Skip to content
سی ایم یوگی ٹھاکر کودلت سی ایم او نیمی نے جھکا دیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اتر پردیش میں جب سے یوگی ٹھاکر وزیر اعلیٰ بنے ہیں ہر راجپوت اپنے آپ کو ریاست کا آقا سمجھتا ہے اور ٹھاکر سرکاری افسران کو اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھتے ہیں؟ ان کی نظر میں قانون ، ضابطہ اور اپنے تحت کام کرنے والا سرکاری عملہ یا عوام کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ وہ اپنے قائد یوگی ادیتیہ ناتھ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بے دریغ من مانی کرتے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی مثال کانپور کے ڈی ایم جتندر پرتاپ سنگھ کا 16 جون کو ڈاکٹر ہری دت نیمی کو معطل کرنا تھا ۔ جس وقت انہوں نے پنگا لیا تو سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یوگی کی پشت پناہی عدالت میں بےسود ہوجائے گی اور ناک رگڑکراپنا فیصلہ بدلنا پڑے گا ۔16؍ دسمبر 2024 کو ڈاکٹر ہری دت نیمی کا کانپور چیف میڈیکل افسر کے طور پر تقرر ہوا تھامگر اس کے 32 ہی دن بعد وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جتندر پرتاپ سنگھ کے عتاب کا شکار ہوگئے ۔ڈاکٹرنیمی کو ملازمت سے نکالا نہیں گیا بلکہ لکھنو میں تبادلہ کردیا گیا ۔ اس کے بعد انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ کیا فرق پڑتا ہے؟ تنخواہ تو جاری ہے اور ویسے بھی یوگی راج میں انصاف کہاں ملتا ہے اس لیے چپ چاپ اس زیادتی کو برداشت کرکے سکون کی زندگی گذارو۔
ڈاکٹر نیمی لکھنو تو گئے مگر اپنے نئے دفتر نہیں بلکہ الہ باد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ میں تاکہ اپنی معطلی کو رد کروا سکیں ۔ عدالتِ عالیہ نے پایا کہ بغیر کسی تفتیش کے آناً فاناً ان کو معطل کرکے تبادلہ کیا گیا ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے ضابطے اور قانون کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا اس لیے ہائی کورٹ نے ڈاکٹر نیمی کےتبادلے پر روک لگا دی ۔ یہ حق بجانب فیصلہ یوگی سرکار کے گال پر ایک زور دار طمانچہ تھا اس لیے اس کو ماننے سے انکار کردیا گیا ۔ انتظامیہ کے اندر یہ ہمت نہیں تھی کہ اس کے خلاف عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرتی ۔ اس نے من مانی کرتے ہوئے کانپور سی ایم او کی کرسی پر ڈاکٹر اودے ناتھ کو بیٹھا دیا ۔ 8؍ جولائی سی ایم او دفتر میں عجیب منظر تھا جہاں بیک وقت ایک ہی عہدے پر دو افراد فائز تھے ۔ ایک کو عدالت نے بحال کیا تھا اور دوسرے کو ڈی ایم کے ذریعہ یوگی سرکار نے مسلط کیا تھا ۔ پولیس چونکہ حکومت کے اشارے پر کام کرتی ہے اس لیے اس نے ڈاکٹر ہری دت نیمی کو بلا اپیل ودلیل و وکیل دفتر سے باہر نکال دیا ۔
یوگی سرکارکا یہ اڑیل رویہ اور پے درپے دوسری غلطی اس کی زبردست رسوائی کا سبب بنی ۔ ڈاکٹرہری دت نیمی حوصلے بلند تھے کیونکہ اس سے قبل وہ عدالتی کامیابی کا مزہ چکھ چکے تھے ۔ اس بار وہ عدالت عالیہ میں پہنچے تو خود اسی کو فریق بنالیا ۔ انہوں نے اس زیادتی کو اپنی ہتک بتا نے کے بجائے توہین عدالت کے طور پیش کیا کیونکہ ان کے ساتھ زیادتی کرنے کے لیے عدالتی فیصلے کو پامال کیا گیا تھا ۔ اس طرح گویا انہوں نے خود کو کنارے کرکے حکومت اور عدالت کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کردیا۔ 14 جولائی کو الہ باد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کے سامنے یہ توہین عدالت کا مقدمہ درج ہوا اگلے دن عدالت اس کی سماعت کے لیے 17؍ جولائی کی تاریخ طے کرتے ہی یوگی انتظامیہ کی عقل ٹھکانے آگئی۔ ہندی زبان میں اسے ’بیل بدھی‘ یعنی سانڈ کا دماغ کہتے ہیں جو چابک کھانے سے قبل کوئی بات نہیں سمجھتا ۔
