Skip to content
نشہ اورجوے کی دلدل میں مسلم نوجوان
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں قیامت تک اپنے تمام بندوں کے لئے نہایت واضح الفاظ اور بے حد صاف انداز میں ان تمام چیزوں کو بیان کردیا ہے جو انسانوں کے لئے ان کی درست زندگی گزارنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ،قرآن مجید میں تمام بندوں کو وہ تمام کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ساتھ ہی ان کے دنیوی واخروی فوائد بھی بتلادئے گئے ہیں،اسی طرح ان تمام چیزوں سے بچنے کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ساتھ ہی ان کے جسمانی وروحانی نقصانات سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے ، اسی طرح اللہ کے آخری رسول ،انسانیت کے ہادی ورہبر ،دوعالم کے سردار حضرت محمد مصطفیؐ نے بھی اپنے ارشادات وفرمودات کے ذریعہ ہر وہ چیز چاہے وہ ہر چھوٹی ہو یا بڑی جس کا تعلق حلت سے ہے یا حرمت سے ،جائز ہونے سے ہے یا ناجائز ہونے سے بے حد حکیمانہ انداز میں بیان فرما دیا ہے اور ان پر ملنے والے اجر و ثواب کی خوشخبری اور عتاب وعذاب کی وعید بھی سنا دی ہے ،قرآن وحدیث کے ذریعہ بتلادینے کے بعد اب ایسی کوئی چیز باقی نہیں ہے کہ جس کی حلت وحرمت کا حکم انسانوں کے سامنے واضح نہ ہو ، حضرات صحابہ کرام ؓ ،تابعین عظام ؒ ،محدثین وفقہاء اور ہرزمانے کے تمام علماء کو پوری امت کی طرف سے اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی ہر اس مسئلہ کو واضح کرکے امت کے سامنے پیش کردیا ہے جس کی انہیں ضرورت ہے اور آئندہ ضرورت ہو سکتی ہے چنانچہ فقہ اسلامی کی ہزاروں کتابیں اس کا بین ثبوت اور منہ بولتی تصویر ہیں ۔
اسلام نے انسانوں کو جن چیزوں سے سختی کے ساتھ روکا ہے اور جن چیزوں کو ان کے لئے سخت ناپسند سمجھا ہے اور جن چیزوں پر سخت ترین سزائیں مقررکی ہیں ان میں سر فہرست شراب نوشی،سود خوری ، بدکاری ،زنا کاری اور خمار بازی ہے،یہ وہ بد ترین اور گھناؤ نے جرائم ہیں کہ جن کی وجہ سے ایک اچھا خاصہ انسان انسانیت سے گرجاتا ہے ،آدمی سے آدمیت کا لباس اُترجاتا ہے اور جس معاشرہ میں ایسے لوگ پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو ایک نیک اور صالح معاشرہ شیطانی معاشرہ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور بروقت اگر اس طرف توجہ نہیں کی گئی تو اس پر شیطانی گھن لگ جاتا ہے جس کے بعد معاشرہ اس طرح برباد ہوجاتا ہے جس طرح دیمک لگنے کے بعد بڑے بڑے ستون اور درخت کے طاقتور تنے مٹی بن جاتے ہیں ،جس وقت معاشرہ میں مذکورہ برائیوں کے جراثیم پھیل جاتے ہیںتو پھر صحت مند ماحول پراگندہ ہوجاتا ہے اور جسمانی و روحانی دونوں طرح کی بیماریاں متعدی بیماریوں کی طرح پھیل کر پورے معاشرے کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہیں جس کے بعد معاشرہ کا تانا بانا بکھر کر رہ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ان برائیوں کے مرتکبین پر اپنا غضب اور پھٹکار نازل کرتا ہے اور عذاب ِ الٰہی کا شکنجہ ان بدبختوں پر کس دیا جاتا ہے اور اس کے بعد پوری آبادی قہر الٰہی میں مبتلا ہوجاتی ہے ۔
