Skip to content
عدلِ عالمگیری : ایک داستانِ انصاف
از قلم : ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
(اکولہ، مہاراشٹر )
=====
بنارس کی قدیم گلیوں میں رات کا اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا، اور گنگا کی مقدس لہروں پر موت کی سی خاموشی طاری تھی۔ لیکن پنڈت وشوناتھ کے گھر میں یہ سناٹا کچھ اور ہی زیادہ دردناک تھا۔ ایک خوفناک سکوت، جیسے طوفان سے پہلے کی خاموشی جو دل دہلا دیتی ہے۔ کوتوال کا ظالمانہ فرمان پنڈت جی کے گھر پہنچ چکا تھا۔ صرف سات دن کی مہلت دی گئی تھی اور پھر کاشی کی سب سے حسین دوشیزہ اس کے محل کی زینت بننے والی تھی۔
ان دیواروں کے اندر شکنتلا کی روح پر خوف نے ڈیرا ڈال رکھا تھا۔ اس کا دل پتھر بن چکا تھا، مگر آنکھیں آنسوؤں سے بغاوت کر رہی تھیں۔ مایوسی کے اندھیرے کنویں میں ڈوبتے ہوئے بھی، اس کے وجود میں ایک چنگاری سلگ رہی تھی۔ ایک ایسی چنگاری جو بجھنے سے انکاری تھی۔ اس کے ذہن کے پوشیدہ گوشوں میں ایک ادھورا منصوبہ ابھی تک زندہ تھا، جس کی لکیریں دھندلی اور مایوس کن، مگر ہلچل مچائے ہوئے، جیسے کوئی آخری کوشش کے طور پر موت کو چیلنج کر رہا ہو۔ یہ ایک بیٹی کی اپنی شناخت کو بچانے کی آخری اور بے بس فریاد تھی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں اورنگ زیب عالمگیر کی ہیبت و جلال کا سکہ رواں تھا۔ اگرچہ انصاف کا پرچم ہر جگہ لہراتا تھا اور عدل کی زنجیر بجتی رہتی تھی، لیکن اس وسیع سلطنت کے گوشوں میں، انسانیت سے عاری وحشی درندے اب بھی پل رہے تھے اور کمزور رعایا کا خون پی کر اپنی ہوس بجھاتے تھے۔ ایسا ہی ایک درندہ بنارس کے آسمان پر نمودار ہوا ، کوتوال ابراہیم خان۔ نام تو ابراہیم تھا، مگر خصلت میں نمرود سے بڑھ کر ظالم اور مغرور ۔تکبر اور نخوت اس کی گھٹی میں پڑے تھے اور رعونت اس کی رگ رگ میں سرایت کر گئی تھی۔ پھر جب اس کی زہریلی نگاہ شکنتلا کے حسنِ بے مثال پر پڑی، تو اس کے اندر کا بھیڑیا جاگ اُٹھا۔ اس نے اپنے کارندوں کے ہاتھوں یہ زبانی فرمان پنڈت کے گھر پہنچا دیا :”اپنی بیٹی کو سجی سجائی پالکی میں بٹھا کر سات دن کے اندر میرے محل روانہ کرو!”
اس کا حکم محض حکم نہ تھا، بلکہ لوہے پر کندہ ایک فرمان تھا،ناقابلِ تنسیخ اور انکار کی صورت میں موت کا پیامبر ۔ بس سات دن کی مہلت، زندگی اور موت کے درمیان حائل ایک دھندلی سرحد، جس نے شکنتلا کی روشن دنیا کو یکدم تاریک کر دیا۔ مگر وہ پنڈت کی بیٹی تھی، پاکیزگی اور بلند حوصلگی اس کی فطرت کا حصہ تھی، اور اس کی رگوں میں بہنے والا خون غیرت اور ہمت کی حرارت سے تپ رہا تھا۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ بے حسی کے ساتھ اپنی بربادی کا تماشا دیکھنے سے کہیں بہتر ہے کہ خطرات کی موجوں میں کود کر موت کو للکارا جائے۔ کیونکہ خاموشی اور اطاعت محض تباہی تھی، جبکہ مزاحمت چاہے کتنی ہی کمزور سہی، نجات کا ایک مبہم امکان تو پھر بھی باقی تھا۔
"باپوجی!” اس کی آواز کانپ رہی تھی، مگر اس میں ایک فیصلہ کن لہجہ نہاں تھا۔ "اس ظالم سےمہلت مانگیے! کچھ اور وقت لیجیے! شاید! اس عرصے میں ہم کوئی راستہ تلاش کر سکیں!”
