Skip to content
شہرت کے تعاقب میں تنہائی کی قبر
سلیبریٹیز کلچر کا تاریک پہلو
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
فون📱09422724040
بیشک انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے (النساء: 28)۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو عزّت و شرافت کے ساتھ پیدا کیا، جیسا کہ ارشاد ہے: "اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزّت دی ہے” (بنی اسرائیل: 70)۔ مگر یہ عزّت صرف مال، شہرت یا مقام سے مشروط نہیں بلکہ انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق، روحانیت، اور باہمی رشتوں میں ہے۔ اسلام نے نہ صرف اجتماعی حقوق کا درس دیا، بلکہ تنہاء دلوں کی دلجوئی اور سماجی تحفّظ پر بھی زور دیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "جو رحم نہیں کرتا، اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا” (صحیح بخاری)۔
ہمارا دین، انسان کے ظاہر سے زیادہ اس کے باطن کی خبر لینے کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف بیمار، یتیم اور محتاج کی خبر لے بلکہ تنہاء اور خاموش لوگوں کی حالت پر بھی نظر رکھے۔ مگر افسوس! عصرِ حاضر کا سلیبریٹیز کلچر انسان کو مقام تو دیتا ہے، مگر احساسِ انسانیت سے محروم کر دیتا ہے۔ ہمیں جو چہرا کیمرے پر چمکتا نظر آتا ہے، اُس کے پیچھے ایک تھکا ہارا، توجہ کا بھوکا اور محبت کا محتاج دل بھی ہوتا ہے جسے ہم دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
یہی وہ خلا ہے جس نے آج کے معاشرے کو خود غرضی، لاتعلقی اور روحانی افلاس کا شکار بنا دیا ہے۔ اسی تناظر میں، جب ہم حالیہ واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جیسے معروف سلیبریٹیز کی المناک و خوفناک اموات، تو ہمیں نہ صرف افسوس ہوتا ہے بلکہ سوال بھی اٹھتا ہے! کیا ہم نے شہرت کو انسانیت پر فوقیت دے دی؟ کیا لوگوں نے فنکار کو صرف اس وقت چاہا جب وہ ہماری تفریح کا ذریعہ تھا، اور پھر اُسے تنہائی کے گڑھے میں چھوڑ دیا؟ یہ مضمون انہی سوالات کا سامنا کرتا ہے اور دعوت دیتا ہے کہ ہم صرف مداح نہ بنیں، انسان بنیں۔
دنیا کے ہجوم میں، اسٹیج کی روشنیوں میں نہا کر لاکھوں دلوں کی دھڑکن بننے والے چہرے، کبھی کبھار ایسی تنہائی کی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں جہاں نہ کوئی صدا سنائی دیتی ہے، نہ کوئی سلام آتا ہے، نہ الوداع۔ کل، 10؍ جولائی کی خبر میں، پہلے ایک سلیبریٹی اور پھر دوسری کی پرتعیش فلیٹ میں کئی ہفتوں سے بے خبر پڑی لاشیں محض "خبر” نہیں ہیں بلکہ یہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ کہلانے والے معاشرے کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہیں۔