اس وقت پوری دنیا کے انسان اور خصوصا مسلم نوجوان جن مہلک ترین گناہوں اور جن خطرناک قسم کے جرائم میں مبتلا ہیں ان میں سر فہرست شراب اور جوا ہے ،بلاشبہ شراب گناہوں کی جڑ ہے تو جوا قتل وغارت گری کا سبب ہے،قرآن وحدیث میں خطرناک اور مہلک ترین گناہوں میں ان دونوں کو ذکر کیا گیا ہے اور ان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور ان سے بچنے کی خصوصیت کے ساتھ تاکید کی گئی ہے ،قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں شراب اور جوے کو حرام قرار دیا گیا ہے ،قرآن مجید میں شراب اور جوے کی ممانعت ایک ساتھ اس طرح بیان کی گئی ہے، ارشاد ربانی ہے: اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں ،سو اس سے بالکل دور رہو تاکہ تم کو فلاح(کامیابی) ہو،(المائدہ:۹۰)۔ مذکورہ آیت میں شراب اور جوے کو انتہائی قبیح اور بری چیز بتاکر انہیں گندگی سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے ان کے برے اور خطرناک ہونے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ، شراب کو عربی میں خمر کہا جاتا ہے جس کے معنیٰ ڈھانپ دینے کے ہیں ،چونکہ شرابی کی عقل وفہم پر نشہ کی وجہ سے مدہوشی کا پر دہ پڑ جاتا ہے جس سے آدمی کی عقلی صلاحیت ناکارہ ہوجاتی ہے اسی لئے شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے ، واقعہ بھی یہی ہے کہ شراب کے نشے میں مست ہوکر انسان عقل وشعورکھو دیتا ہے اور اس پر مد ہوشی وجنون کاپردہ پڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے شرابی ایسی ایسی گھناؤنی حرکتیں کرنے لگتا ہے کہ جن کے تذکرہ سے بعد میں یعنی عقل ٹھکانے آنے کے بعد وہ خود شرمسار ہوتا ہے ،قرآن مجید میں مذکورہ آیت میں بڑی شدت کے ساتھ اس کی حرمت وقباحت بیان کی گئی ہے انہی آیات میں شراب وجوّے کی جسمانی وروحانی خرابیوں کابھی ذکر موجود ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شراب وجوّا دراصل شیطانی جال ہے جس میں پھنس کر آدمی بے شمار روحانی مفاسد مثلا ً گالی گلوج جس سے دل میں ظلمت وتاریکی پیدا ہوتی ہے ، نماز وذکر سے غفلت اور دیگرعبادات سے دوری پیدا ہوجا تی ہے اسی طرح بہت سی مہلک جسمانی بیماریاں جیسے قلب وجگر کا عارضہ پیدا ہونا ، ہاضمہ کی خرابی بلکہ اس کے اثر سے پورا جسم ہی متاثر ہوجاتا ہے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ شراب کا عادی دھیرے دھیرے موت کے گڑھے کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔
ان کے علاو ہ کئی ایک خرابیاں اور بڑے بڑے گناہ شراب کی لعنت میں گرفتار ہونے کی وجہ سے جنم لیتی ہیں یہی وجہ ہے رسول اللہ ؐ نے شراب کو تمام برائیوں کی جڑ اور تمام بڑے گناہوں سے بھی بڑا گناہ فرمایا ہے ،ارشاد نبوی ہے ’’ الخمر ام الفواحش واکبر الکبائر‘‘ (المعجم الکبیر: ۱۱۳۷۲)،ایک حدیث میں رسول اللہ ؐ نے شرابی کی نماز قبول نہ ہونے اور آخرت میں اس کے لئے سخت ترین سزا کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایاـ: جو شخص (پہلی مرتبہ) شراب پیتا ہے (اور توبہ نہیں کرتا) تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا ،پھر