پنڈت نے بیٹی کی التجا کو اپنی ڈوبتی کشتی کا آخری سہارا جان کر تھام لیا۔ وہ اپنی نحیف اور لرزان ٹانگوں پر بمشکل کھڑا ہوا اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا، گرتا پڑتا کوتوال کے محل کی جانب روانہ ہوا، جیسے کوئی اپنی موت کی جانب کھنچا جا رہا ہو۔ کوتوال کے محل پہنچ کر وہ خاک نشیں ہو کر عاجزی کی تصویر بنا، منت سماجت کرنے لگا۔ گڑگڑایا، آنسو بہائے، اپنے گریبان چاک کیے، ہر وہ ذلت گوارا کی جو ایک بے بس باپ کر سکتا تھا۔ کوتوال نے حقارت سے اس کی ذلت آمیز التجاؤں کو سنا، پھر تکبر سے ہونٹوں کو مروڑ کر ایک سرد نگاہ ڈالی اور سرسری طور پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہنے لگا ؛ "مہلت میں مزید سات دن کی وست کی جاتی ہے "…… گویا جلاد نے کسی قیدی کی موت کی سزا پر عمل درآمد میں چند دن تاخیر کر دی ہو۔
پنڈت شکستہ حال اور غم سے چُور گھر لوٹا، گویا اپنی روح وہیں دربار میں چھوڑ آیا ہو۔ بیٹی دروازے پر منتظر تھی، آنکھوں میں بے یقینی اور ہونٹوں پر سسکیاں دبائے، بڑی مضطرب نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’باپوجی…..‘‘ وہ بے چینی اور خوف سے کانپتے لہجے میں بمشکل بول پائی، ’’کیا ….. وقت ملا؟‘‘۔ پنڈت نے نگاہیں چرا کر جواب دیا۔ آواز اس قدر بوجھل تھی جیسے برسوں کا غم ایک نحیف سانس میں سمٹ آیا ہو، ’’ہاں…. بیٹی…..سات دنوں کی مزید مہلت مل گئی ہے۔‘‘ شکنتلا نے ایک گہرا سانس لیا، ایک آہ جو گھٹن زدہ فضا میں تازہ ہوا کا جھونکا تھی۔ اب اس کی آنکھوں میں وہ مایوسی اور وحشت نہیں، بلکہ ایک انجانی چمک سی تھی۔ اندھیرے میں امید کی کرن، مایوسی کے خلاف ایک خاموش بغاوت۔ ’’یہ ایک ماہ ہماری زندگی کا حاصل ہو گا باپوجی‘‘ اس نے آہستگی سے کہا مگر ہر لفظ میں عزم کوٹ کوٹ کر بھرا تھا، ’’یہ مہلت نہیں….. یہ ایک موقع ہے….. اپنی تقدیر کو بدلنے کی آخری کوشش۔”
یہ قلیل مہلت، جو درحقیقت ایک سراب تھی، اسی میں شکنتلا نے اپنی تقدیر کے تاریک نقوش کو نورِ سحر میں تبدیل کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ اس نے چار دیواری کی اسیری میں دم گھٹتے ہ-وئے زندگی گزارنے اور بے آواز آنسو بہانے سے صاف انکار کر دیا۔ وہ رسم و رواج کی اس پگڈنڈی سے ہٹ کر، ایک ایسے راستے پر گامزن ہوئی جس پر عورتوں کے قدموں کے نشان جرم سمجھے جاتے تھے۔ اس نے اپنی نسوانیت کو مردانہ جبّے میں چھپایا، اور مردوں کا پُرجلال لباس زیبِ تن کیا، اپنے چہرے کو نقاب کی اوٹ میں روپوش کر دیا اور ایک فولادی عزم کو روح کا حصار بنا کر دہلی کی خوفناک راہوں پر تنہا قدم رکھ دیا۔ یہ ایک بے مثل جستجو تھی، جس میں یا تو اس کی عزتِ نفس بچ جاتی، اور وہ سر اُٹھا کر جینے کے قابل ہو جاتی، یا پھر ہر چیز ہمیشہ کے لئے خاکستر ہو جاتی اور وہ گمنامی کے اندھیروں میں گم ہو جاتی۔ اورنگ زیب کے دربار تک رسائی پانے کے لئے اسے کس وادیِ پُرخار سے گزرنا تھا، اس کمزور کو کیا خبر تھی؟ کیا ہندوستان کا تاجدار اس بے بس کی فریاد پر توجہ دے گا؟ کیا انصاف کی اس جان لیوا تلاش میں وہ تاریخ کے بے رحم بھنور میں ڈوب جائے گی، یا پھر اس کی صدائے فریاد آنے والے کل کے لئے ظلم کے خلاف بغاوت کا ترانہ بن جائے گی؟
وقت کے گزرتے لمحات ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل رہے تھے۔ دہلی کی کٹھن راہوں پر شکنتلا مردانہ لباس میں سفر کر رہی تھی، مگر اس کے نسوانی دل میں امید و خدشات ایک ساتھ گردش کر رہے تھے۔ کیا وہ شہنشاہ تک پہنچ پائے گی؟ کیا وہ بادشاہ تک پہنچ پائے گی، جس کے انصاف کی کہانیاں تو سنی تھیں مگر کبھی اس کی آواز نہیں سنی۔ کیا وہ اپنی فریاد اس عالی مقام دربار تک پہنچانے میں کامیاب ہو پائے گی، جہاں بڑے بڑے صاحبِ اقتدار تاجداروں کے لیے بھی رسائی ایک انتہائی دشوار امر ہے؟ اور سب سے اہم سوال: کیا وہ اپنی اصل شناخت چھپا کر رکھ سکے گی؟ ہر افق سے پھوٹتی صبح اس راز کے فاش ہونے کے خدشے کو بڑھاتی جاتی تھی۔ رات کی تنہائی میں، آگ کے سامنے بیٹھی، وہ اپنی حفاظت، اپنی عزت اور اپنی بقا کے لیے بھگوان سے پراتھنا کرتی تھی۔ سفر کے ہر گزرتے پل نے اسے نہ صرف سخت جان بنایا، بلکہ اس کے وجود کو گویا آگ میں تپا کر کندن سا خالص کر دیا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر، سلطنتوں کے ٹوٹتے عروج اور جنگوں کے دشوار گزار راستوں سے گزرتے ہوئے، اس نے صبر کا سبق سیکھا۔ وہ جو کبھی ایک معمولی لڑکی تھی، اب ایک نڈر مسافر بن چکی تھی، ایک ایسی پرعزم روح، جو انصاف کی تلاش میں منزل سے آگے بڑھنے کو تیار تھی۔
بالآخر، کئی دنوں کی مسافت کے بعد، وہ دہلی پہنچی۔ یہ جمعہ کا مبارک دن تھا۔ سورج بلند ہو رہا تھا اور شہر بیدار ہو رہا تھا۔ شکنتلا نے فوراً لوگوں سے اورنگ زیب عالمگیر کے بارے میں پوچھا، "مجھے بادشاہ سلامت سے ملنا ہے۔ وہ کہاں ملیں گے؟”۔ لوگوں نے بتایا کہ جمعہ کی نماز کے بعد بادشاہ شاہی مسجد سے نکلتے ہیں اور وہیں باہر ضرورت مندوں اور فریادیوں سے ملتے اور ان کی شکایات سنتے ہیں۔
وہ جمعہ کی صبح مسجد شاہی کے باہر کھڑی تھی، اس کے چاروں طرف امید اور یاس کے مارے لوگوں کا ایک جمِ غفیر تھا۔ بادشاہ سلامت کا دیدار اور داد رسی حاصل کرنے کے لیے سبھی بے تاب تھے۔ دل دھڑک رہا تھا، گویا پسلیوں کے پنجرے کو توڑ کر باہر نکل آئے۔ نمازِ جمعہ ختم ہو چکی تھی۔ مسجد شاہی کا وسیع صحن زائرین سے اٹا پڑا تھا، ہر طرف سرگوشیوں اور التجاؤں کی دھیمی لہریں گونج رہی تھیں۔ سورج کی سنہری کرنیں سنگِ مرمر کی محرابوں اور میناروں پر رقصاں تھیں، لیکن ایک خاموش اضطراب فضا میں منڈلا رہا تھا۔ یہ اورنگ زیب عالمگیر کی آمد کا وقت تھا، جہاں سب کی نگاہیں اورنگ زیب عالمگیر کے دیدار کے لیے بے تاب تھیں۔ افق کے پار مسجد کے اندرونی دروازے کی سمت اچانک ایک ہلچل سی اٹھی۔ ہجوم کی آنکھیں ایک جانب مرکوز ہو گئیں، سرگوشیاں دب کر خاموشی میں بدل گئیں۔ پھر جلال و ہیبت، وقار و عظمت کا جیتا جاگتا مجسمہ نمودار ہوا، ہندوستان کا عظیم شہنشاہ، اورنگ زیب عالمگیر۔
سادگی اس کا زیور تھی۔ نہ کوئی شاہانہ جلوس، نہ لاؤ لشکر، نہ تزک و احتشام۔ صرف چند خاص الخاص محافظوں کے حصار میں، وہ اپنی منفرد شان و تمکنت سے مسجد کی سیڑھیاں اس طرح اتر رہا تھا جیسے کوئی آبشار پہاڑ کی بلند چوٹیوں سے دامنِ زمین کی جانب بہتا ہو۔ لباس سادہ، جسم پر صرف ایک سفید عبا، سر پر معمولی عمامہ، لیکن اس کی شخصیت کا جلال ہر نمود و نمائش پر غالب تھا۔ اس کی آنکھوں میں عمیق سمندر کی گہرائی تھی، جن میں دور اندیشی اور صوفیانہ سکون کی جھلک نمایاں تھی۔ قدم دھیمے مگر پرعزم، رفتار میں ٹھہراؤ مگر دبدبہ نمایاں مسجد کی دیواروں پر روشنی اور سایوں کا ایک پراسرار رقص رواں تھا۔ بلند محرابوں سے سورج کی کرنیں چھن چھن کر نیچے اتر رہی تھیں اور اورنگ زیب کے چہرے پر جا پڑتیں ، جہاں وہ نور کی ایک ہلکی سی چادر بن کر چمک رہی تھی ۔ اس چہرے پر اترتا جلال گویا ایمانِ کامل کی زندہ تفسیر تھا۔ اس کے ہاتھ میں تسبیح کے دانے خاموشی سے گردش کر رہے تھے گویا ظاہری دنیاوی معاملات کے ہجوم میں بھی دل یادِ الٰہی سے یک لمحہ غافل نہ تھا۔ ایک گہرا، خاموش تقدس فضا میں سمایا ہوا تھا، جیسے وقت اپنی چال بھول کر ٹھہر سا گیا ہو۔ شہنشاہ کا یہ جلال اور وقار اتنا روح پرور تھا کہ ہر نگاہ بس اسے تکتی ہی رہ گئی، گویا دنیا کی ساری حرکتیں اسی لمحے میں ساکت ہو گئی ہوں ۔
