Skip to content
امریکہ،24جولائی(ایجنسیز)امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) سے منسلک ایک آزاد نگراں ادارے کو ایسے سنجیدہ شواہد موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر دفاع پِیٹ ہیگسیتھ کے سگنل (Signal) ایپ پر موجود پیغامات، جن میں یمن پر امریکی بم باری کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں، اصل میں انتہائی خفیہ ای میل سے حاصل کیے گئے تھے۔
یہ انکشاف ٹرمپ انتظامیہ کے اس دعوے کی براہِ راست تردید ہے کہ کوئی خفیہ معلومات غیرمحفوظ گفتگو میں افشا نہیں کی گئی تھیں۔ ناقدین کے مطابق یہ ایک بڑی سیکیورٹی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بتائی۔
یہ پیغامات جو کم از کم دو مختلف گروپ چیٹس میں سگنل ایپ پر شیئر کیے گئے تھے، اب امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کے دفتر کی تفتیش کا مرکز بن چکے ہیں۔ یہ تفتیش اپریل میں اس وقت شروع ہوئی جب سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان نے با ضابطہ درخواست کی۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے نگران اعلیٰ کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق ایک انتہائی خفیہ ای میل، 12 سے زائد دفاعی اہل کاروں کو بھیجی۔ بعد میں انہی منصوبوں کو وزیر دفاع ہیگسیتھ کے سگنل اکاؤنٹ سے 15 مارچ کو غیرمحفوظ گفتگو (چیٹ) میں شیئر کر دیا گیا، جو کہ یمن میں حوثیوں پر حملے سے کچھ دیر قبل کا وقت تھا۔
کوریلا کی اس ای میل کو "خفیہ” (Classified) درجہ دیا گیا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معلومات انتہائی حساس تھیں، اور ان کا غیر مجاز انکشاف قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا تھا۔ مزید برآں اس پر "NOFORN” (یعنی غیر ملکی افراد کو نہ دی جائے) کا لیبل بھی تھا، جس کا مطلب ہے کہ یہ معلومات کسی غیر ملکی، یہاں تک کہ کسی اتحادی ملک کے اعلیٰ عہدے دار کو بھی نہیں دی جا سکتی تھیں۔
یہ ای میل SIPRNet (خفیہ انٹرنیٹ پروٹوکول نیٹ ورک) کے ذریعے بھیجی گئی، جو کہ امریکی حکومت کا ایک محفوظ نیٹ ورک ہے۔
پیغام میں اس روز کے فضائی حملے کی حکمتِ عملی کا خلاصہ تھا، جس میں بم باری کے آغاز کا متوقع وقت، استعمال ہونے والے طیارے اور ہتھیاروں کی تفصیل شامل تھی۔
اس حساس معلومات کے افشا ہونے سے واشنگٹن میں شدید تنقید اور تشویش کی لہر دوڑ گئی، خاص طور پر اس لیے کہ ایک گروپ چیٹ میں غلطی سے "اٹلانٹک” میگزین کا ایک صحافی بھی شامل ہو گیا، جو ٹرمپ پر تنقید کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔
یہ "اسکینڈل” سامنے آنے کے بعد کئی ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس اور کم از کم ایک ریپبلکن نے وزیر دفاع ہیگسیتھ کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ جون میں کانگریس میں مختلف سماعتوں کے دوران بھی یہ معاملہ وزیر دفاع کے سامنے اٹھایا گیا۔
اگرچہ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے بارہا یہ دعویٰ کیا کہ سگنل پر کوئی خفیہ معلومات شیئر نہیں کی گئیں، لیکن قومی سلامتی کے ماہرین اور سابق سینئر فوجی افسران اس بیان کو انتہائی مشکوک اور ناقابلِ یقین قرار دے رہے ہیں۔
Like this:
Like Loading...