Skip to content
صہیونیت اور نازی ازم: ایک ہی سکے کے دو رخ؟
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
(اکولہ، مہاراشٹر)
بیسویں صدی کی سیاسی تاریخ میں صہیونیت اور نازی ازم دو ایسی تحریکیں ہیں جنہوں نے عالمی منظرنامے پر گہرے نقوش چھوڑے۔ صہیونیت، جو ایک یہودی قومی تحریک کے طور پر ابھری، فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن کے قیام کی خواہش رکھتی تھی، جبکہ نازی ازم ایڈولف ہٹلر کی زیر قیادت ایک نسل پرستانہ اور آمرانہ نظریہ تھا جس نے جرمن قوم کی نام نہاد "آریائی” برتری کو فروغ دیا۔ اگرچہ دونوں تحریکوں کے تاریخی سیاق و سباق اور مقاصد میں نمایاں فرق موجود ہے، لیکن یہ مضمون اس نقطہ نظر سے پیش کیا جا رہا ہے کہ صہیونیت نازی ازم کا پرتو ہے، کیونکہ دونوں نسل پرستانہ نظریات، زمین پر قبضے کی استعماری پالیسیوں، اور نسلی صفائی کے اقدامات میں گہری مماثلتیں رکھتی ہیں۔
صہیونیت کا آغاز انیسویں صدی کے اواخر میں یورپ میں بڑھتی ہوئی سام دشمنی کے ردعمل کے طور پر ہوا۔ تھیوڈور ہرزل، جنہیں جدید صہیونیت کا بانی سمجھا جاتا ہے، نے 1896 میں اپنی کتاب Der Judenstaat میں یہ استدلال پیش کیا کہ یہودیوں کو اپنی نسلی اور مذہبی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک الگ قومی ریاست کی ضرورت ہے۔ یہ نظریہ یہودی قوم کو ایک منفرد نسلی اور ثقافتی گروہ کے طور پر پیش کرتا تھا، جسے ایک مخصوص سرزمین سے جوڑا گیا۔ اسی طرح، نازی ازم نے جرمن قوم کی "آریائی” نسلی برتری کو اپنا بنیادی نظریہ بنایا، جیسا کہ ہٹلر نے Mein Kampf میں واضح کیا، جہاں یہودیوں کو "زہریلی نسل” قرار دے کر انہیں جرمن معاشرے سے خارج کرنے کی وکالت کی گئی۔ دونوں تحریکیں اپنی قومی شناخت کو نسلی پاکیزگی سے جوڑتی ہیں، جو نسل پرستی کے بنیادی عناصر کی عکاسی کرتا ہے۔ ناقدین جیسے ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب The Question of Palestine میں استدلال کیا کہ صہیونیت کا نظریہ فلسطینیوں کو "غیر موجود” یا "کم تر” سمجھنے پر مبنی تھا، جو نازی ازم کے اس نقطہ نظر سے ملتا جلتا ہے کہ یہودیوں اور دیگر اقلیتوں کو معاشرے سے الگ تھلگ یا ختم کر دینا چاہیے۔ صہیونی رہنما زئیو جبوٹنسکی کے "لوہے کی دیوار” کے تصور نے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جواز فراہم کیا، جو نازی ازم کی فوجی جارحیت کی سوچ سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔
دونوں تحریکوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے زمین پر قبضے کو اپنی حکمت عملی کا مرکز بنایا۔ نازی ازم کا Lebensraum کا نظریہ مشرقی یورپ میں جرمن توسیع کا جواز پیش کرتا تھا، جہاں مقامی سلاوی اور دیگر اقوام کو جبری طور پر ہٹایا گیا یا قتل کیا گیا۔ اسی طرح، صہیونیت نے فلسطین میں یہودی بستیوں کے قیام کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں مقامی فلسطینی آبادی کی بڑے پیمانے پر بیدخلی ہوئی۔ 1948 کے نقبہ کے دوران، جیسا کہ اسرائیلی مورخ ایلان پاپے نے اپنی کتاب The Ethnic Cleansing of Palestine میں دستاویزی طور پر بیان کیا، تقریباً 750,000 فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کیا گیا، ان کے دیہات تباہ کیے گئے، اور ان کی املاک ضبط کر لی گئیں۔ یہ اقدامات نازی ازم کے نسلی صفائی کے پروگراموں سے مماثلت رکھتے ہیں، جیسے کہ یہودیوں کی جرمنی اور مقبوضہ علاقوں سے جبری منتقلی۔ صہیونیت نے فلسطین کو "بغیر لوگوں کی زمین” قرار دیا، جو ایک استعماری بیانیہ تھا جو مقامی آبادی کی موجودگی کو نظرانداز کرتا تھا، بالکل اسی طرح جیسے نازی پروپیگنڈا نے مشرقی یورپ کے علاقوں کو "جرمنائزیشن” کے لیے موزوں قرار دیا۔ دونوں تحریکوں نے اپنی زمین پر قبضے کی پالیسیوں کو تاریخی یا مذہبی حقوق سے جواز فراہم کیا، جو ان کے استعماری کردار کو واضح کرتا ہے۔
نسل کشی اور نسلی صفائی کے حوالے سے دونوں تحریکوں کے درمیان گہری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ نازی ازم نے ہولوکاسٹ کے ذریعے ایک منظم نسل کشی کی، جس میں چھ ملین یہودیوں سمیت لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اگرچہ صہیونیت کی پالیسیاں ہولوکاسٹ کی شدت تک نہیں پہنچیں، لیکن فلسطینی مورخ رشید خالدی نے اپنی کتاب The Hundred Years’ War on Palestine میں استدلال کیا کہ نقبہ اور اس کے بعد کے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات نسلی صفائی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی 1948 کی نسل کشی کی تعریف کے مطابق، کسی گروہ کو دانستہ طور پر اس کی شناخت سے محروم کرنے یا اسے تباہ کرنے کے اقدامات نسل کشی کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، ان کی املاک کی تباہی، اور ان کی قومی شناخت کو دبانے کی کوششیں اس تعریف سے ملتی جلتی ہیں۔ غرب اردن اور غزہ میں جاری یہودی آباد کاری، فلسطینی دیہات پر فوجی حملے، اور انفراسٹرکچر کی تباہی نازی ازم کے مقبوضہ علاقوں میں آبادیوں پر کنٹرول کے طریقوں سے مشابہت رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر، اسرائیلی فوج کے فلسطینی دیہات پر بلڈوزنگ کے اقدامات کو نازیوں کے یہودی گھیٹوز کی تباہی سے موازنہ کیا جا سکتا ہے، جو دونوں تحریکوں کے جابرانہ کردار کو عیاں کرتا ہے۔