پھر اس نے اپنے منفرد انداز میں سر جھکایا اور دائیں جانب، پہلی صف میں کھڑے ایک فریادی کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا، یہ ہاتھ تھا ایک عظیم حکمران کا، ایک منصف کا، اور ایک صوفی منش درویش کا۔ خط وصول کرتے ہوئے اس کی نگاہوں میں عجز و انکساری جھلک رہی تھی، مگر جوں ہی ناانصافی کی داستانیں اس کے کانوں تک پہنچیں، وہی آنکھیں شعلوں کی طرح بھڑک اٹھیں، اور اس کا عزم بجلی کی مانند چمک کر سامنے آیا۔
اورنگ زیب کی مسجد میں آمد محض ایک ظاہری منظر نہ تھی، یہ ایک ایسا لمحہ تھا جہاں ایک عادل حکمران کی روح اپنے جلال، سادگی اور صوفیانہ گہرائی کے ساتھ جیتے جاگتے روپ میں ڈھل گئی تھی۔ یہ منظر دلوں کو مسخر کر لیتا تھا اور ایک اٹل یقین جگاتا تھا کہ انصاف کی اس دہلیز سے کوئی خالی ہاتھ نہ لوٹے گا۔
اور پھر وہ غیر معمولی لمحہ بھی آ گیا، جب اورنگ زیب نے شکایت وصول کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ شکنتلا پر ایک ایسی گھبراہٹ چھا گئی، جس کی گہرائی کی کوئی حد نہ تھی۔ پھر اچانک ہی بادشاہِ سلامت نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔ گویا اس کے دل پر بجلی کا ایک عظیم طوفان گر پڑا ہو۔ اس کے کانوں میں جیسے کوئی سرگوشی گونجی: "پردہ… یہ پردہ کیوں؟” یہ خیال ایک تیز تیر کی طرح اس کے جگر میں اتر گیا۔
پھر اچانک ہی اس کے لبوں سے ایک بے ساختہ، درد میں ڈوبا، شکایت سے بھرا، اور بے چینی سے لبریز سوال پھوٹ پڑا: "مہاراج! یہ تفریق کیوں؟ جب آپ نے سب سے براہِ راست خط قبول کیے، تو میرا خط پردے کے پیچھے کیوں؟ کیا میں اتنا ناپسندیدہ ہوں؟”
بادشاہ کے چہرے پر ذرا بھی تغیر نہ آیا، اس کے لہجے میں وہی وقار اور متانت تھی جو سلطنت مغلیہ کی پہچان تھی، مگر الفاظ میں ہمدردی کی ایک ہلکی سی لہر بھی محسوس ہوئی: ’’اسلام غیر محرم عورتوں کو چھونے سے منع کرتا ہے، اور اے نوجوان، تیری آنکھوں کی چمک اور تیری آواز کا زیر و بم گواہ ہے کہ تو مرد نہیں، عورت ہے۔‘‘
وہ لمحہ شکنتلا پر صدیوں لمبا گزرا۔ شناخت آشکار ہو چکی تھی، لیکن سزا یا تذلیل کے بجائے، اورنگ زیب کی آنکھوں میں اسے احترام اور رحمدلی کی جھلک نظر آئی۔ سپہ سالار کے ظلم سے بچنے کے لیے نکلی ہوئی شکنتلا، اب شہنشاہِ ہند کے حضور کھڑی تھی، نقاب الٹے، اپنی داستانِ غم سنانے کے لیے…اور اس فیصلے کا انتظار کرنے کے لیے جو ایک شہنشاہ کا عدل رقم کرنے والا تھا۔ کیا اورنگ زیب کا انصاف اس کی امیدوں کا محور ثابت ہوگا، یا پھر وہ تاریخ کے بے رحم صفحات میں ایک اور مظلوم عورت کا قصہ بن کر رہ جائے گی؟
بادشاہ نے شفقت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا، پھر فرمایا، "بیٹیوں کو سڑکوں پر اس انداز میں نہیں آنا چاہیے۔ بیٹیوں سے تو محل میں بیٹھ کر باتیں کی جاتی ہیں۔” یہ جملہ کہہ کر اورنگ زیب آگے بڑھ گئے۔
شکنتلا کو دیوانِ عام میں بادشاہ کے حضور پیش کیا گیا۔ دربار میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی، اور سب نگاہیں شہنشاہِ وقت پر جمی تھیں۔ شکنتلا نے ادب و احترام سے سر جھکایا اور اپنا سارا ماجرا بادشاہ کے حضور بیان کر دیا۔ "وہ کوتوال، جو آپ نے بنارس میں مقرر کیا، میری عزت کا دشمن بن بیٹھا ہے۔ اس نے مجھے فلاں دن کی مہلت دی ہے۔ میں آپ کی دہلیز پر فریاد لے کر آئی ہوں، بتائیے اب میں کیا کروں؟”
یہ سن کر اورنگ زیب عالمگیر نے وہ جواب دیا جو شکنتلا کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا: "جاؤ! میرا کوتوال جو کہتا ہے، وہی کرو!”
شکنتلا یہ سن کر سکتے میں آ گئی۔ اس کے تو اوسان خطا ہو گئے۔ اس نے سوچا کہ یہ سب ایک جیسے ہی نکلے۔ میں تو سمجھ رہی تھی کہ بادشاہ سلامت مدد کریں گے، مگر انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ جو کوتوال کہتا ہے، وہی کرو۔ روتی ہوئی گھر واپس آ گئی۔
باپ نے گھبرا کر پوچھا، ’’کیا ہوا بیٹی؟۔۔۔ دہلی میں کیا گزری؟ کس حال میں لوٹی ہو؟ کیا کوئی آس بندھی؟ کیا شہنشاہ نے داد رسی کی کوئی نوید سنائی؟‘‘…..!!!
