Skip to content
صفر المظفر
حقیقت اور اسلامی تعلیمات
جمع وترتیب :مفتی محمد تمیم احمد قاسمی
خادم : ادارہ کہف الایمان ٹرسٹ
صفر اسلامی کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے،بدقسمتی سے، یہ مہینہ صدیوں سے مختلف توہمات اور بدشگونیوں کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے، خاص طور پر برصغیر پاک و ہند اور دیگر مسلم معاشروں میں، لوگ اسے بیماریوں، آفتوں اور نحوستوں کا مہینہ سمجھتے ہیں اور اس دوران شادی بیاہ یا نئے کاروبار جیسے اہم کاموں سے گریز کرتے ہیں، تاہم اسلامی تعلیمات میں اس طرح کی کسی بھی نحوست کا کوئی تصور موجود نہیں ہے،یہ مہینہ بھی باقی مہینوں کی طرح اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے اور اس کا اپنا ایک تقدس مقام ہے۔
صفر کا لغوی معنی
صفر کا لفظی معنی خالی ہونا یا زرد ہونا ہے، زمانہ جاہلیت میںجب لوگ اس مہینے میں سفر پر نکلتے تھے تو ان کے گھر خالی ہو جاتے تھے، اس لیے اسے صفر کہا جانے لگا، ایک اور رائے یہ بھی ہے کہ اس مہینے میں مکہ میں خوراک کی کمی (صفر) ہو جاتی تھی یا اس موسم میں پتوں کا رنگ زرد (صفر) ہو جاتا تھا، اس لیے اس کا نام صفر پڑا،تاہم، ان لغوی معانی کو نحوست سے جوڑنا قطعی طور پر غلط ہے۔ یہ محض لسانی اور موسمی تناظر سے متعلق ہیں۔ جاہل عربوں کا یہ خیال تھا کہ صفر کے مہینے میں جنات زمین پر پھیل جاتے ہیں اور بیماریاں عام ہو جاتی ہیں، اسی لیے وہ اس مہینے کو منحوس سمجھتے تھے۔ اسلام نے ان تمام توہمات کا سختی سے رد کیا۔
ماہ صفر کے بارے میں کچھ من گھڑت روایات
ماہ صفر کے بارے میں کچھ من گھڑت روایات عوام میں مشہور ہیں جو ماہ صفر میں لوگ ایک دوسرے کو میڈیا کے ذریعے بھیجتے ہیں مثلاًجو شخص مجھے ( یعنی بقول ان لوگوں کے حضور ﷺ کو ) صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوشخبری دے گا میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا۔
بڑے بڑے محدثین کے نزدیک یہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے اس کو حضور ﷺ کی حدیث کہہ کر بیان کرنا ، ایس ایم ایس کرنا ، نا جائز سخت گناہ ہے ۔
ماہ صفر اور تیزہ تیزی
بعض لوگ اس مہینے کو تیزہ تیزی کا مہینہ سمجھتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حضور ﷺ ماہ صفر میں بیمار ہوئے اور پھر مرض میں شدت اور تیزی آگئی اور آخر کار آپ ﷺ کا وصال ہو گیا اس لیے یہ مہینہ سب کے حق میں بھاری اور تیز ہو گیا ہے۔
ماہ صفر اور جنات کا آسمانوں سے نزول
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اس مہینے میں لنگڑے لولے، اندھے جنات آسمان سے اترتے ہیں اور پھر وہ ہر چیز میں گھس جاتے ہیں ۔
اس وجہ سے بعض لوگ صفر کی آخری تاریخوں میں صندوقوں ، پیٹیوں ، درودیوار کوڈ نڈے مارتے ہیں تا کہ وہ جنات بھاگ جائیں ۔
یہ سب غلط عقائد اور تو ہم پرستی ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں ۔
اسلامی تعلیمات میں نحوست کا خاتمہ
اسلام نے ہر قسم کی توہم پرستی اور بدشگونی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے، قرآن کریم اور احادیث نبویہؐ واضح طور پر بتاتی ہیں کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، کوئی دن، کوئی مہینہ، کوئی پرندہ یا کوئی مخصوص چیز بذاتِ خود نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان،
