Skip to content
عظمت کے ہیں مینار صحابہؓ
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اس بات سے پوری امت کا اتفاق ہے ہے کہ صحابہ ٔ کرام ؓ انبیائے کرامؑ کے بعد روء زمین کی سب سے زیادہ مقدس و برگزیدہ شخصیات ہیں، اللہ تعالیٰ نے جماعت انبیاء ؑ کے بعد انہی کی جماعت کو فضیلت وبزرگی عطا کی ہے ، بلا شبہ صحابۂ کرامؓ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کردہ اور چنندہ شخصیات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری اور محبوب رسول حضرت محمد مصطفیؐ کی صحبت کے لئے منتخب فرمایا تھا،یہ وہ تربیت یافتہ لوگ ہیںجن کی آنکھوں کو دیدار رسول ؐ کا شرف حاصل ہوا اور جنہیں براہ راست مشکوٰۃ نبوت سے فیض پانے کا موقع نصیب ہوا ، یہی وہ عظیم سعادت اور شرف و بزرگی ہے جس نے انہیں پوری امت میں محترم اور ممتاز بنادیا ہے ، بلاشبہ صحابۂ کرامؓ کی جماعت صبح قیامت تک سب مبارک ترین جماعت ہے اور اس مبارک جماعت کا ہر فرد عظیم الشان اور بلند ترین مقام پر فائز ہے ،دنیا میں کوئی بھی شخص علم وفضل اور تقویٰ وطہارت کے چاہے جس مقام پر فائز ہوجائے پھر بھی وہ ادنیٰ درجہ کے صحابی کے درجۂ کمال کو پہنچ نہیں سکتا بلکہ اہل علم فرماتے ہیں کہ پوری دنیا ولایت کے بلند ترین درجوں پر فائز ہوجائے تب بھی ادنیٰ درجہ کے صحابی کے مقام تو کیا ان کی جوتیوں کی گرد کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتی کیونکہ صحابۂ کرامؓ کی آنکھوں نے نبی اکرم ؐ کے رخ انور کا دیدار کیا ہے ،ان کے کانوں نے نبوی ارشادات سماعت کئے ہیں اور جنہیں مشکوۃ نبوت سے براہ ارست چند لمحوں کے لئے ہی سہی استفادہ کا موقع نصیب ہوا ہے ،انہوں نے مجلس نبوت میں بیٹھ کر رسول اکرمؐ سے علمی استفادہ کیا ہے ،یہ وہ سعادت ہے جس پر بڑے بڑے علماء کی علمی صلاحیتیں اور اولیاء کی ولایتیں قربان ہیں ، صحابۂ کرام ؓ ؓ وہ اشخاص ہیں جنہوں نے نزول قرآن کا زمانہ پایا تھا اور بلا واسطہ رسول اکرم ؐ کی زبان مبارک سے نازل ہونے والی قرآنی آیات سماعت کی تھی اور زبان نبوت سے ارشادات نبوی سماعت کرنے کا شرف حاصل کیا تھا ، صحابۂ کرامؓ کی جماعت کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ قرآن کریم کے اولین مخاطب تھے اور احکام دین پر پہلے عمل کرنے والے بھی تھے، یہی وہ مبارک ہستیاں تھیں جنہوں نے نبوت کے ہاتھوں میں اپنے ہاتھوں کو دے کر کفر وشرک سے توبہ کرکے توحید کو گلے لگایا تھا ،ماں باپ ،خاندان ورشتے دار ،دوست واحباب ،شہر وملک والوں کے علاوہ پوری دنیا سے دشمنی مول کر اللہ اور اس کے رسول ؐ ؐ سے دوستی کی تھی ، ان برگزیدہ اشخاص نے مال ودولت ، جاہ وحشمت اور وطن پر رسول اکرمؐ کی صحبت ومعیت کو ترجیح دی تھی اور زندگی کی آخری سانس تک دین اسلام پر جمے رہنے اور قبر میں جانے تک آپ ؐ کے دامن رحمت سے وابستہ رہنے کا جو وعدہ کیا تھا اس پر ثابت قدم رہے تھے ، یہی وہ قابل رشک ہستیاں ہیں جنہوں نے اسلام کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی تھی ، اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر گھروں سے نکلے تھے ، مال ودولت لٹایا ،نچھاور کیا تھا اور ضرورت پڑنے پر بیوی بچوں کی پرواہ کئے بغیر میدان کارزار میں دیوانۂ وار کود کر خوشی خوشی اپنی جان عزیز کا نذرانہ پیش کر دیا تھا ، یہ اشخاص کامل ایمان رکھنے والے تھے ،احکامات دین پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے تھے ،دین متین پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے تھے،اطاعت میں سب سے آگے تھے ،فرماں برداری میں سب میں ممتاز تھے اور اپنی جانوں سے زیادہ رسول اللہ ؐ سے محبت رکھنے والے تھے۔
