Skip to content
زبان اور شناخت: تہذیب کا عکس، وجود کا آئینہ
ازقلم: ڈاکٹر نسرین فرحت صدیقی
انسانی ہستی میں سب سے انمول اور حیرت انگیز ورثہ اگر کوئی ہے تو وہ زبان ہے۔ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ کائنات کے ان گنت رنگوں کو جذب کر کے لفظوں کے قالب میں ڈھالنے والی ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے اور ہمارے باطن کی لامتناہی وسعتوں کو خارج میں منعکس کرتی ہے۔ یہ محض ابلاغ کا سادہ ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا زندہ دھاگہ ہے جو فرد کو اس کے ازلی ماضی، چلتے حال اور ممکنہ مستقبل سے اس طرح جوڑے رکھتا ہے کہ اس کے بغیر نہ تو انفرادی شعور کی تکمیل ممکن ہے اور نہ ہی اجتماعی وجود کی پہچان۔ درحقیقت، زبان اور شناخت کا یہ رشتہ اس قدر گہرا اور پیچیدہ ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں نہ صرف لسانیات کی گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے بلکہ نفسیات کے پیچ و خم، فلسفے کی باریک بینیوں اور تصوف کے دریچوں سے بھی جھانکنا ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ یہی وہ کلام ہے جو ہمارے وجود کی گہری ترین پہچان بن کر ابھرتا ہے۔
لسانی تحقیق، بالخصوص ماہرینِ نفسیات لیو وائگوٹسکی جیسے مفکرین کے کام، اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ زبان انسانی شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ صرف خیالات کے اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ خود سوچنے کا ڈھانچہ بناتی ہے؛ ہم کس طرح دنیا کو دیکھتے ہیں، محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں، یہ سب کچھ ہماری زبان کے تانے بانے سے بُنا جاتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال روسی زبان میں نیلے رنگ کے لیے دو الگ الفاظ (goluboy جو ہلکے نیلے اور siniy جو گہرے نیلے کے لیے استعمال ہوتا ہے) کی موجودگی ہے، جس کی وجہ سے روسی بولنے والے نیلے رنگ کے مختلف شیڈز کو انگریزی بولنے والوں کی نسبت زیادہ تیزی اور باریکی سے پہچان لیتے ہیں۔ یہ لسانی تعین (Linguistic Determinism) کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے کہ کیسے ہماری زبان ہمارے ادراک اور شناخت کو غیر محسوس طریقے سے متاثر کرتی ہے، ہماری ذہنی تصویر کشی میں رنگ بھرتی ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو کئی زبانیں زوال کا شکار ہوئیں اور بظاہر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں، مگر اس کے برعکس کئی نے دوبارہ جنم لے کر قوموں کی زندگیوں میں نئی روح پھونک دی۔ عبرانی زبان کی بحالی اس امر کی روشن ترین مثال ہے کہ اجتماعی عزم، لسانی بیداری، اور گہری حکمت عملی سے ایک ہزاروں سال مردہ زبان بھی دوبارہ زندہ ہو کر نہ صرف قوم کی لسانی بلکہ سیاسی اور ثقافتی شناخت کا بھی مضبوط ترین ستون بن سکتی ہے۔ اسی طرح، اسپین میں فرانکو کی آمریت کے دوران شدید سیاسی جبر کے باوجود کاتالان زبان نے اپنی شناخت کو برقرار رکھا اور آج ایک بار پھر اپنے پورے جوش کے ساتھ پھل پھول رہی ہے۔ یہ واقعات اس گہرے تعلق کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب، ایک قوم کی تاریخ، اور اس کے اجتماعی شعور کی زندہ علامت ہے۔ یہ قوموں کی اجتماعی یادداشت کی امین ہوتی ہے، جو ماضی کے تجربات، جدوجہد اور کامیابیوں کو اگلی نسلوں تک پہنچاتی ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جہاں دنیا میں مری ہوئی زبانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قابلِ ستائش جدوجہد جاری ہے، وہاں ہمارے اپنے خطے میں ایک عظیم زبان اپنے ہی اہلِ زبان کی بے رخی اور غفلت کا شکار ہے۔ برِصغیر کے تناظر میں، اردو زبان کی زوال پذیری ایک ایسا نوحہ ہے جو بھارت کے مسلمانوں کی شناخت پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔ اردو، جو برصغیر کی مسلم تہذیب کی تاریخی، ثقافتی اور ادبی پہچان رہی ہے، جو تہذیبی رشتوں کا ایک مضبوط بندھن تھی، آج اپنے ہی گھر میں اجنبی ہوتی جا رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ زبان بھارت کے مسلمانوں کی مشترکہ ثقافت اور ابلاغ کا واحد اور معتبر ذریعہ تھی، جس میں صدیوں کی دانش، محبت اور جمالیات پوشیدہ تھی، مگر بدقسمتی سے، آزادی کے بعد کے سیاسی اور سماجی حالات نے اسے ایک خاص طبقے کی زبان تک محدود کر دیا۔ بھارتی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے، جو کبھی اردو کو اپنی مادری اور ثقافتی زبان سمجھتی تھی، تعلیم اور معاشی ضرورتوں کے پیشِ نظر اسے ترک کر کے انگریزی، ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں کو گلے لگا لیا۔ اس عمل کے پیچھے جہاں کچھ معاشی و سیاسی مجبوریاں اور ایک واضح لسانی پالیسی کا فقدان تھا، وہیں اپنی وراثت سے جڑے رہنے کے لسانی شعور اور فکری بیداری کی کمی بھی ایک بنیادی وجہ بنی۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں تقریباً 5 کروڑ افراد اردو کو مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں، لیکن اسکولوں میں اس کی تدریس کا تناسب محض 1 سے 2 فیصد کے درمیان ہے، جو اس کی بے قدری کا ایک چونکا دینے والا ثبوت ہے۔ جب ایک قوم اپنی زبان کو پس پشت ڈال دیتی ہے، تو وہ صرف ایک بولی نہیں کھوتی، بلکہ اپنی شاعری، ادب، مذہبی تفہیم، اور اپنے آبا و اجداد کے فکری ورثے سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔ اردو کا یہ زوال، درحقیقت، بھارتی مسلمانوں کی اجتماعی شناخت کو بھی داؤ پر لگا رہا ہے، کیونکہ زبان محض خیالات کا اظہار نہیں بلکہ ایک قوم کے دل کی دھڑکن اور روح کی گہرائیوں کا عکس ہوتی ہے۔ ماہرِ لسانیات ایڈورڈ سیپیر نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے: "کوئی بھی دو زبانیں اتنی مماثل نہیں ہوتیں کہ انہیں ایک جیسی سماجی حقیقت کی نمائندگی کرنے والی سمجھا جائے، بلکہ مختلف معاشروں کی دنیائیں الگ الگ ہوتی ہیں، محض ایک ہی دنیا پر مختلف لیبل نہیں لگے ہوتے۔” (Edward Sapir, Language: An Introduction to the Study of Speech, 1921) یہ قول زبان اور ثقافت کے گہرے تعلق کو واضح کرتا ہے اور یہ بھی کہ زبان کس طرح اجتماعی شناخت کا مظہر ہے۔
ڈیجیٹل دور میں زبانوں کے درمیان مسابقت مزید شدید ہو گئی ہے، اور عالمی سطح پر انگریزی کا غلبہ واضح ہے۔ اردو ویب سائٹس کا تناسب محض 0.03 فیصد ہونا اس چیلنج کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، یہ دور صرف چیلنجز نہیں لایا بلکہ نئے امکانات کے دروازے بھی کھولے ہیں۔ گوگل نیورل مشین ٹرانسلیشن (GNMT)، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی وسیع رسائی، اور اردو پوڈکاسٹس و یوٹیوب چینلز نے اس زبان کو ایک نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو کالیگرافی، شاعری، اور ڈیجیٹل مواد کی بڑھتی ہوئی مانگ نے اس زبان کی مقبولیت میں ایک نئی روح پھونکی ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ اردو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز جہاں چھوٹے لسانی گروہوں کے لیے عالمی رسائی کے مواقع فراہم کر رہی ہیں، وہیں بڑی زبانوں کے غلبے کی وجہ سے لسانی تنوع کے خاتمے کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
یونیسکو (UNESCO) کے مطابق، ہر دو ہفتے میں ایک زبان دنیا سے معدوم ہو جاتی ہے، اور یہ حقیقت لسانی و ثقافتی تنوع کے لیے ایک سنگین الارم ہے۔ زبان کی موت صرف الفاظ کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب، تاریخ اور اجتماعی یادداشت کا زوال ہے۔ اردو نہ صرف برصغیر کی تہذیبی شناخت کی علامت ہے بلکہ اس میں صدیوں کی دانش، محبت، اور جمالیات پوشیدہ ہے۔ اس کی بقا اور فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ہم محض جذباتی وابستگی تک محدود نہ رہیں، بلکہ عملی اقدامات اٹھائیں؛ تعلیمی پالیسیوں میں اردو کی شمولیت کو یقینی بنائیں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی نسلوں کو اپنی زبان کی اہمیت اور اس کی خوبصورتی سے روشناس کرائیں۔ زبان اور شناخت کا یہ سفر جاری رہنا چاہیے، کیونکہ ہر زبان اپنے اندر ایک نئی دنیا، ایک نئی تہذیب اور ایک نئی شناخت سموئے ہوئے ہے۔ یہ ہماری اپنی بقا کا سوال ہے کہ ہم اپنی زبان کو نہ صرف زندہ رکھیں بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور متحرک ورثے کے طور پر منتقل کریں۔
Like this:
Like Loading...