Skip to content
مقام حضرت امیر معاویؓہ
ازقلم:مفتی حسین احمد حسامی M.a B.Ed
صدرمدرس مدرسہ عربیہ کاشف العلوم و خطیب مسجد تحصیل کاماریڈی
mail:hussainhussami55@gmail.com
9030342623
جلیل القدر صحابی حضرت معاویہ ؓ عالم اسلام کی ان چندگنی چنی ہیستیوں میں سے ایک ہیں جن کے احسان سے یہ امت کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتی، ان چند کبار صحابہ میں ہیں جن کو سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت میں مسلسل حاضری ، اور حق تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ وحی کو لکھنے کا شرف حاصل ہے ، پھر آپ اسلامی دنیا کی وہ مظلوم ہستی ہیں جن کی خوبیوں او ر ذاتی محاسن وکمالات کو نہ صرف نظر انداز کیاگیا بلکہ ان کو چھپا نے کی پیہم کوششیں کی گئیں ، آپ پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ، آپ کے متعلق ایسی باتیں گھڑی گئیں اور پھیلائی گئیں جن کا کسی عام صحابی سے تو درکنار کسی شریف انسان سے بھی پایا جانا مشکل ہے ۔
حضرت معاویہ ؓ کے خلاف شد ومد کے ساتھ پروپیگنڈہ کا طوفان کھڑا کیا گیا ، جس کی وجہ سے آپ کا وہ حسین و ذاتی کردار نظروں سے بالکل اوجھل ہوگیا، جس کو آپ ﷺ کےفیض صحبت نے پیدا کیا تھا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج دنیا حضرت معاویہؓ کو بس جنگ صفین کے قائد کی حیثیت سے جانتی ہے جو حضرت علیؓ کے مقابلہ کے لئے آئے تھے ، لیکن وہ حضرت معاویہؓ جو آپ ﷺ کے منظورِ نظر تھے جنہوں نے ایک سال تک آپ ﷺکے لئےکتابت وحی کےنازک فرائض انجام دئےہیں ، آپ ﷺ سے علم و عمل کے لئے بہترین دعائیں لیں ، جنہوں نےحضرت عمرؓ جیسےخلیفہ کے زمانہ میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کالوہا منوایا ، جنہوں نےتاریخ اسلام میں سب سے پہلا بحری بیڑہ تیار کیا ، اپنی عمر کابہترین حصہ رومیوں کے خلاف جہاد میں گذارا ، اور ہر بار ان کے دانت کھٹے کئے ، آج دنیا ان کے ان لازوال کار ناموں کو فراموش کر چکی ہے ، لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ وہ ہیں جن کی حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ ہوئی تھی ، لیکن یہ نہیں جانتےکہ قبرص ، روڈس صقلیہ اور سوڈان جیسے اہم ممالک کس نےفتح کیا ؟ سالہاسال باہمی خلفشار کے بعد عالم اسلام کوپھر سے ایک جھنڈے تلے کس نےجمع کیا ؟ جہاد کا جو فریضہ تقریباً متروک ہوچکاتھا اسے از سر نو کس نےزندہ کیا ؟ اور اپنے عہد حکومت میں نئے حالات کے مطابق شجاعت و جواں مردی ، علم وعمل ، حلم و بردباری ، امانت و دیانت کے ساتھ نظم وضبط کی بہترین مثالیں کس نے قائم کیا ؟ یہ ساری باتیں وہ ہیں جو پروپیگنڈ کی دبیز تہ میں چھپ کر رہ گئی ہیں ، اس مختصرمقالہ میں حضرت معاویہؓ کی زندگی کے ان ہی حسین پہلوؤں اور آپ ﷺ کےساتھ تعلق ولگاؤ اور صحابہ و تابعین کی نظرمیں مقام و مرتبہ کو سامنے لانامقصود ہے ، جوتاریخ کے ملبہ میں دب کر آج نگاہوں سےبالکل اوجھل ہوگئے ہیں ، ان کےپڑھنے اورسننے سے حضرت معاویہ ؓ کے کردار کی ایسی تصویر سا منے آجائےگی جوہرلحاظ سے دل کش و حسین ہے ، امید ہے کہ قارئین اس تصویرمیں تاریخ اسلام کےاس عظیم صحابی کےکردارکی ایک دل آویز جھلک ضرور پائیں گے ۔
