Skip to content
صحابہ ؓ اور اطاعت کا بے نظیر مظاہرہ !
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہؐ کو سب سے افضل واشرف اور کامل واکمل بنا کر مبعوث فرمایا ہے ، اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد تمام مخلوقات میں رسول اللہ ؐ ہی سب سے بزرگ وبرتر ہستی ہیں ،اہل سنت والجماعت کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جس طرح تمام انبیوں اور رسولوں میں رسول اللہ ؐ کو امتیاز وانفرادیت حاصل ہے اسی طرح صحابۂ کرام ؓ کو بھی پوری امت میں رفعت و فوقیت حاصل ہے ،جس طرح رسول اللہ ؐ کی سیرت اور پاکیزہ حیات طیبہ کا ایک ایک جزو ایمان کو تازہ اور دلوں کو منور کرنے والا ہے اسی طرح صحابہؓ کی مبارک زندگیوں کے تذکرے ایمان کو جلا بخشنے کا باعث ہیں ، درحقیقت صحابہؓ کا تقویٰ ، طہارت ،امانت،دیانت،شجاعت،استقامت،صداقت،عدالت،اخلاص،احسان ،وفاداری ، جاں نثاری اور قربانیوں کے بے مثال وبے نظیر واقعات پڑھ کر اور سن کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور وہ شخص جو تاریخ سے معمولی بھی واقفیت رکھتا ہو اور جس کے دل میں تعصبیت کا بیج نہ ہو وہ زبان حال وقال سے یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ ان مبارک وبرگزیدہ ہستیوں کے بعد اب رہتی دنیا تک ان جیسی ہستیوں کا تصور بھی محال ہے اور کیوں نہ ہو یہ وہ ہستیاں ہیں جنہیں خود خالق کائنات نے اپنے آخری نبی ورسولؐ کی صحبت ومعیت کے لئے منتخب فرمایا ہے اور جنہیں انبیاء ورسول کے بعد سب سے افضل مقام حاصل ہے ۔
صحابۂ کرامؓ نے حکم الٰہی کو بجا لاکر اور اطاعت رسولؐ کے ذریعہ ایسی بے نظیر مثال پیش کی ہے کہ جسے تاریخ میں سنہری لفظوں سے لکھا گیا ہے ، عملی اعتبار سے صحابہؓ کی اطاعت کا نظارہ کرنے کے لئے ان مبارک ہستیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں ، صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود کا حضرات صحابہ ؓ کی اپنے رسول اور محبوب ؐ سے عقیدت ،محبت ،اطاعت اور جانثاری وفداکاری دیکھ کر ہوش اُڑ گئے ، واپس آکر قریش مکہ سے اس کا کچھ اس طرح ذکر کیا کہ ’’اے قوم !واللہ میں نے قیصر وکسریٰ اور نجاشی اور بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھے ہیں مگر خدا کی قسم عقیدت ومحبت ،تعظیم وجلال کا عجیب وغریب منظر کہیں نہیں دیکھا،جب وہ حکم دیتے ہیں تو ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ سب سے پہلے میں اس حکم کو بجا لاؤں،جب کبھی آپ کے دہن مبارک سے تھوک یا بلغم نکلتا ہے تو وہ زمین پر گرنے نہیں پاتا ہاتھوں ہاتھ اسے لے لیتے ہیں اور اپنے چہروں سے مل لیتے ہیں،جب آپ ؐ وضو فرماتے ہیں تو آپ ؐ کے غُسالہ وضو پر بھی لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے ،قریب ہے کہ آپس میں لڑپڑیں ،آپ ؐ کے جسم سے کوئی بال گرنے نہیں پاتا کہ فوراً اس کو لے لیتے ہیں ،جب آپ ؐ کلام فرماتے ہیں تو ایک سناٹا ہوجاتا ہے ،گویا ہر شخص سراپا گوش بنا ہوا ہے،کسی کی مجال نہیں کہ نظر اُٹھا کر دیکھ سکے‘‘،خادم رسول ؐ حضرت سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ؐ کے ساتھ کھانے میں شریک تھا ،دستر خوان پر گوشت اور کدو کا شور با تھا ، تو میں نے دیکھا کہ آپ ؐ کھانے کے دوران سالن کے کٹورے میں سے کدو تلاش کرکے تناول فرمارہے ہیں ،بس کیا تھا کہ اس روز سے مجھے بھی کدو کے ساتھ محبت ہوگئی ، کھانے میں کسی چیز کا مر غوب ہونا ایک طبعی اور فطری چیز ہے ،کسی کی پسند کچھ اور ہے تو کسی کو کچھ اور چیز مرغوب ہوتی ہے ،لیکن صحابی ٔ رسول حضرت سیدنا انس ؓؓ کی اپنے محبوبؐ سے محبت وعقیدت ، تعلق ووابستگی اور اطاعت کس قدر گہری تھی کہ جب دیکھ لیا کہ آپ ؐ کو یہ چیز مرغوب ہے تو ان کا بھی ذوق بدل گیا اور طبیعت اس چیز کوپسند کرنے لگ گئی،ایک مجلس میں رسول اللہ ؐ تشریف فرما تھے ،صحابہ ؓآپ ؐکے ارد گرد پروانوں کی طرح جمع تھے،آپ ؐ کچھ بے تکلف بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ؐ کا گریبان کھلا ہواتھا ،اتنے میں ایک صحابی ؓتشریف لائے تو دیکھا کہ آپ ؐکا گریبان کھلا ہوا ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ اس تصویر کو میں نے بھی سجا لی اور زندگی بھر اپنا گریبان کھلا رکھا کبھی بھی بٹن نہیں لگایا ،حالانکہ آپ ؐ کی عادت شریفہ گریبان کھلا رکھنے کی نہ تھی ،یہ اتفاقی بات تھی کہ آپ ؐ کچھ بے تکلف ہوکر بیٹھے تھے ،مگر جونہی ان صحابی ؓ کی نظر اس پر پڑی یہ خاص انداز ان کے دل میں گھر کرگیا اور زندگی بھر اس کی نقل واتباع کرتے رہے ،حضرت سیدنا ابومحذورہ ؓ ابھی بچے تھے ،مسلمان نہیں ہوئے تھے،ایک دفعہ رسول اللہ ؐ باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ کفار ومشرکین کے چند بچے کھڑے ہوکر مسلمانوں کی اذان کی نقل کر رہے ہیں ،آ پ ؐ نے ان بچوں میں سے حضرت ابومحذورہ ؓ کو طلب کیا اور اذاان سنانے کی خواہش کی ،انہوں نے اذان شروع کی اور اللہ اکبر کو بلند آواز سے چار مرتبہ کہا،لیکن جب کلمہ ٔ شہادت کا موقع آیا تو ڈر گئے کہیں اسے اعزہ واقاریب سن لیں تو تنبیہ وپٹائی نہ کر دیں اس لئے شہادتین کو آہستہ کہا، رسول اللہ ؐ نے ان کے سر پر دست شفقت پھیرکر فرمایا اسے بھی بلند آواز سے کہو ،بس پھر کیا تھاکہ ان کی دنیا ہی بدل گئی ،دل میں توحید ورسالت گھر کر گیا ، محبت رسول ؐ پورے جسم میں سرایت کر گیا ،مسلمان ہوگئے ،اس کے بعد سے عمر بھر یہی معمول رہا کہ جب کبھی اذان دیتے تو پہلے شہادتین دبی آواز میں کہتے اس کے بعد بلند آواز سے کہتے تھے ،حضرت سیدنا ابومحذورہ ؓ کی محبت اور ان کا عشق تو دیکھو کہ محبوبؐ کی زبان سے جملہ نکلا پوری زندگی اس پر قائم رہے ،حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ محبوب ؐ کے فرمانے کا مقصد کیا ہے مگر اطاعت کا یہ حال تھا کہ کیا مجال کبھی اس کے خلاف بھی ہوجائے اور انہی کے بارے میں ہے کہ جب رسول اللہ ؐ نے ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرا تب سے زندگی بھر کبھی بھی سر کے بال نہیں منڈوائے ،اس تصورسے کہ اس پر آقا ؐ نے دست مبارک رکھا ہے ،اُن کے عشق کا تو یہ عالم کہ محبوب ؐ کا ہاتھ لگا عمر بھر ان بالوں کی حفاظت کی ۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ؐ نے حضر ت سیدنا عثمان غنی ؓ کو مشرکین مکہ کے پاس اپنا قاصد بنا کر بھیجا،حضرت سیدنا عثمان ؓ نے بات چیت کی تو سبھوں نے اتفاق رائے ہوکر کہا کہ اس سال آپ ؐ مکہ میں داخل نہیں ہوسکتے اگر تم چاہو تو طواف کر سکتے ہو،اس پر حضرت سیدنا عثمان ؓ نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ؐ کے بغیر کبھی طواف نہ کروں گا ،یہ سن کر مشرکین مکہ خاموش ہوگئے گویا ان پر سکتہ طاری ہوگیا کہ اتنی بڑی سعادت سے یہ منہ موڑ رہے ہیں ،مگر حضرت سیدنا عثمان جانتے تھے کہ نبی ؐ کی اطاعت ہی سب سے بڑی سعادت ہے ،ان کی اطاعت کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں اور کوئی عبادت سرے سے عبادت ہی نہیں،حضرت سیدنا خریم اسدیؓ ایک صحابی تھے جونیچی تہبند باندھتے تھے اور لمبے بال رکھتے تھے ،ایک روز آپ ؐ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ خریم اسدی کتنا اچھا آدمی تھا ،اگر وہ لمبے بال نہ رکھتا اور نیچی تہبند نہ باندھتا ،جب انہیں اس کی اطلاع ملی تو فوراً قینچی منگوائی اس سے سر کے بال کترواتے اور تہبند اونچی کر لی، حضرت سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت سیدنا ابوطلحہؓ کے مکان پر شراب کی محفل سجی ہوئی تھی اور شراب کا دور چل رہا تھا ،نشہ کی وجہ سے لوگوں کے سر جھکے ہوئے تھے اتنے میں کسی نے آواز لگائی کہ شراب حرام کی گئی ہے انہوں نے جیسے ہی آواز سنی فورا شراب کے مٹکے توڑنے لگے تو کسی نے ان