یہ صرف ایک جسم کی موت نہیں، بلکہ ایک جذبے، ایک رشتے، اور ایک تعلق کے مرنے کی خبر ہے۔ وہ تعلق جو کبھی فنکار اور مداح کے بیچ پلتا ہے، وہ رشتہ جو شہرت اور انسانیت کے درمیان متوازن ہونا چاہیے کب کا دفن ہو چکا ہوتا ہے، اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ شہرت کا یہ خنجر، جو ابتدا میں خوشبو کی طرح محسوس ہوتا ہے، وقت کے ساتھ زہر بن کر دل و دماغ کو کھا جاتا ہے۔ کسی بھی انسان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ مجمع میں تنہاء ہو اور سلیبریٹیز کی زندگی اکثر ایسے ہی مجمعوں سے بھری ہوتی ہے۔
جب اسکرین بند ہو جائے، جب لائٹس بجھ جائیں، جب گلیمر کیمروں کی چمک معدوم ہو جائے، تو رہ جاتا ہے فقط ایک انسان خالی دیواروں کے درمیان، یادوں کی چادروں میں لپٹا ہوا، اور اس کی سانسیں گواہی دیتی ہیں کہ وہ شہرت کا نہیں، محبت کا بھوکا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ کہانیاں جو دیواروں سے سرگوشیاں کرتی ہیں، وہ کمرے جن کے در و دیوار برسوں کی تنہائی کو جذب کرتے رہتے ہیں۔ ہندوستان کی چمکتی دنیا کے ستارے، جو ایک وقت میں شہرت کی بلندیوں پر تھے، جب اپنی آخری سانسیں لیتے ہیں تو ان کے ارد گرد صرف دوا کی شیشیاں، پرانے اخباروں کی کترنیں، اور خاموشی کی چیخیں باقی رہ جاتی ہیں۔
دھرمیندر، جو آج اپنے فارم ہاؤس کی دیواروں سے لپٹ کر ماضی کے مناظر کو آنکھوں میں سمیٹتے ہیں، کبھی کبھار رُک رُک کر، دھیمی آواز میں کہتے ہیں: "مجھے اب کوئی آواز نہیں دیتا”۔ ان کی یہ بات محض ذاتی دکھ نہیں، بلکہ ایک پوری دنیا کا نوحہ ہے۔ وہ دنیا جو روشنیوں، شہرت اور تالیوں کے شور سے آباد نظر آتی ہے، مگر اندر ہی اندر گہری تنہائی اور ویرانی کے سائے لیے ہوتی ہے۔ دھرمیندر اکیلے نہیں۔ ہندوستان کی فلم انڈسٹری کی تاریخ ایسی سیاہ اور دل خراش کہانیوں سے بھری ہوئی ہے جہاں شہرت کی چکاچوند کے پیچھے خاموش موت رقص کرتی رہی۔
پروین بابي کا نام آتے ہی آنکھوں کے سامنے ایک مسکراتا ہوا چہرہ آ جاتا ہے۔ وہ خوبصورتی اور اداکاری کی جیتی جاگتی علامت تھیں، مگر وقت کے ساتھ ان کی زندگی میں ایسی تنہائی اور ذہنی اذیت گھر کر گئی کہ ایک دن ان کے ممبئی کے فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر جانا پڑا۔ جو منظر دیکھا گیا، وہ دل دہلا دینے والا تھا۔ کئی دن پرانی، تعفن زدہ لاش، جس کے پاس صرف خاموش دیواریں تھیں اور بکھری ہوئی دوا کی شیشیاں۔
ایک ایسا ہی واقعہ، جب شہر کی ایک مشہور سلیبریٹی، جو برسوں تک لاکھوں دلوں کی دھڑکن رہیں، دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئیں کہ ان کے دروازے کو توڑ کر اندر جانا پڑا۔ جو منظر سامنے آیا وہ دل دہلا دینے والا تھا۔ پالتو کتے نے تنہائی اور بھوک کے عالم میں اپنی مالکن کی لاش کو نوچ کھایا تھا۔ وہ تعفن زدہ لاش، جو کبھی سجے سنورے اسٹیج کی زینت رہی تھی، اب ایک گمنام کہانی بن چکی تھی۔
