Skip to content
داستان سب رس میں کلاسیکی عناصر
—-
از قلم :ڈاکٹرصدیقی نسرین فرحت ولی محی الدین
مہاراشٹر
اردو ادب میں داستان مشہور و معروف صنف ہے۔داستان فارسی زبان کا لفظ ہے۔جس کے لغوی معنی طویل قصہ کہانی کے ہیں۔کہنے کی چیز کو کہانی کہتے ہیں۔اس کے معنی بھی کہنا ہےاور بیان کرنا ہے۔داستان کہانی کی سب سے اولین اور قدیم قسم کی صنف ہے۔جس کی بنیاد تخیل،رومان اور ماقوق الفطرت عناصر پر ہوتی ہے۔داستان مشہورصنف ادب ہے۔داستان کے لغوی معنی قصہ، حکایت یا کہانی کے ہیں۔ادبی اصطلاح میں داستان سے مراد وہ قصہ ہے جس میں طلسمی،واقعات ،غیر معمولی،ماحول،تخیلاتی،شخصیات،عجیب و غریب ماقوق الفطرت اس میں کثرت سے ہوں اور پورا قصہ انسان کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
داستان کئی قسطوں پر مشتمل ہوتی ہے۔جو اپنی جگہ ہوتے ہیں۔داستان محبت مہم اور سحر و طلسم جیسے غیر معمولی عناصر پر مشتمل ہوتی ہے۔مصنف کےآزاد اور زرخیز تخیل کی تخلیق ہوتی ہے۔داستان کا رشتہ ماضی سے مضبوط ہوتا تھا اور حال اور مستقبل کے لیے اس سے کوئی روشنی نہیں ملتی تھی۔ڈاکٹر وقار عظیم نے اپنی کتاب میں "داستان سے افسانے تک”میں لکھتے ہیں کہ:
” داستان پڑھنے والوں کے لیے ایسی تفریح, دلچسپی اور ذہنی انبساط کا سرمایہ مہیا کرتی ہے۔جس میں منطق اور استدل کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔اس رنگین و حسین وہ جمیل اور پرکشش دنیا کی تشکیل و تعمیر،داستان کے فن کی روایت کا حصہ ہے۔اور اپنی روایت کی دلکشی سے وہ قاری کے دل کو موہ لیتا ہے۔اور یوں داستان کے اس فنی منصب کی تکمیل ہو جاتی ہے۔
**اردو میں داستان کی تاریخ:-
اردو میں داستان کی تاریخ بہت قدیم ہے۔اٹھارویں صدی سے لے کر 20 صدی تک اردو میں کئی شہرہ افاق طویل اور مختصر داستانوں نے اردو نثر کو منور اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔داستان کا اغاز دکن سے ہوا۔اردو کی سب سے پہلی داستان ملا وجہی کی "سب رس” ہے. جو 1745 عیسوی میں لکھی گئی ہے. جس کا موضوع حسن و عشق ہے لیکن دراصل یہ ایک تمثیل ہے. جس کی بنیاد اب حیات کی تلاش پر رکھی گئی ہے اور یہ قصہ فارسی زبان سے ماخوذ ہے۔جبکہ نقاد ادب اردو کی پہلی داستان اور باقاعدہ میر حسن عطا تحسین کی "نوطرز مرصع "کو قرار دیتے ہیں. جو قصہ چار درویش کا اردو ادب میں ہے ۔زیادہ تر داستانیں 19 ویں صدی میں لکھی گئی ہیں۔داستان میں ماضی کے واقعات،تجربات دوسروں تک پہنچانے کا جذبہ ہی کہانی کا اصل محرک ہے۔انسان جب گزرے ہوئے واقعات یا تجربات میں دوسروں کو شریک کرتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ واقعات کو ایسے دلچسپ اور موثر طریقے سے بیان کر کے سننے والوں کے دل و دماغ پر ایسے ہی اثرات مثبت ہوں واقعات کو دلچسپ انداز سے پر اثر ڈھنگ سے پیش کرنا ہی کہانی کا جوہر ہے اور اس کی کامیابی کی کنجی ہے۔ اس کے نتیجے میں کہانی نے دور قدیم سے لے کر اب تک مختلف صورتیں اختیار کی ہیں۔ کہانی کی ایک قدیم صورت حکایت ہے۔ حکایت کہانی کو کہتے ہیں۔ جس میں اخلاقی درس کا پہلو نکلتا ہو اور مصنف نے اخلاقی تلقین کے مقاصد سے اسے لکھا ہو حکایت کی صورت تو وہ ہے۔ جس میں انسانی زندگی کے واقعات سے ہی کوئی اخلاقی نتیجہ نکالا گیا ہے اور دوسری وجہ مصنف جانوروں کی کہانی بیان کر کے انہیں انسانی صفات سے مصنف اخلاقی تعلیم دینا چاہتا ہے ۔اردو میں ابتدا ءہی سے اس قسم کے بہت سی حکایتیں ملتی ہیں۔
افسانوی ادب کی دوسری قسم تمثیلی کہانی ہے۔ اس کا مقصد بھی وہی ہوتا ہے جو حکایت کا ہے لیکن تمثیلی کہانی میں فرق ہے ۔تمثیلی کہانی میں اظہار بیان سے کام لیا جاتا ہے ۔اس میں موصوف سے براہ راست بحث کی جاتی ہے ۔استعارات کی اڑ لے کر مقصد کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس طرح انسان کے اخلاق اور جذبات کی اصلاح کا کام کیا جاتا ہے۔
ان کہانیوں میں عام طور پر غیر روح غیر ذی عقل اشیاء کو عقل روح کے بغیر اراستہ کر کے جانداروں کی طرح پیش کیا جاتا ہے ۔اردو میں سب رس اور نیرنگ خیال اس کی واضح مثالیں ہیں۔
داستان ایسی رومانی کہانی کو کہتے ہیں جس میں خیالی واقعات کا بیان،ماقوق الفطرت عناصر حسن عشق کی رنگینی،واقعات وحادثات کی بہتات پیچیدگی اور بیان کی لطافت ہو اور اس کا مقصد قاری کو مسرت کا سامان فراہم کرنا ہوتا ہے۔
داستان ایسے دور میں رواج پذیر ہوئی جو سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے زوال کا زمانہ کہلاتا ہے۔ کیونکہ اسے ایسے زمانے میں انسان زندگی کی ہمہ ہمی مستقل جدوجہد ناکامیوں نامرادیوں سے تنگ ا کر ایسے گوشہ عافیت کی تلاش کرتا ہے۔ جو اس کی روح کو اور دل کو تسکین پہنچا سکے جو اس کے خوابوں کی تعبیر اور شکستہ اوازوں کا مرہم ہو اور تھوڑی دیر کے لیے اسے دنیاوی تفکرات سے نجات دلا سکے۔
ملاو جہی کے حالات زندگی:-
اردو ادب میں ملاوجہی مشہور و معروف شاعر، نثر نگار،گزرے ہیں۔ان کی ولادت 1556 -1551 کے ما بین ہوئی تھی۔وفات 1756 میں حیدراباد میں ہوئی تھی۔ان کا اصل نام اسد اللہ تھا۔تخلص وجیہ وجیہی تھا۔وجہی نے اپنے مربی سرپرست سلطان محمد قلی کتب شاہ کی طرح بہت سے تخلص استعمال کیے تھے۔ان کا آبای وطن خراساں تھا۔ان کا ادبی سفر” قطب مشتری "یہ مثنوی دکن تلنگانہ میں لکھی گئی ہے. اس مثنوی میں ملاوجہی نے دکن کی بہت تعریف کی ہے۔ابراہیم قطب شاہ کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ملاوجہی نے گولکنڈا کے چار حکمرانوں کا زمانہ دیکھا تھا۔ان کی زندگی زریں دور محمد قلی قطب شاہ کا زمانہ حکومت تھا۔ملک شعرا اور بادشاہ کا منظور نظرفنکار بن چکے تھے۔و جہی کے استاد” روح الامین "تھے. ملاو جہی کی تصانیف:-
1-دیوان وجہی (فارسی کلام)
2-قطب مشتری مثنوی( دکنی شاعری)
3-سب رس(اردو کی پہلی داستان).