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ صحابہ ٔ کرامؓ کی شان ،ان کے مقام اور ان کی دینی حمیت ، ذوق عبادت ، شوق شہادت ، انفاق کی کثرت، آپسی محبت ،کفر وشرک سے نفرت اور دیگر اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے ،قرآن کریم میں ایک مقام پر صحابہ ؓ کی عبادت ،اہل ایمان سے محبت اور کفر وشرک کی گندگی میں ڈوبے ہوئے لوگوں سے نفرت کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا ہے ،ارشاد ہے : مُّحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُوْدْ (الفتح:۲۹) ۔محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں اور جو آپ کی صحبت پائے ہیں وہ کفار پر بھاری اور آپس میں مہر بان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں ،کبھی سجدہ،اور اللہ کے فضل ورضامندی کی جستجو میں لگے ہیں ان کے چہروں پر سجدے کے اثر کی نشانیاں ہوتی ہیں،قرآن کریم میں ایک مقام پر ان مبارک ہستیوں کے لئے رضاء الٰہی کی خوشخبری اور جنت کا وعدہ کیا گیا ہے ،ارشاد ہے: وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُم بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ((توبہ :۱۰۰)’’جو مہاجرین وانصار ایمان لانے میں مقدم ہیں اور بقیہ امت میں جتنے لوگ ان کی پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اللہ سے راضی ہوئے اور اس نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کئے ہیں جس کے نیچے نہریں جاری ہیں اوروہ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بڑی کا میابی ہے،اس آیت میں صحابہ کو دوطبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک اول دوسرے ان کے بعد دونوں کے لئے جنت کی بشارت ہے،قرآن کریم کی ایک آیت مبارکہ میں صحابہ ؓ کے انفاق کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے شوق شہادت اور جذبہ قربانی کی تعریف کی گئی ہے یعنی صحابہ ؓ دین کے معاملہ میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے تھے چاہئے وہ اسلام کی سر بلندی کے لئے لڑی جانے ولی جنگیں ہوں ،یا غرباء ومفلسین کی مدد ہو یا پھر کار خیر میں خرچ کرنے کا موقع ہو یہ حضرات ان سب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ،وہ لوگ راہ خدا میں اور محبت الٰہی کی خاطر خرچ کرکے اس سے زیادہ خوش ہوتے تھے جتنا کہ مال ودولت کا حریص مال جمع کرکے خوش ہوتا ہے ،یقینا یہ انہیں حضرات کی خصوصیت اور ان ہی کی خوبی ہے ،انہیں اوصاف کی بنا پر اللہ نے ان سب کے لئے جنت کا وعدہ فرمایا ہے ،ارشاد ہے : ٰ جو فتح مکہ سے پہلے لڑ چکے اور خرچ کر چکے اونچے درجے والے ہیں اور جو فتح مکہ کے بعد خرچ کیا قتال کیا ان میں سے ہر ایک کے لئے جنت کا وعدہ ہے ’’کلا وعد اللہ الحسنی‘‘ اور اللہ کو تمہارے پورے اعمال کی خبر ہے ( الحدید :۱۰)۔
