Skip to content
بہار میں منگل راج نہیں بلکہ جنگل راج
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بہار کی نتیش کمار سرکار الیکشن کمیشن کے خلاف کامیاب بند سے کس قدر بوکھلائی ہوئی ہے اس کااندازہ چمپارن میں ہوا۔ یہ وہی چمپارن ہے جہاں سے گاندھی جی نے 10 اپریل 1917 کو اپنی پہلی عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گاندھی جی کے پڑپوتے تشار گاندھی نے اپنی ’’بدلاو یاترا‘‘ کا آغاز کرنے کے لیے اسی تاریخی مقام کا انتخاب کیا۔ اس مہم کا مقصد راشٹریہ جنتا دل، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے حمایت یافتہ حزب اختلاف اتحاد کی خاطر عوامی حمایت حاصل کرناہے۔ رائے عامہ کو ہموار کرنے کی خاطر تحریک چلانا ہر فرد یا تنظیم کا بنیادی حق ہے لیکن متحدہ قومی محاذ کی ریاستی سرکار اس کو برداشت نہیں کرسکی ۔ 14؍ستمبر کی صبح تشار گاندھی ترکولیا گاؤں میں اس نیم کے درخت کے پاس پہنچے جس سے باندھ کر کسانوں کو مارا پیٹا جاتا تھا اور جہاں پر ستیہ گرہ کرنےکے لیے گاندھی جی وہان گئے تھے ۔ انگریز تو ان کی تحریک کے آگے جھک گئے مگر ان کے تلوے چاٹنے والے سنگھ پریوار ان سے بھی گیاگزرا نکلا۔ وہاں پر پنچایت دفتر کے باہر عوامی اجتماع میں جیسے ہی تشار گاندھی نے اپنی تقریر میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار، وزیر اعظم نریندر مودی اور حکمراں جے ڈی یو-بی جے پی اتحاد پر تنقید کی تو گاوں کے مکھیا ونےساہا نے روک کر فوراً وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کردیااور تشار گاندھی کو اسٹیج سے ہٹا نے کی کوشش ہونے لگی۔
تشار گاندھی نےحالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے ازخود پروگرام سے نکلنے کا فیصلہ کیا مگر جاتے جاتے یہ اعلان کیا کہ چمپارن میں جمہوریت کا ’’قتل‘‘ کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ جب انگریزوں کا راج تھا، تب بھی گاندھی جی کو روکا گیا تھا۔ آج ہمیں بھی اسی طرح روکا گیا ہے۔ لیکن میں کسی سے نہیں ڈرتا۔‘‘ اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تشار گاندھی نے گاؤں کے مکھیا کو ’’گوڈسے کا وارث‘‘ بھی قرار دیا۔ اس کے جواب میں ونے ساہا نے تشار گاندھی کو ’’کانگریس کا غلام‘‘ بتایا مگر اس کا رویہ گواہ ہے کہ وہ انگریزوں کا حقیقی وارث ہے اور انہیں نقشِ قدم پر حریت کی آواز کو دبانے کا کام کررہا ہے۔ ونے ساہا کی یہ حرکت نہایت قابلِ مذمت ہے مگر اس نے تشار گاندھی کی حکومت مخالف مہم کو غیر معمولی شہرت سے ہمکنار کردیا ورنہ وہ دس دن تک محنت کرکے لوٹتے مگر میڈیا اس خبر کو نظر انداز کردیتا ۔ اب کم ازکم ایسا نہیں ہوگا تمام میڈیا پر تشار گاندھی کی مہم چھائی ہوئی ہےاور ہرکوئی ونے ساہا سمیت این ڈی اے سرکار کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔ اسے اپنے پیروں پر کلہاڑی چلانا کہتے ہیں ۔
