Skip to content
کل،آج اورکل
ازقلم:سید عباس، پونہ
ہمارا آج ہمارے کل میں پیوست ہو کر اپنی شناخت کھو چکا ہے۔ گذرا کل جو ہمارا ماضی کہلاتا ہے کیا وہ بدل سکتا ہے، پھر یہ لا حاصل کوششیں کیوں ہورہی ہیں؟ کیوں ہر کوئی چہار جانب سے ہم پر حملہ آور ہے۔ بے شک ہمارا ماضی نہایت شاندار رہا ہے۔ ہم ہماری تاریخ کے صفحات کو الٹتے ہیں تو بے شمار زمانہ ساز واقعات سے یہ کتاب سجی ہوئی نظر آتی ہے۔۔۔۔ باب اول سے اگر آغاز کریں تو ہماری چشم تصور اس دس سالہ مدنی ریاست کے سنہرے دور کو دیکھتی ہے جس سے تاریخ انسانی جگمگا اٹھی تھی ، ایک بے مثال حکومت !وہ نظام جس کی مثال آج تک بھی دنیا نہ پیش کر سکی ہے نہ پیش کر سکے گی ۔۔۔۔ پھر خلفائے راشدین کا طرز حکومت! اگر وہ اپنے وقت کے حاکم تھے تو کیا دنیا آج تک کوئی ایک ایسا حاکم پیدا کر سکی ہے جس نے ان کے نظام حکومت کے طرز پر حکومت کرنے کی کوشش بھی کی ہو !عالمی منظرنامے سے ہٹ کر اگر ہم صرف اپنے ملک کی بات کریں تو بے شک اس ملک میں ہم مسلمانوں کی شاندار تاریخ رہی ہے۔۔۔۔ پھر ماضی سے حال تک کا یہ سفر دشوار کیوں ہوتا جارہا ہے؟
ہم رہزنوں کو موردالزام ٹھہرائیں یا میر کارواں سے گلہ کریں؟ کسی بھی حکومت کا یہ فرض اولین ہوتا ہے کہ وہ فلاحی کاموں پر اپنی توجہ مرکوز کرے، بلکہ اسی کام کو فوقیت دے۔۔۔۔کوئی بھی حکومت اپنی کمزوریوں، بے راہ روی اور ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ملک کے ماضی کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کرسکتی اور نہ ہی اپنی عوام کے کمزور طبقات کے ساتھ نا انصافیاں روا رکھنے کا جواز پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن آج ہمارے ملک میں یہی تو ہو رہا ہے۔ ہماری تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا ہے ! امید کا ایک سیل رواں ہوتا ہے جس میں ہم بہتے چلے جاتے ہیں، نتائج سے بے خبر ، کبھی تیز تو کبھی سبک روی کا یہ سفر یا تو منزل کے قریب پہنچا تا ہے یا ہم راہ میں بھٹک کر رہ جاتے ہیں۔ اور ہاں حکمرانوں کے رویے بھی ان نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہ اپنے تکبر ، زعم ، عداوت و منافرت اور جھوٹے احساس برتری کی نمائش کی خاطر وہ سب کچھ کرتے چلے جاتے ہیں جن کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی موڑ پر ہمارا ماضی خبر دار کرتارہتا ہے کہ ہمیں کس راہ پر چلنا ہو گا، یوں ہمارا ماضی ہماری رہبری ہی تو کرتا رہتا ہے کہ ہم حال میں راہ بھٹک کر مستقبل کی منزل کو نہ گنوا بیٹھیں۔
کل یعنی ہمارا ماضی ۔۔۔ جو ہماری تاریخ ہے، اس کے دو رخ ہوتے ہیں، ایک روشن ، دوسرا تاریک! تاریخ کے اس سفر کے الگ الگ راستے ہوتے ہیں جن پر چل کر یہ ہم تک پہنچتی ہے۔ اول تو یہ سینہ بہ سینہ چلتی رہتی ہے۔۔۔ پھر ماضی کے دور میں حکمرانی کر رہے حکمراں اپنی تاریخ خود لکھواتے ہیں جو اس تاریخ سے مختلف ہو سکتی ہے جو سینہ بہ سینہ چلتی رہتی ہے۔۔۔ اور پھر ایک تاریخ وہ ہوتی ہے جو آج کے مورخ آنے والی نسلوں کی خاطر اپنی تحقیق اور آثارہ کو ائف کی بنیاد پر کتابوں میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں اگر تعصب کا چشمہ آنکھوں پر ہو تو پھر وہی ہوتا ہے جو آج کل اس ملک میں پچھلے چند برسوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔
اس ملک پر ایک لمبے عرصے تک مسلمانوں نے حکومت کی ہے ، حالانکہ ان مسلم حکمرانوں کی حکومتوں کو کسی بھی طور اسلامی حکومتیں نہیں کہا جاسکتا ، بے شک وہ حکمراں مسلمان تھے لیکن ان کا طرز حکومت بالکلیہ اسلامی طرز حکومت نہیں رہا۔ باوجود اس کے ان حکمرانوں نے اپنی بہتر حکمرانی، رواداری اور اچھے نظم ونسق سے ہمارے ملک کو دنیا میں ایک منفرد اور اونچا مقام عطا کیا تھا، امن و خوشحالی کا گہوارہ بنایا تھا۔ حالانکہ وہ زمانہ آج کی طرح ترقی یافتہ اور نت نئی سائنسی ایجادات سے آراستہ و پیراستہ نہ رہا ہو لیکن ان کے باقیات و آثار شاہد ہیں کہ انہوں نے مستقبل کی راہوں کی بنیادیں رکھیں تھیں ۔ اور آج بھی ان کے نقش قدم ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے ان کی حکومتوں کے کچھ تاریک پہلو بھی رہے ہوں ، ان کے طرز حکومت میں کچھ خامیاں بھی رہی ہوں۔ لیکن عالمی تاریخ گواہ ہے کہ اس وقت به حیثیت مجموعی دنیا میں ہمارے ملک کا اعلی و منفرد مقام رہا ہے۔
اسی لئے ہماری تاریخ کو مسخ کر آج ہمیں احساس کمتری میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ ہماری موجودہ پسماندگی اور ملک کی اکثریت کے سامنے پیش کی جارہی ہماری مسخ شدہ تاریخ کی وجہ سے آج ہمارے ملک کے موجودہ حکمرانوں کے لئے ہم مسلمان نہایت ہی آسان حدف بن کر رہ گئے ہیں۔ یہی ان کا موثر اور کارگر حربہ ہے جس سے وہ اپنے تمام مخالفین کوکمزور اور نا کام کر اپنی حکومت کو مستحکم رکھ سکتے ہیں۔ ہماری مسخ شدہ تاریخ ملک کی اکثریت کے دل ودماغ کوز ہر آلود کر رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ماضی قریب میں اس ملک کو اپنے ظالمانہ شکنجے میں جکڑنے والے انگریزوں سے انہیں کوئی تعرض نہیں ہے۔ تاریخ کی کتابوں سے ان صفحات کو گو یا حذف ہی کر دیا گیا۔ چونکہ ہم مسلمان خود اپنے آپسی تفرقے اور اپنی کوتاہیوں کی بدولت ان کے لئے آسان ہدف بن چکے ہیں ،لہذا ہماری درخشاں تاریخ کو تاریک تر بنا کر پیش کرنا ان کا پر اثر حربہ ہے کہ ہمیں نفسیاتی طور پر کمزور کرا کثریت کو اپنا ہمنوا بنایا جا سکے تاکہ ان کا غلبہ برقرارر ہے۔
حکام اور ان کے کارندوں میں اگر انسانیت کی ہلکی سی رمق بھی باقی ہو تو وہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہیں نہ کہ نفرت اور انتقام کی آگ ان کے مزاج کا حصہ ہوتی ہے۔ موجودہ حالات عدلیہ کے تبدیل شدہ مزاج کا شاخسانہ بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اکثر عدالتی فیصلے اکثریتی طبقے کی خوشنودی کے پیش نظر کئے جارہے ہیں تو پھر انصاف کے تقاضے کیوں کر پورے ہوں گے۔ اگر ان عدالتی فیصلوں کو انصاف کہا جائے تو پھر عدل عمر فاروق تو دور، عدل جہانگیری بھی اس پر ہنس رہا ہو گا۔ حکومتیں اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کی خاطر نہ صرف اپنی عوام کے کمزور طبقات کی تاریخ کو مسخ کرتی رہتی ہیں بلکہ من گھڑت اور مبنی بر جھوٹ واقعات کے سہارے عوام کو ان کے ماضی میں الجھا کر رکھتی ہیں، اس طرح ان کے مستقبل کی راہیں مسدود کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہوتی چلی جاتی ہیں۔ آج مسلمانان ہند کو پوری طرح الگ تھلگ کر دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں، بلکہ موجودہ حکومت اس میں کامیاب بھی ہو رہی ہے۔ اس مرحلے پر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ محض تیز وتند ہواؤں کو قصور وار مان کر خاموش نہیں رہا جا سکتا ، ہمیں اپنا چراغ جلائے رکھنے کی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی ۔ ہماری کوتا ہیاں ہی دشمن کو طاقت عطا کرتی ہیں۔ ہم پوری طرح انہیں مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے، اس میں ہم بھی قصور وار ہیں۔ بقول جگر مرادآبادی