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا عَدْوَیٰ ولا طِیَرَۃَ ولا ھَامَۃَ ولا صَفَرَ
ترجمہ: نہ کوئی بیماری متعدی ہوتی ہے (بذاتِ خود)، نہ کوئی بدشگونی ہے، نہ الو کا بولنا (منحوس ہے) اور نہ صفر (کا مہینہ) منحوس ہے۔
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ماہ صفر سے متعلق نحوست کا تصور بے بنیاد اور غیر اسلامی ہے،یہ حدیث تمام توہمات کو رد کرتی ہے اور مسلمانوں کو خالص توحید اور اللہ پر توکل کا درس دیتی ہے۔
علمائے دیوبند بھی اسی حدیث کی روشنی میں صفر کی نحوست کے تصور کو بدعت اور جہالت قرار دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر دن اور ہر مہینہ اللہ تعالیٰ کا ہے، اور اس میں ہونے والی ہر چیز اللہ کے حکم سے ہوتی ہے، بدشگونی اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتراض کے مترادف ہے۔
ماہ صفر کو منحوس اور نا مبارک
بعض لوگ ماہ صفر کو منفوس سمجھ کر اس کی نحوست اور آفت سے بچنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں :اس ماہ میں شادی بیاہ اور دوسری خوشی کی تقریبات سے پر ہیز کرتے ہیں،کسی نئے کام ( مثلاً کاروبار کا افتتاح وغیرہ) کرنے سے اجتناب کرتے ہیں ،گھروں میں اجتماعی قرآن خوانی کا اہتمام کرتے ہیں،مخصوص طریقے پر چار رکعت نفل پڑھتے ہیں : پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون ، دوسریرکعت میں سورۃ الاخلاص، تیسری رکعت میں سورۃ الفلق ، چوتھی رکعت میں سورۃ الناس پڑھتے ہیں پھر سلام کے بعد 70 مرتبہ تیسراکلمہ پڑھتے ہیں اور پھر صفر کی نحوست سے بچنے کی دعا کرتے ہیں،اس ماہ کی 13 تاریخ کو چنے ابال کر یا چوری بنا کر تقسیم کرتے ہیں ، اس ماہ کے آخری بدھ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اس دن کے متعلق مختلف غلط نظریات رکھتے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں :بعض لوگوں کی طرف سے اس دن کو اسیر ابدھ کے نام سے مشہور کیا گیا ہے۔
ماہ صفر کے تو ہمات
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صفر کے آخری بدھ کو آنحضرت اپنے غسل صحت فرمایا تھا اور سیر و تفریح فرمائی تھی اور چوری تناول فرمائی تھی اسی لیے بعض نا واقف اور سادہ لوح مسلمان مرد اور خواتین اس دن باغات اور سیر گاہوں کی سیر و تفریح کے لیے جاتے ہیں اور اس دن شیرینی اور چوری وغیر تقسیم کرتے ہیں۔
بعض لوگ اس دن خاص ثو اب سمجھ کر نفلی روزہ رکھتے ہیں اور شام کو چوری یا حلوہ پکا کر شکر کھلاتے ہیں اور اس کو چوری روزہ یا پیر کا روزہ کہتے ہیں ۔
بعض لوگ صفر کے آخری بدھ کو سمندر کے کناروں اور دور دراز کی تفریح گاہوں کی جانب اس غرض سے جاتے ہیں تاکہ وہ اس دن کے موہوم شر سے بچ جائیں ۔
بعض علاقوں میں اس دن گھونگنیاں کا چھوٹے ابال کر تقسیم کیے جاتے ہیں ۔
بعض علاقوں میں اس دن عمدہ قسم کے کھانے پکانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔. بعض لوگ اس دن بہت زیادہ خوشی مناتے ہیں اور اس دن کو تہوار کی کی حیثیت دیتے ہیں۔
بعض علاقوں میں اس دن کاری گر اور مزدور کام نہیں کرتے اور اپنے مالک سے مٹھائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بعض لوگ اس دن گھروں میں اگر مٹی کے برتن ہوں تو توڑ دیتے ہیں۔. بعض لوگ اس دن چاندی کے چھلے یا تعویذات بنا کر مختلف مصیبتوں خاص کر صفر کی نحوست سے بچنے کی غرض سے پہنا کرتے ہیں۔
بعض مکتبوں میں بھی اس دن چھٹی کی جاتی ہے۔
بعض لوگ ان چیزوں کوبھی منحوس سمجھتے ہیں :