پھر جنوبی ہندوستان کی اداکارہ سلک سمتھا کی کہانی سامنے آتی ہے۔ جس نے لاکھوں دلوں پر راج کیا، مگر اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ اتنی تنہاء ہوگئیں کہ ان کے کمرے میں ان کی لاش پھندے سے لٹکتی ہوئی ملی۔ وہ ہنستے مسکراتے چہرے کب اور کیسے غم کی گرد میں چھپ گئے، کوئی جان نہ سکا۔ اسی فہرست میں ناڈیا کرشنا کا نام بھی ہے، ایک وقت کی مشہور ماڈل اور اداکارہ، جن کی موت کا پتہ بھی تب چلا جب ان کے پڑوسیوں کو شدید بدبو نے چونکا دیا۔ دروازہ کھولا گیا، تو وہاں ایک خاموش وجود لیٹا تھا، جس کے گرد بس وقت کی دھول تھی اور خاموشی کی گواہی دیتی دیواریں۔
جیا خان بھی انہی ادھورے خوابوں کی کہانی ہے۔ نوجوان، باصلاحیت، اور پرعزم۔ ان کی موت کو خودکشی کہا گیا، مگر آج تک ان کے کمرے میں گونجتی خاموشی اور ان کی آنکھوں میں چھپی کہانی کئی سوال چھوڑ گئی ہے۔ یہ سب کہانیاں کسی ایک فرد یا دور کی نہیں، بلکہ ایک مسلسل چلنے والی داستان ہیں، جہاں شہرت کے مینار کے پیچھے تنہائی کے سائے لمبے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دروازے بند ہو جاتے ہیں، فون بجنے بند ہو جاتے ہیں، اور آخرکار صرف خاموشی باقی رہ جاتی ہے۔
اور پھر دھرمیندر کی وہ دھیمی آواز دوبارہ سنائی دیتی ہے: "مجھے اب کوئی آواز نہیں دیتا”۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ الفاظ محض اُن کے نہیں، بلکہ ان سب کی طرف سے ہیں جو اس دنیا سے یوں رخصت ہوئے کہ نہ جانے کتنے دنوں تک کسی کو ان کی خبر نہ ہو سکی۔ شہرت کی اس چمک کے پیچھے چھپی سچائی شاید اتنی تلخ ہے کہ اسے بیان کرتے ہوئے لفظ بھی بھیگ جاتے ہیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے شہرت کا یہ سفر، جو روشنیوں سے شروع ہوتا ہے، آخرکار ایک تاریک کمرے میں ختم ہوتا ہے، جہاں دیواریں بھی آنسو بہاتی ہیں، اور خاموشی، چیخوں میں بدل جاتی ہے۔ یہ وہ کہانیاں ہیں جو اخبار کے کسی کونے میں چند سطروں کی صورت شائع ہوتی ہیں، مگر ان کے پیچھے برسوں کی تنہائی، ٹوٹے خواب، اور انسان کے اندر کی گہری ویرانی چھپی ہوتی ہے۔
سلیبریٹیز اور فلمی دنیا کے وہ چمکتے ستارے، جن کے گرد روشنیوں کے ہالے اور عوامی محبتوں کے طوفان ہوتے ہیں، جب بند کمروں میں تنہائی کی چپ چاپ قبروں میں بدل جاتے ہیں تو دل سوال کرتا ہے: آخر ایسا کیوں؟ کتنے ہی نامور چہرے ہیں جو کل تک کروڑوں دلوں کی دھڑکن تھے، مگر آج ان کی مسکراہٹیں اور شور و غوغا گم ہو چکا۔ ان کے بند کمروں سے جب تعفن زدہ لاشیں برآمد ہوتی ہیں تو یہ منظر معاشرے کے ضمیر پر دستک دیتا ہے۔
شہرت، دولت، اور گلیمر کی چکاچوند، اندرونی خلا اور روحانی و اخلاقی بے سکونی کو نہیں بھر سکتی۔ وہ لمحہ جب انسان تنہائی اور بے وقعتی کے اندھیروں میں ڈوبتا ہے، تب کوئی فین، کوئی کیمرہ، کوئی تالی ساتھ نہیں ہوتا۔ صرف وہی ذات باقی رہتی ہے جس کے لیے انسان نے شاید کبھی سنجیدگی سے نہیں سوچا — اللّٰہ ربّ العزّت!!!
