Skip to content
اڈیشہ کی ڈبل انجن سرکار نے اپنی ہی بیٹی کو کچل دیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اڈیشہ کے بالاسور میں کالج کی طالبہ نے خود سوزی کرلی تو بے ساختہ کرناٹک کی مسکان خان یاد آگئی۔ سنگھ پریوار کے اوباش غنڈوں نے مسکان خان کے نقاب اوڑھنے پر اعتراض کیاتو تو اس بہادر بچی نے ’اللہ اکبر ‘ کے نعرے سے اپنا ہتھیار بنایا اور کہا کہ اس سے قوت ملتی ہے۔ اڈیشہ کی مظلوم بیٹی نے خود کو نذرِ آتش کرکے جان گنوا دی مگر جاتے جاتے سماج کو ایسا آئینہ دکھا دیا کہ اس میں اپنا چہرا دیکھ کر سبھی شرمسار ہو گئے اور آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔ یہ سانحہ اچانک رونما نہیں ہوا بلکہ فقیر موہن کالج میں زیر تعلیم انٹیگریٹڈ بی ایڈ کی اس طالبہ نے تقریباً ۶؍ ماہ قبل شعبۂ تعلیم کے سربراہ سمیر کمار ساہو پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا ۔ اس شکایت پر کالج انتظامیہ نےجو تادیبی کمیٹی بنائی اس میں ملزم صدر شعبہ تو موجود تھا مگر مدعی کے حامی طالبعلم ندارد تھے ۔ اس سے کالج انتظامیہ کے جھکاو ارادوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ؟ وہ لوگ مظلوم کو انصاف دلانے کے بجائے ظالم کو بچانا چاہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے مایوس طالبہ نے بالآخر اپنے جسم پر پٹرول چھڑک کر خود سوزی کر لی۔
مذکورہ طالبہ کی داستان الم خون کے آنسو رلانے والی ہے۔ پہلے تو اسے اپنی، کالج کی اور استاد کی بدنامی کا حوالہ دے کر پولیس میں شکایت کرنے سے روکا گیا لیکن 30 جون کوجب کالج کے پرنسپل دلیپ گھوش نے اسے اپنے کمرے میں بلا کر سارے الزامات کو مسترد کردیا اس کو تحریری معافی نہ مانگنے کی صورت میں کارروائی کی دھمکی دی تو اس کے بعد طالبہ نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور چہار جانب انصاف کی گہار لگانے لگی ۔ اس ابلہ ناری نے مقامی رکن اسمبلی ، رکن پارلیمان، وزیر تعلیم ، علاقہ کےمرکزی وزیر اور وزیر اعلیٰ تک سے انصاف کی بھیک مانگی مگر کسی نے توجہ نہیں کی ۔ اتفاق سے یہ سارے بی جے پی سے تعلق رکھنے والوں نے خود اپنی طلبا تنظیم اے بی وی پی کی کارکن سے منہ موڑ لیا اور اس کی داد رسی نہیں کی۔ ودیار تھی پریشد کے طلبا نے اس کا ساتھ دیا مگر انہیں بھی نظر انداز کردیا گیا اس طرح 12 دن گزر گئے ۔ اس کے بعدہی سیلف ڈیفنس کی تربیت سے آراستہ ایک نہایت ہونہار طالبہ کو پرنسپل کے کمرے سے باہر نکل کر کالج احاطے میں سب کے سامنے خود سوزی کرنا پڑا۔ اس کوشش میں وہ 95 فیصد جھلس گئی اور ایمس بھونیشور میں دم توڑ دیا ۔
کالج کے پرنسپل دلیپ گھوش کو ریاست کے ہائیر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نےخود سوزی کے بعد معطل کیا۔ اس نے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پرنسپل نےطالبہ کے ذریعہ پروفیسر پرجنسی ہراسانی کی شکایت کےمعاملے کو صحیح طریقے سے سنبھالنے کی ذمہ داری نہیں نبھائی اور مناسب کارروائی کرنے میں ناکام رہے اس لیے یہ تادیب کرنی پڑی ۔یہی کام اگر ایک دن قبل کیا گیا ہوتا تو وہ 20 سالہ طالبہ یہ انتہائی قدم اٹھانے پر نہیں مجبور ہوتی۔ اس سانحہ کو راہل گاندھی نے’نظام کے ذریعے کیا گیا منظم قتل‘ قرار دیا تو بی جے پی والوں نے ان پر ’موت کی سیاست‘ کا الزام دھر دیا۔ سوال یہ ہے کہ ریاست میں پہلی بار بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے۔ بالاسور کا رکن اسمبلی اور رکن پارلیمان زعفرانی ہے۔اس کے باوجود وزیر تعلیم اور وزیر اعلیٰ خود اپنی تنظیم کے طلباء کی شکایت پرٓنکھیں موند لیتا ہے اور انتظامیہ خود سوزی کے ہوجانے تک کمبھ کرن کی نیند سوتا رہتا ہے تو اسے کیا کہیں گے ؟بنارس ہندو یونیورسٹی میں تو اے بی وی پی کے غنڈوں نے عام طالبہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی اب وہ خود اپنی کارکن کو پروفیسر کی جنسی ہراسانی سے نہیں بچا سکے تو دیگر خواتین کو کیسے انصاف دلائیں گے ؟
اڈیشہ کےایک اندوہناک سانحہ پر اوچھی سیاست کا الزام لگانے والے مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کو بتانا چاہیے کہ مغربی بنگال کے اندر ایک ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل پر بی جے پی نے جو کہرام مچایا تھا وہ کیا تھا؟ کولکاتہ میں ہنگامہ مچانے والی اے بی وی پی نے اڈیشہ میں طالبہ پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کیا؟ اس طویل جنسی اور ذہنی ہراسانی کے معاملے میں ملزم کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے جب طالبہ کو ہی دھمکیاں دی گئیں تو وہ کیوں خاموش رہے۔ اس دلخراش موت پر کانگریس کی نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے جب دہلی میں واقع ’اوڈیشہ بھون‘ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا مگر بجرنگ دل سے لے کر درگا واہنی تک سارے بھگوا دھاری کہاں غائب ہوگئے؟ کیا ان کو 20 سالہ طالبہ پر اس لیے رحم نہیں آیا کیونکہ اس پر ظلم کرنے والے ہندو تھے اور اس کا دفاع کرنے میں خود بی جے پی حکومت ناکام ہوگئی تھی؟ ایسےمیں این ایس یو آئی دہلی کے صدر آشش لمبا کا یہ بیان درست لگتا ہے کہ ’’یہ خودکشی نہیں ، بلکہ بی جے پی اور اے بی وی پی کے گٹھ جوڑ کے ذریعے کیا گیا قتل ہے۔ خواتین کو تحفظ دینے کے بجائے مجرموں کو بچانےوالا نظام بے نقاب ہو چکا ہے۔ وہ انصاف ملنے تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔‘‘
اس سانحہ پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئےراہل گاندھی نے’ایکس‘ پر لکھا،’’اس بہادر طالبہ نے جنسی ہراسانی کے خلاف آواز اٹھائی لیکن انصاف دینے کے بجائے اسے بار بار دھمکایااور ذلیل کیا گیا۔ جنہیں اس کی حفاظت کرنی تھی، وہی اسے توڑتے رہے۔ ہر بار کی طرح بی جے پی کا نظام ملزمان کو بچاتا رہا اور ایک معصوم بیٹی کو خود سوزی پر مجبور کر دیا۔ یہ خودکشی نہیں، بلکہ نظام کے ذریعے کیا گیا قتل ہے۔‘‘انہوں نے وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’مودی جی، چاہے اڈیشہ ہو یا منی پور، ملک کی بیٹیاں جل رہی ہیں، ٹوٹ رہی ہیں، دم توڑ رہی ہیں۔ اور آپ؟ خاموش بیٹھے ہیں۔ ملک کو آپ کی خاموشی نہیں، جواب چاہیے۔ بیٹیوں کو تحفظ اور انصاف چاہیے۔‘‘حزب اختلاف نے اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرکےخواتین کی حفاظت اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کیے ۔کانگریس نے اس سانحہ کی عدالتی جانچ اور وزیر اعلیٰ موہن مانجھی سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