4-تاج الحقائق تصوف پر مشتمل نثری کتاب۔
4-ماہا سمیاہ پری رخ۔
**سب رس کلاسیکی عناصر:-
قطب شاہی دور کے ملک شعراء اردو نثراور شاعری میں دیکھ وقت اپنی خدمت پیش کر کے دکن کی شناخت کو پورے ہندوستان میں شہرت دلانے والا نثر نگار، شاعر،ملا وجہی ہے۔سلطان محمد قلی قطب شاہ،محمد قطب شاہ،عبداللہ قطب شاہ کے دور شاعر کو ملک شعراء کا خطاب سے نوازا گیا ہے۔اردو کی یہ پہلی نثری داستان ہے۔جو 1635 عیسوی میں تحریر کی گئی تھی۔ملا وجی نے مثنوی: قطب مشتری”تحریر کیا اور بادشاہ وقت اور مشتری کے عشق کی داستان کو نظم کی گئی ہے۔بادشاہ قطب شاہ۔شعر و ادب کے مداح تھے۔اور شاعری کی قدر افزائی کیا کرتے تھے۔
1-کی نسل سے وابستگی:-
سب رس اردو کی پہلی داستان ہے۔سبرست داستان تمثیلی انداز میں لکھی ہوئی ہے۔نثر میں مسجع و معافی ہے۔نثر سے ملاوجہی کی وابستگی درحقیقت بادشاہ وقت کی جانب سے عزت دے کر عشق کا قصہ بیان کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ملاو جہی نے دکنی نثرکو فروغ دیا۔بلاوا جی نے نثری داستان کی داغ بیل ڈالی۔اردو نثر اور داستان نویسی کی تاریخ میں اسے منفرد مقام حاصل ہوا۔
2-ملاوجہی کی دکن سے محبت:-
ملاو جہی نے پہلی مرتبہ دکنی شاعری کو فروغ دیا۔وطنیت کے جذبات کو اجاگر کیا۔تلنگانہ میں مسلم کلچر کو فروغ حاصل ہوا۔جس کی تعریف ملاوجہی نے ظاہر کی کہ دکن سے بے انتہاہ محبت ہے۔یہ شعر ملاحظہ فرمائیں۔
ڈھکن سا نہیں ٹھار سنسار میں
پنج فاضلاں کا ہے اٹھار میں
دکن ہے نگینہ انگوٹھی ہے جگ
انگوٹھی کو حرمت نگینے سے الگ
دکن ملک کوں دھن عجیب ماج
ہے
کہ سب ملک سر ہوں دکن تاج ہے۔
3-ملا و جی کی اسلامی کلچر سے وابستگی:-
ملا جہی نے مثنوی فطب مشتری اور سب رس میں حضرت علی کی مدح کی ہے۔چار خلفائے راشدین کی مدح کی ہے۔وجہی نے اسلام اور اسلام کے سربراہ اور اس کے کلچر کو اپنا رہنما بتایا تھا۔اسی لیے ان کی تصانیف میں اسلامی کلچر کی نمایاں جھلک نظر اتی ہیں۔اسلامی رواداری،ملنساری،خوش اخلاقی،ایثارو عزت،نفس کا پاک و لحاظ ملاوجہی کو بہت زیادہ تھا۔
4-سب رس میں تصوف کے مسائل:-
ملاو جہی نے سب رس میں ذات واحد،عشق و عقل،فراق،عرفان ،خدا کے جلوے اور خدا کی ذات نظر نہ انے کی راز جیسی باتوں کو بڑے شاعرانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ملا وجہی تصوف سے واقف تھے۔بلکہ انہوں نے سب رس میں عملی تصوف کی جلوہ گری کی تھی۔وجہی نے حضرت برہان الدین جانم کہ تصوف کے راز ظاہر کرنے کے لیے نثری دکنی رسالہ کلمۃ الحقائق تحریر کیا تھا۔اس کا تعلق مذہبیات اور روحانیت سے تھا۔ سب رس میں تصوف کے مسائل پیش کیے ہیں۔
