام پر پہنچے تو جوش میں آکر اٹھ بیٹھے اور فرمایا : ’’قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم پر لازم ہے کہ نیکی کا حکم کرو اور بدی سے روکو اور جس کو برا فعل کرتے دیکھو اس کا ہاتھ پکڑ لو، اسے راہ راست کی طرف موڑ دو اور اس معاملے میں ہر گز رواداری نہ برتو ورنہ اللہ تمہارے دلوں پر بھی ایک دوسرے کا اثر ڈال دے گا اور تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر کی۔ ‘‘
مذکورہ حدیث کی روشنی کہا جاسکتا ہے کہ مسلم ممالک کے چند حکمرانوں کے سوا سارے لوگ قابل لعنت ہیں اور اللہ کی طرف سے لعنت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد اپنی کئی تقریروں میں اکثر کہا ہے کہ مسلم حکمرانوں کی جبر و ظلم پر خاموشی عذابِ الٰہی کی دعوت دیتی ہے۔ آج نہیں تو کل ان حکمرانوں اور ان مسلم ملکوں پر اللہ کا عذاب آکر رہے گا۔ انھوں نے کہا ہے کہ پہلے جو ملک عذابِ الٰہی کا مستحق ہے وہ سعودی عرب ہے اور دوسرے نمبر پر پاکستان ہے۔
ایران واحد ملک ہے جو قرآن اور حدیث کے مطابق عمل پیرا ہے۔ ایران کی مدد سے حزب اللہ لبنان سے حوثی یمن سے اور ملیشیا عراق سے حماس کی مدد کے لئے اسرائیل پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ایران پر جو حملہ اسرائیل اور امریکہ نے کیا تھا یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کی واحد وجہ ہے کہ ایران اسرائیل اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتا ہے۔ فلسطین کی مدد کرتا ہے اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ اگر دنیا کے سارے مسلم ممالک ایران کا ساتھ دیتے تو اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہوتا اور امریکہ دیکھتا رہ جاتا۔
دنیا بھر میں جو مسلمان ہیں مسلک کے نام پر ان کے الگ الگ رجحانات ہیں اور سب اپنے محدود دائرے یا اپنے اپنے خول میں مقید ہیں۔ ایران جب 1986ء میں عراق سے نبرد آزما تھا۔ عراق نے امریکہ کے اشارے پر ایران پر حملہ کیا تھا ۔ آٹھ سال تک یہ جنگ جاری رہی۔ آٹھ لاکھ افراد اس جنگ میں جان بحق ہوئے اور کئی شہر تباہ و برباد ہوگئے۔ اس وقت بھی بعض علمائے کرام شیعہ سنّی کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ مولانا منظور نعمانی صاحب نے ایرانی انقلاب اور شیعوں کے خلاف اسی زمانے میں ایک کتاب شائع کی تھی اور اس میں دیباچہ حضرت مولانا علی میاںؒ کا لکھا ہوا تھا۔ محترم علی میاں کلکتہ تشریف لائے تھے۔خاکسار اس وقت روزنامہ ’اقرا‘ کا ایڈیٹر تھا۔ موصوف سے جب میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ ’’کیا یہی وقت ہے جب کوئی مسلم ملک امریکہ جیسے ظالم ملک کے خلاف لڑ رہا ہو تو آپ جیسے بردبار علماء شیعوں اور ایرانی انقلاب کے خلاف آواز بلند کریں۔ کیا یہی درست بات ہے اور یہی موزوں وقت ہے جب آپ ظالم کی ہم نوائی کر رہے ہوں؟‘‘ مولانا موصوف نے جواب میں کہاکہ ’’مولانا منظور نعمانی کے اصرار پر مجھے لکھنا پڑا‘‘۔ مولانا کا کس قدر کمزور اور نامناسب جواب تھا کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مسلم علماء کی غیر معمولی کمزوری ہے کہ غلطیاں وہ خود کرتے ہیں اور الزام دوسروں پر رکھ دیتے ہیں۔ جبکہ انھیں معلوم ہے کہ بہکانے والے اور بہکنے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں اور اللہ کی طرف سے دونوں کی سزا مقرر ہے۔
آج بھی جو لوگ شیعہ -سنی میں تفرقہ پیدا کرتے ہیں وہ حقیقت میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ فرعونیت اور یزیدیت کی حمایت کھلم کھلا کر رہے ہیں۔ حبیب جالب نے کتنی سچی اور اچھی بات کہی ہے ؎ ’صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حسینؓ- یزید چین سے مسند نشیں آج بھی ہے‘