شکنتلا نے ایک گھری سانس بھری، ایک آہ جو صدمے اور مایوسی کی گہرائی سے اُبھری۔ ’’انہوں نے تو بس یہی کہا باپوجی کہ جو میرا کوتوال کہتا ہے، ویسا ہی کرو!‘‘۔ یہ جواب ایسا تھا جیسے کسی نے لہو میں زہر گھول دیا ہو۔ پنڈت جی اسے سن کر کچھ لمحے ساکت رہے، گویا ان کے وجود سے روح پرواز کر گئی ہو۔ پھر ایک دردناک کراہ ان کے لبوں سے نکلی۔ یہ آواز نہیں تھی، موت کا نوحہ تھا۔ ’’بیٹی…. تو پھر کوئی سبیل نہیں اب تو بس یہی بچا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں، دریائے گنگا میں ڈوب مریں، اس ذلت سے تو موت بہتر ہے۔‘‘
شکنتلا نے حیرت اور بے یقینی کے عالم میں اپنے والد کی طرف دیکھا، کیا یہ وہی نڈر باپ ہے، جو بڑی بڑی مصیبتوں کے سامنے کبھی جھکا نہیں! پھر بجھے دل اور کانپتے ہونٹوں سے بولی، "نہیں باپوجی… اتنی جلدی کیا ہے؟ ابھی اتنا یقین نہ ہاریں۔”
پنڈت نے درد اور حیرانی سے پوچھا، "کیوں بیٹی؟ اب کون سی امید باقی ہے؟ کیا اب بھی کوئی معجزہ ہوگا؟”
شکنتلا نے رازدارانہ لہجے میں جواب دیا، "سنئے تو! جیسا کوتوال کہتا ہے، ویسا ہی تو مجھے کرنا ہے… اور وہی میں کروں گی جو بادشاہ سلامت نے حکم دیا ہے۔ میں ان کی بات کیسے ٹال سکتی ہوں؟”
پنڈت مایوسی اور غصے سے پھٹ پڑا، "مگر بیٹی… کیا تم اپنی عزت… اپنی آبرو کو خاک میں ملا دو گی؟”
شکنتلا نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں موند لیں، پھر نگاہیں اٹھائیں اور باپ کی جانب دیکھا۔ اب ان آنکھوں میں نہ بے بسی تھی، نہ یأس، بلکہ امید کی ایک چھپی ہوئی چمک جھلک رہی تھی۔ "نہیں باپوجی… عزت اب بھی خطرے میں نہیں۔ ابھی ایک راہ باقی ہے، امید کی آخری کرن!”
پنڈت نے تذبذب اور تعجب سے کہا، "وہ کیا بیٹی؟ اب کون ہماری مدد کرے گا؟ وہ بادشاہ، جس نے خود تمہیں جلاد کی خواہش پوری کرنے کا حکم دے دیا؟”
شکنتلا نے دھیمے مگر پراعتماد لہجے میں راز کھولا، ایک سرگوشی جو خاموشی کو چیرتی ہوئی آئی: "باپو جی… جب میں ان کے سامنے فریاد لے کر کھڑی تھی، تب شہنشاہ نے تین بار مجھے ‘بیٹی’ کہہ کر پکارا تھا۔ اور میرا دل گواہی دیتا ہے کہ جب کوئی سچا مسلمان کسی لڑکی کو ‘بیٹی’ کہتا ہے، تو وہ اس کی عصمت کو کبھی لٹنے نہیں دیتا۔”
یہ سنتے ہی پنڈت کی غم ناک آنکھوں میں ایک امید کی کرن جاگ اٹھی، ایک کمزور امید، مگر اندھیرے میں یہ بھی بیش بہا تھی۔ "تو کیا بیٹی… اب ہمیں پھر سے انتظار کرنا ہوگا؟”
"ہاں باپوجی!” شکنتلا نے صبر اور یقین سے کہا، "اب صبر کر کے انتظار ہی ہماری عقلمندی ہے۔ تقدیر کا فیصلہ یہی ہے، انتظار… اور بس انتظار!”
وقت اپنی بے رحم چال سے گزر رہا تھا، ہر لمحہ شکنتلا اور پنڈت کے دلوں پر مایوسی کا ایک نیا بوجھ لادتا جا رہا تھا۔ مہلت کے دن ایک دھندلی شام کی مانند سمٹتے چلے آئے۔ کوتوال کی بھیجی ہوئی پالکی پنڈت کے دروازے پر سجی دھجی کھڑی تھی۔ ایسی سجاوٹ جیسے کوئی دلہن بیاہنے آئی ہو، مگر حقیقت میں یہ موت کا خاموش فرشتہ تھی۔ پنڈت کے گھر پر غم کا گہرا سناٹا چھایا تھا۔
شکنتلا نے فیصلہ کن گھڑی کو بھانپ لیا اور اپنے باپ کو تسلی دی۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی ایک اٹل عزم جھلک رہا تھا۔ ایک ایسی چمک جو مایوسی کے سیاہ بادل چیرتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔
وہ دلہن کی پوشاک میں ملبوس ہوئی۔ زیورات سے آراستہ، سج دھج کر ایسی بیٹھی جیسے بیاہ کے جوڑے میں سجی کوئی سچی دلہن ہو۔ مگر اس کے دل کی بھڑکتی آگ اس لباس کی رنگینی اور زیورات کی چمک کو بے رنگ کر رہی تھی۔ پنڈت نے لرزتے ہاتھوں سے ڈولی کا پردہ اٹھایا اور اپنی بیٹی کو الوداعی نگاہوں سے دیکھا۔ ایک ایسی نظر جس میں پیار، درد اور ایک خاموش سوال سمٹا تھا: "یہ جدائی کیا ابدی ہوگی؟”