(1) میت ک غسل دینے کو
(2) فوت شدہ شخص کے استعمال کی چیزوں اور خاص کر وہ کپڑے جن میں کوئی شخص فوت ہوا ان کپڑوں کو
(3) جن گھرانوں میں لڑکوں کے بجائے لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں ان لڑکیوں یا ان کی ماؤں کو
(4) مخنث کی نماز جنازہ پڑھنے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کو
(5) جب کسی کا تذکرہ کرتے ہی کوئی خلاف طبیعت بات پیش آجائے یا نقصان ہو جائے توعکوس کا تذکرہ کیا جارہا تھا اس شخص کو
(6) دو بہن بھائیوں کی اکٹھی شادی کرنے کو ( جوکہ منحوس نہیں ہے البتہ بعض اہل علم نے کچھ دیگر مصلحتوں کی وجہ سے ایک وقت میں شادی کرنے سے منع کیا ہے ، بہشتی زیور 8/10)
(7) عید الفطر اور عید الاضحی کے درمیان یا شعبان کے مہینے یا کسی اور مخصوص مہینے ، دن اورتاریخ میں شاد ی کرنے کو
(8) سورج یا چاند گرہن کے وقت شادی کی تقریب منانے کو
(9) دکان وغیر ہ میں ناخن کاٹنے کو
(10) رات کو ناخن کاٹنے کو
(11) کتا ہوانا لحن کسی کے پاؤں کے نیچے آجانے کو
(12) جس کے پاؤں چلتے ہوئے زمین پر کچھ ٹیڑھے رکھے جاتے ہوں ، ایسے شخص کو
(13) ٹانگ پر ٹانگ رکھنے کو
(14) بعض خاص پتھروں کو
(15) خالی قیچی چلانے کو
(16) ہدیے میں نیچی یا چھری دینے کو
(17) کسی کو دوسرے کے ہاتھ سے جھاڑو لگ جانے کو
(18) جب کوئی سفر پر جارہا ہو تو ایسے وقت جھاڑو دینے کو
(19) رات یا عصر کے بعد جھاڑوں دینے یا منہ سے چراغ بجھانے یا رات کو آئینے میں چہرہ دیکھنے کو
(20) صبح کے وقت بعض مخصوص چیزوں کے نام لینے کو
(21) جمعہ کے دن عید ہونے کو
(22) جمعہ یا کسی خاص دن کپڑے دھونے کو
(23) رات کو انگلیاں چٹخانے کو
(24) کالی بلی کے راستہ کاٹنے کو
(25) دروازہ کی چوکھٹ پر بیٹھ کر کھانا کھانے کو
(26) ہر آدمی پر اس کی عمر کے مخصوص سالوں ( مثلا 13،88، 48،43،38،21،18) کو
(27) کیلے اور بیری کے درخت کو
توہم پرستی کا خاتمہ کیسے؟
اسلامی نقطہ نظر سے، توہم پرستی انسان کو کمزور اور بے اعتماد بناتی ہے،یہ اسے اللہ پر بھروسہ کرنے اور اسباب اختیار کرنے سے روکتی ہے،جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ کوئی مہینہ یا دن منحوس ہے، تو وہ اپنی زندگی کے اہم فیصلوں کو اس بدشگونی کی بنا پر مؤخر کر دیتا ہے، جس سے اس کی ترقی رک جاتی ہے۔
اسلام نے واضح طور پر بتایا ہے کہ تقدیر کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی طئے کردہ تقدیر پر راضی رہے اور ہر حال میں اسی پر بھروسہ کرے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل، تدبیر اور توکل کا درس دیا ہے نہ کہ وہموں اور گمانوں کا۔
لہٰذا، مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر قسم کی جہالت، توہم پرستی اور بدعات سے دور رہے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں گزارے، صفر کا مہینہ بھی دیگر مہینوں کی طرح ہےاور اس میں کوئی خاص نحوست نہیں ہے۔
تقدیر الٰہی اور انسان کی ذمہ داری
اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سےوجود میں آتی ہےاور اسی کے حکم سے فنا ہوتی ہے، کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کے حکم کا پابند ہے، نفع، نقصان، خیر، شر، سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے،کوئی دن، کوئی مہینہ، کوئی ساعت بذاتِ خود نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان۔ اگر کوئی چیز نقصان پہنچاتی ہے تو وہ اللہ کے اذن سے ہی ہوتا ہے، اس لیے کسی خاص مہینے کو منحوس سمجھنا دراصل اللہ کی تقدیر پر اعتراض اور اس کی قدرت پر شک کرنے کے مترادف ہے۔