یہ المیہ محض کسی فرد کا نہیں، بلکہ پوری سوسائٹی کے اجتماعی رویے کا عکاس ہے۔ ہم سلیبریٹیز کو صرف ان کی ظاہری چمک میں دیکھتے ہیں، مگر ان کے دلوں کے اندھیروں کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہمارا نوجوان طبقہ ان کو آئیڈیل بنا کر اپنی شناخت کھو دیتا ہے، مگر خود وہ شخص اپنی پہچان کے سفر میں تنہاء اور گمراہ نکلتا ہے۔ بطور معاشرتی فرد ہماری ذمّہ داریاں کیا ہیں؟ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ معاشرتی روابط صرف دکھاوے اور فائدے تک محدود نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کی حقیقی بھلائی اور خیرخواہی پر مبنی ہوں۔
اس لیے ہمارا فرض بنتا ہے: ہم شہرت کے پیچھے بھاگنے والوں کو زندگی کے حقیقی مقصد کی یاد دہانی کرائیں۔ انہیں بتائیں کہ اندرونی سکون اور اطمینان صرف اللّٰہ کی یاد، اخلاقی پاکیزگی اور آخرت کی تیاری میں ہے۔ گلیمر کی دنیا کے خس و خاشاک کے بجائے علم، تہذیب، اور روحانیت کی روشنی پھیلائیں۔ سوسائٹی میں ایسے ادارے اور مکالمے فروغ دیں جو ذہنی و روحانی مسائل کے حل کی طرف رہنمائی کریں۔ یہ سوچ کر کہ "یہ تو ان کا ذاتی معاملہ ہے”، ہم اپنی اجتماعی ذمّہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ ایک مردہ جسم کی تعفن زدہ تنہائی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ صرف جسمانی زندگی کافی نہیں، روحانی زندگی کی روشنی بھی ضروری ہے۔
معاشرہ جسے "ایوارڈ” دیتا ہے، وقت آنے پر وہی معاشرہ "نظر انداز” کر دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم اس وقت تک کسی کی قدر نہیں کرتے جب تک وہ خاموش نہ ہو جائے؟ ایسا کیوں ہے کہ ہمیں کسی کے مرنے کی خبر، صرف تعفن کے پھیلنے پر ہوتی ہے؟ یہ سوالات صرف میڈیا، فنکار، یا شوبز سے متعلق نہیں، بلکہ ہم سب سے متعلق ہیں۔ ہم سب، جو سوشل میڈیا پر مداح بن کر واہ واہ کرتے ہیں، مگر کسی کے درد کے پیچھے کی خاموش چیخوں کو نہیں سن پاتے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر سلیبریٹی کے پیچھے ایک حساس، روتا، محبت کو ترستا انسان بھی ہوتا ہے۔ جسے صرف تعریف نہیں، توجہ بھی چاہیے۔ جسے صرف تالیاں نہیں، ایک پُرسکون کندھا بھی چاہیے۔
یہی وقت ہے کہ ہم رک کر سوچیں کیا ہم نے اپنے اردگرد کے اُن لوگوں کو دیکھا ہے جو کبھی جگمگاتے تھے، مگر اب خاموش ہو چکے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی کسی تنہا بزرگ، پرانے دوست، یا خاموش پڑوسی سے یہ پوچھا کہ "تم کیسے ہو؟”۔ کیونکہ بعض اوقات یہی ایک جملہ، کسی کی زندگی میں امید کی روشنی بن جاتا ہے۔ شہرت انسان کو تنہاء نہیں کرتی ہم کرتے ہیں، جب اسے انسان کی جگہ مجسمہ سمجھ لیتے ہیں۔ محبت، توجہ اور تعلق ہی وہ سرمایہ ہیں جو شہرت سے زیادہ قیمتی ہیں۔ ورنہ لاکھوں کی بھیڑ میں بھی انسان اکیلا مر جاتا ہے، اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔
ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں چہرے پہچانے جاتے ہیں، مگر دل نہیں، جہاں تالیاں گونجتی ہیں، مگر دعائیں خاموش ہوتی جا رہی ہیں، جہاں لائکس، فالوورز، اور سوشل میڈیا کی چکاچوند میں لوگ دھیرے دھیرے انسانیت سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا یہ ہمارا اجتماعی المیہ نہیں کہ ہمیں اُس انسان کی موت کی خبر صرف تب ملتی ہے جب اُس کی لاش سے بدبو آنے لگتی ہے؟ کیا ہم واقعی اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ محبت کی بھوک میں مرنے والوں کی چیخیں بھی ہمیں نہیں جگاتیں؟