پالکی اٹھی اور کوتوال کے محل کی جانب چل پڑی۔ بنارس کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے شکنتلا کو ہر قدم پر اپنی امید دھیرے دھیرے دم توڑتی محسوس ہوئی۔ کیا سب کچھ بے سود تھا؟ کیا اورنگ زیب کا "بیٹی” کہنا محض ایک زبانی کلام تھا، جو ہوا میں بکھر گیا؟ مگر اس کا دل یہ ماننے کو راضی نہ تھا۔ اسے پختہ یقین تھا کہ تین بار ادا کیا گیا "بیٹی” کا لفظ یوں بے معنی ضائع نہ ہوگا۔
جب ڈولی کوتوال کے دروازے پر جا رکی، تو شادیانوں کی گونج اٹھی۔ کوتوال خود استقبال کے لیے دروازے پر کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر خوشی کی رمق اور لبوں پر فتح کی ایک خود سر مسکراہٹ ناچ رہی تھی۔ اس نے خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ پنڈت کی یہ دلیر بیٹی، جو کبھی ہمت کی مثال تھی، اتنی آسانی سے ہار مان لے گی۔
"دلہن اندر نہیں آئے گی!” کوتوال نے حکم صادر کیا۔ "کیا مطلب؟” حاضرین نے حیرت سے پوچھا۔ "مطلب یہ کہ آج میں بہت خوش ہوں۔ اس خوشی میں صدقہ و خیرات کروں گا۔” اس نے سونے کے سکّے منگوائے۔ ایک بڑا تھال بھر کر، خود دروازے پر کھڑا ہو گیا، اور سکّے فقیروں اور محتاجوں پر لٹانے لگا۔ لوگ دیوانہ وار سونے کے سکوں پر ٹوٹ پڑے۔
اس ہنگامہ خیز ماحول میں ایک پراسرار فقیر نمودار ہوا۔ پھٹے پرانے لباس، گرد آلود چہرہ اور چادر سے ڈھکا سراپا۔ وہ فقیروں کے ہجوم میں ایسے داخل ہوا جیسے صدیوں سے انہیں کا حصہ ہوں۔ جب کوتوال بے دریغ سکّے لٹا رہا تھا تو اس فقیر نے بھی آگے بڑھ کر بھیک کے لیے صدا لگائی، ’’اے سخی! فقیر پر بھی نگاہِ کرم ہو!‘‘
کوتوال نے اس کی جانب ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ یہ کوئی عام فقیر نہ تھا۔ اس درویش میں کچھ تو تھا جو سب سے جدا تھا، کوئی ان کہی گہرائی، کوئی چھپی ہوئی رمز۔ مگر کوتوال اپنی فتح کے نشے میں چور تھا، غرور اس کے سر پر سوار تھا۔ "اندھا ہے کیا؟” اس نے تکبر بھرے لہجے میں طنز کیا، "دیکھ نہیں رہا، زمین پر اشرفیاں بکھری پڑی ہیں؟ جی بھر کے سمیٹ لے، تجھے کون روکتا ہے! کیسا فقیر ہے تُو، جو بھیک مانگنے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا؟”
فقیر نے قدرے پرسکون لیکن مضبوط لہجے میں جواب دیا: "میں ان بھکاریوں میں سے نہیں جو زمین پر بکھرا ہوا سمیٹتے پھریں۔ میں اپنی قیمت وصول کرتا ہوں۔ اگر سچا سخی ہے، تو میرے ہاتھ میں بھیک رکھ دے، تب تو تجھے مانوں!”
ہجوم میں ایک ہمہمہ سا اٹھا۔ یہ کیسا فقیر تھا، جو حاکم وقت کے کوتوال کو اس دھج سے للکار رہا تھا؟ اس کے لہجے کی تیزی سے کوتوال کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی۔
"بڑا سیدھا سادھا بنا پھرتا ہے!” کوتوال نے دانت پیستے ہوئے طنز کیا۔ "اگر آج جشن کا دن نہ ہوتا، تو تیری گردن اب تک اڑا چکا ہوتا۔ اچھا، لے، یہیں اپنا ہاتھ بڑھا، تجھے بھی تیری مراد دے دیتے ہیں!”
کوتوال نے آخری بار تھال سے سِکوں کا ایک ڈھیر اٹھایا اور تکبر بھرے انداز میں فقیر کی جانب بڑھا۔ جیسے ہی اس نے سِکے فقیر کے ہاتھ پر رکھے، فقیر کی انگلیوں نے بجلی کی سی پھرتی دکھاتے ہوئے کوتوال کی کلائی کو آہنی شکنجے میں جکڑ لیا اور پھر پلک جھپکتے ہی اپنے چہرے سے چادر ایک طرف سرکا دی۔
اور پھر ایک غیر معمولی منظر وجود میں آیا۔ کوتوال سمیت وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں تھم گئیں۔ یہ کوئی عام فقیر نہ تھا، پھٹے کپڑوں اور گرد آلود چہرے کے پردے میں چھپا تھا جلال و ہیبت کا ایک جوشیلا آتش فشاں، دنیا کی عظیم ترین سلطنت کا روحِ رواں، شہنشاہِ عز و توقیر، اورنگ زیب عالمگیر!
