Skip to content
”ایمان یمن کا، حکمت یمن کی ہے”
(انصاراللہ: حدیثِ رسولﷺ کی زندہ تفسیر)
====
ازقلم:ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
اسسٹنٹ پروفیسر و صدر شعبہ اردو،آرٹس کامرس کالج،
بیودہ، امراوتی، مہاراشٹر
موبائل: 8275232355
====
کائنات کی تاریخ جب کروٹ لیتی ہے اور اقوام کی تقدیر کا فیصلہ ہونے لگتا ہے، تو وہ اپنے کرداروں کا انتخاب محض جغرافیائی سرحدوں یا مادی وسائل کی بنیاد پر نہیں کرتی، بلکہ ان روحانی خزانوں کی بنیاد پر کرتی ہے جو کسی قوم کی سرشت میں ودیعت کیے گئے ہوں۔ آج جب عالمِ اسلام پر بے حسی اور بے عملی کی تاریک رات چھائی ہوئی ہے، اور استکبارِ عالمی کے فرعون اپنی طاقت کے نشے میں چُور ہیں، تو تاریخ نے ایک بار پھر جزیرہ نمائے عرب کے اُس مقدس گوشے کی طرف نگاہ کی ہے جس کی فضیلت پر خود لسانِ رسالت ﷺ نے مہرِ تصدیق ثبت فرمائی تھی۔ یہ سرزمینِ یمن ہے، جہاں ایمان محض ایک عقیدہ نہیں، بلکہ ایک شعلہ فشاں حقیقت ہے، اور جہاں حکمت صرف کتابوں میں نہیں، بلکہ عمل کے میدان میں اپنا لوہا منواتی ہے۔ یہ سرزمینِ سبا و حِمیَر کے ان غیرت مندوں کی وارث ہے جنہوں نے رومی و فارسی استبداد کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا۔ یہ مالک الاشتر نخعیؓ اور عمار بن یاسرؓ جیسے جلیل القدر اصحابِ رسولﷺ کی دھرتی ہے، جنہوں نے ہمیشہ حق کا علم بلند کیا اور ظلم کے خلاف شمشیر بکف رہے۔ آج اسی تاریخی تسلسل میں، تحریکِ انصار اللہ کی قیادت میں یمن کی مزاحمت، محض ایک سیاسی یا عسکری جدوجہد نہیں، بلکہ یہ چودہ سو سال پرانی اُس نبوی پیشگوئی کی زندہ و جاوید تفسیر ہے کہ ”اَلْإِیْمَانُ یَمَانٍ وَالْحِکْمَۃُ یَمَانِیَۃٌ” (صحیح مسلم، حدیث: 40)۔ یہ وہ معرکہ ہے جہاں ایک نہتی قوم نے اپنے خون سے وفا کی وہ داستان رقم کی ہے جس نے وقت کے نمرودوں اور فرعونوں کے تخت لرزا دیے ہیں۔
اس مزاحمت کی روحانی بنیاد وہ کلماتِ نور ہیں جو سرورِ کونین ﷺ کی زبانِ مبارک سے اہلِ یمن کی شان میں ادا ہوئے۔ یہ محض تعریف نہیں، بلکہ ایک ابدی کردار کا تعین ہے۔ جب یمنی قبائل فوج در فوج اسلام قبول کرنے مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”أَتَاکُمْ أَہْلُ الْیَمَنِ، ہُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَۃً وَأَلْیَنُ قُلُوبًا” (تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں، یہ سب سے نرم دل اور رقیق القلب ہیں: صحیح البخاری، حدیث نمبر 4388؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 52)۔ آج غزہ کے مظلوموں کے لیے تڑپنے والے یہ یمنی دل اُسی نرمی اور رقت کا ثبوت ہیں، جو دیگر عرب پتھر دل حکمرانوں کے سینوں سے ناپید ہو چکی ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر وہ فرمان ہے جو اس خطے کو ایک ابدی تقدس عطا کرتا ہے: ”اَلْإِیْمَانُ یَمَانٍ وَالْحِکْمَۃُ یَمَانِیَۃٌ” یعنی ایمان یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 190)۔ یہ زبانِ نبوی سے نکلی ایک الٰہی سند ہے کہ جب دنیا فتنوں میں گھر جائے گی اور ایمان اجنبی ہو جائے گا، تو اس کا اصل مرکز اور حقیقی مظہر یمن کی سرزمین ہو گی۔
اور حکمت! یہ حکمت محض عسکری ٹیکنالوجی کا نام نہیں۔ یہ وہ ہمہ جہت بصیرت ہے جس نے یمن کو ہر محاذ پر سرخرو کیا۔ یہ سیاسی حکمت ہے جس نے نو سال تک یمن کے پیچیدہ قبائلی نظام کو ایک لڑی میں پرو کر رکھا، جبکہ پوری دنیا انہیں توڑنے پر تُلی ہوئی تھی۔ یہ ابلاغی حکمت ہے جس نے المسیرہ کی سکرینوں اور یحییٰ سریع کی گونجتی آواز کے ذریعے عالمی پروپیگنڈے کا طلسم توڑ دیا اور اپنا بیانیہ دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ اور یہ معاشی حکمت ہے جس نے تاریخ کے بدترین محاصرے میں بھی قوم کو بھوک سے مکمل تباہ ہونے نہیں دیا اور ریاست کا ڈھانچہ قائم رکھا۔ یہ وہی حکمت ہے جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا، جو آج انصار اللہ کے ہر فیصلے سے عیاں ہے۔ انہوں نے شعوری طور پر اپنا نام ”انصار اللہ” رکھ کر قرآن کے اس حکم پر لبیک کہا ہے: ”یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُونُوا أَنصَارَ اللَّہِ” (اے ایمان والو! اللہ کے مددگار بن جاؤ:سورۃ الصف، آیت 14)۔ وہ محض ایک سیاسی و عسکری گروہ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے دین اور اس کے مظلوم بندوں کے وہ مددگار ہیں جن کا وعدہ کتابِ الٰہی میں کیا گیا ہے۔
اس ایمانی غیرت کا امتحان اس وقت شروع ہوا جب مارچ 2015ء میں امریکہ اور برطانیہ کی پشت پناہی سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن پر آگ اور بارود کا وہ طوفان برپا کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے ایک آزاد ملک پر چڑھائی کی، لہٰذا یمن کا دفاع محض ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں، بلکہ عالمی قوانین کے تحت ان کا مسلمہ حق (Right to Self-Defense) تھا۔ اس جارحیت میں اقوامِ متحدہ کے مطابق، 377,000 سے زائد یمنی شہید ہوئے، لیکن دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ لیکن اسی خاکستر سے ایک ایسا ققنس اٹھا جس کی پرواز نے آسمان کی بلندیوں کو چھو لیا۔ ان کے گمنام انجینئروں نے مقامی وسائل سے ایسے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز تیار کیے جنہوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ لیکن دنیا اس وقت حقیقتاً لرزہ بر اندام ہوئی جب انصار اللہ نے اپنی عسکری صلاحیت کا رخ امت کے سب سے بڑے دشمن، اسرائیل کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے مقبوضہ فلسطین کے ساحلی شہر ”ایلات” پر پے در پیکامیاب میزائل حملے کیے۔ یہ میزائل جب سعودی اور اردنی فضائی حدود کو چیرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھتے تھے، تو یہ محض ہتھیار نہیں ہوتے تھے، بلکہ یہ ایک مظلوم قوم کا وہ پیغام ہوتے تھے جو چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اگر تم غزہ کے بچوں کو مارو گے تو تمہارے شہر بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
استقامت اور ایمانی حلاوت کی زندہ مثال یہ ہے کہ جہاں طویل جنگ کے باعث بڑے بڑے مزاحمتی محاذ (ایران، حزب اللہ، حماس اور خطے کی دیگر مزاحمتی قوتیں)شدید ترین دباؤ کا شکار ہیں، وہیں یمن کے انصار اللہ نہ صرف پوری جرأت اور زندہ دلی سے کھڑے ہیں، بلکہ ان کی مزاحمت کی آگ روز بروز مزید بھڑک رہی ہے۔ وہ ہر دن اسرائیل کے وجود پر پے در پے حملوں سے وہ گہرے زخم لگا رہے ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ سچا ایمان نہ تھکتا ہے، نہ جھکتا ہے اور نہ ہی بکتا ہے۔
اگر ”حکمتِ یمانیہ” کا ظہور ان کی میزائل ٹیکنالوجی تھی، تو ”ایمانِ یمانی” کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب غزہ کے مظلوموں کی چیخوں پر مسلم دنیا نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی۔ تب یمن کی آواز گونجی، اور یہ صرف لفظوں کی آواز نہیں تھی، یہ عمل اور اقدام کی گرج تھی۔ انصار اللہ نے دو ٹوک اعلان کیا کہ جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا، بحیرہ احمر سے گزرنے والا کوئی بھی اسرائیلی یا اسرائیل کی مدد کرنے والا جہاز محفوظ نہیں رہے گا۔