وہ عالم ہے اب یارو اغیار کیسے
ہمیں اپنے دشمن ہوئے جارہے ہیں
حکمران طبقے کو بھی جان لینا چاہیے کہ اس ملک میں بسنے والی ساری قومیں قوس قزح کے رنگوں کی مانند ہیں ۔ ہم ان رنگوں کو جدا
جدا د یکھ تو سکتے ہیں لیکن انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتے کیوں کہ ان سارے رنگوں کا منبع سورج ہی ہے۔ اسی طرح اس ملک میں بسی قوموں کو باوجود ان کی جداجدا ز بانوں ، تمدن و معاشرت کے ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے۔اپنے شاندار ماضی کی حامل کسی قوم کا حال کیا اسقدر پژ مردہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے راستے پر آگے بڑھنے کی بجائے چلنے کا حوصلہ ہی کھو بیٹھے ؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کی نظروں میں ہم کیوں اسقدر بے وقعت ہو گئے ہیں۔۔۔۔اول تو ہم خودا پنی تاریخ بھلا بیٹھے ہیں یا پھر تاریخ سے ہی نابلد ہیں۔ ماضی اور حال میں ایک تسلسل ہوتا ہے جو مستقبل کی راہیں کھولتا ہے۔ یہ تسلسل کب اور کیسے منقطع ہوا اس کا ہمیں ہوش ہی نہیں ہے۔ ہمارے اطراف جال بن بن کر دیگر قو میں ہم پر حاوی ہوتی چلی جارہی ہیں اور ہم بغیر کسی مزاحمت کے ان کا آسان شکار بن رہے ہیں۔
ہمارے خلاف ہو رہی سازشوں کو نہ سمجھ پانا ہماری سادہ لوحی کی دلیل نہیں بلکہ ہمارے اسلاف کی فہم وفراست اور میراث کو تکیہ بنا کر غفلت کی نیند میں پڑے رہنا ہمارا مزاج بن گیا ہے۔ اگر کہیں مزاحمت ہوتی بھی ہے تو حکمت کا دامن ہاتھوں سے چھوٹ جاتا ہے۔ حکمت سے عاری ذہن اپنی بے بضاعتی ،تنزلی اور بے وقعتی کے اسباب و علل پر غور کیوں کر کریں گے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ حالات راتوں رات نہیں پلٹتے اور یہ مشیعت الہی بھی نہیں ہے۔ یہی تو تاریخ کا سبق تھا جو ہم نہیں پڑھ سکے۔ ہم شریعت خداوندی کے سانچے میں خود کو ڈھالنے کی بجائے اپنی مرضی اور سہولیات کے مطابق اپنے اپنے سانچوں میں ڈھلتے رہے۔ مقاصد کا حصول آخر کن اصولوں کا مرہون منت ہوتا ہے؟۔۔۔ جو اللہ سے ڈرتے ہیں، اللہ تعالی کی نصرت ان کے شامل حال ہوتی ۔ پھر انہیں دنیا کی کوئی طاقت نیچا نہیں دکھا سکتی، اسی لئے تو ہمیں کفر و باطل کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہو جانا ہے ۔۔۔
بر ہنہ سر ہے تو عزم بلند پیدا کر
یہاں فقط سر شاہیں کے واسطے ہے کلاہ
لہذا ہمیں یہ بات اپنی گرہ میں باندھ لینی ہوگی کہ ہمارے مستقبل کا انحصار ہمارے حال پر ہوتا ہے کہ ہم وہ کس انداز میں گزار رہے ہیں، مستقبل کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ہمارا ماضی کتنا شاندار گذرا ہے۔۔۔ کاش کہ ہم اپنی زندگی اس انداز سے گذار رہے ہوتےکہ وہ کئی لوگوں کی زندگیاں بن جاتی ۔۔ مگر نہیں ، پدرم سلطان بود کے زعم میں ہماری ٹوٹ پھوٹ اور ہماری شکست وریخت آنکھوں سے اوجھل رہی اور ہم بکھرتے چلے گئے۔ تاریخ کا سبق صرف یہی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کریں، بلکہ ہم نے کیا نہیں کرنا چاہیئے یہ سبق بھی ہم اگر چاہیں تو بہت واضح انداز میں پڑھ سکتے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل اپنے مستقبل کے خوابوں کا بوجھ لے کر جی رہی ہوتی ہے ، اگر کسی کی جاگتی آنکھوں میں کوئی خواب ہی نہ ہو تو پھر ۔۔۔