اسلامی تعلیمات کا جمالیاتی حسن یہی ہے کہ وہ ہمیں صرف عبادت گزار نہیں، رحمت گزار بننے کا سبق دیتی ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے بہتر ہو” (ترمذی)۔ مگر آج ہمارے بھی دلوں سے وہ بہتری رخصت ہو چکی ہے۔ ہم نے شہرت کو انسانیت پر، شکل کو احساس پر، اور تنہائی کو مجبوری نہیں، اختیار سمجھ لیا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ سلیبریٹیز تنہا کیوں مرتے ہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیوں نہیں جیتے اُن کے ساتھ؟
سماجی رشتے، توجہ، محبت، وقت، اور قربت یہ سب وہ سرمایہ ہیں جو کسی انسان کو زندگی سے جوڑے رکھتے ہیں۔ کسی کے لیے پانچ منٹ نکال لینا، اُس کی خاموشی کو سن لینا، اُس کے چہرے کی زردی میں چھپے سوال کو پڑھ لینا یہ عمل شاید ہماری نظر میں چھوٹا ہو، مگر اُس شخص کے لیے وہ زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ بن سکتا ہے۔ یاد رکھیے، کبھی کبھی کسی کا ہاتھ تھامنا، ایک لفظ کہنا، یا فقط موجود ہونا کسی انسان کو موت کی طرف بڑھتے قدموں سے واپس کھینچ سکتا ہے۔ شہرت کا اندھیرا صرف اُن پر نہیں ہوتا جو اس میں گُم ہوگئے، یہ سایہ ہم سب پر ہے اگر ہم نے دل کی روشنی بجھا دی، احساس کی آنکھ بند کر لی، اور محبت کی زبان گُنگ کر دی۔
آج کی گلیمر زدہ دنیا، جو کل تک صرف چکاچوند روشنیوں، سرور و نشاط، اور ظاہری آرائش میں گم تھی، آج بڑی تعداد میں اسی اسلام کی طرف لوٹ رہی ہے جسے کبھی فراموش کر بیٹھی تھی۔ فلمی سلیبریٹیز، کھلاڑی، ماڈلز اور دنیاوی شہرت کے پیچھے بھاگنے والے لوگ جب دولت، شہرت اور ریا کاری کی معراج پر پہنچ کر بھی دل کی بے سکونی کو نہ مٹا سکے تو انہیں آخرکار اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ اصل سکون نہ دولت میں ہے، نہ شہرت میں، بلکہ اللّٰہ کے ذکر اور اسلام کی روشنی میں ہے۔
یہ وہ لمحات ہیں جب دل کی دنیا بیدار ہوتی ہے، جب بند کمرے کی تنہائی میں شہرت کی گونج خاموش ہو چکی ہوتی ہے اور انسان صرف اپنے رب کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ یقیناً قرآن کی یہ صدا ان کے دلوں تک بھی پہنچتی ہے، "خبردار! دلوں کا اطمینان صرف اللّٰہ کے ذکر میں ہے” (سورہ الرعد: 28)۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ آج دنیا بھر میں شہرت یافتہ شخصیات اسلام قبول کر رہی ہیں۔ ان کے قبولِ اسلام کے قصّے، ان کی آنکھوں سے بہتے آنسو اور کلمہ طیبہ پڑھتے لب یہ سب ایک واضح پیغام ہیں کہ اسلام انسان کی فطرت کے عین مطابق دین ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم خود بھی بیدار ہوں اور اپنی معاشرتی ذمّہ داری کو پہچانیں۔ ہمیں صرف تنقید کے بجائے ان دلوں تک پہنچنا ہے جنہیں شہرت نے وقتی خوشی تو دی، مگر دائمی سکون نہیں۔ ہمیں ان سلیبریٹیز کے ساتھ رشتہ استوار کرنا ہے، چاہے وہ علم کے ذریعے ہو، اخلاق کے ذریعے یا براہِ راست دعوت کے ذریعے۔ ہمیں ان کے دلوں کے دروازے پر دستک دینی ہے، مگر نہ سختی سے، نہ نفرت سے بلکہ محبت، حکمت اور بصیرت کے ساتھ۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دعوتِ دین کا میدان صرف مسجدوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا دائرہ ہر دل تک پھیلانا ہے۔ یہ رشتے علم، محبت اور خیرخواہی کے ذریعے مضبوط ہوں گے، اور تب ہی دنیا کے اندھیرے دل اسلام کی روشنی سے منور ہوں گے۔
آئیے! ہم اس ظاہری چمک دمک سے ہٹ کر دلوں کے آئینے دیکھیں، انسان کو اُس کے دکھوں کے ساتھ، کمزوریوں کے ساتھ، خاموشیوں کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ آخر میں نہ ایوارڈ ساتھ جاتا ہے، نہ تالیاں صرف وہ چہرے رہ جاتے ہیں جو کبھی پوچھا کرتے تھے: "تم کیسے ہو؟”۔ اللّٰہ کرے ہم اُن چہروں میں سے ہوں، نہ کہ اُن میں سے جو صرف تعفن محسوس ہونے پر دروازے توڑتے ہیں۔
(11.07.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...