اگر وہ (خلوص دل سے) توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ،پھر اگر وہ (دوسری مرتبہ ) شراب پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا اور پھر اگر توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ،پھر اگر وہ (تیسری مرتبہ ) شراب پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا اور پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے یہاں تک کہ جب وہ چوتھی مرتبہ شراب پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ (نہ صرف یہ کہ) چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا (بلکہ) اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرتا اور (آخرت میں) اس کو دو زخیوں کی پیپ اور لہو کی نہر سے پلائے گا( ابن ماجہ: ۳۳۷۷)،ایک اور حدیث ہے جس میں شراب کے پینے پلانے اور ہر طرح سے شریک ہونے والوں پر لعنت کی گئی ہے ،رسول اللہؐ نے دس لوگوں پر لعنت بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: (۱) شراب بنانے والے پر(۲) شراب بنوانے والے پر(۳) شراب پینے والے پر(۴) شراب اٹھانے والے پر(۵) جس کے پاس شراب اٹھاکر لائی گئی اس پر(۶) شراب پلانے والے پر(۷) شراب بیچنے والے پر(۸) شراب کی قیمت کھانے والے پر(۹) شراب خریدنے والے پر(۱۰) جس کے لئے شراب خریدی گئی اس پر( ترمذی: ۱۲۹۹)،ایک حدیث میں رسول اللہؐ نے دنیوی شراب پینے والے کو آخرت کی شراب طہور سے محرومی کی خبر سناتے ہوئے ارشاد فرمایا:جس نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں (جنت کی) شراب( طہور ) سے محروم رہے گا( بخاری: ۲؍۸۳۶)۔
عومی طور پر اگر شراب پینے والوں کی طرف نظر ڈالی جائے تو اس کے جو بھیانک اور خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں ،شراب نوشی کی وجہ سے لاکھوں افراد مہلک امراض میں مبتلاہوتے ہیں ،شراب نوشی کی وجہ سے سالانہ لاکھوں لوگ ہلاک ہورہے ہیں ،شراب نوشی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں سے مختلف جرائم سرزد ہورہے ہیں جن میں قتل وغارت گری شامل ہے ،شراب نوشی کے بعد ہزاروں شوہر اپنی بیوئیوں پر ظلم وستم کرتے ہیں ،شراب نوشی کرنے والوں کے بچے تعلیم وتربیت سے محروم ہورہے ہیں اور شراب نوشی کرنے والوں کے گھر بے سکونی کی آماج گاہ بن چکے ہیں وغیرہ وغیرہ ،افسوس تو اس بات پر ہے کہ غیروں کی اور مغرب کی نقالی کرتے ہوئے بہت سے مسلمان اور خاص کر جوان شراب پی رہے ہیں ،مصدقہ اطلاعات کے مطابق مسلم نواجوں میں شراب اور نشے کی لت بڑھتی جارہی ہے ،نوجوان مختلف چیزوں سے نشہ کر رہے ہیں بلکہ بعض مسلم محلوں میں نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ شراب اور نشہ کی محفلیں جما رہے ہیں ،پھر شراب نوشی کے بعد فضول گوئی ،بدگوئی اور لڑائی جھگڑے تک کرتے جارہے ہیں اور اسی جھگڑے کے نتیجہ میں ان کے ہاتھوں قتل و خون کے جرم تک سرزد ہورہے ہیں جس کے نتیجہ میں بھیانک انجام سامنے آرہے ہیں ،کسی زمانے میں شراب نوشی اور قتل وغارت گری کا کسی بھی مسلمان کے بارے میں تصور نہیں کیا جاسکتا تھا مگر اس وقت اس جرم میں مسلمانوں کے نام دیکھ کر سر شرم سے جھک جارہا ہے ،اخبارات میں جب جرائم کے صفحہ پر نظر پڑتی ہے تو دل بیٹھ جاتا ہے اور شدید افسوس ہوتا ہے ۔
