Skip to content
جمعہ نامہ:
کانوڈ یاترا کا فساد،ا سباب اوراثرات
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے :’’اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا‘‘ اپنی تخلیق کا کریڈٹ کوئی انسان خود نہیں لے سکتا کیونکہ اس کی ابتدا کےوقت وہ موجود ہی نہیں تھا۔ والدین کو ذریعہ بنایا گیا لیکن ان کے لیے بھی یہ یقینی عمل نہیں ہے ۔ کئی جوڑے چاہنے کے باوجود لاولد رہتےہیں اور کچھ نہ چاہتے ہوئے بھی بچے پیدا کر دیتے ہیں ۔ دنیا میں آنے والا محتاج محض بچہ اپنے رزق کا انتظام خود نہیں کرتا بلکہ ماں کا دودھ غذا بن جاتا ہے ۔ آگے چل کر کمائی کرنے والا انسان اسے اپنی محنت کا پھل سمجھتاہے مگر کئی دفع نفع کا سودہ خسارے میں بدل جاتا ہے اور پھر ایسے راستوں سے رزق مل جاتا ہے جو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ ارشادِ قرآنی ہے :’’ پھر(اسی نے ) تمہیں رزق دیا‘‘۔رزق صرف مادی وسائل تک محدود نہیں، بلکہ اس میں زندگی کی تمام ضروریات اور خوشیاں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ مال، علم، طاقت، وقت، اناج اور دیگر تمام فائدہ بخش نعمتوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔
زندگی کے بعد موت کی بابت فرمانِ ربانی ہے:’’ پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے‘‘۔ نمرود صفت لوگ خود کو موت و حیات کا مالک سمجھتے ہیں مگر وہ تو ایک زندہ انسان کو زندگی دینے کا دعویٰ کرتے ہیں اور یمن کی سزا یافتہ ہندوستانی نرس گواہ ہے کہ لوگوں کی پھانسی عین وقت پر بھی ٹل جاتی ہے۔۔ ملک شام کی جیل سے نکلنے والے ایک قیدی نے کہا تھا کہ اگر اس دن انقلاب نہ آتا تو وہ پھانسی چڑھ جاتا مگر الٹا سزا دینے والا ملک سے بھاگ کھڑا ہوا اور چھپ چھپ کے جیل سی جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ کئی لوگ کوما کی حالت میں برسوں زندہ رہتے ہیں اور اچھا بھلا صحتمندآدمی کھڑے کھڑے گر کردارِ فانی سے کوچ کرجاتا ہے ۔ یہ سب بلاقصدآٹومیٹک ہوجاتا ہے لیکن کہانی ختم نہیں ہوتی بلکہ آگے ارشادِ خداوندی ہے:’’ پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا‘‘۔ یعنی قیامت برپا ہوگی اور سارے لوگوں کو حساب و کتا ب اور جزاو سزا کی خاطر میدان حشر میں جمع کیا جائے گا ۔ اس طرح یہ دائرہ مکمل ہوگا تو زندگی بامقصد ہوجائے گی ورنہ تو سب کچھ بے معنیٰ اور مہمل ہے۔
قرآن حکیم میں ان حقائق کو بیان کرنے کے بعد عالمِ انسانیت سے سوال کیا گیا ہے کہ :’’ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو؟ ‘‘۔ انسان اگر معروضی انداز میں غور کرے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا ان میں سے ایک بھی کام خدائے واحد کے سوا کسی کے بس میں نہیں ہے ۔ فرمانِ ربانی ہے:’’پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں؟‘‘ شرک ظلم عظیم ہے اور اس کی بنیاد پر نظام حیات کو استوار کرنے کی سعی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ :’’ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سےخشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے‘‘۔ اس کی تازہ مثال کانوڈ یاتراکے نام پر برپا طوفانَ بدتمیزی ہے۔ اس کے ذریعہ اول تو بیروزگار نوجوانوں میں شرک کی بنیاد پر مذہبی جذبات بھڑکاکر موج مستی کا موقع فراہم کیا گیاپھر اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی خاطر مسلمانوں کو گھسیٹ کر گوشت خوری کی آڑ میں شناخت ظاہر کرنے پر ہنگامہ کیا گیا ۔