حضرت امیر معاویہؓ عرب کے مشہور قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے ، جو اپنی شرافت ونجابت اورجودو سخا میں پورےعرب میں ممتازحیثیت کا حامل تھا ، اسی میں آقا ئے دوجہاں ﷺ مبعوث ہوئے ، قریش کی شاخ بنو اُمیہ سے تعلق رکھتے تھے جو بنوہاشم کےبعد سب سے معزز قبیلہ تھا ، حضرت معاویہ ؓ کے والد ماجد حضرت ابوسفیانؓ قریش کے سرداروں میں تھے ، فتح مکہ کے دن اسلام لائے ، جس سےآپﷺکوبہت مسرت ہوئی اور آپ نے اعلان فرمایا کہ جوبھی ابوسفیان کےگھرمیں داخل ہوگا وہ مامون ہے ، قبل ازاسلام بھی آپ اعلی صفات کے مالک اور اخلاق کریمانہ کے حامل تھے ، ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں’’ وکان رئیساًمطاعاً ذامالٍ جزیلٍ‘‘ آپ اپنی قوم کے سردار تھے آپ کے حکم کی اطاعت کی جاتی تھی اور آپ کا شمار مال داروں میں ہوتا تھا (ابن کثیر البدایہ والنہایہ ص ۲۱جلد نمبر۸)پھر آپ ﷺ کی خدمت میں رہے غزوۂ حنین ویرموک میں شرکت کی ، یہاں تک کہ۳۱ھ میں آپ کا انتقال ہوگیا۔
حضرت معاویہؓ اُن ہی کے فرزند ارجمند تھے ، بعثت نبوی سے پانچ سا ل قبل آپ کی ولادت ہوئی ، بچپن ہی سے آپ میں اولوالعزمی اور بڑائی کے آثار نما یاں تھے ، چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ نوعمر تھے ، ابوسفیان نے آپ کی طرف دیکھا اور کہنے لگے کہ میرا بیٹا قوم کا سردار بنے گا ، آپ کی والدہ ہندہ کہنے لگیں میں اپنی قوم کےلئیےاس پر روؤں اگر یہ پورے عالم کی قیادت نہ کرے ، ایک قیافہ شناس نے دیکھ کرکہا کہ یہ اپنی قوم کاسردار بنے گا ، ماں باپ نے آپ کی خاص تربیت کی ، مختلف علوم وفنون سے آراستہ کیا (علامہ ابن کثیر البدایہ والنہایہ ص۱۱۸جلد ۸)مشہورمؤرخ واقدمی لکھتے ہیں کہ آپ صلح حدیبہ کے بعد ہی ایمان لے آئے تھے مگر کچھ مجبوری کی بنا پر ظاہر نہیں کیا ؛بلکہ فتح مکہ کے دن ظاہر کیا ، یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بدر ، احد ، خندق اورحدیبیہ میں آپ کفار کی جانب سے شریک نہیں ہوئے ؛حالانکہ اس وقت آپ جوان تھے اور آپ کے والد ابو سفیان سپہ سالار کی حیثیت سے تھے ، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ اسلام کی حقانیت ابتداء ہی سے آپ کے دل میں گھر کرچکی تھی ۔
چنانچہ اسلام کے بعد آپ مستقلاً آپ ﷺ کی خدمت میں رہنے لگے ، وحی خداوندی لکھنے کی وجہ سے آپ کو کاتب وحی کہا جاتاتھا ، علامہ ابن حزمؒ رقم طراز ہیں کہ نبی کریم ﷺکے کاتبین میں سب سے زیادہ حضرت زید بن ثابت ؓ آپ کی خدمت حاضر رہے ، اس کے بعد معاویہ ؓ کا درجہ تھا ، کتابتِ وحی کا کام جتنا نازک تھا اور اس کے لئے جس احساسِ ذمہ داری ، امانت و دیانت اور علم و فہم کی ضرورت تھی وہ آپ میں بدرجۂ اتم پائی جاتی تھی ، آپ نبی کریمﷺکی خدمت میں مسلسل حاضر رہے ، کتابتِ وحی کی ذمہ داری پوری امانت داری ودیانت داری کے ساتھ انجام دی ، اسی لئے نبی کریم ﷺ نے متعدد بار آپ کودعائیں دی ہیں ، حدیث کی مشہور کتاب ترمذی شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺنے آپ کو دعاء دی اور فرمایا’’ اللٰھم اجعلہ ہادیا مہدیا واہدبہ‘‘ اے اللہ معاویہ ؓ کوہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنادیجئے ، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دیجئے ، نیز
