Skip to content
متھرا عید گاہ جامع مسجد اور کرشن جنم بھومی تنازع
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بابری مسجد کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ناانصافی کے بعد سر سنگھ چالک موہن بھاگوت نےکہا تھا اس معاملے میں سنگھ کی دلچسپی استثنائی ہے۔ سنگھ کا کام اس طرح کے تنازعات میں پڑنا نہیں ہے ۔ اس کے بعد کاشی کا معاملہ گرمایا تو انہوں نے ہر مسجد کے نیچے شیولنگ تلاش نہ کرنے پر زور دیا لیکن کسی نے ان کی ایک نہیں سنی۔ اس طرح بابری مسجد تحریک کے وقت کاشی اور متھرا کے جو تنازعات ہلکی آنچ پر تھے اب گرم ہوگئے اور ان میں سنبھل کی جامع مسجد کا اضافہ ہوگیا حالانکہ متھرا کے اندر عیدگاہ مسجد اور کرشن جنم بھومی مندر کا تنازع آپسی بات چیت سے 1968 میں حل کردیا گیا تھا ۔ اس وقت کے شری کرشن جنم استھان سیوا سنگھ (جو اب شری کرشن جنم ستھان سیوا سنستھان کے نام سے جانا جاتا ہے)اور شاہی عیدگاہ مسجد کمیٹی کے بیچ زمین کو لےکرایک سمجھوتے میں یہ طے ہوا تھا کہ مسجد جتنی زمین میں بنی ہے، بنی رہےگی۔
اس معاہدے کے خلاف 28 ستمبر 2020کو عدالت میں ایک عرضی داخل کرکے یہ الزام لگایا گیا کہ 17ویں صدی میں مغل حکمراں اورنگ زیب کےحکم پر ہندو مندر کو توڑکر وہاں پر مسجد بنائی گئی تھی۔ عدالت سے مسجد کی پوری زمین مندر ٹرسٹ کو سونپنے کی درخواست کی گئی ۔اس طرح لکھنؤ کی رنجنا اگنی ہوتری سمیت آدھا درجن لوگوں نے شری کرشن جنم استھان سیوا سنستھان اور شاہی عیدگاہ مینجنگ کمیٹی کے بیچ پانچ دہائی پہلے ہوئے سمجھوتے کو غیرقانونی بتاتے ہوئے اسےرد کرنے کی اپیل کردی۔سپریم کورٹ کے وکیل وشنو شنکر جین نے بھی اپنی عرضی میں مذکورہ سمجھوتےکو پوری طرح غلط کہہ کر ردکرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ وہی فتنہ پرور وکیل ہے کاشی سے سنبھل تک ہر جگہ نظر آتا ہے۔بابری مسجد کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کی جانے والی تاریخی ناانصافی سے ترغیب لے کر متھرا کی دیوانی جج(سینئر ڈویژن)چھایا شرما کی عدالت سے اس شرارت کا آغاز ہوا۔ عرضی گزاروں نے کہا ہے کہ متنازعہ مقام کترا کیشو دیو(تاریخی نام)کی 13.37 ایکڑ زمین کا ایک ایک انچ شری کرشن کے بھکت اور ہندو کمیونٹی کے لیے مقدس ہے۔
مذکورہ بالاعرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کرشن کا جنم استھان ‘حقیقی کاراگار‘ مسجد کمیٹی کے ذریعے بنائی گئی تعمیر کے نیچے ہی واقع ہے اور وہاں پر کھدائی ہونے پر سچائی کا پتہ چلےگا۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس بات حتمی علم کیسے ہوگیا؟ کیا یہ شری کرشن کی پیدائش موجود تھے؟ ان لوگوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ سیوا سنگھ اور مسجد کمیٹی نے سیاسی وجوہات کےتحت لوگوں سے سچائی چھپانے کی خاطر سمجھوتہ کے وقت ایک‘انسانی کاراگار’بنا دیا تھا ۔ ویسے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ الزام لگانے والے خود اپنے سیاسی آقاوں کو خوش کرکے فائدہ اٹھانے کی خاطر یہ فتنہ پروری کررہے ہیں۔ ہندو فریق نے آئین کی دفع 26 کاحوالہ دے کر شری کرشن براجمان کی زمین کی دیکھ ریکھ کا حق مانگا ہے ۔ وشنو شنکر جین نے تو مسجد کو ہٹاکر مندر کی زمین اسے واپس کرنے کی مانگ کردی ممکن ہے وہاں اپنی دان پیٹی( چندے کا گلاّ ) لگا کر وہ کچھ پیسے بٹورنا چاہتاہو اس لیے کہ قریب کے بانکے بہاری مندر میں اسی کے بھائی بند چندے کے لیے یوگی سرکار سے لڑ رہے ہیں ۔ عرضی گزاروں نے خود ابتداء میں اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ اور شاہی عیدگاہ ٹرسٹ کی انتظامیہ کمیٹی کو فریق بنایا گیا ۔