5-سب رس میں انشائیہ نگاری:-
ملا وجہی نے عقل کی فضیلت کے بارے میں انشائیہ تحریر کیا ہے۔کل سے ہی روشن ممکن ہے۔اور عقل کی وجہ سے انسان کی پہنچ دور دور تک ہوتی ہے۔ عقل سے ہی نئی چیز معلوم ہوتی ہے۔چ انسان کی پہچان عقل سے ہے۔عقلمندی ہی کی وجہ سے خدا کو حاصل کرنا ممکن ہے۔ عقل کے ذریعے ہی انسان میں تمیز اتی ہے۔وہ بھلے اور برے کی تمیز کر سکتا ہے۔عقل کے ذریعے ہی اپنے اور غیر کو پہچاننا ممکن ہے۔عقل ہی سے انسان کی سرداری ہے۔برتری ہے۔عقل کی بنیاد بادشاہ اور وزیر پر منتخب ہوتے ہیں۔عقل سے دنیا دولت حاصل کرنا ممکن ہے۔بادشاہ کی سلطنت بھی عقل کی بنیاد پر چلتی ہے۔ساری دنیا کی ترقی کا دارومدار عقل پر ہے۔اس لیے انسان عظیم الشان کہلاتا ہے۔اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔
-6 سب رس میں پندونصایح:-
سب رس میں جھوٹ نہ بولنے،ح ہر حال میں خوش رہنے،تلمح سے پرہیز کرنے نیکی کرنے،ماں باپ کی عزت کرنے،جلد بازی سے پرہیز کر نے،غرور سے دوری،صبر و شکر سے کام لینے کی ترغیب جیسے پندو نصائح سب رس میں نمایاں ہیں۔
-7 سب رس میں ماقوق الفطرت عناصر۔
سب رس اس داستان کو عناصر کا درجہ دیا گیا ہے۔اس میں کردار،جن، پری ،دیو ،راکش، ہیں۔
سب رس میں ایسے عوامل کار فرما ہیں۔نظر کا دیدار شہر میں رقیب کے روبرو غائب ہو جانا۔مٹی سے سونا بنانے کا گر، شہزادی حسن کی انگوٹھی کے نگ میں دل کی تصویر برائے سیفی دعا پڑھنے کا لشکر کا ہرن بن جانا۔رقیب کی بیٹی کا سحر دل کو چاہ زتن قیدکرنا۔یہ تمام عناصر سب رس میں ماقوق الفطرت عناصر کی نمائندگی کرتے ہیں۔اور اندازہ ہوتا ہے کہ ماقوق الفطرت عناصر کی وجہ سے سب رس داستان کو سرگشت میں شامل کیا جاتا
8- سب رس کا اسلوب:-
سب رس میں ملاو جی نے مسجع ومفعی اسلوب کا استعمال کیا ہے۔قافیہ جملے،تشبیہ استعارے،مقولے حدیث،ایت اور ضرب المثال ملاوجی نے نثر و عبارت ہے۔ اس کے اسلوب حدیث ایات ضرب الامثال وجی کی نثر عبارت ہے۔سب رس میں ہندی فارسی اور عربی زبان کے الفاظ اپنی پوری معنویت کے ساتھ دکھاتے ہیں۔ان زبانوں کے ضرب المثال مقولوں،کہاوتوں،اشعار دو ہوں کے استعمال کے ذریعے حسن اور زور پیدا کرتا ہے۔سب رس میں دکنی اسلوب استعمال کیا ہے۔اس میں اظہار اور معنویت کی تمام تر چاشنی موجود ہے۔اس لیے سب رس کے اسلوب ہر حال میں سراہا گیا ہے۔
Like this:
Like Loading...