حضرت معاویہ ؓ خودبھی بیان کرتے ہیں کہ ایک بارمیں نبی کریمﷺکے لئےوضو کا پانی لے گیا آپ نے وضو کرنے کے بعد میری طرف دیکھا اور فرمایا اے معاویہ ؓ اگر امارت کی ذمہ داری تمہارے سپرد کی جائے تو تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور انصاف کرنا ( ابن حجر الاصابہ ص۴۱۳ جلد ۳)ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ سواری پر سوارہوئے اور حضرت معاویہ ؓ کو اپنے پیچھے بٹھایا ، تھوڑی دیر بعد آپ ﷺ نے فرمایا اےمعاویہ ! تمہارے جسم کا کوئی حصہ میرے جسم کے ساتھ مل رہاہے ؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ میرا پیٹ اور سینہ آپ کے جسم مبارک کے ساتھ ملا ہواہے ، یہ سن کر آپ نے دعادی’’ اللٰھم املاہ علماً‘‘ اے اللہ اس کو علم سے بھردے ، ان روایات سے صاف واضح ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ ؓ کو دربارِنبوی میں کیا مقام و مرتبہ حاصل تھا ؟ اور آپﷺ ان سے کتنی محبت کر تے تھے ؟ اس کے علاوہ جلیل القدر صحابہ سے بھی متعدد اقو ال مروی ہیں ، جن سے ان کی نظر میں حضرت معاویہ ؓ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ، آپ کے متعلق حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ تم قیصر وکسریٰ اوران کی سیاست کی تعریف کرتے ہو حالانکہ تم میں حضرت معاویہ ؓ موجودہیں ، حضرت عمر ؓ کی نظر میں آپ کا مرتبہ و مقام اس سے واضح ہوتاہے ، اورآپ کو شام کاگورنر مقرر کرنا اور آخری عمر تک باقی رکھنا ، یہ آپ پر اعتماد کی دلیل ہے ، اور حضرت عثمان غنیؓ کوبھی آپ پرمکمل اعتماد تھا ، اور تمام اہم معاملات میں آپ سے مشورہ لیاکرتے تھے ، شام کی گورنری کے ساتھ ساتھ بعض دوسرے علاقے اردن ، حمص ، اورفلسطین وغیرہ بھی آپ کی ماتحتی میں دے دیئے ۔
حضرت عثمان غنی ؓ کے شہید ہوجانے کےبعدحضرت علی کرم وجہہ اور حضرت معاویہ ؓ کے درمیان قاتلین عثمان ؓ سے قصاص لینے کے بارے میں اختلاف ہوگیا، مگر دونوں جانب اختلاف کا منشاء دین ہی تھا اس لئے فریقین ایک دوسرے کے دینی مقام اور ذاتی خصائل و اوصاف کے قائل تھے ، علامہ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ حضرت علی ؓجب جنگ صفین سے واپس ہوئے تو فرمایا اے لوگو ! تم معاویہ ؓ کی گورنری اور امارت کو ناپسند مت کرو کیونکہ اگر تم نے انہیں گم کردیا تو دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گر یں گے جس طرح حنظل کاپھل اپنے درخت سے ٹوٹ کر گرتاہے (حافظ ابن کثیر البدایہ والنہایہ ص ۱۳۱جلد نمبر ۸میں ) خلفائے راشدین کے بعدصحابہ اکرام کی نگاہ میں حضرت معاویہ کی قدرو منزلت کچھ کم نہیں تھی ، حضرت عبّاس ؓ فرماتے ہیں کہ’’ انہ فقیۃ‘‘ یقینامعاویہ ؓ فقیہ ہیں اور کبھی فرمایا کہ’’ انہ قد صحب رسول اللہ ﷺ‘‘معلوم ہوا کہ صرف آپ ﷺکی صحبت کا شرف اٹھانا ہی اتنی بڑی فضیلت ہے کہ کوئی فضیلت اس کے برابر ہوہی نہیں سکتی ۔
