Skip to content
بھارت میں شادی شدہ خواتین کی خودکشیاں (2014–2024): ایک المیہ۔ وجہ؟
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
گزشتہ دس برسوں میں بھارت میں ایک تشویشناک خودکشی کا رجحان مستقل طور پر سامنے آ رہا ہے – شادی شدہ خواتین کی خودکشیوں کی بڑی تعداد۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے مطابق 2014 سے 2023 کے درمیان تقریباً 1.6 لاکھ شادی شدہ خواتین نے خودکشی کی، جن میں ہر سال اوسطاً 15 سے 18 ہزار کے درمیان خودکشیاں ہوئیں۔ صرف 2021 میں 23,179 گھریلو خواتین (ہاؤس وائیوز) نے خودکشی کی، جو کہ اس سال تمام خواتین کی خودکشیوں کا پچاس فیصد سے زیادہ تھا۔ یہ تعداد سال بہ سال تقریباً ایک جیسی رہی ہے، جو ایک گہری سماجی اور ثقافتی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ان خودکشیوں کی بڑی وجوہات میں گھریلو جھگڑے، شادی سے متعلق مسائل جیسے جہیز کی ہراساں کاری، گھریلو تشدد، اولاد نہ ہونا، اور ذہنی صحت کے مسائل جیسے ڈپریشن اور اضطراب شامل ہیں۔ مالی پریشانی، جذباتی سہارا نہ ہونا، اور معاشرتی تنہائی بھی ان خواتین کی ذہنی اذیت کو بڑھاتے ہیں۔
ایک اہم لیکن کم زیرِ بحث مسئلہ بھارت کا قدیم مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family System) ہے۔ اگرچہ روایتی طور پر بھارت میں اسے ایک سہارا سمجھا جاتا ہے، لیکن کئی تحقیقی مطالعات اور ذہنی صحت کے ماہرین کے مشاہدات کے مطابق یہ نظام بہت سی شادی شدہ خواتین کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ اگرچہ NCRB کے اعداد و شمار میں "جوائنٹ فیملی” کو الگ سے وجہ کے طور پر نہیں لکھا گیا، مگر "خاندانی جھگڑے” اور "شادی سے متعلق مسائل” کی کیٹیگری میں شامل کئی واقعات درحقیقت سسرال میں ساس، نندوں یا دیورانیوں کے ساتھ جھگڑوں اور ذہنی اذیت سے جڑے ہوتے ہیں۔ جو اکثر ایک گھر میں ایک ساتھ رہنے، باتھ روم اور کچن شیئر کرنے اور دوسری چیزیں مجبوری میں استعمال کرنے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ بڑے شہروں میں مڈل کلاس لوگ مہنگائی کی وجہ سے علیحدہ مکان خرید نہیں سکتے اور اکثر ایک بیڈ روم میں ایک سے زائد فیملیز غربت کی وجہ سے رہنے پر مجبور ہیں۔
ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز (TISS) اور مختلف ہیلپ لائنز جیسے iCall اور Snehi کے مطابق بہت سی خواتین جو ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہیں، ان کی شکایت کا مرکز سسرالی رشتے اور مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family System) ہی ہوتا ہے۔ جہیز کی ہراساں کاری، جو ایک نمایاں خودکشی کی وجہ ہے، عموماً انہی خاندانوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جہاں پورا گھرانہ مل کر نئی بہو پر دباؤ ڈالتا ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی "ہاؤس وائیوز” کیٹیگری بذات خود ایک گواہی ہے کہ گھریلو خواتین کو سماج اور خاندان میں ان کی محنت کا اعتراف نہیں ملتا، ان پر روایتی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے جسے وہ برداشت نہیں کر پاتیں، اور انہیں اپنا ذاتی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ اکثر خواتین کو ان کے شوہر کوئی پیسہ نہیں دیتے، اکثر نوعمر لڑکیوں کو کم عمری میں ایسے گھروں میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ اجنبی اور الگ ماحول، جذباتی اکیلاپن، اور مکمل انحصار کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
ذہنی صحت کے مسائل، جیسے بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن یا گھریلو دباؤ کی وجہ سے ذہنی بیماری، کو ہمارے معاشرے میں نہ تو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ اکثر خواتین خاموشی سے تکلیف برداشت کرتی رہتی ہیں اور مدد مانگنے سے کتراتی ہیں۔ غریب پسماندہ علاقوں میں خواتین کی صحت کا معیار اور زندگی انتہائی خراب ہے۔
شادی شدہ خواتین کی خودکشیاں انفرادی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے سماج، گھریلو ڈھانچے، اور رشتوں کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ یہ سانحات روکے جا سکتے ہیں اگر ہم خواتین کی نفسیاتی اور جذباتی ضروریات کو سمجھیں، انہیں ذاتی وقار، آزادی اور تحفظ دیں، اور ایسے گھریلو نظام پر نظرثانی کریں جو انہیں دبا کر رکھتے ہیں۔ ان کے لیے ہمدردانہ ماحول، معاشی خودمختاری، قانونی تحفظ، اور ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے گھروں میں جہاں خواتین خودکشی کرنے پر مجبور ہوتی ہیں، قانونی کارروائی اور کسی کو سزا دینے کا تصور بھی نہیں ہے۔
ہمارے سماج میں خواتین کی نفسیات اور مسائل سے ناواقف لوگ اور آدھے ادھورے افراد کونسلنگ کا کام کرتے ہیں اور ہمیشہ عورتوں کو، بہو بیٹیوں کو نصیحت کرنے، صرف بیٹیوں پر دباؤ ڈالنے میں یقین رکھتے ہیں۔ بیٹیاں ایک حد تک برداشت کرتی ہیں پھر آخر میں ہار کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیتی ہیں۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...