مسلمان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرے اور اسباب اختیار کرے، نحوست کا تصور انسان کے ذہن میں کمزوری پیدا کرتا ہے اور اسے اللہ پر توکل سے روکتا ہے، جب ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ صفر کا مہینہ منحوس ہےتو وہ اس مہینے میں سفر سے گریز کرتا ہے، شادی سے کتراتا ہے، یا کاروبار میں کوئی نیا قدم اٹھانے سے ڈرتا ہے، یہ سوچ انسان کو عملی زندگی میں پیچھے دھکیل دیتی ہے اور اس کے حوصلے پست کرتی ہے، اس سے معاشرتی اور معاشی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔
ماہ صفر میں اہم اسلامی واقعات
اگر صفر کا مہینہ واقعی منحوس ہوتا تو اس میں کوئی اہم اور مبارک واقعہ پیش نہ آتا؛لیکن تاریخ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ اس مہینے میں بھی کئی اہم واقعات رونما ہوئے، مثال کے طور پر، بعض روایات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وصال کا آغاز صفر کے آخری ایام میں ہی ہوا تھا، جس کے بعد آپ ربیع الاول میں دنیا سے پردہ فرما گئے،اگرچہ یہ ایک نہایت غمگین واقعہ ہے؛ لیکن اس کا تعلق صفر کی نحوست سے جوڑنا سراسر غلط ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی جو کسی خاص مہینے کی وجہ سے نہیں تھی۔
اسی طرح بہت سے مسلمان آج بھی صفر کے آخری بدھ کو عیدکی طرح مناتے ہیں، خاص پکوان تیار کرتے ہیں، اور مختلف رسومات ادا کرتے ہیں، یہ سمجھا جاتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن مرض سے صحت یاب ہوئے تھے اور یہ دن خوشی کا دن ہے،حالانکہ اسلامی تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفر کے آخری بدھ کو صحت یاب ہوئے ہوں یا صحابہ کرام نے اس دن کو خاص طور پر منایا ہو،یہ تمام رسومات بدعت کے زمرے میں آتی ہیں، جن سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ دین میں ہر وہ کام جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ثابت نہ ہو، وہ بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔
اسلامی طرزِ زندگی اور روشن فکری
اسلام ہمیں روشن فکری، توکل اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین سکھاتا ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کے وہموں، بدشگونیوں اور خرافات سے خود کو آزاد رکھے۔ صفر کا مہینہ بھی دیگر مہینوں کی طرح ہی ہے، اور اس میں بھی ہر دن اللہ کی نعمت ہے،اس میں بھی عام دنوں کی طرح نیک اعمال کیے جا سکتے ہیں، کاروبار کیا جا سکتا ہے، شادی بیاہ منعقد کیے جا سکتے ہیں اور زندگی کے تمام معمولات جاری رکھے جا سکتے ہیں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ عبادات، نیک اعمال، رزقِ حلال کی تلاش اور معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر مرکوز کریں، نہ کہ بے بنیاد توہمات پر۔ دین اسلام آسان ہے اور اس میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ ہر دن اللہ کا ہے اور ہر وقت اس کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں۔
ہجرتِ مدینہ کا آغاز