ام المومنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان حضرت معاویہ ؓ کی بہن تھیں اس لئے حضرت معاویہؓ خال المومنین(پوری امت کے ماموں) ہوئے ، جس طرح اہل بیت اور ذوالقربیٰ سے محبت کرنا مومن پر فرض اور لازم ہے اسی طرح حضور ﷺ کے خسرواور برادر نسبتی اورسسرالی رشتہ داروں سےبھی محبت کرنالازم ہے ، ان سے کینہ و عداوت رکھنا حرام ہے ، ترمذی میں حضرت عمرؓکاقول ’’ لانذکروا معاویۃالابخیرفانی سمعت رسول اللہ ﷺیقول اللٰھم اہدبہ‘‘(جامع ترمذی ص ۲۴۷جلد نمبر ۲) حضرت معاویہ ؓ تابعین کی نظر میں بڑی فضیلت کے حامل تھے ، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے دورخلافت میں کسی کو کوڑا نہیں مارا مگر اس شخص کو آپ نے کوڑے لگائے جس نے حضرت معاویہؓ پر زبان درازی کی ، حضرت عبداللہ ابن مبارک سے کسی نے سوال کیا کہ حضرت معاویہ ؓ اور حضرت عمر بن عبد العزیز میں کون افضل ہیں ، اس سوال کوسنتے ہی عبداللہ ابن مبارک غصہ میں آگئے ، اور فرمایا تم ان دونوں کی نسبت پوچھتے ہو ، خدا کی قسم وہ مٹی جو نبی کریم ﷺ کے ہمراہ جہاد کرتے ہوئے حضرت معاویہ ؓ کی ناک کے سوراخ میں چلی گئی وہ حضرت عمر بن عبد العزیز سے افضل ہے ، اور پھر یہ حدیث پڑھ کر سنائی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے میرے اصحاب اوررشتہ داروں کوبرا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہے ، ابن خلدون لکھتے ہیں کہ حضرت معاویہ ؓ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے بحری بیڑہ تیار کیا اور آپ ﷺ کے اس حدیث’’ اول جیش من امتی یغفرون البحر قداوجبو ” (بخاری ص۴۱۰جلد نمبر۱) کے حقیقی مصداق ہیں ۔
حضرت معاویہ ذاتی نام نمود اور اقتدار کی خواہش کے لئے کبھی نہیں لڑرے ، اس کا اندازہ اس ایمان افروز خطاب سے لگایا جا سکتاہے جو حضرت معاویہ نے حضرت علی ؓ سے اختلاف کے دوران قیصر و روم کو تحریر فرمایا تھا ، روم کے بادشاہ قیصر نے عین اس موقع پر جب کہ دونوں کا اختلاف شباب پر تھا فائدہ اٹھانا چاہا ، اور شام کی سرحدوں پر لشکر کشی کا ارادہ کیا ، حضرت معاویہ کو اطلاع ملی تو آپ نے خط لکھا کہ مجھے اس بات کا علم ہوا ہےکہ تو سرحد پر لشکرکشی کرنا چاہتا ہے یاد رکھ ! اگر تو نے ایسا کیاتو میں اپنے ساتھی حضرت علیؓ سے صلح کر لوں گا اور ان کا جو لشکر تجھ سے لڑنے کے لئے روانہ ہوگا اس کے ہر اول دستے میں شامل ہوکر قسطنطنیہ کوجلا کر کوئلہ بنادوں گا ، جب یہ خط قیصر روم کے پاس پہونچا تو وہ باز آگیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ کفر کے مقابلے میں اب بھی ایک جسم و جان کی طرح ہیں اور ان کا اختلاف سیاسی لیڈروں جیسا نہیں ہے (تاج العروس ص۲۰۸جلد ۷)
ان فضائل و مناقب حضرت امیر معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنھم پر کوئی تبرہ کرتا ہےتووہ لعنت رب العالمین و رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابِ رسول اور ملائکہ کا موجب ہوگا ، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو عظمت صحابہ کا پیروکار بنائے ، ان کی روشناس راہ پر گامزن فرمائے ، آمین ۔
Like this:
Like Loading...