Skip to content
امریکہ،19جولائی(ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم اپنی گفتگو میں امریکی صدر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس جانب کے طیاروں کے گرنے کا ذکر کر رہے تھے۔
وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن سینیٹرز کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک انتہائی حساس صورتحال تھی، جسے انہوں نے ذاتی طور پر مداخلت کرتے ہوئے ختم کروایا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے لئے فخر کی بات یہ ہے کہ میں نے دنیا کی کئی بڑی جنگیں روکی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت صورتحال نہایت خطرناک تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر فوری مداخلت نہ کی جاتی تو خطہ ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے دونوں ممالک کی قیادت سے رابطہ کیا اور اس کشیدگی کو ختم کرایا‘۔
پاکستان نے اس چار روزہ جنگ کے دوران تین رفال سمیت انڈیا کے پانچ طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے اور انڈین عسکری حکام نے بھی اپنے ’کچھ‘ طیاروں کے گرنے کا اعتراف کیا ہے تاہم کسی بھی انڈین عہدیدار نے ابھی تک درست تعداد نہیں بتائی۔
خیال رہے کہ اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک ہولناک حملہ ہوا جس میں 26 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ حملہ آوروں کی شناخت نہ ہو سکی، تاہم بھارت نے روایتی انداز میں بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔ پاکستان نے بھارتی الزامات کو نہ صرف سختی سے مسترد کیا بلکہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش بھی کی۔
امریکہ نے پہلگام واقعے کی مذمت تو کی، مگر بھارت کی جانب سے پاکستان پر عائد الزامات کی حمایت کرنے سے گریز کیا، جس سے واضح اشارہ ملا کہ عالمی برادری بھارتی مؤقف کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
تاہم طاقت کے زعم میں مبتلا بھارت نے سات مئی کو اچانک پاکستان پر جنگ مسلط کر دی۔ حکومتی اور عسکری مؤقف کے مطابق پاکستانی فضائیہ نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے چار رفال سمیت بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے۔ یہ واقعہ بھارت کے لیے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی طور پر بھی ایک بڑی شکست ثابت ہوا۔ بھارت تاحال ان طیاروں کی تباہی کی تصدیق سے گریز کرتا رہا ہے۔
سات مئی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو گیا جس میں دونوں جانب سے فائٹر طیاروں، ڈرونز، اور آرٹلری کا استعمال ہوا۔ اس جنگ میں بھارت کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ بالآخر امریکا کی ثالثی کی درخواست پر مجبور ہوا۔
Like this:
Like Loading...