پروپیگنڈا دونوں تحریکوں کا ایک اہم ہتھیار رہا ہے۔ نازی ازم نے The Protocols of the Elders of Zion جیسے جعلی دستاویزات کا سہارا لیا تاکہ یہودیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دی جائے اور انہیں ایک عالمی سازش کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ اسی طرح، صہیونیت نے فلسطینیوں کو غیر انسانی بنانے کے لیے بیانیہ سازی کا استعمال کیا، جیسے کہ فلسطین کو "خالی زمین” یا فلسطینیوں کو "غیر موجود قوم” قرار دینا، جو گولڈا مائر جیسے صہیونی رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ بیانیہ مقامی آبادی کی شناخت کو مٹانے اور ان کے حقوق کو نظرانداز کرنے کا ایک ذریعہ تھا، جو نازی ازم کے پروپیگنڈا کے طریقوں سے ملتا جلتا ہے۔ دونوں تحریکیں اپنے مخالفین کو کمتر یا غیر انسانی ظاہر کرکے اپنے اقدامات کو جائز قرار دیتی رہی ہیں، جو نسل پرستانہ نظریات کی ایک واضح علامت ہے۔
عالمی سطح پر، صہیونیت اور نازی ازم دونوں کو نسل پرستی کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی 1975 کی قرارداد 3379 نے صہیونیت کو نسل پرستی کی ایک شکل قرار دیا، جو نازی ازم کے نسل پرستانہ نظریات سے موازنہ کی ایک عالمی کوشش تھی۔ اگرچہ یہ قرارداد بعد میں منسوخ ہوئی، لیکن اس نے صہیونیت کے استعماری اور نسل پرستانہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اسی طرح، نازی ازم کی نسل پرستانہ پالیسیوں کو ہولوکاسٹ کے بعد عالمی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں تحریکوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے مقاصد کے لیے تشدد، جبری منتقلی، اور امتیازی پالیسیوں کو استعمال کیا۔ صہیونیت کے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات، جیسے کہ ان کی زمینوں پر قبضہ اور ان کے بنیادی حقوق سے محرومی، نازی ازم کے یہودیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف اقدامات سے نظریاتی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ صہیونیت کا پس منظر یورپ میں سام دشمنی کے ردعمل میں تھا، جبکہ نازی ازم خود ایک سام دشمن تحریک تھی۔ لیکن یہ تاریخی سیاق صہیونیت کے بعض اقدامات کو جائز قرار دینے سے قاصر ہے۔
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، ان کی قومی شناخت کو دبانے کی کوششیں، اور ان کے خلاف جاری فوجی جارحیت نازی ازم کے جابرانہ اور نسل پرستانہ کردار کا پرتو دکھائی دیتی ہے۔ صہیونیت کے ابتدائی رہنماؤں نے فلسطینیوں کو ایک "مسئلہ” سمجھا جسے "حل” کرنے کی ضرورت تھی، جیسا کہ ہرزل کی ڈائری میں غیر واضح طور پر مقامی آبادی کی منتقلی کا ذکر ملتا ہے۔ یہ سوچ نازی ازم کے "یہودی مسئلے” کے "حتمی حل” سے ملتی جلتی ہے، جو دونوں تحریکوں کے درمیان ایک گہری نظریاتی مماثلت کو عیاں کرتی ہے۔
اس تجزیاتی جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صہیونیت اور نازی ازم کے درمیان صرف سطحی مماثلتیں نہیں، بلکہ گہرے نظریاتی اور عملی رابطے موجود ہیں۔ دونوں تحریکیں نسلی برتری کے نظریات پر مبنی ہیں، زمین پر قبضے کے لیے استعماری پالیسیوں کو اپناتی ہیں، اور اپنے مخالفین کو غیر انسانی بنانے کے لیے پروپیگنڈے کا سہارا لیتی ہیں۔ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی پالیسیوں کو نسلی صفائی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو نازی ازم کے نسل کشی کے اقدامات کا ایک کم شدت والا لیکن ہم آہنگ مظہر ہے۔ یہ تجزیہ ثابت کرتا ہے کہ صہیونیت، اپنے بعض نظریاتی اور عملی پہلوؤں میں، نازی ازم کے نسل پرستانہ اور جابرانہ کردار کا پرتو ہے۔ یہ موازنہ نہ صرف تاریخی حقائق کو واضح کرتا ہے، بلکہ موجودہ سیاسی مباحث میں ان نظریات کی تشریحات پر بھی روشنی ڈالتا ہے، جو عالمی سیاست اور انسانی حقوق کے تناظر میں ایک اہم تنقیدی بحث کا موضوع ہے۔
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...