امریکہ، جو خود کو دنیا کا تھانیدار سمجھتا ہے، اپنے برطانوی حواریوں کے ساتھ میدان میں اترا۔ اس نے یمن پر براہِ راست فضائی حملے شروع کر دیے، اس گمان میں کہ چند بم گرا کر وہ اس غیور قوم کو جھکا دے گا۔ لیکن یہی اس کی سب سے بڑی اور مہنگی بھول تھی۔ ہر امریکی حملے کے بعد انصار اللہ کا عزم مزید فولادی ہو جاتا اور ان کی کارروائیاں مزید شدید اور تباہ کن ہو جاتیں۔ انہوں نے جواب میں امریکہ کے سب سے جدید اور مہنگے ترین ڈرونز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا اور یکے بعد دیگرے کئی MQ-9 Reaper ڈرون مار گرائے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت ”تین کروڑ ڈالر”سے زائد تھی۔ یہ امریکہ کے لیے نہ صرف بہت بڑا مالی نقصان تھا بلکہ اس کی ٹیکنالوجی کے غرور پر بھی ایک کاری ضرب تھی۔
اس کے علاوہ انصار اللہ نے امریکی بحری بیڑوں کو براہِ راست میزائلوں سے نشانہ بنایا اور یہاں تک کہ امریکہ کے سب سے بڑے اثاثے، طیارہ بردار بحری جہاز ”یو ایس ایس آئزن ہاور (USS Dwight D. Eisenhower)” کو بھی ہٹ کرنے کا دعویٰ کر کے امریکی ہیبت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ ان حملوں نے امریکہ کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے مہنگے ترین میزائل (جن کی قیمت لاکھوں ڈالر فی میزائل ہے) یمن کے سستے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کرے، جس سے اس جنگ کی قیمت امریکہ کے لیے ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے دیکھا کہ ایک نہتی اور محصور قوم نے ایمان کے بل بوتے پر وقت کی سپر پاور کو اس طرح چیلنج کیا کہ وہ براہِ راست جنگ سے گریز کرتے ہوئے پس پردہ مذاکرات اور جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی۔
یہ درست ہے کہ علاقائی سیاست میں ایران اور انصار اللہ کے مفادات میں بعض اوقات ہم آہنگی نظر آتی ہے، لیکن ان کی ”بنیادی فکری اور مذہبی جڑیں بالکل جداگانہ” ہیں۔ اگر انصار اللہ محض ایران کے اشاروں پر چلنے والی ایک کٹھ پتلی ہوتی، تو ان کی دینی تعلیمات، سیاسی حکمتِ عملی، اور ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں حکومتی ڈھانچہ ایرانی نظام کی مکمل نقل ہوتا۔ اس کے برعکس، ان کی قیادت، عوامی بیانات، اور عملی پالیسیوں میں ”یمن کے مخصوص سماجی و قبائلی حالات” اور ”زیدی فقہ کی گہری چھاپ” واضح طور پر نظر آتی ہے۔ یہ مضبوط داخلی اور خود مختار مذہبی شناخت اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ان کی تحریک کسی بیرونی طاقت کی محتاج نہیں، بلکہ وہ اپنی ”مستحکم مقامی جڑوں اور مستقل نظریاتی اساس” پر قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی طاقت کا سرچشمہ بیرونی امداد نہیں، بلکہ ان کی مقامی صلاحیت، عوامی حمایت، اور سب سے بڑھ کر، اللہ پر ان کا غیر متزلزل ایمان ہے۔
پس حاصلِ کلام یہ ہے کہ آج یمن محض ایک ملک کا نام نہیں، بلکہ ایک نظریے کا نام ہے۔ یہ اس نظریے کا نام ہے کہ ایمان جب خالص ہو اور حکمت جب عمل میں ڈھل جائے تو مادی وسائل کی کمی اور دشمن کی کثرت بے معنی ہو جاتی ہے۔ امتِ مسلمہ کے عوام، دانشوروں اور رہنماؤں پر لازم ہے کہ وہ یمن کی اس جدوجہد کو پہچانیں۔ یہ حمایت محض ایک سیاسی انتخاب نہیں، بلکہ ایک ایمانی ذمہ داری اور تاریخی قرض ہے۔ یمن آج تنہا پوری امت کی جنگ لڑ رہا ہے، اور تاریخ ان لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو حق و باطل کے اس فیصلہ کن معرکے میں غیر جانبدار رہے۔ یمن کی یہ مزاحمت صرف ایک ملک کی آزادی کی جنگ نہیں، بلکہ یہ پورے خطے اور عالمِ اسلام کے مستقبل کی نئی صبح کا پیش خیمہ ہے۔ یہ وہ چنگاری ہے جو غلامی کی زنجیروں کو جلا کر راکھ کر دے گی اور امت کے لیے ایک نئے، باعزت اور خود مختار دور کا آغاز کرے گی۔ بلاشبہ، حدیثِ نبویﷺ ایک زندہ حقیقت ہے جو آج یمن کے میدانوں میں لہو کے چراغ جلا کر اپنی حقانیت کا ثبوت دے رہی ہے۔ ایمان یمن کا ہے، حکمت یمن کی ہے، اور آج شجاعت، غیرت اور فتح کا پرچم بھی یمن کا ہے۔
===
Like this:
Like Loading...