Skip to content
جشنِ سیندور سےکیوں دور ہے سیندوری لال ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
یہ حسن اتفاق ہے کہ جب وزیر دفاع راجناتھ سنگھ آپریشن سیندور کا دفاع کرنے کے لیے ایوان پارلیمان میں کھڑے ہوئے تو اسی وقت آپریشن مہادیو کے تحت پہلگام حملے کے ماسٹر مائنڈ سلیمان شاہ عرف ہاشم موسیٰ کو مار گرایاگیا۔ بالی ووڈ کی فلمیں اپنے احمقانہ اتفاقات کے لیے مشہور ہیں اس لیے کوئی بے پر کی ہانکنے لگے تو لوگ کہتےہیں’ بس کریار ایسا تو فلموں میں بھی نہیں ہوتا ‘ مگر سیاست میں ہوتا ہے۔ سیندور کی بات ہوتو ’ساس اور بہو‘ کی یاد ضروری ہے کیونکہ وہ دونوں اپنے ہی گھر میں ایک دوسرے کا سیندور پونچھنے میں مصروف رہتی ہیں اورعوام اس سے تفریح حاصل کرتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں فوج نے پہلگام حملہ کے ماسٹر مائنڈ سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ۔ مودی سرکار کے اس دعویٰ نے پہلا سوال یہ کھڑا کیا ہے کہ کیا مشترکہ محاصرہ اور تلاشی آپریشن عین اسی دن کیوں کیا گیا جبکہ وزیر دفاع کو اپنا بیان دینا تھا اسے ایک آدھ دن پہلے بھی تو کیا جاسکتا تھا ؟
ایوانِ پارلیمان میں سماجوادی پارٹی کےرام شنکر راج بھر نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے بہت چالاکی سے اس دن کا انتظار کیا ۔ بعید نہیں کہ ایک ہی جیوتش نے دونوں کا مہورت نکالاہو۔ راجناتھ نے سدرشن چکر لے کر رجوع کیا ہوگا اور فوج آپریشن مہا دیو کے لیے شبھ گھڑی کی متمنی تھی ۔ جیوتش کے لیے دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں تھا اس لیے اس نے ایک ہی مہورت پکڑا دیا۔ ویسے نائب صدر جگدیپ دھنکر سے بھی دوچار دن پہلے استعفیٰ لے لیا جاتا توکوئی تنازع نہیں ہوتا ؟لیکن مودی سرکار کو ایسی حماقتوں میں لطف آتا ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ سلیمان شاہ کے ساتھ جبران نامی دہشت گرد کی بھی شناخت ہوئی جو اکتوبر 2024 کے گگن گیر میں سونمرگ ٹنل پراجکٹ پر حملے کا ملزم تھایعنی دونوں حملوں کے ماسٹر مائنڈ تو یہیں تھے اس لیے سرحد پار کرکے آپریشن سیندور کی ضرورت بہار الیکشن کے لیے تو نہیں تھی؟ آپریشن مہادیو نے اس دعویٰ کی بھی ہوا نکال دی کہ پاکستان ڈرکر تائب ہوگیا ۔ ایسا ہے تو یہ لوگ اسلحہ کے ساتھ اپنے کشمیر میں کیاکررہےتھے ؟
مانسون اجلاس سے قبل سابق وزیر داخلہ پی. چدمبرم نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے طریقۂ کار پر اٹھائے جانے والے سوالات کو بی جے پی نے پاکستان کو کلین چٹ دینے کے مترادف قرار دیاکیونکہ انہوں نے پوچھا تھا ، ’’وہ (NIA) نہیں بتا رہی ہے کہ ان ہفتوں میں اس نے کیا کیا ؟ کیا دہشت گردوں کی شناخت کی گئی ؟ یا یہ معلوم کیا گیا کہ وہ کہاں سے آئے تھے؟ ممکن ہے وہ ملک کے ہی دہشت گرد ہوں؟ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ پاکستان سے آئے تھے؟ ‘‘ آپریشن مہادیو کے تحت پہلگام کے بعد ماسٹر مائنڈ کاہندوستان کی سرزمین پر مارا جانا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ وہ یہیں کے تھے اور تین ماہ بعد بھی نہ واپس گئے اور نہ باز آئے تو یہ کامیابی ہے یا ناکامی؟ اس کا فیصلہ راجناتھ سنگھ خود کریں ۔پی چدمبرم کے سوال کہ این آئی اے نے کیا کیا؟امیت شاہ کوجواب دینا چاہیے مگر چونکہ وہ نہیں بتاتے اس لیے ذرائع ابلاغ کی خبروں سے مدد لی جائے۔
