Skip to content
جگدیپ دھنکر بیمار، آئی سی یو میں سرکار
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایوان پارلیمان کے مانسون اجلاس میں اس بارحزب اختلاف گرج چمک کے ساتھ ایسے برسنا چاہتا تھا کہ سرکار کی پیشانی سے آپریشن سیندور کا تلک دھُل کر چہرے پر پھیل جائے۔ اس کے علاوہ بہار سے آنے والی انتخابی کمیشن کی آندھی سے مودی حکومت کی چھت اڑا دینا چاہتا تھا مگر نائب صدر جگدیپ دھنکر کے استعفیٰ نے اسے آپریشن یشونت ورما میں بدل دیا ۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ جسٹس ورما کی برخواستگی کے معاملے میں سرکار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ساتھ ساتھ ہیں۔ وطن عزیز میں کسی جج کو ہٹانا ایک نہایت پیچیدہ معاملہ ہے اس لیے پچھلے 75؍ سالوں میں اس کا موقع کبھی نہیں آیا ۔ اس بار بھی اگر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے جسٹس یشونت ورما استعفیٰ دے دیتے تو ان کے خلاف ایک کمزور رپورٹ تیار کرکے ان کو ثبوتوں کی کمی کی بناء پر چند سال بعد بری کردیا جاتا ۔ اس وقت تک لوگ باگ اس معاملے کو بھول بھال چکے ہوتے۔ ان کی دلچسپیاں اس وقت کے مسائل پر مرکوز ہوتیں اور معاملہ رفع دفع ہوجاتا ۔
عدلیہ اور مقننہ کے درمیان کبھی کبھار نوک جھونک کے باوجود اندر خانے خوشگوار تعلقات بنے رہتے ہیں اور اس کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و اشتراک کا عمل جاری و ساری رہتا ہے شاذو ناد ہی ایسا ہوتا ہے کہ الہ باد ہائی کورٹ کا فیصلہ وزیر اعظم کے خلاف آجائے مگر سپریم کورٹ میں اسے بھی سنبھال لیا جاتا ہے ۔ راہل گاندھی کے معاملے میں بھی یہی ہوا کہ سیشن اور ہائی کورٹ میں ان کے خلاف فیصلے کروا نے کے بعد سپریم کورٹ کے اندر معاملہ سنبھال لیا گیا ۔ اس بار ہوا یہ کہ یشونت ورما اپنے موقف پراڑ گئے بلکہ آگے بڑھ کر انہوں نے سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف اپیل داخل کرکے سارا کھیل ہی بگاڑ دیا ۔ آئین ہند کے مطابق کسی برسرِ کار جج کو ہٹانے کے لیےایوان پارلیمان میں مواخذے کی تحریک منظور کروانی پڑتی ہے ۔یشونت ورما اگر اس قدر اڑیل نہ ہوتے تو مودی سرکار کو عدالتی تاریخ میں پہلی بار مواخذہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔
وزیر اعظم کی پرانی حکمت عملی ’مشکل میں موقع‘ تلاش کرنے کی ہے۔ اس نے سوچا ہوگا کہ نادر موقع کا استعمال کرکے کیوں نہ ملک کو یہ پیغام دیا جائے کہ مودی کے راج میں اعلیٰ ترین عدالتی عہدے پر فائز فرد بھی قانون سے بالا نہیں ہے۔ جسٹس یشونت ورما کے خلاف کارروائی کرکے ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کرنے والی سرکار جمہوریت کی دہائی دے کر عدلیہ میں شفافیت اور احتساب کو مضبوط کرنے کا کریڈٹ لیناچاہتی تھی ۔ اس کی ایک مجبوری پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ارکان کو اس معاملے میں الجھانا اور عوام کی توجہ پہلگام ،آپریشن سیندور اور بہار کے اندرالیکشن کمیشن کی دھاندلی سے ہٹانے کی بھی تھی اور اسی لیے سازش رچی گئی۔ اجلاس شروع ہونے سے قبل مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے جسٹس یشونت ورما کو مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں برطرف کرنے کی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کردی تھی۔
