Skip to content
غزہ کا المیہ: بھوک جب ہتھیار بنی اور دنیا تماشائی!
____
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)
____
تاریخ کے وسیع کینوس پر جب بھی انسانی المیوں کا ذکر ہوگا، اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کا غزہ ایک ایسے سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں انسانیت نے اجتماعی خودکشی کی اور عالمی ضمیر نے اپنی بے حسی کا ماتم کیا۔ یہ محض ایک خطے کی داستان نہیں، بلکہ جدید تہذیب کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ ہے جس کی گونج آنے والی نسلوں کے لیے ایک دائمی انتباہ بن کر رہ جائے گی۔ غزہ کی پٹی، جو طویل عرصے سے ایک کھلی فضائی جیل کا منظر پیش کر رہی تھی، اکتوبر 2023 کے بعد سے ایک ایسے منظم اور سفاکانہ تجربے کی آماجگاہ بن چکی ہے جہاں صہیونی ریاست اسرئیل کی جانب سے بھوک کو جنگ کے ایک مہلک ترین اور خاموش ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی قدرتی قحط نہیں، بلکہ ایک ایسی دانستہ اور منصوبہ بند حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس کا مقصد 23 لاکھ فلسطینیوں کی اجتماعی قوتِ ارادی کو توڑنا، ان کی نسلوں کو ناقابلِ تلافی جسمانی و ذہنی نقصان پہنچانا اور بالآخر ان کے وجود کو صفحہ? ہستی سے مٹانے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ المیہ اعداد و شمار کی زبان میں بیان کیا جائے تو اس کی ہولناکی مزید عیاں ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کی جانب سے مربوط فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسفیکیشن (IPC) کی تازہ ترین رپورٹس، جو کہ قحط کے تعین کا عالمی معیار ہیں، ایک لرزہ خیز تصویر پیش کرتی ہیں۔ جولائی 2025 تک، غزہ کی پوری آبادی بحران کی سطح (IPC Phase 3) یا اس سے بدتر غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ تقریباً نصف ملین سے زائد افراد تباہ کن قحط (IPC Phase 5) کے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ خاندانوں کے پاس خوراک کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے، فاقہ کشی معمول بن چکی ہے، اور موت دستک دے رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، غزہ کے شمال میں ہر چھ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جسے ‘wasting’ کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ شرح عالمی ہنگامی حد سے تین گنا زیادہ ہے۔ یونیسف کی ترجمان ٹیس انگرام نے مارچ 2025 میں غزہ سے واپسی پر اپنے مشاہدات کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا، ”میں نے بچوں کی آنکھوں میں وہ خالی پن دیکھا ہے جو صرف طویل بھوک سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ سسکتی ہوئی زندگیاں ہیں جنہیں دنیا نے فراموش کر دیا ہے۔”
اس بحران کی جڑیں اسرائیل کی اس آہنی ناکہ بندی میں پیوست ہیں جو زمینی، فضائی اور سمندری راستوں کو مفلوج کر چکی ہے۔ کیرم شالوم اور رفح کراسنگ، جو غزہ کے لیے زندگی کی شاہراہیں تھیں، اب امدادی قافلوں کے لیے بیوروکریٹک رکاوٹوں، طویل اور غیر متوقع معائنے، اور اکثر بلاجواز مستردی کا قبرستان بن چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کی رپورٹوں میں بارہا اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ امدادی ٹرکوں کو ہفتوں تک سرحد پر روکا جاتا ہے، جس سے خوراک اور ادویات جیسی حساس اشیاء خراب ہو جاتی ہیں۔ یہ محض انتظامی نااہلی نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے جسے ماہرین ”قحط کی انجنیئرنگ” سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسرائیل کا یہ دعویٰ کہ یہ اقدامات حماس تک ہتھیاروں کی رسائی روکنے کے لیے ضروری ہیں، عالمی امدادی ایجنسیوں کے نزدیک ایک کھوکھلا بہانہ ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے چیف اکانومسٹ عارف حسین نے جون 2025 میں دوٹوک الفاظ میں کہا تھا، ”غزہ میں امداد کی ترسیل میں سب سے بڑی رکاوٹ رسائی کا فقدان ہے، اور یہ رسائی اسرائیلی حکام کے کنٹرول میں ہے۔ ہم بھوک کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن ہمیں محفوظ اور بلا تعطل رسائی کی ضمانت چاہیے۔”
اسرائیل نے بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی کو محض ناکہ بندی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ غزہ کی مقامی خوراک پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی منظم طریقے سے تباہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر (UNOSAT) کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غزہ کی تقریباً 60 فیصد سے زائد زرعی اراضی، گرین ہاؤسز، اور باغات کو اسرائیلی بمباری سے براہِ راست نقصان پہنچا ہے۔ زیتون کے قدیم درخت، جو فلسطینی ثقافت اور معیشت کا حصہ تھے، جڑوں سے اکھاڑ دیے گئے ہیں۔ ماہی گیری کی صنعت، جو ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ معاش تھی، ساحل پر عائد پابندیوں کے باعث مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ پانی کے کنوؤں، صاف پانی کے پلانٹس، اور نکاسی آب کے نظام کو نشانہ بنا کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے جہاں پینے کا صاف پانی نایاب ہے اور ہیضہ اور اسہال جیسی بیماریاں غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے موت کا پروانہ بن رہی ہیں۔ یہ اقدامات، جنہیں بعض قانونی ماہرین ‘agricide’ یا ‘ماحولیاتی نسل کشی’ قرار دیتے ہیں، بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ 1977 کے جنیوا کنونشنز کا ایڈیشنل پروٹوکول اول، آرٹیکل 54، واضح طور پر شہریوں کو بھوکا رکھنے کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے سختی سے منع کرتا ہے۔
