Skip to content
پبلک سیفٹی ایکٹ سے ہنی ٹریپ تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مہاراشٹر کی بزدل حکومت پر اپنے حریفوں کو قابو میں کرنے کے لیے خوف و ہراس اور حرص و ہوس کا مایا جال پھیلانے کا الزام ہے۔ پہلے تو یہ لوگ دولت یا عورت کی مدد سے اپنے دشمن کو پھنساتے ہیں اور جو اس سے بچ نکلے اسے ڈرا دھمکا کر رام کیا جاتا ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی کا مانسون اجلاس عوامی تحفظ قانون سے شروع ہوکر ہنی ٹریپ پر اختتام پذیر ہوا۔ کانگریس کے نانا پٹولے نے ایوان میں 72 سے زائد سرکاری افسران اور بعض وزراء کوہنی ٹریپ کا شکار کرکے ریاستی خفیہ دستاویزات ملک دشمن عناصر تک پہنچانے کا الزام لگایا۔نام نہاد دیش بھگت حکومت کے خلاف پٹولے نے اسپیکر کو مبینہ طور پر اسکینڈل کی ایک پین ڈرائیو بھی پیش کی ۔ ان کے مطابق اس معاملے میں حکومت حقائق کو چھپانے کی خاطر سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کر رہی ہے ۔ موصوف نے کارروائی نہیں کرنےکی صورت میں ان شواہد کو عام کرنےکی دھمکی دی ۔ایوان اسمبلی کےاسپیکر نے اس پربحث کی اجازت تو نہیں دی مگرحکومت کو کارروائی کی مکمل رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔
تھانے اور ناسک کے پولیس اسٹیشنوں میں خواتین کی جانب سے شکایت کے بعد یہ ہنی ٹریپ نیٹ ورک سامنے آیا جس میں ممبئی اورپونے کے بھی سات کلاس ون انتظامی افسران، ایک چارٹرڈ افسر، موجودہ اور سابق وزرا، ریاست کے۳؍ ڈی سی پی ، کچھ ریونیو افسران، پولیس انسپکٹر اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر ملوث ہیں۔ ناسک سے تعلق رکھنے والا اس کا ماسٹر مائنڈ شمالی مہاراشٹر کے ایک وزیرمہاجن کا قریبی ہے۔ وزیر اعلیٰ فڈنویس کے پاس وزارت داخلہ بھی ہے مگر چونکہ وہ’نہ ہنی ہے نا ٹریپ ہے‘ کہہ کر خود ٹریپ ہوچکے تھے اس لیے سابق وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو یقین دہانی کے لیے آگے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے اور قصورواروں کے خلاف جلد کارروائی کی جائے گی۔اس طرح فڈنویس کے جھوٹ کا بھانڈا خود ان کے نائب نے پھوڑ دیا۔نانا پٹولے بلیک میل کے ذہنی دباؤ کی وجہ سے کچھ افسران کے خودکشی پر غور کرنے کا سنگین الزام بھی لگایا۔
مہاراشٹر کی سنگھی حکومت ایک طرف یہ مایا جال پھیلا رہی ہے اور دوسری جانب اس کا راز فاش کرنے والوں کو اربن نکسل کہہ کر عوامی تحفظ کے قانون میں جکڑ رہی ہے۔ یلغار پریشدکے بعد فڈنویس نے انسانی حقوق کارکنوں کو گرفتار کرنے کی خاطر ’اربن نکسل ‘ نامی مبہم اور غیرمتعینہ اصطلاح کو استعمال کرکے بے قصور لوگوں کو مجرم ٹھہراچکے ہیں ۔ حکومت کو اس ظالمانہ قانون کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ جنوری 2018 میں پونے پولیس کے ذریعے درج کیے گئے مقدمہ میں گرفتار کارکنان ورنان گونجالوس اور ارون فریرا کو ضمانت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف دستیاب شواہد نہیں ہونے کی صورت میں انہیں لگاتار حراست رکھنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی رہائی میں روڈا ڈالنے کے لیے یہ نیا قانون وضع کیا گیا تاکہ اختلاف کی آوازکو دبانے کاجواز فراہم کیا جائے۔ حکومت بلا ثبوت الزام لگا کر حراست کو ہی سزا میں بدل دینا چاہتا ہے۔غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967 (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار شدہ گونجالوس اور فریرا ضمانت دینے سے جب این آئی اے کی خصوصی عدالت اور بامبے ہائی کورٹ نے انکار کردیا تو انہوں نے عدالتِ عظمیٰ کا رخ کیا اور وہاں سے انہیں انصاف مل گیا اب فڈنویس اس راستے کو بھی بند کرنا چاہتے ہیں۔
