Skip to content
کہاں بنتا ہے دماغ کا پنکچر؟
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
(اکولہ، مہاراشٹر)
=====
واہ صاحب واہ! کیا ہی اعجاز ہے اس جدید دور کا! اب علم و حکمت کے لیے کسی ارسطو کے قدموں میں بیٹھنے یا افلاطون کی اکیڈمی کی فیس بھرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ بس جیب میں ایک عدد اسمارٹ فون ہو اور اس پر ”واٹس ایپ یونیورسٹی” کا لوگو جگمگا رہا ہو۔ اسی ڈیجیٹل دارالحکمت کے فارغ التحصیل، ہمارے کچھ کی-بورڈ کمانڈوز، جنہیں دنیا پیار سے ”اندھ بھکت” بھی کہتی ہے، بڑی ہی فیاضی سے دنیا بھر کے اہلِ ہنر کو ان کی اوقات… معاف کیجئے گا، شناخت کی بنیاد پر تمغوں سے نوازتے ہیں۔ ان کی برسوں کی شبانہ روز تحقیق، جو اکثر ”گڈ مارننگ” کے میسج اور کسی جعلی خبر کے درمیان کی جاتی ہے، ایک ایسے انقلابی انکشاف پر ختم ہوئی ہے جس نے آئن سٹائن کو بھی قبر میں بے چین کر دیا ہوگا، اور وہ تاریخی اصطلاح ہے: ”پنچر پُتر”۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا تہذیب، لیاقت اور انسانیت کے تمام سرٹیفکیٹ ان کے فارورڈ شدہ میسجز کے خفیہ تہہ خانے میں قفل زدہ ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر کوئی بھی شخص قابل نہیں کہلایا جا سکتا۔
لیکن اے میرے کی-بورڈ کے مہا بلی دوستو! اس سے پہلے کہ آپ اگلا تاریخ ساز میم تخلیق فرما کر انسانیت پر ایک اور احسان کریں، ایک لمحے کو اپنی برق رفتار انگلیوں کو قرار دیجیے۔ ہم آپ سے گلہ ہرگز نہیں کر رہے، آخر آپ کا بھی کیا قصور؟ جب کسی کی کل کائنات ہی موبائل کی چھ انچ کی اسکرین میں قید ہو جائے، تو اس سے باہر کی وسیع و عریض دنیا پر نظر ڈالنے سے بے چاری آنکھیں تو چندھیائیں گی ہی۔ اگر اس اسکرین کے باہر کوئی شخص آپ کے بنائے ہوئے ذہنی خاکے میں فٹ نہ بیٹھے، تو یہ یقیناً اسی کی کوتاہی ہے، آپ کی فکرِ عالی کا اس میں کوئی نقص نہیں۔ آئیے، آپ کی اسی فکرِ عالی کو ذرا جھنجھوڑتے ہیں اور آپ کو چند ایسے ”پنکچر لگانے والوں” سے ملواتے ہیں جو درحقیقت دنیا کی ترقی کی گاڑی کا انجن بن کر اسے رفتار بخش رہے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے جناب صبیح خان کا، جو ایپل کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں۔ جی ہاں، وہی ایپل جس کا نیا ماڈل خریدنے کے لیے آپ مہینوں کفایت شعاری فرماتے ہیں اور پھر فون کے ڈبے کے ساتھ سیلفی یوں سجاتے ہیں گویا کوہِ نور واپس لے آئے ہوں۔ مرادآباد کی گلیوں سے نکل کر کیلیفورنیا کے شیش محل تک پہنچنے والے صبیح خان نے تو آپ کے منطق کے سارے ٹائر ہی پنکچر کر دیے۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ جس فون پر آپ ”پنکچر پُتر” کا میم تراش کر فارورڈ کرتے ہیں، اس فون کی پیداوار سے لے کر دنیا بھر میں اس کی ترسیل تک کے پورے نظام کی باگ ڈور ایک ایسے ہی شخص کے ہاتھ میں ہے۔ یہ تو بعینہٖ وہی بات ہوئی کہ آپ جس شاخ پر براجمان ہیں، اسی کو کاٹنے کی تلقین کریں، اور آپ کو یہ بھی خبر نہیں کہ آری اور شاخ، دونوں اسی ”باغبان” کی کمپنی کے ہیں۔ پھر ذرا نیویارک کا رخ کیجیے، جہاں زہران ممدانی دنیا کے سب سے بڑے شہر کی سیاست کا ”پنکچر” جوڑنے نکلے ہیں۔ یہ کوئی آپ کی گلی کے نلکے کا پنکچر جوڑنے کا کام نہیں، جناب! یہ تو پورے معاشرتی ڈھانچے کے ڈھیلے پیچ کسنے کے مترادف ہے۔ جب آپ یہاں شہروں کے نام بدلنے کی اہم ترین بحث میں الجھے ہیں، وہ وہاں شہروں کی تقدیر بدلنے کی باتیں کر رہا ہے۔ اور کیا آپ سر حمید پٹیل کو بھول گئے؟ جنہیں برطانیہ نے اپنے نونہالوں کے تعلیمی مستقبل کی چابیاں تھما دی ہیں۔ جب برطانوی پارلیمان اور ملکہ الزبتھ ان کی خدمات کو ”نائٹ ہڈ” کے خطاب سے نوازتی ہیں، تو وہ دراصل قابلیت کو سلام پیش کر رہی ہوتی ہیں، شناختی کارڈ کو نہیں۔
لیکن چھوڑیے پردیس کی باتیں، ان سب کا خون تو بہرحال اسی مٹی سے ہے۔ اصل تماشا تو آپ کی اپنی گلی میں لگا ہے اور ستم ظریفی کا سب سے بڑا نمونہ آپ کے سامنے کھڑا ہے۔ ملیے عظیم پریم جی سے! آپ انہیں ٹیکنالوجی کا ”سب سے بڑا پنکچر والا” کہہ لیجیے، مگر یہ وہ شخص ہیں جنہوں نے وِپرو جیسی عالمی سلطنت کھڑی کر کے بھارت کا جھنڈا دنیا میں گاڑا۔ اور اصل چوٹ سنیے: انہوں نے اپنی کھربوں کی دولت کا بڑا حصہ اسی ملک کے تعلیمی اور طبی نظام کے ہزاروں ”پنکچر” جوڑنے پر خاموشی سے لُٹا دیا ہے۔ اب بتائیے جناب، جو شخص معیشت کو رفتار دے اور سماج کی مرمت کرے، اس کے لیے آپ کی فرہنگ میں ”پنکچر پُتر” کے سوا کوئی اور لفظ بھی ہے؟ دنیا تو انہیں ”عظیم انسان دوست” کہتی ہے، شاید آپ کی ڈکشنری میں نفرت کے سوا باقی الفاظ کے صفحے پھٹے ہوئے ہیں۔
اب ذرا موسیقی کی دنیا کا رخ کیجیے۔ یہاں آپ کو اے- آر- رحمان نامی ایک ”سازندہ” ملے گا، جس نے اپنی دھنوں سے آسکر ایوارڈز کی محفل میں ”جے ہو” کا نعرہ بلند کروا دیا۔ کیا یہ عجیب تضاد نہیں کہ آپ موسیقی سے لطف اندوز تو ہونا چاہتے ہیں، مگر موسیقار کی شناخت آپ کو بے سُر کر دیتی ہے؟ اسی راہ پر استاد بسم اللہ خان کو یاد کیجیے جنہوں نے اپنی شہنائی سے آزاد بھارت کی پہلی صبح کا استقبال کیا اور استاد ذاکر حسین کے طبلے کی تھاپ، جس نے دنیا بھر کو بھارت کی کلاسیکی موسیقی کا دیوانہ بنا دیا ہے۔ کیا ان کے سُروں نے بھارتی ثقافت میں پنکچر لگائے یا اسے امر کر دیا؟ چلیے، پرد? سیمیں کی طرف آتے ہیں، جہاں شاہ رخ خان اور سلمان خان کئی دہائیوں سے باکس آفس پر پنکچر لگا رہے ہیں۔ یہ بھارت کے ثقافتی سفیر ہیں، جن کے نام سے دنیا میں بھارت کا چہرہ ابھرتا ہے۔ اور کھیل کے میدان کو کیسے فراموش کر دیں؟ جب ظہیر خان کی ریورس سوئنگ انگلستان اور آسٹریلیا کے بلے بازوں کے دفاع کو ”پنکچر” کرتی تھی، تب آپ تالیاں کس کے لیے بجاتے تھے؟ بلے باز کے لیے یا اس گیند باز کے لیے جس کی ٹی شرٹ پر ”انڈیا” لکھا تھا؟
اور ان سب سے بڑھ کر وہ نام جسے لیتے ہی ہر بھارتی کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے:ڈاکٹر اے- پی- جے- عبدالکلام۔ ملک کے ‘میزائل مین’ بھی اوربھارتی عوام کے محبوب ترین صدر بھی۔ اب آپ ہی فرمائیے، وہ کیا پنکچر کر رہے تھے؟ آسمان کا سینہ یا بھارت کا دفاع؟ شاید آپ کی واٹس ایپ یونیورسٹی کی تحقیق کا آخری باب یہی ہے کہ بھارت کے سب سے محبوب صدر بھی دراصل ایک ‘پنکچر پُتر’ ہی تھے۔ اگر ایسا ہے تو جناب، اصل میزائل مین تو آپ ہوئے، جو اپنے کی بورڈ سے ایسی منطق داغتے ہیں جو سیدھی عقل کو پنکچر کر دیتی ہے۔
تو میرے عزیز دوست، قصہ مختصر یہ ہے کہ اصل پنکچر کسی ٹائر، کسی گاڑی یا کسی پیشے میں نہیں ہے۔ اصل پنکچر تو اس ذہنیت میں ہے جو ہیرے کو اس لیے پتھر سمجھتی ہے کہ وہ اس کی پسند کی کان سے نہیں نکلا۔ یہ وہ سوچ ہے جو قوسِ قزح کو صرف اس لیے بدصورت کہے کیونکہ اس میں ساتوں رنگ شامل ہیں، نہ کہ صرف اس کا پسندیدہ ایک رنگ۔ تو جائیے، شوق سے اپنے نظریات کے پہیوں میں نفرت اور تعصب کی ہوا بھریے، مگر یاد رہے کہ جس کارواں کو آپ پنکچر زدہ سمجھ کر اس پر آوازیں کس رہے ہیں، وہ تو دنیا فتح کرنے نکلا ہے۔ اصل فکر تو اس گاڑی کی ہونی چاہیے جس کا ڈرائیور آگے دیکھنے کے بجائے مسلسل شیشے میں پیچھے دیکھ کر یہ حساب لگانے میں مصروف ہے کہ کون کس نسل کا ہے اور کون کس قبیلے کا۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایسی گاڑی کبھی منزل پر نہیں پہنچتی، بلکہ کسی نہ کسی موڑ پر حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔
اور جب سوچ کی یہ گاڑی حادثے کا شکار ہوتی ہے، جب فکر کا پہیہ دھڑام سے بیٹھ جاتا ہے، تب انسان کو ورکشاپ کی تلاش ہوتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ گاڑی کے پنکچر تو ہر شہر، ہر گلی میں لگ جاتے ہیں، لیکن کوئی یہ تو بتائے، کہاں بنتا ہے دماغ کا پنکچر؟
====
Like this:
Like Loading...