Skip to content
فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
دنیا کے مورخین اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں سرگرداں رہے ہیں کہ آخر یہودیوں کی اپنی ریاست کیوں نہیں ہوتی اور بفرضِ محال عالمِ وجود میں آنےوالا ملک پائیدارکیوں نہیں ہوتا ؟ غزہ پرمظالم اس سوال کا جواب ہیں جہاں اسرائیلی فوج منظم انداز میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ تقریباً 60 ہزار فلسطینیوں کو شہید اور 1 لاکھ 44 ہزار سے زائد کو زخمی کیا جاچکا ہے اور اب ہتھیار کے طورپربھوک کا استعمال ہورہا ہے۔ غزہ کے دو ملین سے زائد انسانوں کو خوراک کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گلینٹ کے پاس اس ظلم کا جواز یہ ہے کہ "نہ پانی ہوگا، نہ خوراک، نہ بجلی اور نہ ایندھن، کیونکہ تمام فلسطینی انسان نہیں بلکہ حیوان ہیں‘‘ یہ خونخوار درندہ نہیں جانتا کہ حیوانوں کو بھی بھوکا پیاسا مارنا سفاکی ہے۔ اسرائیلی حکام بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ ان کے نزدیک جنگجو اور شہری میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ سبھی فلسطینیوں کو سزا کا مستحق مجرم گردانتے ہیں۔
دنیا بھر کے انصاف پسندوں سے علی الرغم اب تو انسانی حقوق کے لیے سرگرمِ عمل معروف اسرائیلی ادارے ’بت سیلم‘ نے بھی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے غزہ میں دانستہ اور منظم طریقےپر نسل کشی جاری ہے۔ اس گھر کے بھیدی کی گواہی اسرائیل کے جنگی جرائم کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔مذکورہ رپورٹ میں اسرائیلی سرکار کا مقصد فلسطینیوں کو نہ صرف قتل کرنا بلکہ غزہ کی پوری آبادی کو نفسیاتی، جسمانی اور معاشی سطح پر تباہ کردینا ہے۔ ویسے یہ قدرت کا انصاف ہے یہودی فوجی بڑے پیمانے پر نفسیاتی امراض کا شکار ہورہے ہیں اور برسرِ اقتدار سیاستداں کو مسلسل ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ رپورٹ انکشاف کرتی ہےایک واضح منصوبے اور نیت کے تحت غزہ کے لوگوں کو جان بوجھ کر فاقہ کشی پر مجبور کرکے بنیادی سہولیات سے محروم کیا گیا تاکہ اجتماعی زندگی بھی تباہ و برباد کردی جائے۔ نقل مکانی پر مجبور کرنے کےلیے اہلیانِ غزہ پر اندھا دھند بمباری کی جاتی ہے یا انہیں بھوکا رکھا جا تا ہےمگر دنیا خاموش تماشائی بنی دیکھ رہی ہے۔
’بت سیلم‘ کی رپورٹ میں یہ واضح اعتراف موجود ہے کہ اسرائیلی حکومت کا مقصد کسی عسکری تنظیم کو ختم کرنانہیں بلکہ پورے معاشرے کو نیست و نابود کردینا ہے۔مذکورہ تنظیم نے اسرائیلی حکومت کے ان سنگین جرائم میں عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ اور یورپی یونین کو برابر کا شریک ٹھہرایا ہےکیونکہ ان ممالک نے صرف خاموشی نہیں اختیار کی بلکہ اسرائیل کو سیاسی اور عسکری مدد فراہم کر کے نسل کشی میں تعاون کیا۔ "اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے”، کی سفارتی ڈھال فراہم کرنےوالے یہ ممالک انسانی تاریخ کےبدترین جرائم میں شریک کار ہیں۔جنوری 2024ء میں عالمی عدالت انصاف نے بھی اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی کے زمرے میں ڈالا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی ادارے اسرائیل پر فلسطینی عوام کی "نسل کشی” اور "منظم تباہی” کا الزام عائد کرتے ہیں۔ نسل کشی پر تحقیق کے ماہر عمر بارتوف نیویارک ٹائمز کےایک مضمون میں اسرائیل کی پالیسی، بیانیہ اور عمل کو بلا شک شبہ نسل کشی ثابت کر چکے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ آخر امریکہ کی پشت پناہی کے باوجود دنیا کی نام نہاد اسمارٹ ترین فوج بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنےپر کیوں مجبور ہوئی ؟ اس کا جواب اسرائیل میں حزب اختلاف کے سربراہ یائیر لاپید یہ دیتے ہیں کہ بینجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں موجودہ صہیونی حکومت نے جنگ میں مکمل ناکامی کا سامنا کیا ہے اور اب قیدیوں کی رہائی کی واحدسبیل ایک جامع معاہدہ ہے۔لاپید نے اپنےخطاب میں اسرائیلیوں کومتنبہ کیا کہ فی الحال جو کچھ ہو رہا ہے وہ فتح نہیں بلکہ ایک مکمل تباہی ہے۔ ان کےمطابق انٹیلی جنس اور عملی معلومات کی بنیاد پر وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حکومت کے پاس کوئی منصوبہ یا وژن نہیں ہے۔ غزہ سے قیدیوں کو واپس لانے کی حکمت عملی بھی ناپید ہے۔لاپید کے نزدیک اس بحران کا واحد حل غزہ سے مکمل انخلاء اور اسرائیلی فوج کو اس کے اردگرد تعینات کرکے وہاں سے مزاحمتی کارروائی کرنا ہے۔ وہ مصر کی قیادت میں علاقائی عرب اتحاد کو غزہ کا انتظام سونپنے کے قائل ہیں یعنی دوسرے الفاظ میں بلاواسطہ غزہ پر حماس کے اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں۔ بعید نہیں کہ نیتن یاہو کو بھی اس کا علم ہولیکن یہ حل ان کو اقتدار سے بے دخل ہوکر جیل بھجوادے گا اس لیے وہ جنگ کو طول دے رہے ہیں ۔
اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے یائیر لاپید نے اعتراف کیا کہ قیدیوں کی رہائی کے لیے اختیار کردہ تمام عسکری دباؤ، خوراک اور دوا کی بندش، اور غیر واضح جزوی معاہدے مکمل طور پر بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے بغیر قیدی واپس نہیں آئیں گے ۔ وہ بولے چونکہ صہیونی سیاسی اور میڈیا حلقے مکمل طور پر بکھر چکے ہیں اس لیے موجودہ صورت حال میں بنیادی تبدیلی نہ آئے تو اسرائیل پر اقتصادی اور قانونی پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں، اور ہر شہری اس کی قیمت چکائے گا۔ حتیٰ کہ غزہ میں لڑنے والے صہیونی فوجی بھی گرفتاری کے خوف سے بیرون ملک سفرنہیں کرسکیں گے۔لاپید غزہ پر مستقل فوجی حکومت اور دائمی جنگ کا عندیہ دینے والے انتہا پسند وزیروں (سموٹریچ اور ایتمار بن گویرکو خود اسرائیل کے لیے) خطرناک قرار دیتے ہیں لیکن حکومت نہ صرف جنگ کو ختم کرنے کا راستہ تجویز کرنے سے قاصر ہے بلکہ مذہبی انتہا پسندوں کو فوجی خدمات کے لیے بھرتی کی بھی منکر ہے۔
اسرائیلی حزب اختلاف کے رہنما لاپیدکا یہ اعتراف قابلِ تحسین ہے کہ "ہمیں اس جنگ کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا، اور مکمل جنگ بندی کے ساتھ ایک جامع قیدیوں کی ڈیل ہونی چاہیے۔ اس طرح اسرائیل اپنے قیدیوں سمیت ایک ایسی جنگ سے نکل آئے گا جو اسے کسی انجام کی طرف لے کر نہیں جا رہی۔