یہ مقدمہ ستمبر 1991 میں پی وی نرسمہا راؤ سرکارکے منظور کردہ ’عبادت گاہ(خصوصی اہتمام)ایکٹ،1991‘ کی خلاف ورزی تھا جس میں رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کے علاوہ عبادت گاہوں کی صورت حال میں 15 اگست 1947 کے بعد تبدیلی کرنےکی ممانعت کی گئی تھی۔بدقسمتی سے سپریم کورٹ میں اسے بھی چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا چونکہ یہ قانون عدالتی جائزہ کے حق کو سلب کرتا ہےاس لیے غیر آئینی ہے۔ متھرا میں دائر مذکورہ عرضی میں 1991 کےایکٹ سےبلادلیل استثناء طلب کیا گیا تھا۔ایک طویل عرصہ ٹھنڈے بستے میں پڑا رہنے کے بعد دسمبر 2023 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اچانک ہندو فریق کے مطالبے پر متھرا میں شاہی عیدگاہ کمپلیکس کے اے ایس آئی (ASI) سروے کا حکم دے کر اسے گرما دیا کیونکہ اس مشق کے ذریعہ اس دعویٰ کی تصدیق پیش نظر تھی کہ جس میں کہا فیا تھا کرشنا کی جائے پیدائش مسجد کے نیچے ہے اور مبینہ طور پر بہت سی نشانیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ مسجد ایک ہندو مندر تھی۔ ہندو فریق نے اسی تنازع کو آگے بڑھاتے ہوئے عدالت عالیہ سے شاہی عیدگاہ کو ’متنازعہ احاطہ‘ قرارد دینے کی کی درخواست دی جسے الہ باد ہائی کورٹ کے جسٹس رام منوہر مشرا کی سنگل بینچ نے مسترد کردیا۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ حقائق اور عرضی کی بنیاد پر عیدگاہ کو فی الحال متنازعہ ڈھانچہ قرارنہیں دیا جاسکتا ہے۔ اس طرح مندر مسجد کھیل کر اپنی سیاسی دوکان چمکانے والوں کو ایک شدید جھٹکا لگا۔
یہ وہی الہ باد ہائی کورٹ جہاں کے جسٹس شیکھر یادو نے ببانگِ دہل کہا تھا کہ یہ ملک اکثریت کی مرضی سے چلے گا مگر جسٹس رام منوہر مشرا نے اس منطق کو مسترد کردیا۔ یہ دلچسپ صورتحال کہ ایسی احمقانہ دلیل پیش کرنے والا مسلمانوں کے ہمدرد پسماندہ طبقے سے آتا ہے اور اس کا مخالف مسلم دشمن برہمن سماج کا فرد ہے۔ ہندو فریق کے پیروکارمہندرپرتاپ سنگھ نے ہائی کورٹ میں 5 مارچ 2025 کو متھرا واقع شاہی عید گاہ مسجد کو’متنازعہ ڈھانچہ‘ قرار دیئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضی داخل کی تھی۔ موصوف نے معاصرعالم گیری سے لے کر متھرا کے کلکٹررہے ایف ایس گراؤس تک کے وقت میں لکھی گئی تاریخ کی کتابوں کا حوالہ دے کر مندر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پرمسجد ہونے کا کوئی ثبوت شاہی عیدگاہ کمیٹی عدالت میں نہیں پیش کرسکی۔ ان کے مطابق نہ تومسجد کا نام خسرہ-کھتونی میں رکھا گیا ہے اورنہ ہی میونسپل کارپوریشن میں کوئی ریکارڈ ہے۔ نہ ہی کوئی ٹیکس ادا کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ شاہی عیدگاہ انتظامیہ کمیٹی کے خلاف بجلی چوری کی رپورٹ بھی ہوچکی ہے، ایسی صورت میں مسجد کوایک ’متنازعہ ڈھانچہ‘ قراردیا جانا چاہئے۔
