Skip to content
جسٹس ورما کےجلے نوٹ اور ٹرین دھماکے کی چوٹ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
حزب اختلاف کے پاس مانسون اجلاس میں سرکار کو گھیرنے کے لیے جسٹس ورما کا مدعاتو پہلے سے موجود تھا اب اس میں جگدیپ دھنکر کا اضافہ ہوگیا ہے۔ کانگریس یا انڈیا محاذ اگرموجودہ صورتحال میں جگدیپ دھنکر کو عوامی الوادعیہ دینے کا اعلان کردے تو حکومت کے لیےبڑے مسائل پیدا ہوجائیں گے کیونکہ اسے روکنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے اور وہاں آکر دھنکڑ اپنے دل بھڑاس کیسے نکالیں گے اس بابت بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ان سے قبل جاٹ رہنما ستیہ پال ملک کا تجربہ بہت ہی تلخ رہا ہے۔ ستیہ پال ملک نے پلوامہ پر حکومت کے ناک میں دم کیا تھا اور اب دھنکر کیا کریں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا؟اس تنازع میں جسٹس ورما بس کی گانٹھ ہیں ۔ ان کہانی اس وقت شروع ہوئی جب چودہ مارچ کو دہلی میں واقع جسٹس ورما کی رہائش گاہ پر آگ لگ گئی ۔ فائر بریگیڈ کے اہلکار اور دہلی پولیس وہاں آگ بجھانےان کے گھر پہنچے تو وہاں بھاری مقدار میں جلی ہوئی نقدی پائی گئی۔ اس کے بعد 22 مارچ کو تفتیش کے لیے تین ججوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اُس وقت جسٹس ورما دہلی ہائی کورٹ میں جج تھے۔ اس واقعے کے بعد ان کا تبادلہ الہ آباد ہائی کورٹ کر دیا گیا۔
جسٹس ورما کا مطالبہ ہے کہ پہلے یہ پتہ لگایا جائے کہ نقدی کس کی ہے؟ان کا الزام ہے کہ کمیٹی نے صحیح طریقے سے تفتیش کرنے کے بجائے خود ان سے یہ ثابت کرنے کے لیے کہا کہ نقدی ان کی نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ کہ زیادتی کرنے والی تین ججوں پر مشتمل کمیٹی نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں الٹا جسٹس ورما کو بدسلوکی (misconduct) کا مرتکب قرار دے دیا۔ ۳؍ مئی کو چیف جسٹس سنجیو کھنہ کو رپورٹ سونپی گئی ۸؍مئی کو سابق چیف جسٹس کھنہ نےاسے صدر جمہوریہ اور وزیراعظم کو بھیج دی اور اب مواخذہ تحریک کے ذریعہ ان کو ہٹانے کی سعی کی جارہی ہے ۔یہ معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ چیف جسٹس بی آر گوئی نے اپنی معذرت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس عرضی کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ بنانی پڑے گی اور وہ اس میں شامل نہیں ہو سکیں گے کیونکہ اس وقت کے چیف جسٹس نے ان سے نہ صرف مشورہ کیا تھاوہ بھی کمیٹی کے رکن تھے۔ اس طرح چیف جسٹس نے تو اپنے ہاتھ کھڑے کردئیےہیں ۔
مرکزی حکومت جسٹس ورما کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مواخذے کی تیاری میں سنجیدہ لگ ہےمگر جہاں تک رقم کا سوال ہے کچھ لوگ اس کی بابت سابق چیف جسٹس چندر چوڑ پر شک کررہے ہیں کیونکہ جسٹس ورما ان سے بہت قریب تھے۔ جسٹس چندر چوڑ کی وزیر اعظم مودی سے قربت جگ ظاہر ہے۔ مودی جی ان کے گھر گنپتی کی آرتی کرنے گئے تھے ۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ جسٹس ورما سے پہلے ان کی مخالفت کرنے والے جگدیپ دھنکر کو جانا پڑا۔ اس کے بعد جب جسٹس چندرچوڑ نے مودی سے ملاقات کی تو ان کے نائب صدر بننے کی قیاس آرائی شروع ہوگئی لیکن اگر کل کو یہ سراغ نکل آئے جلنے والا روپیہ چندر چوڑ کا تھا تو دھنکر کی مانند انہیں بھی جھولا اٹھا کر جانا پڑے گا اور مودی حکومت کو 220کے بجائے 440 کا جھٹکا لگ جائے گا ۔