حضرات سے کہا اولا بات کی تصدیق کرو پھر شراب کے مٹکے توڑو مگر انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ہرگز نہیں پہلے شراب کے مٹکے توڑیں گے پھر تحقیق کریں گے کیونکہ اگر بات غلط ہوئی تو شراب دوسری آجائے گی لیکن اگر بات درست نکلی تو کہیں ہم اللہ اور اس کے رسول ؐ کے نافرمان قرار نہ پائیں ،حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ وہ تھے جن کے نزدیک شراب کی بڑی اہمیت تھی اور یہ اس کے دلدادہ تھے مگر جیسے ہی اس کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو اس طرح سے نفرت کا مظاہرہ کیا کہ گویا اسے وہ جانتے ہی نہیں تھے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ ایک مرتبہ مسجد کی طرف آرہے تھے کہ رسول اللہ ؐ کی آواز ان کے کانوں میں پڑی کہ بیٹھ جاؤ ،آپؓ وہیں بیٹھ گئے اور گھسیٹ گھسیٹ کر مسجد کی طرف آنے لگے ،کسی دیکھنے والے نے آپؓ سے کہا کہ رسول اللہؐ نے تو مسجد میں کھڑے لوگوں کو بیٹھنے کہا تھا ،اس پر حضرت سیدنا ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ اگر وہاں پہنچتے پہنچتے میری جان نکل جائے تو میں اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا کہ رسول ؐ کی جانب سے ایک آواز میرے کانوں میں ٹکرائی اور میں نے اس پر عمل نہیں کیا،حضرت سیدنا کعب بن مالک ؓ کو جنگ تبوک میں استطاعت کے باوجود شمولیت نہ کرنے پر رسول اللہ ؐ نے اللہ تعالیٰ کا حکم سناتے ہوئے لوگوں کو ان سے مقاطعہ کرنے کی تاکید فرمائی تھی جس کی وجہ سے آپؓ شدید ابتلاء میں مبتلا تھے ،اس آزمائش کے دوران جہاں حضرت سیدنا کعبؓ نے سچی اطاعت اور بے نظیر ایمان کی پختگی کا ثبوت دیا وہیں دوسرے صحابہؓ جو آپؓ کے قریبی رشتے دار تھے انہوں نے بھی اطاعت کا بہترین نمونہ پیش کیا کہ کسی ایک نے بھی توبہ کی قبولیت نازل ہونے سے پہلے ان سے بات چیت نہیں کی ۔
رسول اللہؐ کو جس وقت ابوسفیان کی قیادت میں قریشی لشکر کی اطلاع ملی تو رسول اللہؐ نے مجلس مشاورت طلب کی اور اس خطرے سے نمٹنے کے لئے مشورہ طلب کیا تو حضرات مہاجرین ؓ نے جانثاری کا یقین دلایا ،آپ ؐ نے دوبارہ مشورہ طلب کیا تو انصار میں سے حضرت سیدنا سعد بن عبادہؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول ؐ غالبا آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے ،آپؐ نے ارشاد فرمایا ،ہاں ،تو حضرت سعد بن عبادہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر ایمان لائے ہیں ،ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے اور گواہی دی ہے کہ جو کتاب آپ لائے ہیں وہ حق ہے اور ہم نے آپ کی اطاعت اور فرماں برداری کا عہد کیا ہے ،یا رسول اللہ! جس طرف مرضی ہو تشریف لے چلئے ،قسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا ہے اگر آپ ہم کو سمندر میں گرنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور اس میں گود جائیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا۔اسی طرح حضرت سیدنا مقداد بن اسودؓ نے سب کی جانب سے ترجمانی کرتے ہوئے عرض کیا: یارسول اللہؐ! اگر جنگ ہوئی تو ہم حضرت موسی ؑ کی امت کی طرح نہیں کہیں گے جس نے حضرت موسیؑ سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب دونوں لڑو ،ہم تو یہاں بیٹھے گے ،بلکہ ہم دائیں بائیں ،آگے پیچھے آپ کے ساتھ لڑیں گے۔
بلا شبہ حضرات صحابہؓ نے اپنے حبیب اور محبوب ؐ کی اس درجہ اطاعت وفرماں برداری کہ ان کی مثال پیش کرنے سے تاریخ انسانی عاجز اورعقل انسانی حیران ہے،چنانچہ صحابہؓ کے نقش قدم کو صحیح جانا گیا، صحابہؓ کے راستے کو مستند مانا گیا ہے ، صحابہؓ کی محبت واطاعت کو حقیقی محبت واطاعت سے تعبیر کیا گیا اور صحابہؓ کے نقش قدم پر چلنے کو کامیابی قرار دیا گیا ۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...
ماشاءاللہ بہت خوب