وزیرِ موصوف نے انکشاف کیا تھا اس مقصد کے تحت 100 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کے مواخذے کی تحریک پر دستخط حاصل کر لیے گئے ہیں۔ رجیجونے کہا تھا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ عدلیہ میں بدعنوانی کا مطلب انصاف پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونا ہے ۔ اس لیےسرکار اسے خاموشی سے برداشت نہیں کر سکتی ۔ چراغ تلے اندھیرا کی مصداق کرن رجیجو شاید نہیں جانتے کہ مقننہ میں رشوت خوری کے معنیٰ حکومت کے اوپر سے یقین کا اٹھ جانا بھی ہوتا ہے۔ بی جے پی توہیمنتا بسوا سرما جیسے بدعنوان لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے وزیر اعلیٰ اور اجیت پوار کو نائب وزیر اعلیٰ بنا دیتی ہے کیا ایسا کرنے رائے دہندگان کا حکومت کے اوپر سے بھروسہ نہیں اٹھتا؟ کرن رجیجو نے ذرائع ابلاغ میں بلند بانگ دعویٰ تو کیا مگر کوئی عملی قدم نہیں کر سکے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے ایوان کا اجلاس شروع ہوتے ہی حزب اختلاف نے پہلگام پر ایسا ہنگامہ برپا کیا کہ کرن رجیجو سمیت سرکار کی ساری سرکار اس میں الجھ کر ر ہ گئی اور ’رن چھوڑ داس ‘ مودی میدان چھوڑ کر غیر ملکی دورے پر بھاگ کھڑے ہوئے۔
حزب اختلاف نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاکرایوان بالا میں موقع غنیمت جانااور 65؍ ارکان کی دستخط سے دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس یشونت ورما کو مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں برطرف کرنے والی تحریک مواخذہ پیش کردی۔ جگدیپ دھنکڑ خود بھی اس معاملے میں لوک سبھا اسپیکر اوم بڑلا پر سبقت لے جانا چاہتے تھے اس لیے انہوں نےاس کو فوراً شرفِ قبولیت سے نوازتے ہوئےراجیہ سبھا کے رہنما جے پی نڈا سے وضاحت طلب کرلی کہ کہیں یہ تجویز بحث کے لیے ایوان بالا میں پیش تو نہیں ہوئی؟ جے پی نڈا کے لیے جھوٹ بولنے کا کوئی موقع نہیں تھا کیونکہ لوک سبھا میں تو کام کاج کا آغاز ہی نہیں ہوا تھا۔ بس پھر کیا تھا راجیہ سبھا کے صدر نے کانگریس کی تجویز کو منظور کرکے اسے بی جے پی پر سبقت لینے کا موقع عنایت کر دیا۔ اب یہ صورتحال بن گئی کہ کانگریس سے تعاون لینے کے بجائے وہ سرکاراس کی حمایت کرنے پر مجبور ہوگئی۔
ایوان بالا میں یہ تجویز منظور ہوجائے تو ایوانِ زیریں میں تو بس اس کی توثیق کا کام رہ جاتا ہے اور ایسا ہوجانے پر اس کا پورا کریڈٹ ’انڈیا‘ محاذکوچلا جائے گا۔ کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگے نے ایوانِ بالا میں اپنی گفتگو کے اختتام پر پہلگام کا ذکر کرکے بی جے پی کو مرچی لگا دی ۔ انہوں نے ضابطہ267 کے تحت بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملے کے دہشت گرد اب تک نہ تو پکڑے گئے ہیں اور نہ ہی مارے گئے ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انٹیلی جنس کی ناکامی کا الزام بھی لگایا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ایل جی نے اعتراف کیا کہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھی تو اس بابت معلومات فراہم کی جائیں۔اسی کے ساتھ ملک ارجن کھڑگے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے 24 بار کہا کہ پاک بھارت جنگ ان کی مداخلت سے ختم ہوئی۔ یہ ملک کے لیے ذلت آمیز ہے۔یہ سن کر جے پی نڈا کو اپنا نزلہ اتارنے کا موقع مل گیا اور وہ آپے سے باہر ہوکر خود اپنے جال میں پھنس گئے۔