بہار کے اندر پچھلے کم و بیش 20سالوں سے این ڈی اے اور نتیش کمار برسرِ اقتدار ہیں ۔ اس کے باوجود عوام کو ڈراکر ان سے ووٹ لینے کی خاطر وہ ’لالویادو‘ کے نام نہاد جنگل راج سے ڈراتے ہیں۔ اس بار مشیت نےنتیش کمار کے منگل راج کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا تو یکے بعد دیگرے تشدد کی وارداتیں منظر عام پر آنے لگیں ۔ اس سلسلے کی ابتداء امسال 6؍ جولائی کوہوئی جب راجدھانی پٹنہ میں معروف تاجر اور سماجی کارکن گوپال کھیمکا کا دن دہاڑے قتل ہوگیا اور اس پر ریاست کی سیاست گرماگئی۔ کانگریس، آر جے ڈی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے امن و امان کو لے کر ریاستی حکومت پر سنگین سوالات اٹھائے ۔کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی اکھلیش سنگھ نے پٹنہ کو ‘جرائم کی راجدھانی’ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ شہر میں گزشتہ سال 116 قتل ہوئے ہیں یعنی اوسطاً ہر تیسرے دن ایک قتل کی واردات ۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ این ڈی اے کے دور حکومت میں جرائم کا گراف تیزی سے بڑھا ہے۔
لالو یادو کی حکومت کو بدنام کیے جانے والے جنگل راج سے حالیہ جرائم کی شرح کا موازنہ کیا جائے تو اس میں 300 گنا اضافہ دکھائی دیتا ہے۔ بد معاشوں اور جرائم پیشہ افراد کی فوری گرفتاری کا دعویٰ کرنے والے نائب وزیر اعلیٰ کو مسترد کرتے ہوئے اکھلیش سنگھ بولے، "محض بیان بازی سے کچھ نہیں ہوگا۔ گاندھی میدان جیسے حساس علاقے میں ، جہاں سے کلکٹر اور ایس پی کا دفتر تھوڑے فاصلے پر ہے، یہ قتل کی واردات ظاہر کرتی ہے کہ مجرم کتنے بے خوف ہوگئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "جس گھر میں کھیمکا کا قتل ہوا، اس سے پہلے ان کے بیٹے کو بھی قتل کیا جا چکا ہے، اس لیے اب لوگ حکومت کی باتوں پر یقین نہیں کر پارہے ہیں۔اکھلیش سنگھ کے مطابق گوپال کھیمکا نہ صرف ایک تاجر بلکہ ایک ممتاز سماجی کارکن بھی تھے اور ان کے قتل سے پورا پٹنہ صدمے میں ہے۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے اور مجرموں کی فوری گرفتاری کا یقین دلایا ہےلیکن اکھلیش سنگھ نے گورنر سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ بہار میں بڑھتے ہوئے جرائم پر بحث کی خاطرقانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلائیں۔
گوپال کھیمکا کے قتل کی دھول ابھی بیٹھی نہیں تھی کہ بہار کے دارالحکومت پٹنہ کو دن دھاڑے ایک اور ہلاکت نے ہلاڈالا۔ اس بار بی جے پی اور کسان مورچہ کے سابق رہنماء سریندر کیواٹ کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا ۔پولیس عہدیدار کنہیا سنگھ کےمطابق کیواٹ کو موٹر سیکل پر سوار دو افراد نے اپنے کھیت میں کام کرتے وقت گولیوں سے بھون دیا ۔ اُنہیں ایمس لے جایاگیا لیکن وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ فارنسک ٹیم نے جائے واردات پر پہنچ کر اہل خانہ سے بیان لینے کے بعد پٹنہ شہر کے اندر اور باہر چھاپے مارے ۔ سوال یہ ہے کہ جب سنگھ پریوار کے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟ جرائم کی بڑھتی شرح پر حزب اختلاف کے قائدین نے این ڈی اے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ آرجے ڈی قائد تیجسوی یادو نے ایکس پر لکھا کہ پٹنہ میں اب ایک بی جے پی لیڈر کو گولی ماری گئی ہے۔ کیا کہیں، کس سے کہیں؟ این ڈی اے حکومت میں کیا کوئی سچ سننے یا اپنی غلطی ماننے پر آمادہ ہے؟ آرجے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہاکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بہار میں نظم ونسق کی صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے۔ اِن لوگوں نے بہار کو کیا بناڈالا؟