اس انسانی ساختہ قحط کے سماجی اور نفسیاتی اثرات بھی اتنے ہی تباہ کن ہیں۔ ایک معاشرہ، جو پہلے ہی نسلوں کے محاصرے اور تنازعات سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا، اب اپنی بنیادی انسانیت کے بحران سے دوچار ہے۔ لوگ جانوروں کی خوراک، گھاس، اور حتیٰ کہ ابلا ہوا گتے کھانے پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (MSF) کے معالجین نے ایسے واقعات رپورٹ کیے ہیں جہاں مائیں اپنے بچوں کو بھوک سے تڑپتا دیکھ کر ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہیں۔ لندن اسکول آف اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق، اس بحران نے غزہ میں ایک ایسی ”گمشدہ نسل” پیدا کی ہے جس کے جسمانی ارتقاء پر پڑنے والے اثرات ناقابلِ تلافی ہوں گے۔ غذائی قلت کا شکار بچے نہ صرف جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں، بلکہ ان کی سیکھنے اور مستقبل میں ایک فعال زندگی گزارنے کی صلاحیت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔
اسرائیلی حکام ان تمام الزامات کو حماس پر ڈال کر یا سیکیورٹی کی ضروریات کا جواز پیش کر کے مسترد کرتے ہیں۔ مئی 2025 میں ایک فوجی ترجمان کا یہ بیان کہ ”سیکیورٹی چیک کے بغیر امداد داخل نہیں ہو سکتی” اس حقیقت کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے کہ یہی سیکیورٹی چیک امداد کو روکنے کا سب سے بڑا ذریعہ اور حربہ بن چکے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تفصیلی رپورٹوں میں اسرائیلی حکام کے ان دعووں کو بے نقاب کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ شہریوں کی اجتماعی سزا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں دائر کردہ مقدمہ اس تناظر میں ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت نے اپنے ابتدائی فیصلوں میں اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ نسل کشی کے ممکنہ اقدامات سے باز رہے اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔ تاہم، ان عدالتی احکامات کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ آنا عالمی نظامِ انصاف کی بے بسی اور بڑی طاقتوں کی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
عالمی برادری کا ردعمل مایوس کن حد تک کمزور اور منقسم رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھاری اکثریت سے جنگ بندی اور ناکہ بندی کے خاتمے کی قراردادیں منظور ہوئیں، لیکن سلامتی کونسل میں امریکہ کے ویٹو نے ہر بامعنی کارروائی کی راہ مسدود کر دی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے جولائی 2025 میں اپنی ایک پریس کانفرنس میں شدید کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”غزہ میں بھوک کی شدت انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ تاریخ ہم سے پوچھے گی کہ ہم نے کیا کیا، اور ہمارا جواب شرمناک ہوگا۔” اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے، فرانچسکا البانیز، نے اپنی رپورٹ میں اس صورتحال کو نسل کشی کے شواہد کے طور پر پیش کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔ لیکن یہ آوازیں طاقت کے ایوانوں میں نقارخانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی ہیں۔
اس بحران کا حل فوری اور کثیر الجہتی اقدامات کا متقاضی ہے۔ سب سے پہلا قدم ایک مستقل اور قابلِ نگرانی جنگ بندی ہے تاکہ تشدد کا خاتمہ ہو اور امدادی کارروائیوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ دوم، اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ تمام زمینی گزرگاہوں کو مکمل طور پر کھول دے اور امدادی قافلوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو شفاف اور تیز بنائے۔ سوم، عالمی برادری کو غزہ کی معیشت، زراعت، اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دینا ہوگا تاکہ مقامی آبادی اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے۔ اور سب سے اہم، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہئیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
بالآخر، غزہ کا المیہ صرف فلسطینیوں کا امتحان نہیں، بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے ایک آئینہ ہے۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ کیا ہم اکیسویں صدی میں بھی طاقتور کو کمزور پر ظلم کرنے کی کھلی چھوٹ دیں گے؟ کیا بین الاقوامی قوانین اور ادارے محض کمزوروں پر لاگو ہونے کے لیے بنائے گئے ہیں؟ غزہ کے بچوں کی بھوک سے نڈھال چیخیں محض روٹی کے ایک ٹکڑے کی طلب نہیں، بلکہ یہ انصاف، وقار، اور زندگی کے بنیادی حق کی پکار ہیں۔ جب تک دنیا اس پکار پر کان نہیں دھرتی، تاریخ ہمیں اس اجتماعی جرم میں برابر کا شریک سمجھتی رہے گی۔ غزہ کی سسکیاں دراصل ہماری اپنی اخلاقی موت کا اعلان ہیں، ایک ایسا اعلان جسے نظر انداز کرنے کی قیمت آنے والی نسلوں کو ایک غیر محفوظ اور غیر منصفانہ دنیا کی صورت میں چکانی پڑے گی۔
______
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...