عدالت کی سماعت سے قبل محکمۂ صحت کو ہوش آیا اور اس نے 16؍ جولائی کو ہی ڈاکٹر اودے ناتھ کا تبادلہ کرکے معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی مگر دیر ہوچکی تھی ۔ سرکاری وکیل کو یہ توقع رہی ہوگی کہ جب عدالت میں کو بتایا جائے گا کہ ڈاکٹر ہری دت نیمی کا عہدہ بحال کیا جاچکا ہے تو بات بن جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا ۔کورٹ نے توہین عدالت معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ڈاکٹر نیمی کی معطلی پر کارروائی کرنے سے روک کے باوجود انہیں ہٹانے پر ریاستی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ اسی کے ساتھ یہ تبصرہ کرکے حکومت کے خون کا دباو بڑھا دیا کہ پہلی نظر میں یہ توہین عدالت کا معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ عدالت نے اگلی سماعت یعنی 28 ؍ جولائی تک ریاستی حکومت کو سارے متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ڈاکٹر ہری دت نیمی کی ملازمت بحال ہوچکی ہے ۔ وہ محکمے کے سربراہ ہیں اور ان کی موجودگی میں سرکار کاغذات کے اندر کوئی خرد برد نہیں کرسکتی ۔
یہ تنازع ہلکی آنچ پر چل رہا تھا مگر امسال 5؍فروری(2025) کو اچانک طیش میں آکر کانپور کے ڈی ایم جتندرپرتاپ سنگھ نے اچانک سی ایم او دفتر پر چھاپہ مار دیا ۔ یہ در اصل بلڈوزر ذہنیت کا اثر ہے جو آو دیکھتی ہے نہ تاو بلکہ جو من میں آئے کر گذرتی ہے۔ اس وقت دفتر کے اندر سی ایم او سمیت 34؍ افسران اور عملہ غیر حاضر تھا ۔ اس پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سی ایم او دفتر کو نوٹس دے کر تفصیل طلب کی جاتی لیکن ڈی ایم صاحب نے تحریری جواب طلب کرنے کے بجائے نمود و نمائش کی خاطر ویڈیو جاری کردی ۔ اس سےان کی نیت کا فتور ظاہر ہوتا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ بالکل یوگی کے انداز میں فرماتے ہیں حاضری رجسٹر میں نام لکھے ہونے کے باوجود جو لوگ غیر حاضر ہیں ان کی ایک دن کی تنخواہ روک دی جائے۔ ایسا کہیں نہیں ہوتا ممکن ہے کوئی دفتری کام سے باہر گیا ہو بصورتِ دیگر چھٹیوں میں سے ایک دن کاٹا جاسکتا ہے۔ تنخواہ کٹوتی کو نوبت تو اسی وقت آتی ہے جب کوئی اور چارۂ کار نہ ہو لیکن مغرور دماغ کی نیت اگر دوسروں کو حقیر سمجھ کر رسوا کرنےکی ہو تو یہ موٹی سی بات کیونکر سمجھ میں آسکتی ہے؟