فقیر موہن کالج کی ایک طالبہ کے اس دل دہلا دینے والی خودکشی پر پرینکا گاندھی نے’ایکس‘ پر لکھا، ’’اوڈیشہ میں ایک اور بیٹی انصاف کے لیے لڑتے ہوئے ہار گئی۔ اس نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کی لیکن انصاف کے بجائے رسوائی اور اذیت ملی۔ اس دوہری زیادتی نے اسے خودکشی پر مجبور کر دیا۔‘‘انہوں نے سوال کیا، ’’کیا دہلی سے یوپی اور منی پور سے اوڈیشہ تک بی جے پی کا ایک ہی طریقہ ہے؟ یعنی ملزم کے ساتھ کھڑے ہو کر متاثرہ لڑکی کو ہی ہدف بنانا اور انصاف کے عمل میں رخنہ ڈالنا؟جناب وزیراعظم ، کیا اب اس ملک کی آدھی آبادی کو انصاف کی کوئی امید ہی نہیں رکھنی چاہیے؟‘‘سچ تو یہ کہ مودی دور میں متاثرین کے لیے انصاف کا راستہ دشوار ہو چکا ہے، کیونکہ نظام خود ظالموں کو تحفظ دینے میں جٹا ہوا ہے۔عوام کا اعتماد پولیس سے اٹھ رہا ہے اس کی ایک مثال اڈیشہ ہی کے گجپتی ضلع میں سامنے آئی جہاں پچھلے دنوں ایک عصمت دری کے ملزم کو ۸عورتوں کے ساتھ ۲مردوں نے کاٹ کر جلا دیا کیونکہ وہ ۶؍ سال سے خواتین کاجنسی استحصال کررہا تھا۔ وہ لوگ پولیس یا سرکار کے پاس نہیں گئے کیونکہ انہیں انصاف کی امید نہیں تھی۔ اب پولیس نےان دس لوگوں کو گرفتارکر لیاہے۔ وہ اس مجرم کو پکڑلیتی تو یہ نوبت نہ آتی۔
اڈیشہ کے اس قبائلی علاقہ میں ہندووں کے تحفظ کی خاطر1999میں آسٹریلیوی مشنری گراہم اسٹین کو ان کے بیٹوں، دس سالہ فلپ اور آٹھ سالہ ٹموتھی، کو زندہ جلا دیاگیا تھا۔اس کے بعد ہندووں کو تحفظ تو نہیں ملا بلکہ ریاست سے چالیس ہزار خواتین کے غائب ہونے کی خبر آگئی۔ معروف تجزیہ کار، ڈاکٹر اشوک سوائن کے مطابق وہاں آج بھی عیسائیوں پر حملے ہورہے ہیں۔ ان کے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کومارا پیٹا جاتا ہے مگر بی جے پی کی سرپرستی میں کام کرنے والی پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے ۔ نیوز ریل ایشیا کی تحقیقاتی ٹیموں نے جب اڈیشہ کے نابرانگپور، گجپتی اور بالاسورکا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں عیسائی برادری تدفین کے بنیادی حق سے محروم ہے۔ ضلع نابرانگپور میں 2022سے 2025تک عیسائیوں پر حملوں کے 8سے زائد واقعات درج کیے گئے۔ ضلع گجپتی میں 22 مارچ 2025 کو جوبا کیتھولک چرچ پر پولیس نے دھاوا بولا، خواتین اور بچیوں پر حملہ کرکے دو پادریوں کو پاکستانی کہہ کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ضلع گجپتی میں پولیس نے پادری کو تشدد سے زخمی کرنے کے بعدخواتین کی چادریں پھاڑ دیں اور مذہبی علامات کی بے حرمتی کی ۔ عیسائیوں پر حملہ کرنے والا یہ پولیس انتظامیہ اسی ضلع میں عصمت دری کرنے والے کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا اور نہ ایم جی ایم کالج کی طالبہ کو انصاف دلانے کی کوشش کرتاہے۔ سچ تو یہ ہے صدیوں سے جاری ان مظالم کو جاری و ساری رکھنے کے لیے تبدیلیٔ مذہب کی مخالفت کی جاتی ہے تاکہ ہندو سماج اور خواتین کا استحصالی نظام قائم و دائم رہ سکے۔یہی ہندو راشٹر کا خواب ہے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...