شراب کی طرح مسلم معاشرہ میں جوا اور قمار کی لت بھی بڑھتی جارہی ہے ،مسلمان نوجوان تعلیم میں ابھی بھی دوسری قوموں کے مقابلہ بہت پیچھے ہیں ، دینی ہو یا عصری تعلیم دونوں حاصل کرنے سے جی چرارہے ہیں ،بہت سے مسلمان بنیادی دینی تعلیم سے واقف نہیں ہیں ،بنیادی عقائد انہیں معلوم نہیں ہیں ،نماز روزے کے ضروری مسائل سے واقف نہیں ، بہت سے مسلمان عصری تعلیم میں بہت پیچھے ہیں،اس وقت عصری تعلیم کی بڑی بڑی ڈگریاں غیروں کے پاس ہیں اور جن مسلمانوں کے پاس عصری اعلیٰ ڈگریاں ہیں وہ دینی تعلیم سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ معاشرہ میں جو اثر ڈالنا چاہئے وہ ڈال نہیں پاتے اور جو سچے اور پکے مسلمان ہیں اور اونچی عصری ڈگری رکھتے ہیں وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں ، کسی کہنے والے مسلمانوں کی پستی کے اسباب بتاتے ہوئے کہا ہے کہ دین میں نامکمل،عصری تعلیم میں پیچھے ، بے محنتی اور وقت کی ناقدری نے مسلم معاشرہ کو پستی کی طرف ڈھکیل دیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ بہت سے مسلمان اور خاص کر مسلم نوجوان مختلف نامناسب کاموں میں ملوث ہو کر نہ صرف اپنی قیمتی زندگی برباد کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں ،بعض نوجوان بغیر محنت یا پھر بہت کم وقت میں مالدار ہونے کی چکر میں جوے جیسی لعنت میں گرفتار ہورہے ہیں ،انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جوا بھی حرام ہے اور اس کی حرمت پر قرآن مجید کی آیات اور بہت سی آحادیث شاہد ہیں،جوے کی حرمت سے ناواقفیت یہ بھی بڑا جرم ہے اور واقفیت کے باوجود اس میں ملوث ہونا یہ تو اور بھی بڑا جرم ہے ۔
’’جوا‘‘کو عربی زبان میں قمار اور میسر بھی کہا جاتا ہے،درحقیقت ہر وہ معاملہ جس میں نفع ونقصان کا خطرہ ہو چاہے کسی کھیل وغیرہ میں پایا جائے یا کسی بھی معاملہ میں شریعت میں حرام اور گناہ کبیرہ ہے، جوے کی حرمت وممانعت سورہ المائدہ میں موجود ہے،جوا جہاں آدمی میں مفلسی کے دلدل کی طرف لے جاتا ہے وہیں آپس میں عداوت اور بغض پیدا کرتا ہے،یہی وجہ ہے کہ شراب اور جوا شیطانی چالوں میں سے ایک خطرناک چال ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کو عبادات سے دور کراتا ہے ،آپس میں عداوت کی آگ بھڑکاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کی طرف ڈھکیلتا ہے ،چنانچہ ارشاد ربانی ہے: شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعہ سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کردے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے،سو اب بھی باز آجاؤ ( المائدہ: ۹۱)،رسول اللہؐ نے جوا کھیلنے والے کو خنزیر کے گوشت کھانے والوں سے تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:جو شخص نرد (چوسر) جوے کے طور پر کھیلتا ہے وہ خنزیر کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے(مصنف ابن ابی شیبہ :۱۴؍ ۳۷۲) اور ایک مقام پر آپؐ نے ارشاد فرمایا: جو شخص نرد(جوا) کھیلے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی نافرمانی کی( مسند بزار : ۳۰۷۵) ۔
