Skip to content
اردو کی بقاء ایک نظر
از قلم مدثر احمد شیموگہ
آج کے دور میں، جب تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق تسلیم کیا جا چکا ہے، ہمیں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ وہ اسکول جو زبان کی بنیاد پر چل رہے ہیں، خاص طور پر اردو میڈیم اسکول، کس حال میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کو مڈ ڈے میل، مفت کتابیں، یونیفارم، اور اسکالرشپس جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ سہولیات بلاشبہ طلبہ کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہیں، لیکن اس کے باوجود اردو میڈیم سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے اور اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اردو میڈیم اسکولوں کی تنزلی کی ایک بڑی وجہ والدین کی بدلتی سوچ ہے۔
آج کے دور میں ہر ماں باپ اپنے بچے کے لیے ایسی تعلیم چاہتا ہے جو اسے مستقبل میں کامیابی کی راہ پر گامزن کرے۔ اس تناظر میں، انگلش میڈیم اسکولوں کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے کیونکہ انگریزی زبان کو ترقی، نوکریوں، اور مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوچ ایک حد تک درست بھی ہے، کیونکہ عالمی سطح پر انگریزی زبان ایک اہم ذریعہ ابلاغ بن چکی ہے۔ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی میڈیم تعلیم ان کے بچوں کو بہتر مواقع فراہم کرے گی، چاہے وہ اعلیٰ تعلیم ہو یا ملازمت کے میدان میں کامیابی۔تاہم، یہ رجحان اردو میڈیم اسکولوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے۔
والدین کی یہ ترجیح نہ صرف اردو اسکولوں کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ طلبہ کی تعداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ بھی بن رہی ہے۔ والدین کا خیال ہے کہ اردو میڈیم اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس سوچ کو مکمل طور پر غلط قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن اس سے اردو زبان اور اس کے تعلیمی اداروں کی اہمیت کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ اردو میڈیم اسکولوں کی موجودہ حالت کے پیچھے صرف والدین کی ترجیحات ہی ذمہ دار نہیں ہیں۔
کچھ داخلی مسائل بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تعلیمی معیار کا ہے۔ کئی اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری، پڑھائی میں عدم دلچسپی، اور مناسب تعلیمی ماحول کا فقدان دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، نصابی مواد کی پرانی طرز، جدید تدریسی طریقوں کا فقدان، اور سہولیات کی کمی بھی والدین کے اعتماد کو متزلزل کر رہی ہے۔حکومت نے اُردو میڈیم اسکولوں میں کچھ مثبت اقدامات اٹھائے ہیں، جیسے کہ پانچویں جماعت کے بعد انگلش میڈیم تعلیم کی گنجائش پیدا کرنا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ بچے نہ صرف اردو زبان سے جڑے رہیں بلکہ انگریزی میں دیگرمضامین پڑھ کر جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
یہ ایک لچکدار اور متوازن نقطہ نظر تھا، جو اردو کے تحفظ اور بچوں کے مستقبل دونوں کو مدنظر رکھتا تھا۔ تاہم، افسوس کی بات یہ ہے کہ اس اقدام کی کچھ حلقوں کی طرف سے مخالفت کی جا رہی ہے۔ کچھ اساتذہ اور سماجی و تعلیمی تنظیمیں اس دو لسانی ماڈل کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس سے اردو زبان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ خدشات اپنی جگہ پر درست ہو سکتے ہیں، لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اردو کو مکمل طور پر ختم ہو نے سےبچانے کے لیے ہمیں لچکدار رویہ اپنانا ہوگا۔
اگر ہم سختی سے صرف اردو میڈیم تعلیم پر اصرار کریں گے، تو والدین اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں کی طرف لے جائیں گے، جس سے اردو اسکولوں کی تعداد اور بھی کم ہو جائے گی۔ نتیجتاً، اردو زبان کی تعلیمی اہمیت مزید گھٹ سکتی ہے۔اس کے برعکس، اگر ہم دو لسانی ماڈل کو فروغ دیں، جہاں اردو کو بطور لازمی مضمون پڑھایا جائے اور دیگر مضامین انگریزی میں پڑھائے جائیں، تو نہ صرف بچوںکو جدید تعلیم ملے گی بلکہ اردو زبان کا تحفظ بھی ممکن ہوگا۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو والدین کے خدشات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ اردو کی ثقافتی اور علمی اہمیت کو بھی برقرار رکھ سکتی ہے۔
اردو زبان صرف ایک ذریعہ تعلیم ہی نہیں، بلکہ ایک عظیم علمی، ادبی، اور ثقافتی ورثہ بھی ہے۔ یہ زبان صدیوں سے ہماری تہذیب، تاریخ، اور شناخت کا حصہ رہی ہے۔ اردو شاعری، افسانوں، اور دیگر ادبی اصناف نے نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ایسی زبان کو ختم ہونے سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم، اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ہمیں روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنا ہوگا۔
Like this:
Like Loading...