اس کے چہرے پر انگاروں سی سرخی چھائی تھی، اور آنکھوں سے غیظ و غضب کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔ کوتوال کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔ وہ اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہ گیا، جیسے زمین شق ہو جائے اور وہ اس کی گہرائی میں دھنس جائے۔ اس کا سارا تکبر، ساری شیخی دھوئیں کی طرح بکھر گئی۔
شہنشاہ کی آواز گرجی، اتنی بلند کہ محل کی فصیلیں گونج اٹھیں۔ مگر اس گرج میں غضب تھا، حکمت تھی اور انصاف کی للکار۔ "اے ظالم، تو نے کیا سمجھا تھا کہ اورنگ زیب دہلی میں بیٹھا سو رہا ہے اور یہاں بنارس میں تیری ہوس کی حکمرانی چلے گی؟ کیا تُو یہ بھول گیا کہ ایک شہنشاہ کی نگاہ ہر جگہ پہنچتی ہے، اور عدل کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں؟ تو نے میرا سپاہی ہونے کی عظمت خاک میں ملا دی اور سلطنت کے نام پر داغ لگایا۔ افسوس! تُو نے شاہی عدل کو پہچانا ہی نہیں! ہم مسندِ حکومت پر ہوں یا خاک نشیں، خدا کا خوف اور رعایا کی امانت ہمیشہ ہمارے دل پر نقش رہتی ہے۔ اور آج، تیری خیانت اور ظلم کی سیاہی حد سے بڑھ گئی ہے! اب تیری بدکرداری کی قیمت تُو اپنی جان سے ادا کرے گا۔” انصاف کا فرشتہ نازل ہو چکا تھا۔ ظلم کی سیاہ رات ختم، عدل کا روشن دن طلوع ہو چکا تھا۔ کوتوال کے گناہوں کا حساب اب چکتا ہونا تھا۔ اورنگ زیب نے ایک جنبشِ ابرو سے شاہی محافظوں کو حکم دیا۔ انصاف اب بے رحم ہونے والا تھا۔
کوتوال پر گویا آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ شاہی قہر کا سایہ سر پر منڈلاتا دیکھ کر اس کے چہرے سے تمام رنگ اُڑ گئے۔ جس ہوس اور تکبر سے اس نے پنڈت کی بیٹی کی عصمت دری کا منصوبہ بنایا تھا، اب وہی ہوس اسے موت کے جبڑوں میں دھکیل رہی تھی۔ اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے، زبان لڑکھڑانے لگی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ وہ اپنے گناہوں کی پاداش کو جان چکا تھا۔
جرم اتنا سنگین تھا کہ فوری اور عبرتناک سزا لازم تھی۔ بادشاہ کے اشارے پر بجلی سی کوند گئی۔ شاہی محافظ پھرتی سے آگے بڑھے۔ رسیوں کا جال ڈال کر محل کے محافظوں نے کوتوال کو گھیر لیا۔ وہ کوتوال کو گھسیٹتے ہوئے اس چبوترے پر لے گئے جہاں تھوڑی دیر پہلے جشن کا سماں تھا اور اب ماتم کی تاریکی گہری ہوتی جا رہی تھی۔ مجرم بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا اور شہنشاہ کا غضب ایک سیلاب کی مانند امڈ آیا تھا۔
اورنگ زیب نے اپنا رعب دار نظریں مجمعے پر ڈالیں۔ ایک سکوت چھا گیا جس میں صرف انصاف کی منتظر سانسوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ بادشاہ نے بلند آواز میں خطاب کیا، "سنو اے اہلِ بنارس!، آج تم اپنی آنکھوں سے ظلم کا انجام دیکھو گے۔ یہ کوتوال جسے تمہارا محافظ ہونا چاہیے تھا، بھیڑیا بن گیا تھا اور اس نے اپنی رعایا پر ہی حملہ کیا۔ اس نے طاقت اور عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ایک معصوم بیٹی کی عزت پامال کرنے کی کوشش کی۔ ایسے جرائم کی سزا صرف موت ہے اور سلطنت اورنگ زیب کبھی ایسے درندوں کو زندہ نہیں چھوڑتی۔ آج اس کی سزا کا اعلان ہے، جو ہر حاکم اور ہر رعایا کے لیے عبرت کا نشان بنے گا! حکم ہے کہ اس بدکردار کو چار ہاتھیوں کے پاؤں سے باندھ دیا جائے! اس کے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں، تاکہ آئندہ کسی کو یہ جرأت نہ ہو کہ وہ عہدہ پا کر رعایا پر ظلم ڈھائے اور اپنی خواہشات کو قانون سے بالاتر سمجھے!”
