فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے میں تیزی لانے کے لیے برطانوی وزیر اعظم پر دباؤا
لندن،۲۵؍جولائی
(پی ایس آئی)
برطانیہ کی حکومت کے کئی وزرا وزیرِ اعظم کیئر اسٹامر پر دبا ڈال رہے ہیں تاکہ وہ فلسطینی ریاست کو با ضابطہ تسلیم کرنے کے فیصلے میں تاخیر نہ کریں۔ یہ بات بلومبرگ نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ فرانس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔ماکروں نے "ایکس” اور "انسٹاگرام” پر لکھا "مشرقِ وسطی میں منصفانہ اور پائے دار امن سے اپنی تاریخی وابستگی کے پیشِ نظر، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔ میں اس کا با ضابطہ اعلان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر کے اجلاس میں کروں گا۔
"یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب فرانس اور سعودی عرب مل کر ایک بین الاقوامی سربراہی کانفرنس کی قیادت کرنے والے ہیں جس کا مقصد "دو ریاستی حل” کے عمل کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ یہ کانفرنس جون میں ہونا تھی، لیکن اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے باعث آخری لمحے میں مخر کر دی گئی۔ اب اسی موضوع پر ایک وزارتی اجلاس 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں ہو گا۔فرانس یورپ کا سب سے بڑا اور طاقتور ملک ہے جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر رہا ہے۔ اب تک دنیا کے کم از کم 142 ممالک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ یہ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے اعداد و شمار میں بتائی گئی ہے۔
تاہم امریکہ اور اسرائیل اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔صدر ماکروں نے جمعرات کو اس بات پر زور دیا کہ آج غزہ میں جنگ ختم کرنا اور شہریوں کو بچانا فوری ضرورت ہے”۔انھوں نے مزید کہا "ہمیں بالآخر ایک قابلِ بقا فلسطینی ریاست کی بنیاد رکھنا ہو گی، جو غیر مسلح ہو اور اسرائیل کو مکمل طور پر تسلیم کرے، تاکہ مشرقِ وسطی میں تمام فریقین کی سلامتی میں شراکت دار بن سکے۔”انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کے نام ایک خط میں کہا کہ یہ اقدام "مشرقِ وسطی میں امن کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی نیت سے کیا گیا ہے” اور فرانس "تمام بین الاقوامی شراکت داروں کو اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کرے گا۔”خط میں ماکروں نے کہا "مجھے امید ہے کہ یہ اعتراف مشرقِ وسطی میں پائے دار امن کے قیام میں مدد دے گا۔”
فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے ماکروں کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے "بین الاقوامی قانون سے فرانس کی وابستگی” قرار دیا۔ انہوں نے "ایکس” پر اپنی پوسٹ میں فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا اور سعودی عرب کو بھی اس مشترکہ کوشش پر سراہا۔دوسری جانب، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ فرانس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان اسرائیل کے لیے "وجودی خطرہ” ہے۔اسی سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کے روز کہا ہے کہ واشنگٹن، ماکروں کے منصوبے کو مسترد کرتا ہے۔ روبیو نے اسے "غیر ذمے دارانہ فیصلہ” قرار دیا۔