‘‘غزہ میں انسانی بحران کی بابت انہوں نے امداد کی ترسیل کے نظام کی مکمل تباہی پر تشویش کا اظہار کرکے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں قحط کے امکانات کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا چاہیے تاکہ حماس کی مقبولیت میں اضافہ نہ ہو۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کیا ہے کہ بھوک کو کبھی بھی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بھوک نہ صرف انسانوں کی جان لیتی ہے بلکہ معاشروں میں عدم استحکام کو ہوا دےکر امن کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین’ انروا‘ نے بھی خبردار کیا ہے کہ مارچ سے جون کے درمیانی عرصے میں غزہ پر اسرائیلی محاصرے کے سبب پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں غذائی قلت کی شرح دگنی ہو چکی ہے ۔انروا نے غزہ میں قحط کی بڑھتی ہوئی شدت اور انسانی بحران کی سنگینی کے پیش نظر جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ا مریکی پارلیمان کے متعدد بااثر اراکین نے بھی غزہ کی موجودہ انسانی صورتحال کو نہایت افسوسناک، لرزہ خیز اور نا قابل قبول بتاتے ہوئے غزہ کے بدترین قحط پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نےنیتن یاہو کی مجرمانہ پالیسیوں کو انسانی وقار اور عالمی ضمیر کے منہ پر طمانچہ بتاکرامریکی تنظیم ” غزہ ہیومنیٹیرین فاؤنڈیشن” کی امداد کو غزہ کے فاقہ زدہ شہریوں کی تکلیف دہ بھوک مٹانے کے لیے ناکافی بتایا۔
عالمِ انسانیت کے اندر اس حوالے سے بیداری نظر آرہی ہے۔ غزہ میں جاری اسرائیل کی درندگی، نسل کشی، قحط اور بین الاقوامی خاموشی کے خلاف بین لاقوامی آواز بلند کرنےکی خاطر انسان دوست احتجاج کی علامت کے طور پر "صمود‘‘ (ثبات) اتحاد کے زیر اہتمام کئی جہازوں پر مشتمل ایک امدادی قافلہ تشکیل دیا جا رہا ہے ۔ اس کی تیاری اور تنظیم میں چونکہ امریکی کارکن پیش پیش ہیں اس لیے دو کشتیوں پر امریکی پرچم بھی لہرارہا ہو گا ۔ امریکی سرکارکی پالیسیوں کے خلاف یہ ایک علامتی احتجاج اور عوامی غم و غصے کا اظہار بھی ہوگا۔ یہ ان لوگوں کی نمائندہ ہے جو اپنی حکومت کے ذریعہ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی، محاصرے اور جنگی جرائم کی حمایت پر شرمندہ ہیں۔”صمود‘‘ اتحاد میں امریکہ سے روانہ ہونے والی پہلی کشتی پر اپنی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں پر احتجاج کر نے والے سابق امریکی فوجی سوار ہوں گےجبکہ دوسری کشتی میں عام شہری کارکن، دانشور اور فلسطینی حامی شامل ہوں گے۔
مذکورہ بالا تقسیم کے ذریعہ ایک طرف امریکی فوج کے سابق ارکان کا انحراف اور مزاحمت، اور دوسری طرف عوامی حمایت کا اظہار ہوگا۔ یہ بحری اقدام عالمی حکومتوں کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف ایک عوامی احتجاج ہے۔ منتظمین کاخیال ہے کہ دنیا کی حکومتیں جب نسل کشی پر خاموش ہو جائیں تو عوام کو اس کے خاتمہ اور امداد کی ترسیل کے لیے آگے آنا پڑتا ہے۔”صمود” بیڑے کے منتظمین کو امید ہے کہ اس بار39؍ ممالک سے تقریباً 50 کشتیوں پر مشتمل ایک عظیم قافلہ غزہ کی جانب روانہ ہو گا، جو مختلف بندرگاہوں سے بیک وقت روانہ ہو کر غزہ کے ساحل پر پہنچے گا گوکہ اسرائیل کی جانب سے دھمکیاں دی جا چکی ہیں، تاہم منتظمین ان کشتیوں پر ایک طاقتور انسانی اور سیاسی پیغام رسانی کےلیے پرعزم ہیں ۔ یہ کوششیں ضرور رنگ لائیں گی اور غزہ میں بہت جلد امن و وقار لوٹ آئے گا۔ ان شاء اللہ۔غزہ کی موجودہ صورتحال میں اس شعر کی تائید ہے کہ؎
فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی
دنیا سمجھ رہی تھی ستم گر چلا گیا
Like this:
Like Loading...