پہلگام حملے کے دو دن بعد 24؍ اپریل 2025 کو جموں و کشمیر پولیس نے تین ‘مطلوب’ دہشت گردوں کے پوسٹر جاری کیے ۔ اس میں اننت ناگ کے رہائشی عادل ٹھوکر سمیت ہاشم موسیٰ عرف سلیمان اور علی عرف طلحہ شامل تھے۔ لشکر طیبہ تعلق رکھنے والے ان دہشت گردوں کا تعلق سے حکومت نے مان لیا کہ ان میں ایک پاکستانی نہیں تھا۔ اس وقت انکشاف کیا گیا تھا کہ پہلگام حملے کا ماسٹر مائنڈ لشکر طیبہ کا ڈپٹی کمانڈر سیف اللہ قصوری ہے مگراب ماسٹر مائنڈ بدل گیا یا سرکار کا مائنڈ ؟کوئی نہیں جانتا۔ پہلگام دہشت گرد حملے میں ملوث ہاشم موسیٰ کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اکتوبر 2024 میں گاندربل اور بارہ مولہ کے اندر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے پیچھے بھی اسی کا ہاتھ تھا۔ ان حملوں میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔یہ الزام اگر درست ہے تو پہلگام حملے سے قبل ہاشم کی گرفتاری کیوں عمل میں نہیں آئی ؟
چدمبرم کے حکومت کی کارکردگی سے متعلق جانچ پڑتال سے پتہ چلتا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں شوپیان، کولگام اور پلوامہ کے اندر گھروں کو نشانہ بناکرنہ صرف بم سے اڑایا گیا بلکہ بلڈوزر سے بھی زمین بوس کیا گیا۔ یہ سارے مکان سرزمین پاکستان پر نہیں تھے شاید اس وقت آپریشن سیندور سرکار کے پیش نظرنہیں تھا ورنہ یہ گھر بچ جاتے ۔ عادل ٹھوکر اور اس کے ساتھی احسن شیخ کو پہلگام حملے میں ملوث دہشت گرد بتایا گیا ۔ پلوامہ کے احسن شیخ کے بارے میں اطلاع دی گئی کہ لشکر طیبہ کےاس دہشت گرد نے2018 میں پاکستان سے عسکری تربیت حاصل کرکے وادی میں دہشت پھیلائی اور کئی حملوں میں ملوث رہا ۔ ان کے دو منزلہ مکان کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس کی نگرانی کیوں نہیں کی گئی اگر یہ لا پرواہی نہ ہوتی پہلگام حملہ ہی نہ ہوتا ۔ اس طرح پہلے پوسٹر میں موجود تینوں دہشت گردوں سے انتقام لینے کے بعد آپریشن سیندو ر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ ایک معمہ ہے ۔
کچی پورہ میں لشکر سے تعلق رکھنے کے الزام میں حارث احمد کا گھر بم سے تباہ کیا گیا۔ شاہد احمد کٹّے کے خلاف بلڈوزر ایکشن کیا گیا ۔ان کے نام تو پوسٹر میں بھی نہیں تھے ۔ پہلگام کے حوالے سے تفتیشی رپورٹ تو بہت بعد میں آئی مگر اس سے پہلے ہی 26؍اپریل 2025 کوشمالی کشمیر کپوارہ ضلع کے کلاروس علاقہ میں لشکر طیبہ کمانڈر فاروق ٹیڈوا کے رہائشی مکان کو مسمار کردیا جو اس وقت پاکستان میں مقیم ہے۔ اب فاروق کا تو بال بیکا نہیں ہوا لیکن اس کے گھر والوں کو کیوں سزا دی گئی؟ شوپیان کے چھٹی پورہ گاؤں میں لشکر طیبہ کے کمانڈر شاہد 2020 سے جنوبی کشمیر میں عسکری سرگرمیوں کا اہم منتظم تھا اور لشکر طیبہ کی دوبارہ سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔اس کو پہلگام تک کام کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی اور اس حملے بعد شاہد احمد کا مکان مسمار کر دیاگیا یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کولگام ضلع کے ذاکر احمد کی بابت بتایا گیا کہ وہ 2023 سے سرگرم عسکریت پسند رہا ہےاور اس نے مبینہ طور پر پہلگام حملے کے لیے ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کی ترسیل میں معاونت کی تو اس کا بھی مکان گرا دیا گیا۔48 ؍ گھنٹوں تک اپنے ہی کشمیر میں ہونے والی کارروائی تو چدمبرم کی تائید کرتی ہے اور اگر وہ دعویٰ درست نہیں ہے توسرکاری کارروائی غلط ہوجاتی ہے۔