کھڑگے کے طنز نے نڈا کو پلٹ وار کرنے کا موقع دے دیا کیونکہ ان کے خیال میں اس وقت پہلگام کا مدعا اٹھاناضابطے کی خلاف ورزی تھا وہ اگر اس پر اعتراض کرکے بیٹھ جاتے تو اس حصے کو کارروائی میں اندراج سے خارج کیا جاسکتا تھا ۔ لیکن ایوانِ بالا میں بی جے پی صدر کے دل میں اپنی غلطی پر جھنجھلاہٹ نے ایک نیا مسئلہ کھڑا کردیا ۔ لاکھ آگ بگولا ہونے کے باوجود ان کے پاس کانگریس کےذریعہ پیش کردہ تحریک مواخذہ کی مخالفت کا کوئی جواز موجود نہیں تھا مگر نائب صدر جگدیپ دھنکر کے ذریعہ حزب اختلاف کی تجویز کو بحث کے لیے منظور کرنے کا قلق ضرور تھا ۔ اس سے پریشان ہوکر انہوں نے پہلے تو کہا کہ یہ پیغام ہر گز نہیں جانا چاہیے کہ حکومت پہلگام کی بحث سے بھاگ رہی ہے لیکن یہ بھی کہہ دیا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت ہندوستان نے آپریشن سیندورکرکے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔
جے پی نڈا کویہ بولنے کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا توانہوں نے کہا کہ ’میں تفصیل میں نہیں جاوں گا‘ لیکن اس وقت تک تیر کمان سے نکل چکا تھا اور کھڑگے نےاگر کوئی جرم کیا تھا تو اس کا ارتکاب وہ خود بھی کرچکے تھے۔ اس کے بعد غصے سے تلملائے نڈا نے تمام پارلیمانی حدود کو پامال کرتے ہوئے شور کرنے والے بی جے پی ارکان پارلیمان سے کہا کہ ’فکر نہ کریں جو کچھ میں نے کہا ہے وہی کارروائی میں درج ہوگا ۔ اس کے علاوہ کچھ بھی لکھا نہیں جائے گا‘‘۔ شیخی بگھارنے والے نڈا بھول گئے کہ وہ اس وقت اپنی پارٹی کے اجلاس میں نہیں بلکہ ایوان بالا میں تھے۔ وہاں پر وہ صدر نشین نہیں بلکہ صدرارت کی ذمہ داری جگدیپ دھنکر کے کندھوں پر تھی۔ اس لیے کیا درج کیا جائے اور کسے نظر انداز کردیا جائےیہ فیصلہ کرنے کا اختیار کسی اور کا تھا۔ اس پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صدر کی کرسی پر براجمان جگدیپ دھنکر ان پر ہتک عزت کا الزام لگا کر کارروائی کرتے اور معطل کرکے ایوان سے باہر پھنکوا دیتےمگر مودی راج میں بی جے پی کے صدر کو اٹھوانے کی طاقت نائب صدرِ مملکت میں نہیں تھی بلکہ الٹا جگت پرشادنڈانے ہی جگدیپ دھنکر کو ناقابلِ معافی جرم کی قرار واقعی سزا دے کر ان کے سیاسی مستقبل کا جنازہ اٹھادیا ۔
کانگریس کو پھر حکومت کو گھیرنے کا موقع ملا تو اس نے جگدیپ دھنکر کے عہدے سے استعفیٰ پر حکومت سے وضاحت طلب کرلی ۔ کھرگے نے دعوی کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں سے زیادہ بھگوا پارٹی اور ہندو تنظیم کا "دفاع” دھنکرکرتے تھے، لیکن ا س کے باوجود انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کے پیچھے کیا راز ہے؟کانگریس کو لگتا ہے کہ ‘دال میں کچھ کالا ہے’ بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ کھرگے کے مطابق وہ صحت مند نظر آتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ بیمار بھی ہیں تو بی جے پی سرکار کے لوگ ان کی عیادت کے لیے کیوں نہیں گئے؟ اور دوسرے جانے والوں کو انتظامیہ نے کیوں روکا؟سچائی تو یہ ہے دھنکر نہیں بلکہ ایک مستعفی نائب صدر ڈرنے والی مودی سرکار بیمار ہی نہیں حالتِ نزاع میں ہے ۔
Like this:
Like Loading...
عمدہ تجزیہ ہے ۔۔ڈاکٹر سلیم خان صاحب ک ا عنوان بہت ہی دلچسپ اور معنی خیز ہے
عمدہ تجزیہ ہے ۔۔ڈاکٹر سلیم خان صاحب ک ا عنوان بہت ہی دلچسپ اور معنی خیز ہے
بہت ھی مدلل بہت ھی معلومات افزا تبصرہ سدن کی کاروائ پرجناب سلیم خان صاحب نےکیاھے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
اللھمہ زد . فزد