بہار فی الحال آٹو پائلٹ موڈ میں ہے۔وزیر اعلیٰ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور بی جے پی کے دو ناکار ہ ڈپٹی چیف منسٹرس قیادت کے خلا کو پُر کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اس لیے حکمرانی کی جگہ انارکی نے لے لی ہے۔ ایسے میں بی جے پی قائد شاہنواز حسین نے اپنی حکومت کے دفاع میں کہاکہ بہار میں نظم ونسق برقرار ہے۔ گوپال کھیمکا کے قاتلوں کی طرح سریندر کیواٹ کےحملہ آوروں کو بھی کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گالیکن یہ تو مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ جنتا دل یو ترجمان نیرج کمار نے کہاکہ جرم کی تردید کوئی بھی نہیں کررہا ہے لیکن مناسب کارروائی کی جائے گی۔عوام کے لیے ان وعدوں پر اعتبار کرنا مشکل ہورہا ہےحالانکہ نیشنل کرائمس ریکارڈس بیورو کے اعدادوشمار بہار میں جرائم کےگھٹنے کی بات کرتے ہیں تاہم آرجے ڈی ترجمان مرتنجے تیواری نے اِس دعویٰ کو خارج کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں ہر روز ایک قتل ہورہا ہے۔ بڑھتے جرائم پر تیجسوی یادو بار بار حکومت سے سوال کررہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں آتا ۔ بہار میں لا قانونیت اور جنگل راج زوروں پرہے۔ مجرم بلاخو ف و خطر جہاں چاہتے ہیں واردات کرتے ہیں۔ نتیش کمار کی طاقت ختم ہوچکی ہے۔
جرائم کی ان وارداتوں نے بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو حکومت پر چڑھ دوڑنے کا نادر موقع عنایت کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر پوچھا، ’’سب کو پتہ لیکن بی جے پی کے دو ناکارہ نائب وزیر اعلیٰ کیا کر رہے ہیں؟ ‘‘تیجسوی یادو نےپہلے بھی لکھا تھا کہ ، ’’بے شمار قتل ہو رہے ہیں ۔ بہار میں انسانی جان کیڑے مکوڑوں سے بھی سستی۔ سیتامڑھی میں تاجر اور پٹنہ میں دکاندار کو گولی مار کر ہلاک، نالندہ میں نرس اور دو کا قتل، چاروں طرف حکومتی غنڈوں کی گولیاں ہی گولیاں۔ حکمران مجرموں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ مجرموں کے شراکت دار این ڈی اے کے لیڈر اور اہلکار ذات کے کھوج میں مصروف ہیں‘‘۔ بہار کے اندر پچھلے 11 دنوں میں 31 قتل کے واقعات سامنے آئے ہیں یعنی ریاست کے’کانٹریکٹ کلنگ انڈسٹری‘ میں بے روزگار نوجوانوں کو کرائے کے قاتل بنایا جا رہا ہے۔راہل گاندھی نے اس صورتحال کے تناظر میں الزام لگایا کہ بے روزگار نوجوانوں کو گینگسٹر اپنے گروہ کا حصہ بنا رہے ہیں اور ریاستی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے روزگار نوجوانوں کو قاتل بنا یا جارہا ہے اور غنڈہ راج کے وزیراعلیٰ کرسی بچانےمیں لگے ہوئے ہیں اور بی جے پی کے وزراء کمیشن کھا رہے ہیں۔ ریاست میں چونکہ غیر اعلانیہ انتخابات کا بگل بج چکا ہے اس لیےعوام کی روز افزوں ناراضی سے توجہ ہٹانے کی خاطر کبھی اجیت انجم جیسے بے باک صحافی پر ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے تو کبھی تشار گاندھی جیسے انصاف علمبردارکو معتوب کیا جاتا ہے۔ یہ حکمت عملی نتیش سمیت مودی کو بھی لے ڈوبے گی کیونکہ بہار کی شکست کے بعد مودی کا اقتدار میں رہنا دوبھر ہو جائے گا۔
Like this:
Like Loading...