کچھ روایات کے مطابق، ہجرتِ مدینہ کا سفر بھی صفر کے مہینے کے آخر یا ربیع الاول کے آغاز میں شروع ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غاررِ ثور میں پناہ لی اور پھر وہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی، یہ اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم موڑ تھا جس نے اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی،یہ واقعہ اسلام کے پھیلاؤ اور مسلمانوں کی آزادی کی بنیاد بنا؛اگر صفر منحوس ہوتا تو ایسے عظیم اور بابرکت واقعہ کا اس میں وقوع پذیر ہونا ممکن نہ ہوتا۔
فتحِ خیبر
صفر 7 ہجری میں غزوہ خیبر پیش آیا، جو مسلمانوں کے لیے ایک اہم فتح تھی۔ خیبر ایک مضبوط قلعہ تھا جہاں یہودی آباد تھے اور وہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں ملوث تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے ایک لشکر کے ساتھ خیبر کا محاصرہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔ اس فتح نے اسلامی ریاست کو مزید مضبوط کیا اور مدینہ کے گرد موجود خطرات کو کم کیا، یہ واقعہ بھی ثابت کرتا ہے کہ صفر کا مہینہ نحوست زدہ نہیں بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتوحات بھی شامل حال رہیں۔
دیگر اہم واقعات (مختلف روایات کی بنیاد پر)
اسلامی تاریخ کی کتابوں میں صفر کے مہینے میں دیگر واقعات کا بھی ذکر ملتا ہے، اگرچہ ان کی تاریخی حیثیت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت: بعض روایات کے مطابق، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت 7 یا 28 صفر 50 ہجری کو ہوئی۔
صلح حدیبیہ کے بعد کی پیش رفت: اگرچہ صلح حدیبیہ ذی قعدہ میں ہوئی، لیکن اس کے بعد ہونے والے کئی اہم معاہدے اور سفارتی پیش رفت اسی مہینے میں ہوئیں۔
صفر کے مہینے میں عبادات اور نیک اعمال
صفر کے مہینے کے لیے کوئی خاص عبادت یا وظیفہ متعین نہیں ہے، نہ ہی اسلام نے اسے کسی خاص عبادت کی وجہ سے فضیلت والا مہینہ قرار دیا ہے، تمام نیک اعمال جو عام دنوں میں کیے جاتے ہیں، اس مہینے میں بھی اتنے ہی فضیلت والے ہیں۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ:
پانچ وقت کی نمازوں کی پابندی کریں۔
قرآن کریم کی تلاوت کریں اور اس کے معانی پر غور کریں۔
کثرت سے ذکر و اذکار، تسبیح و تحلیل اور درود شریف کا اہتمام کریں۔
صدقہ و خیرات کریں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔
اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور دعا کریں۔
اللہ پر بھروسہ کو مضبوط کریں۔
علماء دیوبند کا موقف
علماء دیوبند ان تمام بدعات اور خرافات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں جو صفر کے مہینے میں رائج ہیں، جیسے: صفر کے آخری بدھ کو خاص طور پر جشن منانا، یا خصوصی پکوان تیار کرنا۔ ان کے نزدیک یہ تمام افعال دین میں اضافہ اور بدعت ہیں، جن سے اجتناب ضروری ہے۔
یہ تمام واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ صفر کا مہینہ بھی باقی مہینوں کی طرح ہی ہے اور اس میں بھی زندگی کے معمولات، اہم تاریخی واقعات، اور آزمائشوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور کامیابیاں بھی شامل ہوتی ہیں،یہ انسان کے عقیدے اور اعمال پر منحصر ہے کہ وہ کس مہینے کو کس نظر سے دیکھتا ہے، اسلام ہمیں کسی بھی دن، مہینے یا ساعت کو منحوس سمجھنے سے منع کرتا ہے اور اس کے بجائے اللہ پر مکمل توکل اور اس کی تقدیر پر یقین رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین
Like this:
Like Loading...