حقیقت یہ ہے کہ جوا ایک ایسی برائی ہے جو اس میں ملوث ہونے والے کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہے ،جوا کھیلنے والا پہلے تو شوقیہ طور پر اسے کھیلتا ہے اور چھوٹی موٹی رقمیں لگاتا ہے پھر جب عادی ہوجاتا ہے تو پھر اسے چھوڑنا اس کے لئے انتہائی دشوار ہوجاتا ہے بلکہ یہ اس کے لئے ایک ناسور بن جاتا ہے ،جوے میں انسان بہت کچھ ہار جاتا ہے جس کی وجہ سے مالی مسائل کا شکار ہوجاتا ہے اور لالچ میں آکر قرض لیتا جاتا ہے اور ہارتا جاتا ہے بالآخر قرض کے بوجھ تلے اس قدر دب جاتا ہے کہ اس سے باہر نکلنا اس کی بس سے باہر ہوجاتا ہے ،اس کی نوکری چلی جاتی ہے ،گھریلو زندگی تباہ ہوتی ہے،مکان بک جاتا ہے ،جیل جانے تک کی نوبت آتی ہے ،بیمار ہوجاتا ہے حتی کے خود کشی کرتے ہوئے اپنی جان تک گنوا دیتا ہے۔
اس وقت انٹر نیٹ پر بعض ایسے گیمس ہیں جس کا تعلق براہ راست جوے سے ہے ،بہت سے لوگ بالخصوص بعض مسلم نوجوان اس میں اپنی دلچسپی دکھارہے ہیں اور بعض نوجوان ضروری مصرووفیات تک چھوڑ کر راتوں میں بڑے شوق سے اسے کھیل رہے ہیں ،بعض جان کاروں نے بتایا کہ یہ گیمس انٹر نیٹ پر مختلف ناموں سے اپ لوڈ ہیں ،شروع میں اس گیم کو جیتنے پر کچھ رقم بھی حاصل ہورہی ہے مگر جیسے جیسے آدمی اس میں شوق دکھاتا ہے اور گیم جیت کر پیسے حاصل کرنے کی خواہش میں گیم کھیلتا جاتا ہے ویسے ویسے وہ پیسے ہارتا جاتا ہے مگر پھر بھی جیتنے کی امید میں پیسے لگاکر ہارتا جاتا ہے یہاں تک کہ لاکھوں روپئے کا مقروض ہوجاتا ہے اور اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو تا ہے یا قرض میں ڈوب جاتا ہے تو ڈپریشن کا شکار ہوکر کاروبار چھوڑ دیتا ہے یا پھر مایوس ہوکر خود کشی کا راستہ اختیار کر لیتا ہے ،افسوس ہے کہ بعض نوجوان حرص ولالچ میں آکر اپنے لئے گناہ اور خود کشی کا راستہ چن رہے ہیں اور اس قبیح عمل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں اور اپنے والدین اور متعلقین کے لئے شرمندگی کا اور غم کا ذریعہ بنتے جارہے ہیں ،والدین وسرپرست ،اہل علم واہل مقام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم معاشرہ کو اور بالخصوص نوجواں کو ان برے اور قبیح ترین اعمال سے دور رہنے کی ترغیب دیں ،شراب اور جوے کے دنیوی اور اخروی نقصانات بتائیں اور ان کے نقل وحرکت اور خاص طور سے میل جول رکھنے والوں کے کردار پر نظر رکھیں ،یاد رکھیں مسلم نوجوانوں اور بالخصوص اپنی اولاد کی فکر کرنا اور ان میں دینی جذبہ پیدا کرنا نیز انہیں گناہوں اور جرائم سے دور رکھنے کی کوشش کرنا ہماری دینی واخلاقی فریضہ ہے ،اس سے لاپرواہ ہونا دنیا میں شرمندگی ونقصان اور آخرت میں سخت پکڑ کا ذریعہ ہے ،اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ان شرمناک ، بھیانک اور معاشرہ کو تباہ کرنے والی برائیوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا کرے اور جرأت و ہمت عطاکرے کہ ہم امر بالمعروف کے ساتھ نہی عن المنکر کا فریضہ بھی بخوبی انجام دے سکیں
Like this:
Like Loading...