جسٹس یشونت ورما کے معاملے اور ممبئی ٹرین دھماکے میں کمال مماثلت ہے۔ موصوف کے گھر پر بے شمار جلے ہوئے نوٹ ملے مگر ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دولت ان کی نہیں ہے سرکاری ایجنسیوں نے انہیں زبردستی پھنسا دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ دھن دولت کا خزانہ ان کا نہیں ہے تو کس کا ہے؟ ممبئی بم دھماکہ بھی ایک حقیقت ہے ۔ اس میں 186؍ لوگوں نے جان گنوائی سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اے ٹی ایس نے اس الزام میں جن لوگوں کو گرفتار کیا تھا ان کا کہناہے کہ دھماکے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اے ٹی ایس بلا وجہ ان کو گرفتار کرلیا ۔ یہ معاملہ سیشن کورٹ میں چلا تو اس نے انہیں مجرم مان لیا مگر ہائی کورٹ نے رہا کردیا ۔ ممبئی کے انصاف پسند لوگ ہائی کورٹ کے دلیرانہ اور معروضی فیصلے سے خوش ہوگئے کہ اس نے عصبیت سے اوپر اٹھ کر سرکاری ناراضی کی پروا کیے بغیر بے قصور لوگوں کو چھوڑ دیا مگر سوال یہ ہے کہ آخر وہ دھماکے کس نے کیے؟ اوران کو کس نے بچا کر بے گناہ قیدیوں کو پھنسایا ؟
امسال مارچ میں جب جسٹس ورما کے گھر میں آگ لگنے کے بعد بڑی مقدار میں نقدی ملی تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے تین ججوں پر مشتمل جوتحقیقی کمیٹی تشکیل دی، اس نے نہیں قصوروار قرار دیا۔ جسٹس ورما کے استعفیٰ سے انکارکر کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ ہی چیلنج کردیا ۔ ان کی وکالت کرتے ہوئےرکن پارلیمان اور معروف وکیل کپل سبل نے عدالت میں کہا کہ عرضی میں کچھ آئینی نکات اٹھائے گئے ہیں، اس لیے اسے جلد از جلد سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ممبئی دھماکے سے متعلق سالیسیٹر جنرل تشار گاندھی نے بھی سپریم کورٹ میں بعینہ یہی دلیل دی تھی ۔ بامبے ہائی کورٹ کے اندر جس طرح ممبئی ٹرین بلاسٹ کے ملزمین نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے کی گہار لگائی تھی اسی طرح جسٹس ورما نے اپنی عرضی سابق چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی اس سفارش کوغیر آئینی قرار دے کر جس میں انہیں ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹانے کی بات کہی تھی کو کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا ۔
ممبئی ٹرین بلاسٹ کے ملزمین نے اے ٹی ایس کی تفتیش میں کئی خامیوں کو طشت ازبام کرکے اسے جعلی بتایا تھا ۔ اسی طرح جسٹس ورما بھی اپنی عرضی میں سپریم کورٹ تفتیشی کمیٹی کی رپورٹ کو باطل قرار دینے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ جسٹس ورما کو سب سے اہم شکایت یہ کہ کمیٹی نے انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا۔ وہ پہلے سے طے شدہ ذہنیت کے ساتھ کام کرتے ہوئے نتائج تک پہنچے۔ممبئی میں ٹرین بلاسٹ کے بے قصور ملزم بھی تو یہی کہتے ہیں اے ٹی ایس نے پہلے ہی مسلمان ہونے کے سبب الزامات منڈھنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور پھر اس پر کہانی رچی گئی۔ ان سے حقیقت جاننے کے بجائے اذیت دے کر اقبالیہ بیانات لیے گئے ۔ جسٹس ورما خوش قسمت ہیں کہ کم از کم وہ پولیس والوں کی تھرڈ ڈگری سے بچ گئے ورنہ تفتیشی ایجنسی کے پاس ان کا بھی اقبالیہ بیان ہوتا۔ ممبئی ٹرین بلاسٹ کے ملزمین کو بھی دھماکوں میں مرنے والوں سے ہمدردی ہے لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ بے قصور لوگوں کو پھنسانے کے بجائے اصلی مجرم کو پکڑا جائے ۔
وطن عزیز کا یہ امتیاز کبھی نہیں تھا کہ یہاں عوام و خواص پر زیادتی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس بات پر ناز کیا جاتا تھا کہ یہاں آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ یعنی جو کچھ بھی کرنا ہوتا ہے اسے دستور کا ملمع چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ملک کے اندر اقتدار کی تبدیلی تو ہوتی ہے ، اندر ہی اندر سرکار بنانے کی خاطر سارے غیر آئینی حربے استعمال کیے جاتے ہیں یعنی انتخابی مہم میں نفرت انگیزی، سرکاری دفاتر و وسائل کا غیر جانبدارانہ استعمال ، ای ڈی اور سی بی آئی کے چھاپوں سے ڈرا دھمکا کر بلیک میل کرنا ، عوامی نمائندوں کی وفاداری کو دولت کے بل کھلے عام خرید لینا وغیرہ لیکن یہ سب قانون کے دائرے میں ہوتا رہتا تھا۔ سابق نائبِ صدر جگدیپ دھنکر کی وداعی میں وہ تقدس بھی پامال ہوگیا ۔ آئین کے مطابق صدر مملکت دروپدی مرمو ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے بعد نائب صدر اور پھر وزیر اعظم تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔
سابق نائب صدرجگدیپ دھنکرکو اچانک بیماری کے بہانے مشکوک انداز میں مستعفی کروا کر عوامی زندگی سے جس طرح غائب کردیا گیا اس سے واضح ہوگیا کہ ملک کے تیسرے مقام پر فائز فرد نے اپنے سے اوپر والے کو اس سے اعلیٰ مقام پر فائز عہدیدار کی مدد سے نکال باہر کیا ورنہ کسی اہم ترین عہدے سے فارغ ہوکر اس کا اچانک عوام کی کی نظروں سے اوجھل ہوجانا کیا معنیٰ ؟ پچھلے پانچ دنوں سے وہ کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا ۔ حزب اقتدار ان کا منہ نہیں دیکھنا چاہتا مگر حزب اختلاف کے لوگ تو ملنا چاہتے ہیں۔ ان کو ملاقات سے کیوں روکا جارہا ہے؟ ملک کا میڈیا ہر روز اوٹ پٹانگ قیاس آرائیاں کرنے کے بجائے ان سے ملاقات کرکے ان کے من کی بات جاننے کی سعی کیوں نہیں کرتا ؟ اس میں شک نہیں کہ اس کو روکا جارہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر کون روک رہا ہے اور کیوں روک رہا ہے؟ مودی سرکار ایک مستعفی نائب صدر سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے کہ انہیں عوام میں آکر اپنی بات کہنے نہیں دیتی اور میڈیا کو ان سے ملنے سے روکتی ہے؟وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ کہ انہوں نے ہندوستانی سیاست چہرے پر پڑی وہ نقاب نوچ کر پھینک دی جس کے ذریعہ عوام اپنے آپ کو بہلایا اور پھسلایا کرتے تھے۔ویسےجسٹس ورما کے معاملےمیں تار ممبئی کی لوکل گاڑیوں کے پٹریوں سے بھی زیادہ الجھے ہوئے ہیں ۔ سپریم کورٹ میں آج سماعت کیسی ہوتی ہے؟یہ وقت بتائے گا۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...