ڈی ایم اپنی اس حرکت سے پہلے بھی چونکہ کئی بار محکمۂ صحت کے تحت کام کرنے والے سی ایچ ایس اور پی ایچ ایس کی کوتاہیوں کو اجاگر کرتے رہے ہیں اس لیے سی ایم اور اس احمقانہ فرمان کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس طرح جب معاملہ طول پکڑ گیا تو ڈی ایم نے 15؍اپریل کو 2025 کو سی ایم او کے تبادلے کی سفارش کردی ۔ اس کی بنیادی وجہ دفتری بے ضابطگی نہیں تھی بلکہ جے ایم فارما نامی ایک بدنامِ زمانہ کمپنی کی ادائیگی کو روکنا تھا جس کے لیے اعلیٰ افسران مسلسل سی ایم او پر دباو ڈال رہے تھے۔ ڈاکٹر ہری دت نیمی اس ادائیگی کو روک رہے تھے کیونکہ اس کی بدعنوانی پر سی بی آئی فردِ جرم داخل کررکھی ہے۔ جے ایم فارما کی کمیوں اور کوتاہیوں کو اجاگر کرنے والی 125؍ صفحات پر مشتمل رپورٹ محکمہ میں موجود ہے۔ اتر پردیش میں یوگی ادیتیہ ناتھ کے ساتھ دو عدد نائب وزرائے اعلیٰ بھی ہیں ۔ ان میں سے برجیش پاٹھک ڈاکٹر ہیں اس لیے صحت کا محکمہ انہیں کے تحت آتا ہے مگرٹھاکر وزیر اعلیٰ کے دم پر راجپوت ڈی ایم اچھل کود کررہے تھے بعید نہیں ان میں سے کسی کی بدنام زمانہ فارما کمپنی سے سانٹھ گانٹھ ہو ۔ اس طرح تنازع میں بدعنوانی اور ذات پات کا زاویہ آجاتا ہے۔
ڈاکٹر ہری دت نیمی نے جب یہ دیکھا کہ ان کے تبادلے کی خاطر سیاسی رسوخ کا استعمال کیا جارہا ہے تو انہوں نے بھی لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ریاستی اسمبلی کے اسپیکر ستیش مہانا سے شکایت کی ۔ 11؍جون کو مہانا نے ڈپٹی وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک کو خط لکھ کر کہا چونکہ سی ایم او کا برتاو اپنے افسران اور عوام کے ساتھ اچھا ہے اس لیے ان کا تبادلہ روکنے پر غور کیا جائے۔ اس کے بعد بی جے پی کو دو اور ارکان اسمبلی ڈاکٹر نیمی کی حمایت میں آگئے۔ ارون پاٹھک اور سریندر میتھانی نے بھی اپنے خطوط یوگی ادیتیہ ناتھ کو نہیں بلکہ برجیش پاٹھک کو لکھے کیونکہ وہی اس شعبے کے نگراں ہیں۔ یہ دیکھ کر ٹھاکر لابی کو بھی جوش آیا ۔ 16؍جون کو بی جے پی رکن اسمبلی ابھیجیت سنگھ نے سی ایم او پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے متعلقہ برہمن وزیر ڈاکٹر برجیش پاٹھک کے بجائے اپنی برادری کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ دیا ۔ اسی طرح مہیش ترویدی نے بھی ڈاکٹر نیمی کے خلاف خط لکھ دیا اور یہ لڑائی ذات پات کی جنگ بن گئی ۔
اس سیاسی خطوط بازی کے دوران کچھ میڈیا میں آڈیوز لیک ہوگئیں ۔ ان میں سے ایک میں ڈی ایم کو سی ایم او کا ڈرائیور بدعنوان کہتا سنائی دیتا ہے ۔ اس کے بعد13؍جون کو خود ڈاکٹر نیمی کی ایک آڈیو سامنے آجاتی ہے جس میں وہ کہتے ہیں ڈی ایم ڈھول زیادہ بجا رہا ہے۔ نشستوں کو غیر ضروری کہانیوں سے طول دے کر بیجا تبصرے کرتا ہے۔ یہ باتیں خواتین اہلکاروں پر گراں گزرتی ہیں اس لیے بعید نہیں کہ کوئی خاتون افسر اس کے خلاف بدتمیزی کر بیٹھے۔ ڈاکٹر نیمی نے اس کو اے آئی سےگھڑی ہوئی فیک آڈیو بتاکر مسترد کردیا لیکن یہ وضاحت جتندر پرتاپ کے گلے سے نہیں اتری۔ ڈی ایم نے سی ایم کی ڈیش بورڈ کے جائزے کی نشست سے سی ایم او کو ہاتھ پکڑ کر باہر کردیا۔ یہ سراسر توہین آمیز رویہ تھا ا ور اس کے دو دن بعد ہی سی ایم کو او معطل کیا گیا لیکن ڈاکٹر ہری دت نیمی نے اس کے خلاف جدوجہد کر کے ایک مثالی کامیابی حاصل کی ۔ اس کا سبق یہ ہے کہ انسان اگر مایوس ہوئے بنا ہمت سے کام لے زیادتی کے سامنے سپر ڈالنے کے بجائے ڈٹ جائے تو نامساعد حالات میں بھی کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...
بہت خوب
Rss headquarters k inauguration per ek article aya tha aap ka
Wo dubara padhna hai
آر یس یس کے ہیڈکوارٹر کے افتتاح پر ایک
مضمون آیا تھا اپکا اسے دوبارہ مجھے شیر کریں، پلیز