صحابۂ کرام ؓ جہاں ایمانی حرارت و کیفیت میں پوری امت میں سب سے امتیازی مقام رکھتے ہیں وہیں تقویٰ وطہارت میں بھی وہ سب سے ممتاز ہیں ،ان کے دل ہمیشہ خشیت الٰہی سے لبریز رہتے تھے ،وہ چاہئے مجمع میں ہوں یا تنہا ، دن میں ہویا پھر رات میں ہر وقت احکام الٰہی کی پابندی کرتے تھے اور اوامر پر عمل کرتے تھے اور نواہی سے بچتے تھے ،ان کے نزدیک چھوٹاسا نیک عمل میں بڑا درجہ رکھتا تھا اور معمولی گناہ بھی پہاڑ سے زیادہ بھاری تھا،یہی وجہ تھی کہ وہ نیکیوں کی فکر میں رہا کرتے تھے اور گناہوں سے بچنے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے ،وہ نیکی کو ہیرہ اور گناہ کو شعلہ سمجھتے تھے ،جن کے دل محبت الٰہی سے معمور اور خوف خدا کا اس درجہ ڈر رکھتے ہوں یقینا وہی لوگ ہدایت پر ہوں گے ،قرآن کریم میں ان کے تقوی ٰ کی گواہی ان الفاظ میں دی گئی ہے ،ارشاد ہے:وَاعْلَمُوا أَنَّ فِیْکُمْ رَسُولَ اللَّہِ لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ إِلَیْْکُمُ الْإِیْمَانَ وَزَیَّنَہُ فِیْ قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ أُوْلَئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُون(الحجرات:۷)اور جان لو کہ تم میں خدا کے پیغمبر ہیں ،اگر بہت سی باتوں میں سے تمہارا کہنا مان لیں تو تم مشکل میں پڑھ جاؤ گے ،لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنادیا اور اس کو تمہارے دل میں سجایا اور کفر وگناہ کو اور نافرمانی سے تم کو بیزار کیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں ،انہوں نے ایمان قبول کرکے اپنی جان کو آخرت کے عذاب سے محفوظ کر لیا تھا اور دنیوی زندگی کو نافرمانی سے بچانے کے لئے نبوی تعلیمات کے حصار میں خود کو محصور کر لیا تھا ، وہ کوشش کرتے تھے کہ دنیا کا ہر انسان دنیوی نقصان اور اخروی عذاب سے بچ جائے اس کے لئے انہوں نے رسول اللہ ؐ کے ساتھ مل کر دعوتی مشن پر نکل کھڑے ہوئے تھے ، ان کی کوشش رہتی کہ لوگ اسلام قبول کریں اور ایمان میں داخل ہو جائیں ،وہ رشتہ دار ،دوست احباب اور دیگر قبائل کے لوگوں کے پاس جاکر اسلام کی دعوت دیتے تھے ،اس کی پاکیزہ تعلیمات سے انہیں روشناس کراتے تھے،وحدانیت کا پاٹ پڑھاتے تھے اور نبوت ورسالت سے واقف کراتے ہوئے رسول اکرم ؐ کی ذات اقدس پر ایمان لانے کی ترغیب دیتے تھے ،اس مہم میں انہیں کا فی تکلیفوں ،مصیبتوں اور جسمانی وروحانی اذیتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتاتھا مگر انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا بلکہ نہایت مضبوطی کے ساتھ اس کام پر جمے رہے اور سینکڑوں لوگوں کے داخل اسلام کا ذریعہ بنے ،قرآن کریم میں انہیں لوگوں کو خیر امت کے لقب سے یاد کیا گیا ہے اور جو قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلیں انہیں بھی یہ اعزاز حاصل ہو گا ،ارشاد ہے: کُنْتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَوْ آمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْْرًا لَّہُم مِّنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُوْن(اٰل عمران:۰اا)’’تم لوگ بہترین جماعت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو‘‘،چنانچہ حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اصل مصداق تو صحابہ ؓ ہیں اور ان کے بعد جو ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔
صحابہ ٔ کرام کے قلوب ہمیشہ یاد الٰہی میں دھڑکتے تھے ،ان کی زبانیں ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہتی تھیں ،وہ آخرت کی فکر ایسے کرتے تھے جیسے تاجر لوگ اپنی تجارت سے زیادہ سے زیادہ نفع کی امید رکھتے ہیں ،ان کی زندگیوں مقصد اول آخرت ہوتا تھا ،وہ ہمیشہ آخرت ہی کو پیش نظر رکھ کر زندگی گزارتے تھے ،دنیا اور سامان دنیا ان کی نظر میں بے حیثیت بلکہ ذلیل تھی ، وہ دنیا میں اسی حد تک مشغول رہتے تھے جتنی ان کو ضرورت ہوتی تھی ، صحابۂ کرامؓ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے نہ کبھی دنیا کو اپنے اوپر سوار کیا اور نہ ہی اس کی وجہ سے ان کے دینی معمولات میں معمولی سا فرق آیا ،وہ گرچہ بقدر ضرورت دنیا کے کاموں میں لگے رہتے تھے مگر اس کے باوجود ان کا حال یہ تھا کہ ان کے قلوب ایک لمحہ کے لئے بھی یاد الٰہی سے غافل نہیں رہتے تھے ،قرآن کریم میں ان کے اسی ممتاز وصف کو ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے ،ارشاد ہے : رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْأَبْصَار(النور ۷۳)’’ ( صحابہ ؓ)ایسے لوگ ہیں جنہیں تجارت اور خرید وفروخت ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوۃ اداکرنے سے غافل نہیں کرتا ‘‘،چنانچہ مرحوم اکبر الٰہ بادی کے اس شعر کے حقیقی مصداق یہی مبارک ہستیاں تھیں جنہوں نے دنیا میں رہ کر آخرت کو ترجیح دی تھی ؎
دنیا میں ہوں ،دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں ،خریدار نہیں ہوں
صحابہ ٔ کرامؓ کی دینداری ،سجاعت وبہادری ،اخلاص وللہیت ،تقوی وطہارت ،ظاہری وباطنی خوبی اور غیر معمولی اطاعت وفرماں برداری کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے انہیں اپنا لشکر قرار دے کر ان سے محبت وتعلق کا اظہار فرمایا ہے ،یہ ان کے لئے نہایت اعزاز کی بات ہے ،اس سے ان کی عظمت وشان ظاہر ہوتی ہے اور اس سے ان کے بلند مقام کا پتہ چلتا ہے ،یہ وہ بلندی ہے جس پر ہر بلندی ناز کرتی ہے :أُوْلَئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْإِیْمَانَ وَأَیَّدَہُم بِرُوحٍ مِّنْہُ وَیُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ أُوْلَئِکَ حِزْبُ اللَّہِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْمُفْلِحُون(مجادلہؒ:۲۲)’’ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے اور جنہیں ان جنتو ں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہوئے یہ اللہ کا لشکر ہے بے شک اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہوگا‘‘،صحابہ ؓ وہ مبارک اور برگزیدہ ہستیاں ہیں جو اعمال واخلاق کے لحاظ سے سب سے فائق ہیں ،ان کے اخلاص وللہیت کا کوئی مقابل نہیں ہے ، انہوں نے صحبت رسالت مآب ؐ میں رہ کر ایمان کامل بنایا تھا ،اعمال صالحہ اپنائے تھے ،اخلاق وکرادر سنوارے تھے ، مقصدزندگی کو پالیا تھا ،حقیقی بندگی کا عملی نمونہ بن کر دنیا کے سامنے پیش ہوئے تھے اور دنیا کو بتایا تھا کہ اللہ کی عبادت اور نبی کی اطاعت کس طرح کی جاتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ اللہ نے قیامت تک ان کے ایمان کو دیگر لوگوں کے لئے مثال بنا کر پیش کیا ہے اور ان جیسے ایمان کو ہی معتبر قرار دیا ہے ارشاد ہے : فَإِنْ آمَنُواْ بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِہِ فَقَدِ اہْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا ہُمْ فِیْ شِقَاقٍ(البقرہ:۱۳۷)’’پھر یہ لوگ بھی ایمان اس طرح لے آئیں جس طرح (اے صحابہ ؓ) تم ایمان لے آئے ہو تو وہ ہدایت یاب ہوجائیں گے اگر منہ پھیر لیں تو اور نہ مانیں تو وہ مخالف ہیں‘‘۔