بھیما کورے گاوں معاملے میں 16؍ انصاف پسند افراد پر پہلے تو وہاں جمع ہونے والی بھیڑ کو اپنی تقاریر سے’اکسانے‘ کا بے بنیاد الزام لگایا گیا اور پھر ’اربن نکسل’ کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم کے ساتھ ان کی مبینہ وابستگی کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے جعلی ای میل بھیج کر انہیں پھنسایا گیا جس کوکئی آزاد فرانزک تنظیموں نے چیلنج کیا ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ حقیقت بھی سامنے آئی تھی کہ کچھ کارکنوں کے نمبر کو این ایس او گروپ کے پیگاسس اسپائی ویئر سے متاثر کیا گیا تھا ۔ میساچیوسٹس واقع ڈیجیٹل فرانزک فرماآرسینل کنسلٹنگ نے بھی اس کی تصدیق کی تھی لیکن اگر حکومت بدمعاشی پر اتر آئے تو اس کا کیا کیا جائے؟ یلغار پریشد کیس میں مصنف اور ممبئی میں مقیم دلت حقوق کےکارکن سدھیر دھولے اورنقل مکانی پر کام کرنے والے گڑھ چرولی کے نوجوان کارکن شامل تھے۔ ناگپور یونیورسٹی میں انگریزی شعبے کی سابق صدر شوما سین، ایڈوکیٹ ارون فریرا، سدھا بھاردواج، مصنف وراورا راؤ، کارکن ورنان گونجالوس؛ قیدیوں کے حقوق کے کارکن رونا ولسن، ناگپور میں مقیم یو اے پی اے کے ماہر اور وکیل سریندر گاڈلنگ؛ قبائلی حقوق کےلیے زندگی وقف کرنے والے آنجہانی کارکن فادرا سٹین سوامی، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ہنی بابو، آنند تیلتمبڑے، شہری آزادی کے کارکن گوتم نولکھا اور ثقافتی گروپ کبیر کلا منچ کے اراکین ساگر گورکھے، رمیش گائچور اور جیوتی جگتاپ کو لپیٹ لیا گیا۔
بھیماکورے گاوں معاملے کے بیشتر ملزم تو ضمانت پر چھوٹ گئے مگر کچھ لوگ ہنوز جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ان بیچاروں کی حالتِ زار پر رحم کھا کر سپریم کورٹ نے ابھی حال میں موجودہ عدالتوں کو ہی خصوصی عدالتیں قرار دینے پر مرکز اور مہاراشٹر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور خاص نوعیت کے مقدمات کی سماعت کے لیے نئی عدالتیں نہ کھولنے پر ناراضگی ظاہر کی۔جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئی مالیہ باگچی کی بنچ نے مرکز اور مہاراشٹر کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل راج کمار بھاسکر ٹھاکرے سے کہا کہ اگر موجودہ عدالتوں میں این آئی اے ایکٹ کے تحت مقدمات کی سماعت کی جائے گی، تو برسوں سے جیل میں قید زیر سماعت قیدیوں، سماج کے حاشیے پر موجود افراد اور گھریلو تنازعات سے متعلق مقدمات کی سماعت تعطل کا شکار ہو جائے گی۔سپریم کورٹ کا توکہنا ہے کہ عدالتی ڈھانچے میں توسیع کرکے ججوں اور عملے کی تقرری کےلیےان عہدوں کو منظوری دینا وقت کا تقاضا ہے مگر حکومت اپنا فرضِ منصبی ادا کرنے کے بجائے نیا قانون بناکر سیاسی شکنجہ مضبوط کررہی ہے۔