اتنا ہولناک حکم صادر ہوتے ہی ماحول پر ایک جان لیوا سکوت طاری ہو گیا۔ فضا میں ایک دم سناٹا چھا گیا، پھر اس عبرتناک سزا کے نفاذ کے لیے خوفناک تیاریاں شروع ہو گئیں۔ رسیوں کی سرسراہٹ، زنجیروں کی جھنکار اور جلادوں کے قدموں کی چاپ سے فضا مزید سوگوار ہو گئی۔ چار دیوہیکل ہاتھی مستی میں جھومتے اور اپنی زنجیریں بجاتے ہوئے میدان میں لائے گئے۔ ان کی چنگھاڑ سے زمین دہل گئی اور حاضرین کے دل خوف سے کانپ اٹھے۔ کوتوال کو بے رحمی سے گھسیٹ کر چبوترے پر لایا گیا۔ اس کے چہرے پر مایوسی اور بے بسی کے آثار نمایاں تھے۔ موت اس کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی، ہونٹ پتھر کی طرح سخت اور بے حس ہو چکے تھے۔ التجا اور فریاد کے تمام راستے مسدود ہو چکے تھے، اس لیے اس کے حلق سے ایک لفظ بھی نہ پھوٹا۔ جلادوں نے تیزی سے حرکت کرتے ہوئے رسیوں سے اس کے ہاتھ اور پیروں کو ہاتھیوں سے باندھ دیا گیا۔ اور پھر سزا پر عمل درآمد کا جان لیوا لمحہ آیا۔ ایک آخری، کربناک چیخ سنائی دی جو ہاتھیوں کے قدموں کی ہولناک دھمک میں ڈوب گئی۔ زمین دھنسی، خون کا فوارہ بلند ہوا، اور پلک جھپکتے میں کوتوال کا وجود ٹکڑے ٹکڑے ہو کر انصاف کی بھینٹ چڑھ گیا۔ عدل کی کڑک نے ظلم کی کمر توڑ دی۔ چبوترے پر بکھرے اعضا، نا انصافی کی حتمی قیمت ظاہر کر رہے تھے۔ انصاف ہو چکا تھا۔ انتقام تکمیل کو پہنچا۔
اورنگ زیب فاتحانہ نہیں، عاجزانہ انداز میں مقتل سے روانہ ہوئے۔ ظلم کا خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن ان کے دل میں فتح کا غرور نہیں، خدا کی شکرگزاری کا جذبہ موجزن تھا۔ وہ سیدھے مسجد کی طرف بڑھے۔ مسجد کے پرسکون ماحول میں اورنگ زیب نے دو رکعت نماز شکرانہ ادا کی۔ سجدے میں جب جبینِ نیاز ٹکی تو آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری ہو گیا۔ گڑگڑا کر دعا کی، "اے میرے پروردگار! تیرا بے پایاں کرم ہے کہ تو نے اس ناچیز بندے کو عدل قائم کرنے اور مظلوم کی داد رسی کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ میں تیرا عاجز بندہ ہوں، اور یہ سب تیری ہی عنایت کا نتیجہ ہے۔ مجھ سے اپنی مخلوق کے حق کا تحفظ کروا، اور مجھے ہمیشہ صراطِ مستقیم پر قائم رکھ۔”
نماز سے فارغ ہوئے تو ان کا دل نورِ ایمان سے جگمگا اٹھا تھا۔ ایک گہرا سکون اور قلبی اطمینان ان کے وجود پر چھا گیا۔ اب اورنگ زیب نے پنڈت شیوناتھ کے گھر کا رُخ کیا، وہ گھر جہاں ایک بیٹی نے انصاف کی خاطر دہلی تک کا سفر طے کیا تھا، جہاں ایک خاندان اپنی عزت کی تذلیل کے خوف سے لرزہ براندام تھا۔
پنڈت کے گھر کے چبوترے پر پہنچ کر وہ گھوڑے سے اترے۔ پھر ان کی نگاہیں شکنتلا کو ڈھونڈنے لگیں، جو سہمی ہوئی، ایک کونے میں روپوش تھی۔ بادشاہ نے اسے پیار اور شفقت بھرے لہجے میں پکارا، "بیٹی! پاس آؤ۔”
جب وہ قریب آئی، تو اورنگ زیب نے شفقت بھرے لہجے میں فرمایا، "بیٹی! پیاسا ہوں، پانی پلاؤ۔” شکنتلا نے فوراً پانی لے کر پیش کیا۔ اورنگ زیب نے مٹی کے پیالے کو تھاما، ایک ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائی اور کہا، "بیٹی، جس دن تیری فریاد میری دہلیز تک پہنچی تھی، اسی دن میں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک تیرے ساتھ انصاف نہ کروں، پانی کے ایک قطرے کو ہاتھ نہ لگاؤں گا۔ آج، خدا کا شکر ہے، انصاف کا سورج طلوع ہوا، اور اب میں اپنی پیاس بجھا سکتا ہوں۔”
پنڈت اور دیگر ہندو بھائی یہ عدل دیکھ کر مبہوت رہ گئے۔ اورنگ زیب عالمگیر کی عظمت ان کے دلوں میں نقش ہو گئی۔ شکر گزاری کے جذبات سے لبریز ہو کر پنڈت شیوناتھ نے کہا، "مہاراج، آپ نے ہمارے خاندان پر جو احسان کیا ہے، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ہم آپ کے اس عدل اور کرم کا بدلہ تو نہیں چکا سکتے، لیکن اگر آپ اجازت دیں تو ہم اس چبوترے کے قریب ایک مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مسجد ہمیشہ آپ کے انصاف کی یادگار اور آپ کی عظمت کی علامت رہے گی۔ ہم اس کا نام ‘دھنیرا مسجد’ رکھیں گے، یعنی، انصاف کا گھر۔”۔ حاضرین نے بیک زبان اس تجویز کی تائید کی۔
پنڈتوں نے اعلان کیا کہ یہ مسجد شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے عدل کے شکرانے میں ان کی جانب سے ایک نفیس تحفہ ہے۔ اور کوتوال کو دی گئی عبرت ناک سزا کو ایک سنہری تختی پر کندہ کر کے آویزاں کیا گیا، ایک ایسی یادگار جو آنے والی نسلوں کو اورنگ زیب کے انصاف کی داستان سناتی رہے گی۔
اورنگ زیب نے سب کا شکریہ ادا کیا اور رخصت ہوتے وقت جو نصیحت فرمائی، وہ اب زرِ ناب سے کندہ کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا، "یاد رکھو، بیٹیاں سب کی مشترکہ امانت ہیں۔ خواہ مسلمان ہو یا ہندو، عورت کی عزت و حرمت ہر چیز سے بالاتر ہے۔ یہی ہمارا دین ہے، اور یہی ہماری سلطنت کا آئین۔”
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...