Skip to content
بہار میں انتخابی بحران: ایس آئی آر SIR ہدایت نامے پر ہنگامہ
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
بہار میں ایک غیر معمولی انتخابی تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے 24 جون 2025 کو ایک ہدایت نامہ جاری کیا، جس کے تحت ریاست میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (Special Intensive Revision – SIR) کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم کے مطابق، بہار کا ہر رجسٹرڈ ووٹر دوبارہ سے ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے لیے نئی شہریت کے ثبوت کے ساتھ درخواست دے اور یہ عمل صرف ایک ماہ کے اندر یعنی 25 جولائی 2025 تک مکمل کرنا ہوگا۔ اگر کوئی ووٹر یہ ثابت نہ کر سکا تو اس کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا جائے گا۔ حزب اختلاف کے رہنما اور سول سوسائٹی کے کارکنان اس اقدام پر شدید اعتراض کر رہے ہیں، ان کے مطابق اس سے تقریباً 60 لاکھ ووٹروں کو محروم کر دیا جائے گا، جن میں بڑی تعداد دلت، مسلمان، آدیواسی، مہاجر مزدوروں اور غریب دیہی عوام کی ہے جو ضروری دستاویزات شاید اس طرح نہیں رکھتے جس طرح الیکشن کمیشن چاہتا ہے ۔
جبکہ بہار اسمبلی انتخابات قریب ہیں، حزب اختلاف کے رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ SIR کا وقت اور طریقہ کار انتخابی بدنیتی کی عکاسی کرتا ہے۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ووٹروں پر دوبارہ شہریت ثابت کیا کا بوجھ ڈالنا جو پہلے ہی قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں، آئین ہند کی دفعہ 326 کی خلاف ورزی ہے، جو بالغ رائے دہی کی ضمانت دیتی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (RJD) کے رہنما اور سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ان طبقات کے ووٹ مٹانے کی سازش قرار دیا ہے جنہوں نے تاریخی طور پر بی جے پی کی مخالفت کی ہے۔ یادو نے کہا: "بی جے پی کو بہار میں شکست یقینی نظر آ رہی ہے، اس لیے وہ الیکشن کمیشن کو اپنے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔” کانگریس کے رکن پارلیمان سپت گیری اُلکا نے اسے "نشانہ بنا کر حق رائے دہی سے محروم کرنے” کا عمل قرار دیا، جب کہ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اعلان کیا کہ اپوزیشن اس عمل کو قانونی اور جمہوری طریقے سے ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔
بہار بھر میں، خاص طور پر پٹنہ اور ضلع ہیڈکوارٹرز میں کئی احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک ریاست گیر بند کی کال دی تھی، جسے عوام کی وسیع حمایت ملی۔ اب تک کم از کم چار عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی جا چکی ہیں جن میں SIR کے آئینی اور قانونی پہلوؤں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اگر ECI نے یہ حکم واپس نہ لیا تو حزب اختلاف ریاستی انتخابات کے بائیکاٹ کا امکان ظاہر کر رہی ہے۔ تیجسوی یادو نے ملک بھر کے 35 سے زائد اپوزیشن رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے تاکہ اس مسئلے کو صرف بہار کا نہیں بلکہ قومی جمہوری بحران قرار دیا جائے۔ سیاسی مبصرین نے اس صورتحال کا موازنہ 1974 کی جے پی تحریک سے کرنا شروع کر دیا ہے، جس نے بالآخر ایمرجنسی اور مرکز میں پہلی متحدہ اپوزیشن حکومت کی راہ ہموار کی تھی۔
اب ایسی رپورٹس سامنے آئیں ہیں کہ الیکشن کمیشن اس SIR عمل کو پورے ملک میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کا مطلب ہوگا کہ ایک ارب سے زائد ووٹروں کو دوبارہ رجسٹر ہونا پڑے گا اور شہریت کے ثبوت پیش کرنے ہوں گے، خواہ وہ پہلے ہی ووٹر لسٹ میں شامل کیوں نہ ہوں۔ ناقدین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل پورے ملک میں نافذ کیا گیا تو یہ ہندوستانی تاریخ کی سب سے بڑی ووٹر خارج کرنے کی کارروائی بن سکتی ہے، جس سے غریب اور حاشیے پر موجود طبقات سب سے زیادہ مسلمان متاثر ہوں گے، جو پہلے ہی سرکاری دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا شکار ہیں۔
معاملہ اب سپریم کورٹ کے سامنے ہے، جہاں اس کی آئینی حیثیت اور دستوری ہونے پر بحث متوقع ہے۔ ماہرین قانون، کارکنان، اور سیاسی رہنما فوری عبوری راحت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ ووٹروں کو ووٹنگ کے حق سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ میں کسی بھی قسم کی نظرثانی شفاف، شمولیت پر مبنی اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ مسئلہ صرف ایک ریاستی انتخاب کا نہیں، بلکہ ہمارے ملک کے جمہوری نظام کی ساکھ کا ہے۔ سبھی کی نگاہیں عدلیہ اور الیکشن کمیشن جیسے آئینی اداروں پر مرکوز ہیں، کہ وہ اس آزمائش میں کس حد تک عوام کے بنیادی حقِ رائے دہی کی حفاظت کر پاتے ہیں۔
Like this:
Like Loading...