Skip to content
اپنی تنخواہ حلال کیجیے!
ازقلم: ناصرالدین مظاہری
فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفر حسین، حضرت مولانا علامہ محمد یامین سہارنپوری ، شیخ الادب حضرت مولانا اطہر حسین— یہ چند نام تو وہ ہیں جن کو میں نے خود دیکھا ہے، اور میں ہی کیا، ہزاروں لوگوں نے دیکھا بھی ہے، برتا بھی ہے۔
ان بزرگوں کا ایک عجیب معمول تھا کہ یہ لوگ ہر ماہ پابندی کے ساتھ "کوتاہیِ ملازمت” کے عنوان سے باقاعدہ مدرسہ میں کچھ رقم جمع کرکے رسید کٹوا لیتے تھے، حالانکہ یہ سارے ہی لوگ تقویٰ اور تدین کے آفتاب و ماہتاب تھے۔ ان سے کوتاہی کا تصور بھی میرے نزدیک غلط فہمی ہی تھا۔ یہ لوگ عقدِ اجارہ سے کہیں زیادہ مدرسہ کا کام کرتے تھے۔ بڑے کمال کے لوگ تھے۔
ایک دن صبح کا وقت تھا۔ حضرت مولانا اطہر حسین مدرسہ کی طرف آ رہے تھے، دفتر کے قریب پہنچ چکے تھے کہ گھنٹہ بج گیا۔ ابھی دفتر پہنچنے میں بیس تیس سیکنڈ لگ سکتے تھے۔ حضرت نے واپس قدم موڑ دیے اور اپنے خادم محمد رضوان سے کہنے لگے: "بھئی! اب تو آدھے دن کی رخصت لینا ہی بہتر ہے۔”
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس جونپوری لوجہ اللہ پڑھاتے تھے۔ حضرت مولانا رئیس الدین بجنوری نے حساب کرکے پوری تنخواہ نقد واپس کر دی تھی۔
حضرت مولانا مفتی مظفر حسین اور حضرت علامہ محمد یامین سہارنپوری (دونوں خاندانی غریب تھے) لیکن ان کا دل امیر تھا۔ کوئی مہمان آ جاتا تو اپنی جیب خاص سے ضیافت فرماتے تھے، حالانکہ ایک مظاہرعلوم کا ناظم، دوسرا دفترِ تعلیمات کا ناظم! سبحان اللہ! یعنی ان سے ملنے کے لیے جو بھی آئے گا وہ مدرسہ کی وجہ سے ہی ملنے آئے گا، مگر پھر بھی احتیاط کا یہ عالم تھا۔
حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوری سے کوئی ملنے آ جاتا تو ملاقات کے دوران کا وقت لکھ لیتے اور تنخواہ میں اس وقت کی کٹوتی کروا دیتے تھے۔
حضرت مولانا عنایت الہی سہارنپوری مظاہرعلوم کے مہتمم گزرے ہیں۔ ان کے تقویٰ و تدین کے قصے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی نے مزے لے لے کر لکھے ہیں۔
میرے دوست، رفیقِ درس مفتی محمود عالم مظاہری آج بھی کوتاہیِ ملازمت کی رسید کٹواتے ہیں۔
کیا یہ واقعات ہمیں یہ سبق نہیں دیتے کہ ہم اپنی تنخواہ حلال کرنے میں غفلت نہ کریں؟
کیا یہ درست ہے کہ ہم خدا خوفی کی جگہ "مہتمم خوفی” کریں؟
کیا یہ غلط نہیں ہے کہ ہم تنخواہ تو بالکل وقت پر لیں اور مفوضہ امور میں کوتاہی کا ارتکاب کریں؟
دینی مدارس کا معاملہ "عقدِ اجارہ” ہی ہے، جو وقت متعین کیا گیا ہے، اس میں ہمیں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔
دارالافتاء بنوری ٹاؤن کا ایک فتویٰ نظر سے گزرا، جو میرے اس مضمون کی مکمل تائید کرتا نظر آتا ہے:
> "کمپنی میں کام کرنے والے ملازمت کے آغاز میں باہم طے پانے والے معاہدے کے شرعاً پابند ہیں۔ جتنا وقت اس موقع پر طے ہوا ہے، وہ ادارے کی امانت ہے، اور اتنا وقت کمپنی کو دینا اور اس میں ادارے کا ہی کام کرنا شرعاً لازم ہے۔ صبح دیر سے آ کر شام میں جلد جانے کی صورت میں اتنے وقت کی تنخواہ لینا شرعاً جائز نہیں۔ اسی طرح شام میں زائد وقت دینے کی صورت میں بھی شرعی اعتبار سے صبح کے وقت کی تلافی نہ ہو گی، خاص طور پر جب کہ زائد بجلی خرچ کرنے کی بنا پر کمپنی کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہوں اور دیگر ملازمین کو بھی زائد وقت دینے کی تکلیف اٹھانی پڑے، تو اس عمل کی قباحت مزید بڑھ جاتی ہے۔ نیز معاہدے کی خلاف ورزی اور شرعی پہلو سے بھی ناجائز ہے۔”
"اسی طرح کمپنی کو دیے ہوئے وقت میں ذاتی کام کرنا، کتابیں وغیرہ پڑھنا، اور اس کے لیے کمپنی کا کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرنا بھی جائز نہیں۔ کمپنی کی اشیاء معاہدے کے مطابق کمپنی کے ہی کام کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، مالکان کی اجازت کے بغیر ذاتی استعمال جائز نہیں۔”
اگر ہم لوگ اپنے گھریلو امور کے لیے کوئی نوکر یا ملازم رکھیں اور وہ کام چوری کرے، تو اس کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا رہے گا؟
بالکل اسی پر ہم اپنی ملازمت کو محمول کریں۔ مدرسہ بھی ایک ادارہ ہے، کارخانہ ہے، فیکٹری ہے — اور ہم سے احتساب و محاسبہ کا ہمارے ذمہ داروں کو مکمل حق ہے۔
(30/محرم الحرام چودہ سو سینتالیس ہجری)
Like this:
Like Loading...