بی جے پی کی سابق حلیف محبوبہ مفتی نے اپیل کی تھی کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کی جوابی کارروائی میں حکومت انتہائی احتیاط اور درست سمت کا مظاہرہ کرے۔دہشت گردوں اور معصوم شہریوں کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے خطے میں تقسیم کو وسیع کرنے کے بجائے، اتحاد کو مضبوط کرنے والے اقدامات پر زور دیا تھا۔ پی ڈی پی سربراہ نے کشمیر میں ہزاروں گرفتاریوں اور کئی مکانات کی مسماری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "بے گناہ شہریوں کے خلاف کارروائی، دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ بے گناہ کشمیریوں کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا نقصان نہ پہنچے”۔حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا تھا کہ حکام دہشت گردانہ حملہ کے متاثرین کے لیے انصاف چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے کشمیر کے "بے قصور خاندانوں” کو سزا نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے حکام کو تاکید کی تھی کہ متاثرین کو انصاف فراہم کرتے ہوئے معصوم کشمیری خاندانوں کو سزا نہ دیں۔ حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے سری نگر سے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے کہا تھا کہ ’’کشمیر اور کشمیریوں کو اجتماعی سزا دی جارہی ہے‘‘۔ پہلگام اورآپریشن سیندورکے اس پہلوپرگفتگو کےبغیر پارلیمانی بحث ادھوری ہے۔
راجناتھ سنگھ نے ایوانِ پارلیمان میں اعلان کیا کہ ’’ہم نے (پاکستان کے)گھر میں گھس کر مارا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے‘‘ لیکن وہاں سے بھی تو کسی مشہور عسکریت پسند کے ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ کیا ان کے گھر والوں کو مار دینا حقیقی بدلہ ہے؟ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں کسی کے اہل خانہ کو بے خانماں کردینا کون سا انتقام ہے؟کوئی حقیقی مجرم ہو تو بھی اہل خانہ کا کیا قصور ؟کیا یہ وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کی عکاسی ہے کہ دہشت گردوں کو تصور سے بڑھ کر سزا دی جائے گی یعنی پورا خاندان تباہ و برباد کردیا جائے گا ۔ کیا یہ تصور مبنی بر انصاف ہے؟اس پارلیمانی اجلاس کی ابتدا میں وزیر اعظم نےاسے آپریشن سیندور کا جشن قرار دیا تھا مگر ایوان میں ۶؍ منٹ بیٹھنے کے بعد چل دئیے اور دوسرے دن غیر ملکی دورے پر نکل گئے۔ ایک ہفتے بعد جب ایوان میں وزیر دفاع کو جواب دینے کے لیے آگے کیا تو دہلی میں ہونے کے باوجود ایوان میں نہیں آئے۔ آخر سیندوری لال وزیر اعظم جس کےخون میں سیندور دوڑتا ہو آپریشن سیندورکے جشن سےکیوں دور بھاگتا ہے؟
Like this:
Like Loading...