Skip to content
جمعہ نامہ: ہمارا دور بھی ضرب کلیم مانگتا ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’اور یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسی، انہوں نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور میں اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے کئی اور فائدے بھی ہیں۔ارشاد ہوا: اے موسٰی! اسے (زمین پر) ڈال دو۔پس انہوں نے اسے (زمین پر) ڈال دیا تو وہ اچانک سانپ ہوگیا (جو ادھر ادھر) دوڑنے لگا، ارشاد فرمایا: اسے پکڑ لو اور مت ڈرو ہم اسے ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے، اور (حکم ہوا:) اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا لو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمک دار ہو کر نکلے گا (یہ) دوسری نشانی ہے‘‘۔ ان معجزات سے نوازنے کے بعد فرمان قرآنی ہے:’’ یہ اس لئے (کر رہے ہیں) کہ ہم تمہیں اپنی (قدرت کی) بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں‘‘ یعنی آگے چل کر ان غیر معمولی معجزات سے بھی بڑی نشانیاں ظاہر ہونے والی ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ فرعون غرق ہوا اور بنی اسرائیل اس کے آہنی شکنجے سے آزاد ہوگئے مگر اس سے قبل حضرتِ موسیٰ ؑ کو حکم دیا گیا کہ ’’ تم فرعون کے پاس جاؤ وہ (نافرمانی وسرکشی میں) حد سے بڑھ گیا ہے‘‘۔
حضرت موسیٰؑ کے لیے فرعون کوئی اجنبی شخصیت نہیں تھی ۔ ان کی تو پرورش ہی اس کے محل میں ہوئی تھی اس وہ خوب جانتے تھے کہ جس طاغوتِ وقت کے سامنے انہیں دعوتِ حق پیش کرنے کا حکم دیا جارہا ہے وہ نعوذباللہ بذاتِ خود ’ رب اعلیٰ‘ ہونے کا دعویدار ہے۔ فرعون کی سفاکی کا یہ عالم ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر کےلڑکیوں کو زندہ رکھتا ہے اس کے باوجود کارِ رسالت کے حوالے سے کوئی معذرت نہیں پیش کی گئی۔ حضرت موسیٰ نےنہیں کہا ایسے ظالم حکمراں کے سامنے ان جیسا کمزور انسان اسلام کی دعوت کیسے پیش کرسکتا ہے؟ بلکہ اس ذمہ داری کے حوالے اپنی کمیوں کا جائزہ لے کر عرض کیا: ’’ پروردگار، میرا سینہ کھول دے اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں‘‘۔ اس مومنانہ استدعا میں یہ سبق ہے کہ ہم میں سے ہر فردکو دعوتِ دین کے حوالے سے اپنی ذاتی کمیوں اور کمزوریوں کاحقیقت پسندانہ جائزہ لےکر اصلاح ذات کی خاطر خالقِ کائنات سے رجوع کرکے سعی و جہد کرنا چاہیے۔
بسا اوقات دعوت حق کی ذمہ داری کو کما حقہُ ادا کرنا فردِ واحد کے لیے مشکل ہوتا ہے اور اس کے لیے ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسے میں حالات کا رونا رونے کے بجائے حضرت موسیٰ ؑ کی طرح اللہ تعالیٰ سے مدد و استعانت طلب کرکے اصلاح حال کی کوشش کرنی چاہیے ۔ انہوں نے دعا کی :’’اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے بھائی ہارون ؑ کو وزیر مقرر کر دے ۔ اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر ، اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں اور خوب تیرا چرچا کریں یقینا تو ہمارے حالات سے بہتر باخبر ہے ‘‘ ۔ یعنی اپنا فرضِ منصبی ادا کرنے کے حوالے سے مدمقابل کی طاقت و جبروت سے مرعوب ہوکر سرمو انحراف یا بہانے بازی کرنے کے بجائے مواقع کا استعمال کرنے کی خاطر مناسب لائحۂ عمل وضع کرناچاہیے نیز اپنی ضرورتوں کے لیےرب کائنات سے استعانت طلب کرنی چاہیےکیونکہ وہی ہمارا نگراں ہے۔
فرعون و کلیم کا واقعہ گواہ ہے کہ ایل ایمان جب اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرکے دعوتِ دین کے لیےپیش قدمی کرتے ہیں تو رب کائنات ان کی رہنمائی فرماتا ہے ۔ فرمانِ قرآنی ہے:’’تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے ۔ اس سے نرمی سے بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا خوف زدہ ہوجائے ‘‘۔ یعنی ایمان لے آئے یا مخالفت نہ کرے۔ یہاں نرمی سے بات کرنے کی جو تلقین ہے اس پر عمل کرنے کے لیے دین کی دعوت پیش کرنا لازمی ہے۔ ایسے میں داعیٔ حق کے اندر پیدا ہونے والے اندیشوں کو بھی کھول کر بیان کردیا گیا:’’ ان دونوں نے کہا کہ پروردگار ہمیں یہ خوف ہے کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی نہ کرے یا اور سرکش نہ ہوجائے‘‘۔ اس موقع پر یوں ڈھارس بندھائی گئی کہ:’’ تم ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ سن بھی رہا ہوں اور دیکھ بھی رہا ہوں ‘‘ نیز حکم دیا گیا کہ:’’ فرعون کے پاس جاکر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے فرستادہ ہیں بنی اسرائیل کو ہمارے حوالے کردے اور ان پر عذاب نہ کر کہ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی نشانی لے کر آئے ہیں اور ہمارا سلام ہو اس پر جو ہدایت کا اتباع کرے۔ بیشک ہماری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تکذیب کرنے والے اور منہ پھیرنے والے پر عذاب ہے ‘‘۔
فرعون نے اس دوٹوک دعوت کے جواب میں سوال کیا:’’ موسٰی تم دونوں کا رب کون ہے؟موسٰی نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی مناسب خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے‘‘۔ اس حقیقت کو مسترد کرنے کے بجائے فرعون نے استفہامیہ انداز میں الجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:’’ پھر ان لوگوں کا کیا ہوگا جو پہلے گزر چکے ہیں‘‘۔ حضرت موسیٰؑ اس کے دام میں پھنسنے کے بجائے یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتےہیں کہ:’’ ان باتوں کاعلم میرے پروردگار کے پاس اس کی کتاب میں محفوظ ہے وہ نہ بہکتا ہے اور نہ بھولتا ہے‘‘۔ اس کے بعد رب کائنات کی نعمتوں کو اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ :’’ اس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی برسایا ہے جس کے ذریعہ ہم نے مختلف قسم کے نباتات کا جوڑا پیدا کیا ہے تا کہ تم خود بھی کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ بے شک اس میں صاحبان عقل کے لئے بڑی نشانیاں ہیں‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں کا ذکر کرنے کے بعددعوت کو آخرت کی جانب موڑ دیا گیا۔ ارشادِقرآنی ہے:’’ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں پلٹا کرلے جائیں گے اور پھر دوبارہ اسی سے نکالیں گے ‘‘۔میلاد النبی ﷺ کے حوالے سے ماہِ ربیع الاول میں دعوت دین کا اہتمام کیا جاتا ہے ایسے مواقع پر دعوت دین کا یہ مربوط اور دلپذیر اسلوب پیش نظر رہنا چاہیے۔ درحقیقت موسیٰؑ کی دعوتِ دین ہی ضربِ کلیم تھی اوربقول انور آفاقی؎
ہمارے دور میں فرعون پھر ہوا پیدا
ہمارا دور بھی ضرب کلیم مانگتا ہے
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...
اس آرٹیکل کی pdf کاپی مل سکتی ہے؟