کانوڈیاترا میں نفرت کا بیج بونے والے نہیں جانتے تھے کہ گانجے کے نشے میں دھُت یہ چرسی ٹولہ سادھنا دیوی اور راجکمار کے ہوٹل بھی پیاز کے بہانے توڑ پھوڑکرےگا اور ان کی نقدی تک لوٹنے سے باز نہیں آئے گا ۔ سرکار نے پہلے تو کانوڈیوں اور ان کے ہمدردوں کی ناراضی سے بچنے کے لیے الٹا ہوٹل مالکین پر مقدمہ درج کرلیا مگر پھر پانی سر سے اونچا ہونے لگا کیونکہ کانوڈیوں نے سڑکوں گاڑیوں کی توڑ پھوڑ شروع کردی ۔ نجی گاڑیوں کے بعد اسکول بس اور سرکاری گاڑیوں کا نمبر آیا بالآخر پولیس کی گاڑی بھی ان کے عتاب سے نہیں بچ سکی ۔ ان بدمعاشوں نے عوام کے بعد پولیس والوں پر ہاتھ چھوڑ دیا تو مجبوراً انتظامیہ کو لاٹھی چارج کرنا پڑا یعنی اب مسلمان تو ایک طرف کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں مگر کانوڈیوں پر پھول برسانے والی پولیس ان پر لاٹھیاں برسا رہی ہے۔قرآن عظیم میں اس فسادِ عظیم کی وجہ یہ بتائی گئی ہے : ’’تاکہ اُنہیں ان کے بعض اعمال کا مزا چکھایا جائے ، شاید کہ وہ باز آجائیں‘‘۔
موجودہ سرکار کی بھلائی اس میں ہے کہ وہ روش بدل کر کانوڈیوں میں شامل غنڈہ عناصر کو قابو میں کرے ورنہ متھرا کی ایک ویڈیو میں ہندو مشتعل نوجوانوں کو کانوڈیوں پر حملہ کرتے دیکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ پاک گنگا جل کو زمین پر رکھ کر اس کی توہین کرنےوالےکانوڈیوں کو مار ررہے ہیں۔ ان کے مطابق اگریہ پانی کے برتن اٹھا کر نہیں چل سکتے تو یاترا پر آتے ہی کیوں ہیں؟ اور اپنی سکت سے زیادہ وزن کیوں اٹھاتےہیں؟ ان حملہ آوروں کو کاونڈیو ں کے سواریاں استعمال کرنے پر بھی اعتراض ہے اوروہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر کسی گاڑی والے نے انہیں سوار کرلیا تو اس سواری کو بھی جلا دیں گے ۔ یہ سب تو گنگا جل کے احترام ہورہا ہے مگربریلی کے استاد رجنیش گنگوار پر کانوڈ کی توہین کرنے والی نظم سنانے کی پاداش میں مقدمہ درج ہوگیا ہے۔
رجنیش نے اپنے طلباء کو اسکول چھوڑ کاونڈیاترا پر جانے سے روکنے کی ایک نظم سنائی تو ان پر مذہبی جذبات کی توہین کا مقدمہ درج کردیا گیا۔ وہ آر ایس ایس کی تنظیم اے بی وی پی کا مقامی صدر ہےمگر اپنے ہی پریوار کی یوگی سرکار کو فسطائی ذہنیت کا حامل قرار دےکر سوال کررہا ہے حکومت ریاستی وزیر او پی راج بھر پر مقدمہ کیوں درج نہیں کرتی کیونکہ انہوں نے بھی عوام میں کہا کہ کاونڈ اٹھانے سے کوئی ڈاکٹر یا آئی اے ایس نہیں بن سکتا۔ اس طرح کانوڈ فساد نے ہندوتوا نواز حکومت کو چہار جانب سے گھیر لیا ہے۔میڈیا میں مسلمانوں کی جانچ کرنے والے سوامی ایشویر پر تنقید اور رجنیش کی تعریف ہورہی ہے۔ اب سرکارکو انتخاب کرنا ہے کہ یا تو وہ اس آگ کو بجھائے یا اس میں جل کر خاک ہوجائے ۔ قرآنی درسِ عبرت تو یہ ہے کہ :’’ اِن سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں پہلے کی قوموں کا کیا انجام ہو چکا ہے‘‘۔
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...