Skip to content
ترکیہ،12جولائی(ایجنسیز)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز تخفیفِ اسلحہ کا عمل شروع کرنے پر کرد علیحدگی پسندوں کی تعریف کی اور اسے ترکیہ کی شورش زدہ تاریخ کے ایک "تکلیف دہ باب” کا اختتام قرار دیتے ہوئے سراہا۔
ایردوآن نے انقرہ میں اپنی حکمراں جماعت اے کے پی کے اجلاس کو بتایا، 40 سال سے زیادہ پرانی "دہشت گردی کی لعنت” جس کے لیے کردستان ورکرز پارٹی ذمہ دار تھی، ختم ہونے کے راستے پر ہے۔
شمالی عراق میں پی کے کے کے مرد و خواتین ارکان نے اپنی رائفلیں اور مشین گنیں ایک بڑی دیگ میں پھینک دیں جہاں انہیں آگ لگا دی گئی۔ اس کے بعد ایردوآن کے یہ تبصرے سامنے آئے۔ اس علامتی اقدام کو وعدہ شدہ تخفیفِ اسلحہ کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے جو چار عشروں سے جاری مخاصمت ختم کرنے کے لیے امن عمل کا ایک حصہ ہے۔
پی کے کے کے رہنما عبداللہ اوجلان جو 1999 سے استنبول کے قریب ایک جزیرے پر قید ہیں، نے فروری میں اپنے گروپ پر زور دیا کہ وہ ایک کانگریس بلائے اور باضابطہ طور پر گروپ کو ختم کر کے غیر مسلح کرے۔ یہ اقدام اس کے بعد سامنے آیا۔ مئی میں پی کے کے نے اعلان کیا تھا کہ وہ غیر مسلح ہو جائے گی۔
پی کے کے نے 1984 سے ترکی کے خلاف مسلح شورش برپا کر رکھی تھی جس کا ابتدائی مقصد ملک کے جنوب مشرق میں ایک کرد ریاست قائم کرنا تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ یہ مقصد ترکی کے اندر کردوں کے لیے خودمختاری اور حقوق کی مہم میں تبدیل ہو گیا۔
ترکی کی سرحدوں سے آگے عراق اور شام تک پھیل جانے والے اس تنازعے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو گئے۔ پی کے کے کو ترکی، امریکہ اور یورپی یونین ایک دہشت گرد تنظیم تصور کرتے ہیں۔
ترکی اور پی کے کے کے درمیان قیامِ امن کی سابقہ کوششیں ناکامی پر ختم ہو چکی ہیں جن میں سے حالیہ 2015 میں ہوئی۔
ایردوآن نے کہا کہ آج ایک عظیم ترکی، ایک مضبوط ترکی اور ایک ترک صدی کے دروازے کھل گئے ہیں۔
جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں پی کے کے نے کہا، ہتھیار ضائع کرنے والے باغیوں نے کہا کہ انہوں نے "خیر سگالی اور امن عمل کی عملی کامیابی کے عزم کے طور پر” خود کو غیر مسلح کیا۔
بیان میں کہا گیا، "ہم اب آزادی، جمہوریت اور سوشلزم کے لیے اپنی جدوجہد جمہوری سیاست اور قانونی ذرائع سے جاری رکھیں گے۔”
لیکن ایردوآن نے اصرار کیا کہ پی کے کے سے کوئی سودے بازی نہیں ہوئی ہے۔ "دہشت گردی سے پاک ترکی کا منصوبہ مذاکرات، سودے بازی یا لین دین کا نتیجہ نہیں ہے۔” ترک حکام نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا پی کے کے کو ہتھیار ڈالنے کے بدلے میں کوئی رعایت دی گئی ہے۔
ترک صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ امن عمل کی نگرانی کے لیے پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے گا۔
Like this:
Like Loading...