صحابہ ٔ کرامؓ کے اوصاف ،دینی حمیت اور جذبہ ایمانی کا تذکرہ کرکے آنے والوں کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ بھی انہیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان جیسا ایمان بنانے کی کوشش کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں ،ان کا ایمان دوسروں کے لئے معیار ہے ،ان کی زندگیاں دوسروں کے لئے نمونہ اور اسوہ ہیں تب ہی تو جابجا ان کے اوصاف کا تذکر ے کئے گئے ہیں ، ان کی تعریف کی گئی ہے کہ انہوں نے کس طرح عسر ،تنگی اور کٹھن حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام اور پیغمبر اسلام کی نصرت کی تھی نیز بشری تقاضہ پر جو کچھ ان سے کوتاہیاں سرزد ہوئیں ہیں انہیں معاف کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے ، ارشاد ہے : لَقَد تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِن بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ إِنَّہٗ بِہِمْ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ(التوبہ:۱۱۷)’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے نبی ؐ پر ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے ایسی مشکل کی گھڑی میں نبی کا ساتھ دیا جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ڈگمگا جائیں ،پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی ،یقینا وہ ان کے لئے بہت شفیق ،بڑا مہر بان ہے‘‘ ، قرآن کریم کی ایک دوسری آیت ہے جس میں اللہ نے انہیں اپنی رضامندی کا پروانہ عطا کیا ہے ، ارشاد ہے : رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہ(البینہ:۸) گویا اس آیت مبارکہ کے ذریعہ تمام صحابہ ؓ کو اللہ کی طرف سے خوشنودی ،رضامندی اور قبولیت تامہ سے نوازا گیا ہے ،یہ وہ اعزاز ہے جو صرف صحابہ ؓ کو عطا ہوا ہے جس سے ان کی عظمت اور شان اور اللہ تعالیٰ کی ان سے محبت اور ان کی اللہ تعالیٰ سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ؐ نے انہیں امت کا بہترین طبقہ قرار دیا ہے اور ان کے زمانہ کو بھی بہترین زمانہ قرار دیا ہے ،ارشاد نبویؐ ہے: خیر الناس قرنی ،ثم الذین یلونہم ،ثم الذین یلونہم( بخاری: ۲۶۵۲) ’’ لوگوں میں سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے ،پھر وہ جو ان (صحابہ ؓ ) کے نزدیک ہیں (یعنی تابعین) پھر جو ان (تابعین ) کے نزدیک ہیں (یعنی تبع تابعین)‘‘ ،صحابۂ کرام ؓ کی اس قدر فضیلت ،شان اور بلند ترین مقام کے ذکر کئے جانے کے بعد امت کے کسی بھی فرد کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ ان مقدس ترین ہستیوں کی شان میں معمولی سی بھی گستاخی کرے ،ان کی شان میں معمولی گساخی بھی موجب لعنت اور پھٹکار کا باعث ہے ،چنانچہ ایک حدیث میں نہایت صراحت کے ساتھ رسول اللہ ؐ نے صحابہ ٔ کرام ؓ کو ہد ف ملامت نہ بنانے کا حکم دیا ہے اور جو ان کی شان میں زبان درازی کرتا ہے گویا وہ رسول اللہ ؐ سے