مہندر پرتاپ کی حمایت میں سبھی ہندو فریق تھے مگر ایک نہیں چلی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسٹس مشرا کو یہ شواہد متاثر نہیں کرسکے ورنہ ان کا فیصلہ کچھ اور ہوتا۔ ہندو فریق نے عدالت میں ایودھیا کے رام مندراوربابری مسجد تنازع سے شری کرشن کی جائے پیدائش کو مشابہ بتا کر کہا تھا چونکہ ایودھیا معاملے میں اپنا فیصلہ دینے سے پہلے بابری مسجد کو’متنازعہ ڈھانچہ‘ قراردیاگیا تھا، اس لئے شاہی عید گاہ مسجد کوبھی متنازعہ ڈھانچہ قراردیا جائے مگر یہ حربہ کارگر نہیں ہوا۔ ویسے ہائی کورٹ کے ذریعہ شاہی عیدگاہ مسجد کو متنازع ڈھانچہ قرار نہیں دینے والےاس فیصلے کا دیگر عرضیوں پربراہ راست اثر نہیں پڑے گا۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں ایودھیا تنازع کی طرزپر فی الحال ڈیڑھ درجن عرضیاں زیرسماعت ہیں ۔اس سے قبل ستمبر 2023میں ایڈوکیٹ مہک مہیشوری نے شاہی عید گاہ کو کرشن جنم بھومی قرار دے کراس کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ کی درخواست الہ باد ہائی کورٹ میں داخل کی تھی۔ہائی کورٹ میں اسے مستر د کیا گیا تو وہ سپریم کورٹ پہنچ گئے مگر جنوری 2024 جسٹس سنجیو کھنہ اور دیپانکر دتہ پر مشتمل بنچ نےاسے سننا تک گوارہ نہیں کیا اور ناقابلِ سماعت کہہ کر مسترد کردیا ۔اس طرح تاریخی مساجد کو ہتھیانے کی کوششوں کوپہلے بھی جھٹکا لگا تھا۔
متھرا کی شاہی عیدگاہ تنازع میں فتنے کی جڑ الہٰ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس مینک کمار جین کا فیصلہ تھا۔ انہوں نے مسلم فریق کے اعتراضات کو مسترد کر کے جو سروے کی اجازت دے کر معائنہ کرنے کیلئے کمیشن قائم کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ اس وقت مسلم فریق نے آرڈر۷؍، رول۱۱؍ کے تحت ان درخواستوں کی برقراری پر سوالات اٹھاکر ان کو خارج کرنے کی اپیل کی تھی ۔ مسلم فریق نے عبادت گاہوں کے قانون، وقف ایکٹ، حد بندی ایکٹ اور مخصوص قبضہ ریلیف ایکٹ کا حوالہ دیا تھا مگر ان سب کو بالائے طاق رکھ کر ہندو فریق کی طرف سے دائر درخواستوں کو قبول کیا گیا۔ ان میں یہ بے بنیاد دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد کی تعمیر کٹرا کیشو دیو مندر کی اراضی پر کی گئی ہے۔ تعجب اس پر ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی اسے منسوخ کرنے سے انکار توکردیا مگر جنوری 2024میں اس نے الہ آباد ہائی کورٹ کے 14 دسمبر 2023 کے اس حکم پر روک لگا دی جس میں متھرا میں شاہی عیدگاہ مسجد کے سروے کی ہدایت دی گئی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلوں سےہندو فریق خاصہ پر امید تھا مگر الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے سے اس کوصدمہ لگا کیونکہ عدالت نے ان کے سارے دلائل کو یکسر مسترد کرکے شاہی عیدگاہ مسجد کو متنازع ڈھانچہ قراردینے سے انکار کردیا ۔جسٹس رام منوہر نارائن مشرا کی سنگل بینچ کا یہ فیصلہ مسلمانوں کی ایک بڑی جیت ہے۔ امید ہے آگے بھی اسی طرح کے منصفانہ فیصلے آئیں گے تاکہ مظلومین کو انصاف ملے اور عدلیہ کا وقار بحال ہو ورنہ آج کل تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ؎
قانون اس جہان کا کیسا ہے آج کل
طاقت کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے آج کل
Like this:
Like Loading...