سپریم کورٹ کی اس بینچ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر اضافی عدالتیں نہیں بنائی گئیں، تو عدالتوں کو خصوصی قوانین کے تحت درج ملزمان کو ضمانت دینے پر مجبور ہونا پڑے گا، کیونکہ مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ مہاراشٹر کے گڑھ چرولی میں ایک نکسل حامی، کیلاش رام چندانی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران سامنے آیا ۔ سال 2019 کے دوران ایک آئی ای ڈی دھماکے میں 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تو کیلاش رام چندانی کے خلاف مقدمہ درج ہوا مگر پھر سوئی اٹک گئی ۔ عدالت عظمیٰ نے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکز اور مہاراشٹر حکومت کو این آئی اے، مکوکا، اور یو اے پی اے جیسے قوانین کے تحت مخصوص عدالتوں کے قیام کے لیے مناسب تجویز تیار کرنے کا آخری موقع دے کر چار ہفتے کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی مہلت دی ہے۔ اس پہلے 23 مئی کو بھی عدالت نے ایسے معاملات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا مگر حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگی اس لیے یہ سخت وارننگ دینی پڑی ۔فی الحال ریاست کے نظم ونسق کا یہ حال ہے کہ مہاراشٹر کی جیل میں بھی قیدی محفوظ نہیں ہیں۔ پچھلے دنوں عاقب ناچن اور عرفان لانڈگے پر تلوجہ جیل میں جان لیوا حملہ ہوا اور ان کے وکیل کو انسانی حقوق کمیشن سے رجوع کرنا پڑا۔ یہ ظلم مبینہ طور پر جیل اہلکاروں کی مدد سے ہورہا ہے مگر ریاستی حکومت کمبھ کرن کی نیند سورہی ہے۔
"عوامی تحفظ قانون ” کے حوالے سے حزب اختلاف کا اندیشہ بجا ہے کہ اسے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور جمہوری احتجاج کو دبانے کے لیے استعمال کیا سکتا ہے۔ اس قانون کے تحت اربن نکسل کے نام پرہر ایسی سرگرمی کوغیرقانونی قرار دے دیا گیا کہ ، جو ریاست میں امن و امان کو بگاڑنے یا قائم شدہ اداروں اور ان کے اہلکاروں کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن سکتی ہے۔سرکار کے اشارے پر کون امن و امان کی خاطرخطرہ ہے اس کا فیصلہ انتظامیہ کرے گا اور انہیں دو سے سات سال قید کی سزا سنا دی جائےگی ۔ اس مبہم اور غیر واضح قانون کو حکومت اپنے سیاسی مخالفین، سماجی کارکنوں، اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ پہلے سے موجود مکوکا (MCOCA) اور یو اے پی اے (UAPA) جیسے سخت قوانین کی موجود گی میں ایک نیا قانون بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وزیراعلیٰ فڈنویس کہتے ہیں کہ اس بل پر غور کرنے والی کمیٹی میں اپوزیشن کے رہنما بھی شامل تھےلیکن کیا ان کی بات سنی یا مانی گئی ؟ ان کاتو ہونا یا نہ ہونا برابر تھا ۔ اسمبلی میں قانون کی واحد مخالفت سی پی آئی (ایم) رکن اسمبلی ونود نکول نےکی مگر کونسل کے اندر مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے ارکان نے واک آوٹ کرکے اپنی احتجاج درج کرایا۔ انگریزوں کے زمانے میں اسی نام سے بنائے جانے والے ظالمانہ قانون کے خلاف بھگت سنگھ نے ایوان َ پارلیمان پر بم پھینک کر احتجاج کیا تھا ۔ اقتدار پر فائز انگریزی سامراج کے وفادار غلاموں نے اپنے آقا سے بھی سخت قانون بناکر ملک کے عوام کو غلام بنانے کی خاطر یہ قانون وضع کرکے غلامی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہےجبکہ خود ان کا دامن ہنی ٹریپ کے الزامات سے داغدار ہے۔
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...