علامہ اقبالؒ نے کبھی تو یہ کہا تھا ؎ ’تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا- شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے‘۔
کبھی یہ کہا تھا ؎ ’قافلۂ حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں – گر چہ ہے تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات‘۔
علامہ اقبال کی ایک بات تو یہ صحیح نظر آرہی ہے کہ شاید تہران ایران کی لیڈر شپ کی صداقت، عدالت اور شجاعت کی وجہ سے عالم مشرق کا ہی نہیں عالم مشرق و مغرب کا بھی جنیوا بن جائے۔ دوسری بات جو علامہ اقبال نے کہی ہے کہ قافلۂ حجاز میں کوئی بھی حسین نہیں تو آج ایران ثابت کر رہا ہے کہ ایسی بات نہیں ہے۔ قافلۂ حجاز میں حسینؓ کی موجودگی ظاہر ہورہی ہے۔
یہ معاملہ تو مسلم ممالک اور مسلم آبادی کا ہے جو اوپر کی سطروں میں لکھا گیا ہے۔ جہاں تک دنیا کے دیگر ممالک کا معاملہ ہے ان کے بارے میں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان تک حق نہیں پہنچا ہے پھر بھی کچھ ممالک ایسے ہیں جو اسرائیلی اور امریکی سامراجیت کے خلاف ہیں۔ جن میں روس اور چین اور شمالی کوریا کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ان ممالک نے دبے لفظوں میں ہی سہی ایران کا ساتھ دینے کا اعلان و اظہار کیا تھا۔ دنیا کے غیر مسلم ممالک میں جنوبی افریقہ نے کھلم کھلا حماس کا ساتھ دیا اور عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا۔ پاکستان اور ایک دو ممالک جہاں تھوڑی بہت جمہوریت ہے وہاں کے عوام، طلبا اور نوجوان بڑی تعداد میں اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت میں احتجاج اور مظاہرے کر رہے ہیں، مگر زیادہ تر ممالک جہاں بادشاہوں، شیوخوں اور آمروں کی حکومت ہے وہاں عوام، طلبہ اور نوجوان مظاہرے اور احتجاج کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک کے طلبہ اور نوجوان اور عوام بڑی تعداد میں اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت میں مظاہرے کر رہے ہیں۔
ہمارے ملک ہندستان کی خارجہ پالیسی فلسطین کے متعلق پہلے جیسی نہیں ہے۔ پہلے ہندستان کی خارجہ پالیسی اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی موافقت میں تھی لیکن جب سے مودی حکومت ہے ہندستان کی خارجہ پالیسی اسرائیل سے زیادہ قریب ہے اور فلسطینیوں سے دور ہے۔ اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ جب عاجز آکر لگ بھ دو سال پہلے 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا تو ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہیں اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن موصوف اسرائیل اور امریکہ کی دہشت گردی نہ صرف ٹھنڈے پیٹ برداشت کر رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ پالیسی ہمارے ملک کے لئے اچھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک دنیا بھر سے الگ تھلگ (Isoleted) ہوگیا ہے۔ یہ پالیسی ملک کے لئے اور ملک کے عوام کے لئے سود مند نہیں ہے کیونکہ مسلم ممالک میں لاکھوں ہندستانی ملازم ہیں اور بشمول ایران دنیا بھر کے مسلم ممالک سے ہندستان کا کاروبار ہے۔ خدا نخواستہ اگر مسلم ممالک ہمارے ملک سے بدظن ہوتے ہیں اور ملک کی خارجہ پالیسی کو ناپسند کرتے ہیں تو ملک کا ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ملک کے سیاسی بزرگوں بشمول مہاتما گاندھی کی فلسطین کے لئے جو پالیسی تھی اسے جلد از جلد اپنایا جائے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...