بغض کی وجہ سے ایسا کرتا ہے ،ارشاد نبویؐ ہے : میرے صحابہ ؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ،میرے صحابہ ؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرو،ان کو میرے بعد ہدف اور نشانہ ملامت مت بنانا ،یاد رکھو جو شخص ان کو دوست رکھتا ہے تو وہ میری وجہ سے ان کو دوست رکھتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے تو وہ مجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب ان کو دشمن رکھتا ہے اور جس نے ان کو اذیت پہنچائی تو اس نے گویا مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے گویا اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی تو وہ دن دور نہیں جب اللہ اس کو پکڑے گا (ترمذی: ۲۲۲۵)، حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ’’صحابہ کو برا مت کہو ان کا حضور ؐ کے ساتھ ایک لمحہ بیٹھنا تمہارے چالیس سال سے افضل ہے‘‘ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ کے اصحاب ؓ کو گالیاں مت دو کیونکہ ان کا رسول اللہ ؐ کے صحبت میں ایک لمحہ گزارنا تمہارے ساری زندگی کے عمل سے بہتر ہے(ابن ماجہ ۱۶۲)،ایک حدیث میں رسول اللہؐ نے ان سے محبت کو علامت ایمان اور ان سے بغض کو نفاق کی نشانی بتایا ہے ،ارشاد نبوی ہے: لا یحبھم الا مومن ولا یبغضھم الا منافق( بخاری: ۳۷۸۳) ’’ان سے مومن ہی محبت کرتے ہیں اور منافق ہی بغض رکھتے ہیں ‘‘ ۔
صحابۂ کرام ؓ کی شان اور مقام کے متعلق آیات اور احادیث کی کثرت کے باوجود بہت سے لوگ ان برگزیدہ ،محترم اور قابل صد احترام ہستیوں پر زبان درازی کرتے ہوئے خود کو مجرمین کی صف میں کھڑا کر لیتے ہیں اور اس جرم کی وجہ سے اپنی دنیا کو برباد اور آخرت کو تباہ کر دیتے ہیں ،یاد رکھیں کہ یہی وہ مبارک ترین ہستیاں ہیں جن کی ذات قرآن کریم ،نبی کریم ؐ اور امت کے درمیان مضبوط ترین واسطہ ہیں ،اگر ان پر زبانیں کھولی گئیں اور ان پر بے اعتمادی کا مظاہرہ کیا گیا تو پورا دین مشکوک ہو کر رہ جائے گا ، ان کی شان میں زبان درازی کرنے سے ان کا تو کچھ نہیں جائے گا مگر زبان درازی کرنے والوں کا سب کچھ ختم ہو جائے گا ،ان مبارک اور برگزیدہ ہستیوں کی عظمت اور ان سے تعلق ایمان کو جلا بخشتا ہے اور ان کی کامل اتباع وپیروی کامیابی دلاتی ہے ، انبیاء ؑ کے بعد یہ وہ بے مثال ہستیاں ہیں چودہ صدی گزرنے کے باوجود دنیا ان کی مثال پیش کرنے سے عاجز اور تاریخ انسانی قاصر اورعقل وفانش رکھنے والے حیران ہیں، سچ یہی ہے کہ ان کی عزت وعظمت بجالانے میں ہر صاحب ایمان کی عزت ہے ،ان سے سچی محبت کرنا ہی رسول اللہؐ سے محبت کرنا ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنے ہی میں دنیا کی کامیابی اور آخرت میں نجات مقدر ہے ، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ؐ نے انہیں ستاروں سے تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اھتدیتم ( مشکوۃ:۶۰۱۸)’’ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں پس ان میں سے جس کی اقتدا کرو گے ہدایت پاؤ گے ،اسی حدیث مبارکہ سامنے رکھتے ہوئے کسی نے کیا خوب کہا ہے
اسلام کی عظمت کے مینار صحابہ ہیں
ہے چاند محمد تو ستارے ہیں صحابہ
ہم فخر سے کہتے ہیں ہمارے ہیں صحابہ
واللہ ہمیں جان سے پیارے ہیں صحابہ
؎
Like this:
Like Loading...