اس کا کوئی مستقبل بھی نہیں ہوتا ہے۔ انہیں یہ جان لینا ہو گا کہ اپنے بہتر مستقبل کی خاطر انہیں اپنا آج سنوار ناہی ہوگا۔ اور حکومت وقت انہیں ماضی کے گلیاروں میں بھٹکا کر ان کی آنکھوں سے ان کے خوابوں کو نوچ کر پھینکنے پر تلی ہوئی ہے۔ پچھلے چند برسوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہاں ظلم معمول بن گیا ہے اور پھر جب اس کے خلاف آواز اٹھانا ہی جرم قرار دیا جائے تو پھر ظالموں کا احتساب کیوں کر ہو گا ؟ ایسے میں ہم جو کہ ظلم کا شکار ہورہے ہیں، ہمیں چاہیئے کہ اپنی ایمانی قوت کو مضبوط کریں۔ مضبوط ایمانی قوت سے ہی اس ظلم کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
اور پھر یہاں صرف ہم ہی شکار نہیں ہیں، ہاں مظلوموں کی اس قطار میں سب سے آگے ہم ہی ہیں ۔ اس کے باوجود ہمیں چاہیئے کہ ہم
اوروں کی دادرسی کریں، ان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں کہ یہ وقت کی ضرورت ہے اور ہمارے ایمان کا تقاضہ بھی ہے۔ اللہ تعالی نے یہ زمین اس لئے نہیں تخلیق کی ہے کہ یہاں ظلم پنپتار ہے۔ ظلم کی آندھی چلتی ہے تو ہمیں حال کے راستوں پر چلنا دشوار لگتا ہے لیکن تابناک مستقبل تک پہنچنے کے لئے حال کی راہوں میں درپیش مشکلات سے ہو کر گذرنا ہی پڑتا ہے۔ مستقبل کی جستجو میں لگے رہنا اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ فطری جذبہ ہے بلکہ اسلام و انبیائے کرام کا پیغام بھی ہے! بہتر مستقبل کی منصو بہ بندی خالی امنگوں کی بجائے عملی اقدامات پر منحصر ہوتی ہے۔مستقل مزاجی سے مشکل اہداف کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے ہمارے رسول اقدس کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے۔
مستقبل کی منصوبہ بندی کی بنیاد مفید علوم ہی ہیں تا کہ ہم ہر مرحلے پر اس بات کا محاسبہ کر سکیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔مستقبل کی منصوبہ بندی سے ہمارے عزائم میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ مایوسی کے اندھیروں کے پرے ہی روشنی کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔۔۔ آپ نے بھی اپنی زندگی میں درپیش مشکلات اورا تار چڑھاؤ کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آپ کا اسوہ کیا ہمارے لئے مشعل راہ نہیں ہوسکتا کہ یہاں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔۔۔اس حقیقت کو یا تو ہم نے بھلا دیا ہے یا سہل پسندی کی وجہ سے ہم نے نظر انداز کر دیا ہے۔ حکومتوں میں چند معمولی اور نمائشی عہدوں کو ہم نے حاصل سمجھ لیا اور تعلیم و معیشت میں ترقی کو ثانوی درجہ د یا گیا، نتیجہ ۔۔۔ آج گندی بستیاں اور گندے محلے ہماری پہچان بن گئے ہیں۔ ان بستیوں میں ہوٹل اور چائے خانوں کی تو بھر مار ہے لیکن یہ بستیاں چھوٹی سی ہی سہی ایک لائبرری اور کتابوں کی ایک ایک دوکان کو ترستی رہتی ہیں گویا ہمارا پیٹ ہی ہماری سوچ کا محور بن گیا ہے۔ یہاں ہماری عید ین اور شادی بیاہ میں ہورہی خرافات کا ذکر بے سود ہے جو عام مسلمان کی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، تو پھر معیشت کی دوڑ میں ہانپنا ہمارا مقدرٹھہرا، اسی لئے معاشی میدان میں ہماری نمائندگی اور پہچان جیسے کہیں کھوگئی ہے۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے چند مفاد پرست لیڈروں کے پیچھے چلنا ہی گو یا ہماری سیاست کی معراج ہے۔ اس پر ستم ظریفی دیکھئے کہ عدلیہ اور انتظامیہ میں ہماری موجودگی کی اہمیت کو ہم سمجھ ہی نہیں پائے۔ حکومتوں کی سازشوں نے ویسے بھی ہمیں کبھی پالیسی ساز اداروں کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا اور ہم نے بھی کبھی اس کی پرواہ نہیں کی اور نہ کبھی ہمیں اس کی اہمیت کا احساس ہوا۔ اپنی بات اور اپنے جائز مطالبات کو قومی سطح پر پہنچانے کے ذرائع بھی ہم پیدا نہیں کر سکے ، ایسے میں ہم پر ہورہی نا انصافیوں کی دادرسی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ہمارے اسلاف کے عنایت کردہ وسائل کو تباہ کرنے میں ہم خود ہی پیش پیش رہے ۔ ہمیں اس کا بھی ادراک نہیں کہ آنے والا کل ہماری نسلوں کی بقا کا ضامن ہونا چاہیئے ۔ افراد کا مزاج ہی قوم کا مزاج ہوتاہے۔ بقول شاعر ۔
سب اپنے اپنے مسیحا کے انتظار میں ہیں
کسی کا جیسے زمانے میں اب خدا ہی نہیں
اللہ تعالی کی بندگی کے تقاضے کیا ہیں؟ ہماری ضرورت کی ہر چیز زمین کے اندر ہے، اور پھر زمین کو اس نے اپنے بندوں کے قدموں کے نیچےبچھا دیا ہے۔ کیا اس لئے کہ ہم عیش کوشی میں پڑے رہیں؟ اللہ کے بندے عیش وعشرت میں پڑ کر اپنے مقصد حیات کو
فراموش نہیں کرتے ۔ حضرت معاذ بن جبل جب یمن کے گورنر بنائے گئے تب ان کی روانگی کے وقت آپ نے اس بات
کی ہی تو تلقین فرمائی تھی۔۔ جب اعلی عہد یدار کے لئے یہ حکم ہے تو پھر ۔ ۔ ۔ کیا آج عالم اسلام کو اپنا محاسبہ نہیں کرنا چاہئے ؟ سہل
پسندی اور عیش کوشی کی وجہ سے ہماری صلاحیتیں زنگ آلود ہوگئی ہیں اور ہم دنیا کو دینے والے کی بجائے لینے والے بن کر رہ گئے ہیں۔ آنے والا دور مشکلات، آزمائشوں اور چیلینجیز سے بھر پور ہے۔ آج کے والدین کو چاہیئے کہ وہ اللہ سے عافیت مانگتے ہوئے اپنے بچوں کو مستقبل کے لئے تیار کریں۔ بچوں میں دینی و دنیوی علوم کے ساتھ تحمل و برداشت، اخلاق حسنه، رواداری ، تقوی اور فکر آخرت و وسعت قلبی جیسے اوصاف کی تخم ریزی اور آبیاری کریں۔
ملک کی منقسم آزادی کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم اس ملک کی ضرورت بن کر رہتے لیکن ایک مخصوص بیانیہ کے تحت ہمیں نہ صرف اس تقسیم کاذمہ دار ٹھہرایا گیا بلکہ اس ملک پر بوجھ قرار دیا جانے لگا اور ہم ہیں کہ آج تک اپنے کندھوں پر ملک کی تقسیم کی ذمہ داری کے بوجھ کو اٹھائے جی رہے ہیں اور حقائق تاریخ کی گمنام قبروں اور سمادھیوں میں دفن ہیں۔ کیا ہم اتنے ہی کند ذہن ہیں کہ مخالف طاقتوں کی سازشوں کا مسلسل شکار ہوتے چلے جارہے ہیں اور ایک قوم ہونے کے ناطے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کی بجائے پیر کھینچنے میں لگے ہوئے ہیں ، تو پھر ان دشوار گذار راہوں پر بطور ایک قوم ، ایک امت ہم کیوں کر آگے بڑھ پائیں گے ؟ ہاں ! کہیں سے ہمارے چند افراد کی نمایاں ترقی کی یکاد کا خبریں بے شک امید کے ٹمٹماتے چراغ کو روشن رکھے ہوئے ہے لیکن یہ صحرا میں بھٹک رہے پیاسے کے حلق میں ٹپکائی جارہی پانی کی چند بوندیں ہیں، قوم تو سراب کے تعاقب میں ہی ہے۔ ہمیں سراب نما رہنماؤں کی حقیقت کو پہچاننا ہوگا تب ہی ہم ہمارے قافلے کو بھٹکنے اور لٹنے سے بچا پائیں گے۔ سراب کی کوئی سچائی نہیں ہوتی ہے۔ ہمیں ۔۔۔۔ ریت نچوڑ کر ہی پانی حاصل کرنا ہوگا ، بقول شاعر ۔۔۔
پیاس کہتی ہے کہ چلوریت نچوڑی جائے
اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا
*****
Like this:
Like Loading...